شوال المکّرم 1435ھ

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی خانقاہ کے روز و شب کے انوارات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں تو سارا سال خانقاہ میں دین کی نشر و اشاعت اور تزکیۂ نفس کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن رمضان  کی برکات سے ان اعمال کی نورانیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

خانقاہ میں اصلاحِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کے لیے مقیم طالبین شریعت و سالکین تصوف تہجد کے وقت سے جو آہ و زاری ، نوافل کی ادائیگی اور ذکر و تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں تو سحری کا دسترخوان لگنے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب ’’فضائل رمضان‘‘ کی تعلیم ہوتی ہے جس کے بعد سب انفرادی طور پر سورۂ  یٰسین کی تلاوت کرتے ہیں، تلاوت کے بعد آہستہ آواز میں اجتماعی ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خانقاہ میں حضرت اقدس مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم ’’زاد الطالبین‘‘ سے مختصر درسِ حدیث دیتے ہیں، ساتھ ساتھ پند و نصائح کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ اشراق کے بعد سب اپنے اپنے انفرادی معمولات میں  مشغول ہوجاتے ہیں ۔

ساڑھے دس بجے مسجد اشرف میں قرآن کریم کی تصحیح کا دور ہوتا ہے جو آدھے گھنٹے تک جاری رہتا ہے، اس کے بعد ختم خواجگان ہوتا ہے۔ خانقاہ میں روزانہ بارہ بجے مجلس ہوتی ہے جس میں شہر بھر سے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ مجلس کے بعد ظہر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔

عصر کی نماز کے بعد مسجد میں شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب  ’’اکابر کا رمضان ‘‘ سے کچھ حصہ پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ عصر کی نماز کے وقت تک شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ اپنے کاموں سے فارغ ہو کر خانقاہ پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں اور جب حلیم الامت حضرت اقدس  مولاناشاہ  حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم نماز کے بعد خانقاہ تشریف لے جاتے ہیں تو یہ عالم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ سفید لباس والوں کا ایک ایسا نورانی ہجوم ہوتا ہے جو دریا کی مانند بہتا ہوا چلتا ہے ۔ خانقاہ میں اصلاحی اشعار پڑھے جاتے ہیں جس کے بعد حضرت مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب اپنے والد ماجد عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کے مواعظ سے مختصراً کچھ پڑھ کر سناتے ہیں۔

افطار کے وقت یہ منظر ہوتا ہے کہ ایک دستر خوان خانقاہ میں لگتا ہے، نو دسترخوان خانقاہ کے صحن میں لگائے جاتے ہیں،  پانچ طویل دسترخوان خانقاہ کے اوپر چھت پر بچھتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں جگہ ملتی ہے وہاں چھوٹے چھوٹے متعدد دسترخوان لگتے ہیں، سارے دسترخوان اللہ تعالیٰ کی انواع و اقسام نعمتوں سے سجے ہوتے ہیں۔افطاری کا یہ عظیم الشان اہتمام خانقاہ میں مقیم اور غیر مقیم سب کے لیے کیا جاتا ہے ۔اتنے بڑے پیمانے پر روزانہ افطاری کا بندوبست حضرت مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب، ان کے خاندان کے افراد اور چند خصوصی احباب اپنی ذاتی رقوم  سے کرتے ہیں، اس میں زکوٰۃ، صدقات یا خیرات کا کوئی مال شامل نہیں ہوتا تاکہ اہلِ سادات حضرات بھی بلا جھجک شریک ہوسکیں۔ الحمد للہ! افطاری کے موقع پر کثیر تعداد علماء کرام کی ہوتی ہے۔ افطاری لگنے کے سارے مراحل کے دوران حضرت اور ان کے صاحبزادے بذاتِ خود موجود ہوتے ہیں اور اپنی نگرانی میں سارے انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں۔

خانقاہ کی مسجد اشرف کے علاوہ خانقاہ کی عمارت میں سولہ جگہ مختلف روزہ تراویح کا انتظام کیا جاتا ہے جس میں شرکت کے لیے دور دور سے لوگ آتے ہیں، مسلمانوں کے اس اجتماع سے عظیم الشان روح پرور فضا قائم ہوتی ہے۔ تراویح کے بعد خانقاہ میں مختصر مجلس ہوتی ہے جس کے بعد کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے ۔یوں یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے۔

خانقاہ میں رمضان المبارک میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے طالبین حق کی آمد و رفت کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔اس وقت خانقاہ میں اصلاح کی غرض سے قیام پذیر سالکین کرام کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے جن میں اکثریت علماء کرام کی ہے۔ اندرونِ ملک سے تشریف لانے والے مشاہیر میں مولانا منظور نعمانی صاحب، صاحبزادہ مولانا یوسف لدھیانوی صاحب، مفتی سعید احمد جلال پوری شہید  رحمۃ اللہ علیہ  کے بھائی مولانا عبد القادر صاحب جلال پوری، مولانا عبد العزیز بھلوی صاحب ابن عبد اللہ  شجاع آبادی، مفتی عبد اللہ صاحب ابن مفتی عبد الستار صاحب صدر مفتی خیر المدارس ملتان، نور الوھاب صاحب مہتمم جامعہ عثمانیہ تبلیغی مرکز کرک۔مفتی عبد المنان صاحب جامعہ دار العلوم کراچی سے ایک رات کے قیام کے لیے تشریف لائے،جناب محمد کاشف صاحب خلیفہ مجاز بیعت حضرت والا  رحمۃ اللہ علیہ  حیدر آباد سے تین دن کے قیام کے لیے تشریف لائے۔ اس کے علاوہ روزانہ متعدد علماء کرام اور مشائخ عظام کثیر تعداد میں حضرت اقدس مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب کی زیارت و ملاقات کے لیے خانقاہ تشریف لاتے ہیں۔

بیرونِ ملک سے تشریف لانے والوں میں برما سے حضرت مولانا محمد مظہر صاحب کے دو خلفاء کرام مولانا نعمت اللہ و مولانا شمیم صاحب۔ جنوبی افریقہ سے مولانا سلیمان گھانچی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کے دو صاحبزادے حافظ اشرف الحق گھانچی،  مولانا محمد گھانچی، اور محمد سلیمان صاحب۔انگلینڈ سے جناب صوفی    عبد البصیر صاحب اور ان کے دو بیٹے، عمر فاروق صاحب، مولوی شکیل الرحمٰن صاحب اور ان کے بھائی نذر الرحمٰن صاحب۔ بنگلہ دیش سے مفتی جعفر احمد صاحب مہتمم خانقاہ ڈھاکہ، شیخ الحدیث مولانا یونس صاحب اور مولانا نصیر صاحب۔ اور جرمنی سے ناظم خانقاہ  میونخ جناب شمس الحق صاحب خانقاہ میں قیام کے لیے تشریف لا رچکے  ہیں۔صبح سے رات گئے تک جاری رہنے والے ان انتظامات کی حضرت اقدس مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب بذاتِ خود نگرانی کرتے ہیں اور تمام اعمال میں بنفسِ نفیس شریک رہتے ہیں۔

عارف باللہ حضرت والامولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کی دعا تھی کہ یااللہ اس خانقاہ سے تاقیامت دین کی عظیم الشان خدمات جاری رہیں اور بڑے بڑے اولیاء اللہ یہاں پیدا ہوتے رہیں اور جو اس خانقاہ میں آئے محروم نہ جائے۔ اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  کے اجل خلیفہ مولانا فقیر محمد صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کی دعا تھی کہ یااللہ یہ خانقاہ قیامت تک قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ کے انہی محبوب و مقبول بندوں کی دعاؤں کا اثر ہے کہ خانقاہ آج بھی مرجع خلائق بنی ہوئی ہے۔

مولانا منظور احمد صاحب کی خانقاہ آمد

خیر المدارس  ملتان کے استاد و شیخ الحدیث حضرت مولانا منظور احمد صاحب دامت برکاتہم ظہر کے بعد حضرت  مولانا شاہ حکیم محمد  مظہر صاحب دامت برکاتہم  سے ملاقات کے لیے خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی تشریف لائے اور حضرت سے بہت گرم جوشی اور شفقت و محبت سے ملے، ان کے چہرے سے مسلسل خوشی کا اظہار ہورہا تھا، تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد نہایت محبت سے حضرت کی پیشانی چوم رہے تھے۔ ایک موقع پر فرمایا کہ ہم باراتی ہیں، آپ دولہا ہیں۔ دورانِ گفتگو حضرت تھانوی کا ایک ملفوظ سنایا کہ اگر شیخ کے فیوض و  برکات حاصل کرنی ہیں تو ان سے محبت کرو اور حاضرین مجلس سے مخاطب ہو کر حضرت اقدس مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ان سے محبت کرو، محبت کرنے کے لیے کسی شور شرابے یا ڈھول ڈھمکے کی ضرورت نہیں ہے، محبت آنکھوں سے چھلکتی اور اداؤں سے ٹپکتی ہے پھر یہ شعر پڑھا؎

برستی ہے نگاہوں سے ٹپکتی ہے اداؤں سے

محبت    کون   کہتا    ہے     پہچانی     نہیں    جاتی

ایک موقع پر فرمایا کہ آپ کا ماہنامہ الابرار ہمیشہ میرے تکیہ کے نیچے رہتا ہے۔ پھر انہوں نے نعت کے اشعار سنائے جن میں مدینہ کا تذکرہ تھا اورحضرت  مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ زبان میری ہے بات ان کی ہے، ان کے مطلب کی کہہ رہاہوں۔ پھر ایک آہ کھینچی اور فرمایا کہ ان کے حضرت(یعنی حضرت والا  رحمۃ اللہ علیہ   ) ہمارے  خیر المدارس کی شوریٰ کے ممبر تھے، یہ بھی ممبر ہیں، میں ان کو بھی حضرت والا  رحمۃ اللہ علیہ   کی طرح ہی سمجھتا ہوں۔ اس موقع پر حضرت مولانا مظہر صاحب نے حضرت والا  رحمۃ اللہ علیہ   کی کچھ کتابیں اور کتب خانہ مظہری سے شائع ہونے والی بخاری شریف ہدیۃً پیش کی  جس پر مولانا منظور احمد صاحب نے محمد علی جوہر  کا ایک شعر سنایا     ؎

بے    مایہ سہی  لیکن   شاید   وہ      بلا    بھیجیں

بھیجی ہیں ہم نے بھی درود و سلام کی سوغاتیں

پھر فرمایا کہ جیسے حضرت مجھے یہ سوغات دے رہے ہیں۔دورانِ مجلس مولانا منظور احمد صاحب  وقفے وقفے سے عشق نبی کے نعتیہ اشعار سناتے رہے۔ آخر میں مولانا مظہر صاحب نے مولانا منظور احمد صاحب  سے مجلس کے اختتام پر دعا کرانے کے لیے عرض کیا تو انہوں نے مولانا مظہر صاحب سے فرمایا کہ آپ دعا کرائیں آپ ہمارے بزرگوں کی یادگار ہیں۔ مولانا مظہر صاحب کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Saturday 21st of September 2019 01:22:09 PM