خانقاہ امدادیہ اشرفیہ میں مہمانوں کی آمد

مہمانوں کی آمد

سعودیہ عربیہ سے جناب بھائی سمیع اللہ صاحب اور جناب بھائی رزین صاحب خانقاہ تشریف لائے۔ دونوں حضرات حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء میں سے ہیں،اور اب حضرت والا دامت برکاتہم سے تعلق ہے۔

جب کہ ایران سے حضرت مولانا نور اللہ فاروقی صاحب تشریف لائے، مولانا مدظلہٗ مفتی اعظم پاکستان اور فقیہ­الملّت حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قدیم شاگردوں میں سے ہیں اور ہمارے حضرت والا دامت برکاتہم کے ساتھی بھی ہیں۔

سمندری سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز اور حضرت مولانا مفتی عبد الستار صاحب رحمۃ اللہ علیہ (سابق صدرمفتی واستاذِ حدیث جامعہ خیر المدارس ملتان) کے صاحب زادے جناب مولانا مفتی مقصود صاحب تشریف لائے۔ اسی طرح گوجرانوالہ سےچار افراد کی  ایک جماعت حضرت والا دامت برکاتہم سے روحانی فیض اٹھانے کے لیے خانقاہ آئی۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے جناب حافظ محمد سعید لدھیانوی صاحب بھی گزشتہ دنوں حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کے لیے خانقاہ تشریف لائے۔

حضرت مولانا محمد یوسف افشانی صاحب گزشتہ دنوں علما ئے کرام کی ایک جماعت کے ساتھ خانقاہ تشریف لائے، حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کی، حضرت نے بڑی محبت اور اکرام کا معاملہ فرمایا اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے نئے شایع ہونے والے’’ مواعظ ِدردِ محبت ‘‘کی سولہ جلدیں اور تصنیفات وتالیفات پر مشتمل تین جلدوں کا مجموعہ’’گلستانِ معرفت و محبت‘‘مولانا دامت برکاتہم کو مرحمت فرمایا۔ مولانا افشانی صاحب جب واپس تشریف لے گئے تو حضرت والا دامت برکاتہم کے خلیفہ مجاز جناب مولانا عبد الحق صاحب زید مجدہم کی اتفاقاً ان کی مسجد میں ان سے ملاقات ہوئی تو مولانا افشانی صاحب نے فرمایا کہ’’حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے ملنے کے بعد اب تک اپنی رگوں میں خوشی محسوس کررہا ہوں، مزید فرمایا کہ حضرت کی اتنی مصروفیت ہے اور بیماری بھی ہے اس کے باوجود ہشاش بشاش رہتے ہیں۔‘‘’’رسالہ قشیریہ‘‘کے حوالے سے فرمایا کہ ’’عارف ہشاش بشاش رہتا ہے۔‘‘

مؤرخہ ۱۵؍ شوال ۱۴۳۷ھ (۱۹ جولائی ۲۰۱۶ء) بروز منگل رات کے وقت ماہ نامہ بینات کے مدیر اور جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اُستاذ جناب مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب زید مجدہم خانقاہ تشریف لائے اور حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات فرمائی، مولانا مدظلہم نے اپنی مرتبہ کتاب ’’میرے اکابر‘‘ (جس میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اپنے اکابر پر تحریر کردہ مضامین ہیں) حضرت والا دامت برکاتہم کو پیش فرمائی۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے بھی خانقاہ سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے نئے شائع ہونے والے مواعظ دردِ محبت کی سولہ جلدیں اور تصنیفات و تالیفات پر مشتمل تین جلدوں کا مجموعہ’’گلستانِ معرفت و محبت‘‘ مولانا مدظلہٗ کو مرحمت فرمایا۔ دعا ہے کہ اللہ جل شانہ ان تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین!

حضرت والا دامت برکاتہم کے بیانات

رمضان کے آخری عشرے میں خانقاہ کے ساتھ ساتھ  اطرافِ شہر  میں مختلف جگہوں میں حضرت والا دامت برکاتہم کے ختمِ قرآن اور طاق راتوں کے اعتبار سے بیانات کی ترتیب رہی جن میں جامعہ حفصہ ماڈل کالونی (شاخ جامعہ اشرف المدارس) اور جناب قاری محمد عثمان صاحب کا مدرسہ بھی شامل ہے۔ جب کہ  انتیسویں شب کو جامع مسجد اشرف گلشن اقبال کراچی میں ختم قرآن کے موقع پر حضرت والا دامت برکاتہم کا عالمانہ و عارفانہ بیان ہوا جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک تھے۔

اِنتقالِ پُرملال

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز جناب الحاج الحافظ حبیب اللہ صاحب کی والدہ ماجدہ گزشتہ دنوں انتقال کرگئیں، اِنَّا لِلہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

نمازِ جنازہ حضرت والا دامت برکاتہم نے پڑھائی اور گلستانِ جوہر جامعہ اشرف المدارس کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ ادارہ جناب حافظ صاحب کے اس غم میں برابر کا شریک ہے اور قارئین سے مرحومہ کے لیے ایصالِ ثواب اور دعاؤں کا خواست گار ہے۔

جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ سوسائٹی سے متصل قبرستان سے متعلق ایک یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس قبرستان کی جگہ کو حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدا تھا، چناں چہ اس میں حضرت والارحمۃ اللہ علیہ  سمیت بہت سے مشایخ و اکابر مدفون ہیں۔ لیکن اب جگہ کی تنگی کی وجہ سے عمومی تدفین کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔

تبلیغی جماعت کراچی کے امیر الحاج حافظ عبد الرشید سورتی صاحب کا اِنتقال

مؤرّخہ ۱۵؍ شوال ۱۴۳۷ھ (۱۹ جولائی ۲۰۱۶ء) کو تبلیغی جماعت کراچی کے امیر جناب الحاج حافظ عبد الرشید سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  تقریباً 80سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ وہ پاکستان کے ماہانہ تبلیغی مشورہ میں شرکت کے لیے تبلیغی مرکز رائے ونڈ تشریف لے گئے تھے، وہیں طبیعت خراب ہوئی تو لاہور کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا تھا۔ گزشتہ کئی سال سے دل کے مرض، شوگر، اور گردوں کی تکلیف میں مبتلا تھے، لیکن حوصلہ و ہمت ایسی تھی کہ محسوس نہ ہوتا تھا کہ آپ اندر سے کس قدر بیمار ہیں۔

ہمارے حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے بھی خصوصی تعلق و محبت رکھتے تھے، اور حضرت والا دامت برکاتہم کا بڑا احترام فرماتے تھے۔ حضرت والا دامت برکاتہم بھی اس اعتبار سے جناب حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بہت قدر فرماتے تھے کہ وہ تبلیغی جماعت کے پرانے اکابرین میں سے تھے۔ کراچی سے سب سے پہلی چار ماہ کی تبلیغی جماعت 1957ءمیں نکلی، حافظ عبد الرشید سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اُس جماعت میں شامل تھے، گویا کہ جوانی سے تبلیغی کام میں لگ گئے تھے، آپ رحمۃ اللہ علیہ تبلیغی جماعت کے دوسرے امیرحضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ،تیسرے امیرحضرت مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ اور تبلیغی جماعت کے سرپرست شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا  کاندھلوی­رحمۃ اللہ علیہ ، نیز حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ  اور حضرت مولانا عبد العزیز رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ  ایسے بزرگوں کی صحبتوں سے بھی فیض­یاب ہوئے تھے۔

 حافظ عبد الرشید سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا شمار تبلیغی جماعت پاکستان کے موجودہ امیرحضرت حاجی محمد عبد الوہاب صاحب دامت برکاتہم کے خصوصی مشیران میں بھی ­ہوتا تھا۔

2005ء میں ­جناب بھائی ابراہیم عبد الجبار صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور بھائی عبد الستار کتھوریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد کراچی جماعت کے امیر مقرر کیے گئے۔ دنیا بھر کے بے شمار تبلیغی اسفار کیے، کئی سال کراچی اجتماع میں نکاح و جمعہ کی نماز کی امامت و خطابت کی خدمت بھی انجام دیتے رہے۔ اجتماع  میں آپ کا خطبۂ جمعہ اتنا دل نشین ہوتا کہ اہل علم خاص طور سے وہ خطبہ سنا کرتے تھے۔ برنس روڈ پر مدرسہ امداد العلوم و جامع مسجد باب الاسلام (جو کہ مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز رائے ونڈ کی شاخ ہے، اور جس میں حفظ و ناظرہ سے لے کر درسِ نظامی کے درجہ سابعہ تک پڑھائی ہوتی ہے) کے نگران بھی حافظ عبد الرشید سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  تھے۔

ہمارے حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کراچی کے اجتماع میں بزرگوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے، تو وہاں حافظ عبد الرشید سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کھلے دل سے حضرت والا دامت برکاتہم کا استقبال فرماتے اور بہت اکرام کا معاملہ فرماتے۔ غرض بہت ہنس مکھ، خوش مزاج،بااخلاق اور ملنسار شخصیت تھے۔آپ اکابر و اسلاف کی روایات کے امین تھے۔ اپنے بیانات میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کے ملفوظات اور واقعات بکثرت سنایا کرتے تھے۔ اپنی جان و مال سب کچھ تبلیغ و دعوت کے ذریعہ دین پھیلانے میں لگادیا تھا۔

ادارہ خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ اور اس کے رئیس حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم، نائب رئیس مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب زید مجدہم حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اِس سانحۂ وفات پر تبلیغی جماعت، اس کے ذمے داران، کارکنان اور حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ مولائے کریم حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کی تبلیغی خدمات کو قبول فرماکر کامل مغفرت فرمائے، اُن کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور اس پر اجرجزیل عطا فرمائے، آمین۔

قارئین سے بھی دعا اور ایصالِ ثواب کی درخواست ہے

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Thursday 19th of October 2017 12:54:35 AM