حضرت والا دامت برکاتہم کا سفرِ افریقہ

حضرت والا دامت برکاتہم کا سفرِ افریقہ

۲؍ اپریل ۲۰۱۶ء کی صبح بعد فجر خانقاہ امدادیہ اشرفیہ و جامعہ اشرف المدارس کراچی کے رئیس، حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز  حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم اپنے احباب حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز جناب اطہر شرافت صاحب، حضرت والا دامت برکاتہم کے دو خلفاء جناب فرحان اقبال میمن صاحب اور جناب اشرف الحق صاحب کے ساتھ کراچی سے براستہ دوبئی ساؤتھ افریقہ کے سفر پر روانہ ہوئے، ایئر پورٹ پر حضرت والا دامت برکاتہم سے محبت و تعلق رکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد نے حضرت کا استقبال کیا۔

دورانِ سفر حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلفا ء جناب حافظ حبیب اللہ صاحب، جناب کامران چھاپڑا صاحب­پاکستان سے اور جناب مولانا لقمان صاحب، حضرت والا دامت برکاتہم کے خلیفہ جناب عبد البصیر صاحب اور جناب نذر الرحمٰن صاحب انگلینڈ سے حضرت والا دامت برکاتہم سے مستفید ہونے کے لیے ساؤتھ افریقہ پہنچ گئے۔ حضرت کی سب سے پہلی مجلس دار العلوم آزاد ول میں ہوئی۔اس کے علاوہ  افریقہ کے شمالی حصہ مشرق و مغرب سمیت مختلف مشہور شہروں  جوہانسبرگ،  بینونی، لینیشیا،آزاد  ول، امزنٹو،ڈربن، اسپنگوبچ، اسٹینگر،  پیٹر میرٹز برگ، اسکاٹ، لوڈیم، موکو پانی، تھویونڈو، زنین، مڈل برگ وغیرہ میں حضرت والا کی مجالس جاری رہیں، کثیر تعداد میں لوگ حضرت سے استفادہ کرتے رہے۔ بڑے بڑے علماء جن میں حضرت مولانا یحییٰ بھام صاحب، حضرت مولانا مفتی رضاء الحق صاحب، حضرت مولانا عبد الحمید صاحب، حضرت مولانا ابراہیم صالح جی صاحب، حضرت مولانا ابراہیم پانڈور صاحب، حضرت مولانا عبد الحق ماگڈا صاحب،مولانا غلام حسین صاحب، مولانا فضل الرحمٰن اعظمی صاحب، مولانا یوسف گھنڈی والا،  مفتی محمد زبیر بھیات، مولانا الیاس پٹیل، مولانا نعیم متالا صاحب اور مولانا اسماعیل صاحب وغیرہ حضرات علماء کرام حضرت کے بیان میں شرکت فرماتے رہے اور حضرت سے ملاقاتیں جاری رہیں۔

حضرت والا دامت برکاتہم حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین (مفتی رضاء الحق)

ساؤتھ افریقہ میں حضرت والا دامت برکاتہم  کے ہونے والے بیانات میں سے ایک بیان میں دار العلوم زکریا ساؤتھ افریقہ کے شیخ الحدیث، حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ  کے خلیفہ حضرت مولانا مفتی رضاء الحق صاحب دامت برکاتہم نے حضرت والا دامت برکاتہم کا جس خوب صورت الفاظ میں تعارف کرایا اور ساتھ ساتھ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا بھی عمدہ پیرائے میں تذکرہ فرمایا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے بھی یہاں نقل کردیا جائے:

’’ محترم علما اور طلبا!

حضرت مولانا حکیم محمد مظہر دامت برکاتہم العالیہ وحفظہ اللہ تعالیٰ تشریف لائے ہیں، ان کے تعارف کی ضرورت  نہیں، یہاں کا بچہ بچہ ان کو جانتا ہے اور حضرت سے میں نے راستے میں عرض کیا کہ مال کمانا آسان ہے مال کی حفاظت کرنا مشکل ہے۔ والد اور آباء و اجداد  کی وراثت کی حفاظت مشکل کام ہے، اس کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، حضرت مولانا حکیم محمد اختر  رحمۃ اللہ علیہ نے پوری دنیا میں تصوف کے سلسلہ کو پھیلایا، عرب اور عجم میں ان کے مریدین، مسترشدین اور خلفا موجود ہیں، مختلف زبانوں  میں ان کی تصنیفات اور تالیفات کے ترجمے ہوئے ہیں، ان کی کتابوں میں ان کی تصانیف اور تالیفات میں اللہ تعالیٰ نے بلا کی کشش رکھی ہے، آدمی شروع کرتا ہے تو ختم کیے بغیر وعظ کو نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ نے دین کے مختلف شعبوں میں ان سے کام لیا تھا، ان تمام کاموں کی حفاظت ان کے خلفا اور ان کے جانشینوں پر ضروری تھی، ان کے جانشین ان کے بیٹے اور ان سب کاموں کی نگرانی کرنے والے حضرت مولانا حکیم محمد مظہر حفظہ اللہ ہیں اور اپنے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے ہی سے تصوف کے علاوہ امدادی کاموں کی نگرانی فرماتے تھے، غریبوں، فقیروں، یتیموں مسکینوں، بیواؤں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے، مختلف جگہوں پر جس کام کی ضرورت اور جس کی ضرورت ہوتی تھی، وہ کام اور وہ چیز فراہم کرتے تھے۔ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کو بہت اچھے رجالِ کار بھی عطا فرمائے ہیں جو ان کے اشاروں پر چلتے ہیں اور ان ہی کے منشا کے مطابق کام کرتے ہیں، ہماری دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت مولانا کے علم، عمل، عمر میں اور کام میں سلسلہ کی درازی میں ان کو توفیق عطا فرمائے اور ان کی مدد فرمائے اور ان  کے علم، حلم ، اور عمر  میں برکت عطا فرمادے۔

حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی  زندگی کے گوشوں کا احاطہ مشکل  اور ناممکن ہے لیکن ایک بڑی اور اہم بات مولانا شفیق صاحب نے فرمائی کہ یاد دلادیں کہ حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت عطا فرمائی تھی اور ان کی مجلس میں بلاکی کشش عطا فرمائی تھی، دیگر وجوہات اور دوسرے اسباب کے ساتھ ساتھ اپنے اکابر، اپنے مشایخ، اپنے اساتذہ کی خدمت تھی، حضرت مولانا عبد الغنی پھول پوری رحمۃ اللہ علیہ کی ایسی خدمت فرمائی کہ باید و شاید۔ اُن کے بعد حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ  حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اس طرح رہتے تھے باوجود مشیخت کے، باوجود صاحب تصانیف ہونے کے  جیسے ایک ادنیٰ طالب علم۔ ایک مرتبہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان میں کمرے میں تشریف فرما تھے، حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ  اندر تشریف لائے، حضرت مولانا ابرار الحق صاحب   رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا: بغیر اجازت کے کیوں اندر آئے؟ کیا آپ اپنے آپ کو قوانین سے مستثنیٰ سمجھ رہے ہیں؟  یہ وہ زمانہ تھا کہ جب حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ   کے مریدین اور بیعت کے سلسلہ کا عروج تھا، حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ  واپس باہر تشریف لے گئے، تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھٹکٹایا اور فرمایا: حکیم محمد اختر حاضر ہونا چاہتا ہے حضرت اجازت ہے؟ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب نے فرمایا: اجازت ہے آجائیے، اس کے بعد اتنا ذرہ برابر محسوس نہیں فرمایا، اس کے بعد جب جب حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کی جہاں جہاں تقریر اور بیان ہوتا تھا اس واقعہ کو وعظ ونصیحت میں لوگوں کے سامنے مزے لے لے کر بیان کرتے تھے،  ہم جیسا آدمی ہوتا تو ہم شرماتے دیکھو ہم صاحب ارشاد ہیں، ہم سلسلے والے ہیں اور ہمیں ڈانٹا اس کو چھپانا چاہیے۔ یہ ہے  تواضع، اللہ تعالیٰ مشایخ کے ذریعے سے جن کی تکمیل فرماتے ہیں ان کو تواضع کی دولت سے مالا مال فرماتے ہیں۔حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی کرامات اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے کے عروج اور کامیابی اور ہر جگہ ان کے خلفا کی خدمات کا احاطہ ہمارے لیے مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

اب مختصر تلاوت ہوگی اور اس کے بعد حضرت کی نصیحتوں سے ہم اور آپ متمتع ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔‘‘

انیس  روز کے سفر کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم کی بخیر و عافیت واپسی ہوگئی۔مولائے کریم حضرت کے اس سفر کو قبول فرماکر مزید ترقیات ظاہری و باطنی کا ذریعہ بنائے، آمین۔

ان شاء اللہ تعالیٰ اگلے ماہ سے حضرت والا دامت برکاتہم کے سفر افریقہ کے احوال شروع کیے جائیں گے۔

حضرت والا دامت برکاتہم کا میر پور خاص و نوکوٹ کا سفر

بروزِ جمعرات بعد ظہر حضرت والا دامت برکاتہم کی معیت میں علماء اور طلباء کا روحانی قافلہ میر پور خاص کی طرف روانہ ہوا، اس قافلے میں چھ بڑی بسیں، پانچ چھوٹی گاڑیاں، جس میں جامعہ اشرف المدارس کے اساتذہ مولانا فاروق، مولانا سیف اللہ مسلول، مولانا منیر، مولانا صادق (اُستاذُ الحدیث)، مفتی نور الزمان، جامعۃ المدینہ العلوم کے شیخ الحدیث امام الصرف والنحو تخصص فی الفنون کے رئیس جامع المعقول والمنقول جناب مفتی عبد الباری صاحب کے بھائی جناب مولانا عبد الہادی صاحب، اُن کے برادرِ صغیر، جامعۃ الرشید کے استاذ، مولانا راشد (جنہوں نے حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کی طویل صحبت اُٹھائی)، جناب حافظ حبیب اللہ صاحب مع اپنے رفقاء اس روحانی سفر میں شریک تھے۔

جامعہ اشرف المدارس کے طلباء کی کثیر تعداد کے ساتھ کراچی کے مختلف مدارس کے طلباء جس میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی اور جامعہ دار العلوم کراچی کے طلباء بھی شریکِ سفر تھے۔

حضرت والا دامت برکاتہم کے متعلقین میں جناب صوفی خالد صاحب مع اپنے بیٹے عبد النافع سلّمہ کے، جناب صوفی سلیم صاحب مع اپنے بیٹے کاشف صاحب کے، جناب سلمان تقی صاحب مع اپنے بیٹے کے  بھی اس روحانی قافلے میں شریک تھے۔

کچھ گاڑیاں عصر بعد اور کچھ مغرب کو میر پور خاص کی جامع مسجد مسیح الامت پہنچیں۔

اِجتماع کا آغاز عصر کی نماز کے بعد ہوا، جس میں میر پور خاص، حیدر آباد اور ٹنڈو الٰہ یار سے کافی احباب نے شرکت کی۔حیدر آباد سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے مجاز بیعت جناب انجینئر حافظ اقبال صاحب ٹنڈو الٰہ یار سے، مولانا راشد صاحب جو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے مجازِ بیعت ہیں، اجتماع میں شرکت کے لیے حاضر ہوئے۔

عصر کی نماز کے بعد اشعار پڑھے گئے، اس کے بعد جناب صوفی خالد صاحب نے بیان کیا۔ مغرب کی نماز کے بعد مولانا راشد صاحب کا بیان ہوا۔ اس کے بعد جناب حافظ مشتاق صاحب نے عظمتِ قرآن کے موضوع پر بیان کیا، اس کے بعد ولی ابن ولی حلیم الامت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کی حدیث کی عالی سند بیان کی۔

اس کے بعد جناب حافظ اقبال حیدر آبادی صاحب نے بیان کیا۔ عشاء کے بعد اشعار پڑھے گئے، بعد ازاں جامعۃ الرشید کے استاذ مولانا راشد صاحب کا بیان ہوا۔

طلوعِ صبح صادق سے ایک گھنٹہ پہلے علماء اور طلباء کی بڑی تعداد نے نمازِ تہجد ادا کی، چاروں طرف گریہ و زاری اور سسکیوں کی آوازیں عجیب نورانی ماحول کا منظر پیش کررہی تھیں۔

فجر کی نماز کے بعد جناب مولانا مفتی محمد ارشاد صاحب نے ذکر کروایا۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے تجوید کی مشق کروائی، اس کے بعد نماز کی عملی مشق کروائی۔ اس کے بعد ناشتہ اور آرام کی ترتیب رہی۔

ساڑھے گیارہ بجے دوبارہ مجلس کا آغاز ہوا، ابتداء ً اشعار پڑھے گئے، بعد ازاں جناب حافظ حبیب اللہ صاحب نے خطاب فرمایا، بعد ازاں جناب مولانا عبد الہادی صاحب نے بیان کیا، آخر میں حضرت والا دامت برکاتہم کا عمدہ بیان ہوا۔

جمعہ کی نماز کے بعد کافی احباب نے حضرت والا دامت برکاتہم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ کھانے کے بعد جامعہ اشرف المدارس اور دیگر مدارس کے علماء اور طلباء کراچی کی طرف روانہ ہوئے۔

حضرت والا دامت برکاتہم کی معیت میں حضرت کے متعلقین کی بڑی تعداد نوکوٹ کی طرف روانہ ہوئی،یہ قافلہ مغرب کی اذان کے وقت نوکوٹ پہنچا۔ دوسرا قافلہ مغرب کی اذان کے وقت نوکوٹ پہنچا۔

مغرب کی نماز کے بعد جناب مفتی شیراز صاحب نے بیان کیا۔ بعد ازاں جناب حافظ حبیب اللہ صاحب نے بیان کیا۔

وہاں دو بچوں نے قرآنِ کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی، حضرت والا دامت برکاتہم نے ان کی­دستار بندی فرمائی، بعد ازاں حضرت والا دامت برکاتہم نے قرآنِ کریم کی فضیلت اور اپنے بچوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم دینے کی ترغیب دی۔ پھر حضرت کی دعا پر یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

بعد نماز عشاء احباب حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقاتیں فرماتے رہے۔

فجر کی نماز کے بعد جناب مفتی محمد ارشاد صاحب نے ذکر کروایا۔ ناشتہ کے بعد یہ قافلہ گولارچی کی طرف روانہ ہوا۔ گولارچی سے کراچی کی طرف روانگی ہوئی۔ تقریباً عصر کے قریب خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال (مرکز) میں بفضلہٖ تعالیٰ بخیر وعافیت پہنچ گئے۔ اللہ جل شانہٗ اس سفر کو اپنی بارگاہِ عالی میں قبول فرمائے، آمین۔

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا ہدایت ­اللہ ­صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال

ہمارے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز،یادگاراسلاف،دارالعلوم ­ٹاموے ­کے­ مہتمم، موجودہ وقت میں برما کے سب سے بڑے عالم دین اور علما کے مرجع حضرت مولانا ہدایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۴؍اپریل ۲۰۱۶ء بروز پیر کو سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

آپ نے رنگون میں­چالیس­سال تک­درس­حدیث کا فریضہ­سر­انجام­دیا، تصوف کے اعلیٰ مدارج طے کیے،یہاں تک کہ وہ ایسا دریا بن گیا جس سے ہدایت کے پیاسے سیراب ہوتے تھے۔خاک ساری کی­خاک ان کی عظمت کو سلامی دیتی تھی­آپ انتہائی نرم مزاج، شفیق و مہربان، نرم گفتار اور متواضع انسان تھے۔ برما کے علماء کی ایک کثیر تعداد جوکہ ہزاروں میں ہوگی آپ کے شاگردوں میں ہے تو دوسری طرف آپ عوام الناس­ میں­ بھی ­اپنے­اخلاص ­وتقویٰ ­وطہارت ­اوردینی ­وملّی ­خدمات ­کی ­بدولت­ بہت­ ہی ­محبوب ­ومقبول ­تھے۔

حضرت مولانا ہدایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ رنگون میں­25جنوری 1942ء کو ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے،آپ کے والد گرامی جناب شفیع اللہ صاحب مرحوم ریلوے میں سرکاری ملازم تھے،مولانا رحمۃ اللہ علیہ  کے والد مرحوم نے،بچپن ہی سے دینی تعلیم کے حصول کے لیے دارالعلوم ٹاموے میں وقف کردیا تھا،مفتی اعظم برمامفتی محمود داؤد یوسف رحمۃ اللہ علیہ  خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا   رحمۃ اللہ علیہ  کی خصوصی  توجہات نے مولانا رحمۃ اللہ علیہ  کو کندن بنادیا تھا،طالب­علمی کے زمانے سے ہی رنگون یوک روڈ کی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے لگے، پھر آٹھ سال تک جامع مسجد میمیو میں خطابت کے منصب پر فائز رہے۔مفتی محمود داؤد یوسف رحمۃ اللہ علیہ نےآپ رحمۃ اللہ علیہ  کی تعلیم وتعلم سے دلچسپی وشغف  کومحسوس کرتے ہوئےدارالعلوم ٹاموےتشریف لانے کا حکم دیا اور تاحیات اپنا جانشین مقرر فرمایا ۔ حضرت مولانا ہدایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کی فقیہانہ بصیرت کو بھانپتے ہوئے،دارالعلوم میں آنےوالے تمام استفتاءکی تخریج کی ذمہ داری کے ساتھ حدیث شریف پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ  اسی کو سرمایۂ حیات سمجھتے ہوئے زندگی  کی آخری سانس تک کمزوری و نقاہت کے باوجود دینی خدمت میں مصروف عمل رہے۔ شیخ الحدیث کے منصب و مسند سے اجل کو اپنی روح حوالےکر کے سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے۔مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کی وفات برما کے تمام مسلمانوں­اورخصوصاً علماء کرام کے لیے نقصان عظیم ہے۔علمی دنیا  کا ایک اور چراغ بجھ گیا۔

ہمارے حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے عرصۂ دراز تک بیعت واصلاح کا تعلق رہا، حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت بھی عطا فرمائی۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ہمارے حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے بیعت کا تعلق قائم کرلیا تھا، حضرت والا دامت برکاتہم سے بھی بے حد محبت و عقیدت رکھتے تھے۔

مولانارحمۃ­اللہ علیہ نے اپنے پسماندگان­میں­چارصاحبزادے،ایک صاحبزادی،ہزاروں شاگرد ومریداورمتعلقین­ومتوسلین چھوڑے ہیں۔

ادارہ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور اس کے رئیس، نائب رئیس مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے اس غم میں برما کے علما و مشایخ اور ان کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ  اللہ تعالیٰ مولانا رحمۃ اللہ علیہ  کی قبرپر ہزارہا رحمتیں نازل فرمائیں اور قبر کو منور فرمائیں، آمین۔

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Thursday 17th of August 2017 04:11:56 PM