اظہارِ مسرت

اظہارِ مسرت

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حافظ سمیع اللہ صاحب کی صاحب زادی اور کرنل (ر) شمس الدین تبریزی صاحب کے بیٹے کے نکاح کی تقریب جامع مسجد اشرف گلشن اقبال میں منعقد ہوئی، اسی طرح مفتی تنویر صاحب کی بیٹی کا نکاح جناب حاجی نثار احمد صدیقی صاحب کے بیٹے سے ہوا. دونوں نکاح حضرت والا دامت برکاتہم نے پڑھائے۔ ان دونوں مجالس میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ و حضرت والا دامت برکاتہم کے خلفاء اور متعلقین کی ایک کثیر تعداد شریک ہوئی۔

علماء کرام کی خانقاہ آمد

ماہِ اگست میں سعودی عرب سے حضرت مولانا مفتی محمد عاشق اِلٰہی صاحب مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز جناب مولانا عبد اللہ مدنی صاحب، لاہور سے مفتی عبد الرحمٰن کوثر صاحب، جناب ڈاکٹر عبد المقیم صاحب (خلیفہ مجاز حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ)، مولانا محمد قاسم صاحب (معروف نعت خواں) ،  مولانا عبد الناصر صاحب اور مفتی غلام محمد صاحب خلفاء حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ، جامعہ خیر المدارس کے استاذ حدیث حضرت مولانا منظور احمد صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادگان جناب مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی صاحب، جناب حافظ محمد سعید لدھیانوی صاحب،  حضرت مفتی ولی حسن خان ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے جناب مفتی سجاد حسن خان ٹونکی صاحب( شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امداد العلوم ناظم آباد نمبر ۵)  حضرت مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے مفتی محمد حذیفہ رحمانی صاحب حضرت والا دامت برکاتہم کی زیارت و ملاقات کے لیے خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال (مرکز) تشریف لائے۔

جامعہ خیر المدارس کے استاذ حدیث مولانا منظور احمد صاحب کی پر اثر گفتگو

حضرت والا دامت برکاتہم نے حضرت مولانا منظور احمد صاحب سے پوچھا کہ کب تشریف لائے؟ مولانا منظور احمد صاحب نے فرمایا: میں آج ہی حاضر ہوا  مجھے آج ہی پتہ چلا یہاں آکر کہ گزشتہ دنوں آپ کی طبعیت ناساز رہی، حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا: اندر کی رگیں پھٹ گئی تھیں، بڑی مقدار میں خون ضایع ہوگیا، حضرت مولانا منظور احمد صاحب مدظلہم نے افسوس کا اظہار کیا، پھر فرمایا: عزیز مولوی محمد یحییٰ لدھیانوی سلّمہٗ کے ہاں چار بیٹیوں کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا ہے، تو یہ اس کی خوشی منارہے ہیں، چوں کہ ان کے والد مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ اور میں ساتھی تھے، ہم نے اکٹھے پڑھا ہے، میں نے کہا چلو آج ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والے ان کے والد تو نہیں ہیں چلو میں ان کی نیابت تو نہیں کرسکتا لیکن جو کچھ بھی ہے، پھر مولانا نے درد بھرے انداز میں مندرجہ ذیل اشعار پڑھے     ؎

مدینہ  میں  رہنے  کو  جی چاہتا  ہے

وہیں  رہ  کہ مرنے کو جی چاہتا  ہے

مقدر  نے  پہنچادیا   ان   کے  در پر

کہیں اب  نہ جانے  کو  جی چاہتا ہے

نظر  پڑتی  ہے سبز گنبد پہ جب بھی

اسے  تکتے  رہنے  کو  جی  چاہتا  ہے

یہاں آ کہ  واپس  نہ  جاؤں  خدایا

دعا  بس یہ کرنے  کو  جی  چاہتا  ہے

جگہ کچھ مل جائے  قدموں میں آقا

یہیں خاک  ہونے  کو  جی چاہتا ہے

اب تو بس جنت البقیع سے ایک سڑک کا فاصلہ رہ گیا ہے۔

پھر حضرت والا دامت برکاتہم سے فرمایا کہ یہ میں نے آپ کو استقبالیہ دیا ہے، آپ کے والد صاحب (حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ) سے میرے  بڑے خوشگوار تعلقات تھے، میں کیا کہوں؟ ہائے کس کو سناؤں؟ صدائے دل اور کس سے  لیں دوائے دل؟ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دوکان اپنی بڑھاگئے۔

محمد علی جوہر اور شوکت علی جوہر دو بھائی تھے، محمد علی جوہر  نے ایک نعت لکھی ہے اس کا ایک شعر ؎

بے مایہ  سہی  لیکن  شاید  وہ  بلا بھیجیں

بھیجی ہیں ہم نے بھی درود کی سوغاتیں

حضرت مولانا سیّد ابو الحسن علی میاں حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ زبردست شاعرہ تھیں، انہوں نے دنیا کو ٹھکرا دیا تھا۔ رات کو مصلیٰ پر بیٹھتی تھیں تو اکثر  یہ اشعار کہتیں     ؎

گھبرانہ ہم  سے  دنیا  تجھ  میں  نہ ہم رہیں گے

اپنا  وطن  عدن   ہے  جا  کر  وہیں  بسیں  گے

شیوا   تیرا    دغا    ہے   شیوا   تیرا    جفا   ہے

تو سخت   بے  وفا  ہے  ہم صاف  ہی  کہیں گے

آتا  ہے   جو  یہاں  رہتا  ہے تجھ   سے   نالاں

اک روزہم بھی تجھ سے منہ پھیر کر چلیں گے

تو   ستا  لے    ہم     کو     جتنا     ستانا    چاہے

کیا  ہوگا  جب  خدا   سے  فریاد  ہم  کریں گے

مفکر اِسلام حضرت مولانا سیّد ابو الحسن علی میاں حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا کہ میری امّی جب تہجد پڑھتی تھیں تو اشعار  میں اللہ سے باتیں کرتی تھیں؎

میں اس در  سے  اٹھوں گی نہ  مجھے  کوئی  اٹھا دیکھے

مجھے ہے آرزو جس کی  اُٹھوں  گی میں وہی  لے کر

تیرا  شیوا  کرم  ہے  اور  میری  عادت  گدائی  کی

نہ ٹوٹے آس اے مولیٰ تیرے در کے فقیروں کی

پھر مولانا مدظلہ نے حضرت والا دامت برکاتہم سے فرمایا کہ آپ دعا فرمادیں۔ حضرت نے فرمایا کہ آپ مسافر ہیں آپ کی دعا زیادہ قبول ہوگی، مولانا نے فرمایا کہ آپ بیماری سے اٹھے ہیں، یا پھر قرعہ ڈال لیں۔ پھر حضرت والا دامت برکاتہم نے نہایت ہی رقت کے ساتھ دعا فرماکر مجلس کو ختم فرمایا۔

رخصتی کے وقت حضرت مولانا منظور احمد صاحب مدظلہم نے حضرت والا دامت برکاتہم سے فرمایا کہ دو شعر سناتا ہوں ایک آپ کو اور ایک آپ کے متعلقین کو ۔آپ کو یہ سناتا ہوں:

تم  سلامت   رہو    ہزار   برس

ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار

پھر فرمایا کہ یہ بزرگوں کی نشانی ہیں ؎

دعا  ساقی   کو  دو  امید  وابستہ  ہے  ساقی  سے

اگر ساقی سلامت ہے  تو میخانہ سلامت ہے

مزید فرمایا کہ آپ کا ماہنامہ الابرار میرے تکیہ کے نیچے رکھا رہتا ہے۔          

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Monday 24th of June 2019 11:55:10 AM