حرمین شریفین کا مبارک سفر

حرمین شریفین کا مبارک سفر

بتارِیخ ۲۲؍ صفر ۱۴۳۶ھ(۱۴؍ دِسمبر ۲۰۱۴ء) بروز اِتوار صبح دَس بجے خانقاہِ اِمدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کے رَئیس حلیم الامت حضرت وَالا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دَامت برکاتہم کی معیت میں جناب حافظ حبیب اللہ صاحب اور خادِم محمد مطہر محمود عمرہ کرنے کی نیت سے کراچی کے جناح اِنٹرنیشنل ایئر پورٹ کے لیے خانقاہ سے رَوانہ ہوئے اور سوا گیارَہ بجے تک بورڈِنگ اور اِمیگریشن وغیرہ سے فارِغ ہوکر ایئر پورٹ کے فرسٹ کلاس لاؤنج میں پہنچ گئے، لاؤنج کے منیجر نے حضرت وَالا دَامت برکاتہم سے بہت پرتپاک انداز میں ملاقات کی اور حضرت وَالا دَامت برکاتہم سے دَرخواست کی کہ کسی بھی خدمت کے لیے خادِم حاضر ہے اور اپنے نائب کو حضرت وَالا دَامت برکاتہم کے ساتھ کردِیا کہ حضرت وَالا دَامت برکاتہم کا ہر طرح سے خیال رَکھے، ماشاءاللہ حضرت دَامت برکاتہم کی من جانب اللہ ہر دَم محبوبیت کا مشاہدہ روز مرّہ ہوتا رہتا ہے پھر حضرت ایک آرَام دہ صوفے پر لیٹ گئے۔ خادِم اور جناب حافظ حبیب اللہ صاحب حضرت کے پاؤں مبارَک دَبانے لگے ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادَت نصیب فرمائی حضرت وَالا دَامت برکاتہم کو اگرچہ اس کی حاجت نہیں تھی لیکن ہم خدام کی دِل جوئی کے لیے حضرت وَالا دَامت برکاتہم نے خدمت کا موقع عنایت فرمایا، لاؤنج میں دوسرے مسافر حضرات اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے اِس اعزاز و اِکرام کو رَشک کی نگاہ سے دیکھ رَہے تھے کچھ دیر کے بعد حضرت وَالا دَامت برکاتہم نے تازہ وضو کیا اور جہاز میں تشریف لے گئے، جہاز اپنے مقررہ وَقت پر رِیاض کے لیے رَوَانہ ہوا، جہاز کے پروَاز کرتے ہی حضرت وَالا دَامت برکاتہم کی اِمامت میں ہم نے ظہر کی نماز ادَا کی، رِیاض کے شاہ عبد العزیز اِنٹرنیشنل ایئر پورٹ پر جہاز اپنے مقررَہ وَقت سے ۳۰؍ منٹ پہلے پہنچ گیا (اللہ وَالوں کے لیے اللہ تعالیٰ رَاستے کی مسافت کو سمیٹ دیتے ہیں) ایئر پورٹ پر حضرت وَالا دَامت برکاتہم کی برکت سے اِمیگریشن کے مراحل بھی چند منٹ میں طے ہوگئے۔ اور جب ایئر پورٹ سے باہر پہنچے تو رَزین بھائی (میزبان) جہاز کے قبل از وَقت پہنچنے کے باعث نہیں پہنچے تھے۔ لیکن وَہاں حضرت وَالا رحمۃ اللہ علیہ کے دو پرانے خدّام جناب ڈَاکٹر طارِق صاحب اور خالد شمسی صاحب حضرت کے استقبال کے لیے موجود تھے حضرت دامت برکاتہم اور ہم دونوں خادم ڈاکٹر طارق صاحب کی گاڑی میں رزین بھائی کی رہائش جو ایئر پورٹ سے تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے پہنچے۔ وہاں پر بھائی رزین اور حضرت والا دامت برکاتہم کے چھوٹے بیٹے حافظ عبد اللہ میاں، بھائی موسیٰ وارثی اور بھائی فیروز جدہ والے بر لب سڑک حضرت والا دامت برکاتہم کے منتظر تھے۔ سب حضرات حضرت والا دامت برکاتہم کی ریاض آمد سے بہت مسرور تھے۔ رزین بھائی نے حضرت والا دامت برکاتہم اور حضرت کے خدام کی رہائش کے لیے ایک بڑے گھر کا انتظام کر رَکھا تھا۔ تھوڑی دیر میں حضرت کے اور خدام رزین بھائی کی رہائش گاہ پر حضرت سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔ حضرت والا اور حضرت کے احباب نے نماز عصر  باجماعت ادا کی۔ نماز عصر کے بعد رزین بھائی نے پر تکلّف چائے کا انتظام کر رکھا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر طارق صاحب نے حضرت والا دامت برکاتہم کو بتایا کہ ان کے دو ماتحت ہندو سے مسلمان ہوئے ہیں وہ حضرات حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کے مشتاق ہیں پھر کچھ ہی دیر میں وہ دونوں نو مسلم حضرات بھی آگئے اور حضرت سے مل کر بہت ہی خوش ہوئے حضرت والا دامت برکاتہم نے ان سے بہت ہی شفقت و محبّت کا معاملہ فرمایا۔ وہ حضرات حضرت والا دامت برکاتہم کی پر لطف ناصحانہ گفتگو سے بہت مستفید ہوئے۔ ملاقات کے لیے آنے والے دیگر حضرات میں مولانا محمد دودھا صاحب بھی تھے جو کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے پرانے مریدین میں سے ہیں اور اب حضرت والا دامت برکاتہم سے بیعت ہیں اور ان کے بڑے بھائی مولانا مفتی زبیر دودھا صاحب لندن میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجازِبیعت ہیں۔ مولانا محمد دودھا حضرت والا دامت برکاتہم سے انتہائی والہانہ محبّت رکھتے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت کے مکمل سفر، ریاض سے لے کر جدہ ایئر پورٹ تک وہ حضرت والا دامت برکاتہم کے ہمراہ رہے۔

نماز عشاء کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم کے بیان کا نظم طے تھا اس موقع پر حضرت والا دامت برکاتہم کے چھوٹے بیٹے حافظ محمد عبد اللہ میاں سلّمہٗ نے حضرت والا دامت برکاتہم کے حکم سے اپنے پیارے دادا حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’مواہب ربانیہ‘‘ سے ’’صحبت اہل اللہ‘‘ کی اہمیت پر ایک ملفوظ پڑھ کر سنایا۔ ماشاء اللہ سامعین کی بہت بڑی تعداد حضرت والا کی مجلس میں موجود تھی جن میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء اور ریاض کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے بہت ہی درد بھرے انداز سے مختصر اور جامع بیان ارشاد فرمایا۔

بتاریخ ۲۳؍ صفر ۱۴۳۶ھ(۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۴ء) بروز پیر بعد نماز فجر حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم و عمت فیوضہم ونفعنا بہ نے بھائی محمد رزین صاحب کے گھر پر بہت ہی درد بھرے انداز سے ذکر نفی و اثبات لاالہ الا اللہ اور ذکر اسم ذات اللہ اللہ اور وظائف مسنونہ کروائے، اور پہلے سے طے شدہ نظم کے مطابق شہدائے یمامہ (مسیلمہ کذاب کی سرکوبی میں جن صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت ہوئی تھی) کی زیارت کے لیے مقامِ یمامہ روانہ ہوئے۔ ہمارے رہبر ریاض کے صالح نوجوان عالم مولوی عبد اللہ صاحب سلمہ  تھے، مولوی عبد اللہ صاحب کے دادا اور والد صاحب حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے قریبی رفقاء اور عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ اور ماشاء اللہ مولوی عبد اللہ صاحب سلمہ نے شہدائے یمامہ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مقابر کی تاریخ اور مقام کو خوب ذہن نشین کیا ہوا ہے۔ حضرت والا دامت برکاتہم اور باقی میزبانِ ریاض بھائی محمد رزین کی گاڑی میں یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یمامہ کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں مولوی عبد اللہ حضرت والا دامت برکاتہم اور حضرت کے رفقاء ِسفر کو جنگ یمامہ کی تفصیلات بیان کرتے رہے۔ یہ مقام عقرباء ہے، جو کہ شمال ریاض میں جبیلہ کے نام سے عیینہ سے قبل ریاض سے تقریباً ۳۰؍ کلومیٹر پر واقع ہے، یمامہ میں صحابہؓ کے مقابر تین چار دیواریوں میں منقسم ہیں اور ایک وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جو ایک دوسرے سے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر ہیں پہلا مقبرہ ’’حي عقاربہ‘‘ ہے، دوسرا مقبرہ شارع صحابہ حي الشہداء پر ’’مقبرہ شعیب الدم جنوب‘‘ اور تیسرا ’’مقبرہ جبیلہ قدیمہ‘‘ جس کا اصل نام مقبرۃ الصحابہ ہے، جسے آج کل جبیلہ کے نام سے جانا جاتا ہے، ارضِ یمامہ کا ایک حصہ ہے۔ جنگ یمامہ سے متعلق تاریخی کتب میں درج ذیل تفصیلات مذکور ہیں، چناں چہ واقدی نے اپنی کتاب الردۃ میں لکھا ہے ’’نزل بموضع یقال لہ عقرباء من ارض الیمامۃ‘‘ یہ وہ مقامِ مبارک ہے جہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے   ۱۱ھ میں مرتدین کی سرکوبی کے لیے تین عظیم لشکر روانہ فرمائے تھے یکے بعد دیگرے پہلا اور دوسرا لشکر حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہما کی قیادت میں آیا جو کہ مسیلمہ اور اس کے اصحاب پر غالب نہ ہوسکا پھر تیسرا لشکر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں آیا جس کو بفضلہ تعالیٰ کافی شدید جنگ کے بعد فتح حاصل ہوئی۔

یہ جنگیں۱۱ھ کے اخیر سے لے کر  ۱۴ ھ کے ماہِ ربیع الاوّل تک ہوئیں۔ (تاریخ الاسلام لذہبی ج:۳، ص:۴۱)

کل مسلمانوں کی تعداد گیارہ ہزار تھی جن میں دو ہزار پانچ سو مہاجرین و انصار تھے۔ (القضا علی رد مسیلمہ الکذاب ۴۰۸) جیش خالد کے میمنہ پر حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، میسرہ پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور جناح پر حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ تھے۔ (کتاب الردۃ)

مہاجرین کا جھنڈا حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ  اور انصار کا حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ  کے پاس تھا۔ (تاریخ الطبری ج:۳، ص:۳۸۸)

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Tuesday 11th of December 2018 10:36:59 AM