ذوالحجہ ۱۴۳۵ھ

حلیم الامت حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کا سفرنامہ میانمار (برما)

اگست ۲۰۱۴ءشوال ۱۴۳۵ھ، روانگی: ۲۰اگست بروز بدھ، آمد: ۲۷اگست بروز بدھ۲۴۔۱۰۔ ۱۴۳۵، ۲۰۱۴-۸-۲۰

۲۰؍اگست ۲۰۱۴ء بروز بدھ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے ہمرا ہ احقر راقم الحروف محمد عمران اور جناب حافظ حبیب اللہ صاحب بعد نماز عشاء خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال سے روانہ ہوئے۔

 اور بخیر وعافیت بحمد اللہ تعالی۱:۳۰ پر  میانمار کے رنگون انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچے۔ حضرت مولانا ہدایت اللہ صاحب ،مفتی نور محمد صاحب، مفتی ادریس صاحب،مولانا ابو الخیر صاحب  سمیت اکابر علماء وصلحاء وعمائدین نے ایئرپورٹ پر پر تپاک استقبال کیا۔جس کے بعد حضرت والادامت برکاتہم مولانا محمود آکو جی صاحب کے گھر تشریف لے گئے ۔ بعد از طعام حضرت سے ملنے والے لوگوں کا تانتا بندھا رہا ۔ عصر سے مغرب کے درمیان رنگون کے بے شمار صلحاء، حضرت والا کی زیارت اور ملاقات کے لئے تشریف لائے۔

بعد نماز عشاء سُورتی مسجد رنگون  میں حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کا بیان ہوا۔ سورتی مسجد رنگون قدیم تاریخی مسجدوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ۱۲۹۱-۱۲۹۲ھ کے درمیان  تعمیر ہوئی ۔یہاں  بہت سارے اکابرین اکرا م نے بیانا ت فرمائے ہیں ۔اس مسجد میں حکیم الامت حضرت مولانا اشر ف علی تھانوی صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ سورتی مسجد میں شہر اور اطراف کے بے شمار لوگوں نے مصافحہ کے لئے قطاریں بنا رکھی تھیں۔ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہ نے بھی اس مسجد میں بیان فرمایا تھا اور یہاں کے لوگوں کو اپنے حُسنِ بیان سے اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ یہاں ماشاء اللہ خوب مجمع تھا جبکہ پہلے سے اعلان بھی نہ تھا ۔

جمعرات بعد نماز عشاء،۲۵؍ ۱۰؍ ۱۴۳۵ھ  ۲۰۱۴-۸-۲۱

سورتی مسجد میں بعد نمازِ عشاء بیان

میری  زندگی  کا  حاصل  میری  زیست  کا   سہارا

تیرے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرنا

حضرت والا نے اپنے بیان میں فرمایا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے مسجد میں اس لیے جمع فرمایا کہ جاؤ پردیس میں تذکرہ وطن سنو۔ ہمیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنی ہے چاہے ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے۔ اور یہ چیز کیسے ملے گی؎

ان سے ملنے کی ہے یہی اک راہ

ملنے   والوں   سے  راہ  پیدا  کر

حضرت والا نے فرمایا کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب بھی بزرگوں سے ملنے جاتے تھے مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ نعمت اور  مقام آپ کو کیسے مل گیا؟اس پر ایک فقیر کا قصہ سنایا کہ وہ دو روٹی مانگنے آیا تھا اور اس کو بادشاہ بنادیا گیا۔ لہٰذا جس کو اللہ تعالیٰ دین کے کام کےلئے قبول فرماتے ہیں اس کو دین کی تمام باتیں بھی سکھادیتے ہیں ۔

حضرت والا نے اہل اللہ کی صحبت کی مثال اس بچہ سے دی جو گٹر لائن میں گھس گیا تھا  اور نکل نہیں رہا تھا لیکن جب گٹر لائن کے باہر کچھ بچوں کو جمع کیا گیا تو ان کی ہنسی کی آواز سن کر  باہر آگیا۔ اسی طرح اللہ والوں کو ہنستا دیکھ کر آدمی  گناہوں سے ریورس ہوتا ہے،   اللہ والوں کے مجاہد ہ کی برکت سے ان کے پاس  بیٹھنے والے بھی جلد اللہ والے بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بطور ِ اکرام ان کے پاس بیٹھنے والوں کو جلد اللہ والا بنادیتے ہیں ۔

بیان کے بعد مولانا محمود آکوجی صاحب دامت برکاتہم کے گھر تشریف لے گئے۔ جہاں بہت سارے اکابرین و صلحاء نے شرکت کی۔حضرت والا نے یہاں کام کرنے والی مختلف دینی جماعتوں کو اتحاد اور اتفاق سے مل جل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کا ادب واحترام کرنے کے بارے میں نصیحتیں فرمائیں، اس موقع پر تمام افراد نے حضرت والا کی اس تقریر کی بھر پور تائید فرمائی اور حضرت کی معاملہ فہمی پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ رات کے کھانے کے بعد سونے کے لئے قریبی ہوٹل روانہ ہوئے کیونکہ غیر ملکیوں کے لیے رات اپنے ہوٹل میں گذارنا گورنمنٹ کے قواعد و ضوابط کے لحاظ سے ضروری ہے۔

بروز جمعۃ المبارک22-08-   14 ، ۲۵شوال المکرم

فجر کی نماز کے بعد حضرت والا نے سورتی مسجد میں اللہ اللہ کا ذکر فرمایا، بارش کے باوجود سینکڑوں افراد نے مجلسِ ذکر میں شرکت کی اور حضرت کے نورانی مواعظ اور درد محبت سے فیض حاصل کیا ۔

بعد نمازِ مغرب پنجابی مسجد میں درد انگیز بیان

حضرت والادامت برکاتہم نے چند نصیحت آموز باتوں کے بعد جناب مولا نا مفتی ادریس صاحب سے برمی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے فرمایا تو انہوں نے مقامی زبان میں بیان فرمایا۔ بیان کے دوران بھی مقامی افراد کی تعداد بڑھتی رہی ، رات 8 بجے کا وقت تھا لیکن لوگوں کی توجہ اورمحبت سے بیٹھنے اور سننے کی وجہ سے دونوں بزرگوں نے بیان مسلسل جاری رکھا ۔مسجد مکمل بھر چکی تھی مگر اب بھی لوگ جوق در جوق عشق و محبت کے جا م سے سیراب ہونے کے لئے کھنچے چلے آرہے تھے۔ بیان کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں طلباء، علماء اور دیگر لوگوں نے حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی۔سب  لوگ حضرت والا کے قریب جمع ہوگئے اور فرطِ محبت سے حضرت والا کے ہاتھ کو بوسہ دے رہے تھے اور بغل گیر ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔یہاں اندازہ ہواکہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی محنت اور محبت کا پھل بارآور ہورہا ہے۔

محفلِ ذکر بمقام سورتی مسجد

23-08بروز ہفتہ

نماز فجر جناب حافظ حبیب اللہ دامت برکاتہم نے پڑھائی۔ بعد نماز فجر حضرت والا دامت برکاتہم نے ذکر کرایا ۔ ذکر کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم کو رنگو ن پورٹ کی سیر کرائی گئی، صبح کی تازہ ہوا میں حضرت سے بہت سے احباب نے ملاقات کی۔

مدرسۂ صادقیہ روانگی

ناشتہ کے بعد حضرت والا مدرسۂ صادقیہ روانہ ہوئے۔ اس مدرسہ میں ۱۳ طلباء کرام کو آگ میں زندہ جلا کر شہید کیا گیا تھا۔ جناب حافظ ہاشم بوڈی صاحب نے حضرت والا کا استقبال کیا حضرت والا دامت برکاتہم سے بہت محبت اور شفقت کا اظہار فرمایا۔ اور حضرت سے دعاؤں کی درخواست کی۔ وہ مدرسہ صادقیہ کے زیر انتظام ۵۰ سے زائد مدارس دین کی خدمت میں مشغول ہیں۔

مدرسہ صادقیہ کے بعد حضرت والامدرسہ سعدیہ فیضِ اختر پاک لینڈ کے لئے روانہ ہوئے۔ مدرسہ کے نائب ناظم جنا ب محمد سورتی صاحب دامت برکاتہم اور ان کے بہت سارے اساتذہ کرام نے حضرت والا کا استقبال کیااور بڑی محبت سے پیش آئے۔ مولانا قاری یوسف اسعدی صاحب نے اپنی محبت کا اظہار جن الفاظ میں کیا وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔

جناب قاری یوسف اسعدی صاحب نہایت شفیق اور مخلص انسان ہیں۔انہوں  نے حضرت والا سے عرض کیا کہ میں عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمۃ اللہ علیہ کا غائبانہ عاشق ہوں کیونکہ میں نے حضرت کی زیارت نہیں کی لیکن حضرت کی شاعری سے مجھے حقیقی عشق ہے اور میں حضرت کی کتاب فغانِ رومی پڑھ کر رو پڑا۔

 جب سے حضرت رحمتہ اللہ علیہ اور ہندوستان و پاکستان کے اکابر اس ملک میں تشریف لائے ان کی محنت، لگن اور دین اسلام کی اشاعت کے لئے کڑھن نے اس ملک میں مسلمانوں کی شان میں اضافہ کیا  اور مسلمانوں کوا ن کی شناخت کے بارے میں روشناس کیا۔

 برما کی گالف ٹیم کے مشہور کھلاڑی اور فزیو تھراپسٹ محمد شریف صاحب جو کہ بنکاک گئے ہوئے تھے حضرت کی آمد کی خبر سن کر فوراً اپنی تمام مصروفیات چھوڑیں اور  حضرت والا دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور حضرت کی خوب خدمت کی جس سے حضرت والا دامت برکاتہم  بہت خوش ہوئے۔

جامع مسجد رونق اسلام روانگی

حضرت والا دامت برکاتہم مسجد رونق اسلام کےلئے روانہ ہوئے جہاں بروز ہفتہ جناب محمد سورتی صاحب دامت برکاتہم العالی کی ہفتہ وار مجلس ہوتی ہے۔جامع مسجد رونق اسلام کی رونق آمدِ حضرت کے طفیل واقعی دیکھنے کے لائق تھی۔ مسجد کے مرکزی دروازے سے لے کر باہر تک تمام جگہ بھر چکی تھی اور بے شمار افراد حضرت والا دامت برکاتہم کے انتظا ر میں دروازے پر کھڑے تھے۔

حضرت والا دامت برکاتہم کا محبتِ الٰہی  سے پُر سُنت اور شریعت کے اتباع کے بارے میں مکمل بیان ہوا جس کا برمی زبان میں جناب مفتی نور محمد صاحب نے ترجمہ کیا۔

مدرسہ ضیاء القرآن

مدرسہ ضیاء القرآن مفتی ادریس صاحب دامت برکاتہم کا قائم کردہ مدرسہ ہے جو ۱۹۴۸ء سے قائم ہے جہاں مختلف شعبوں میں دین کا کام ہورہا ہے۔ مدرسہ کے تحت کچھ اور مدارس بھی کام کررہے ہیں۔ تعلیم القرآن کے سلسلے میں ملک بھر میں ۴۰۰ مراکز قائم ہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پھیلانے کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

بیان کے دورا ن حضرت والا نے قراء ت سے متعلق ایسے ایسے ارشاد ات فرمائے اورا یسے ایسے قرآنی علوم بیان فرمائے کہ لوگ حیرا ن ہوگئے۔ اس موقع پر حضرت والا نے اپنی قراءت کی کلاس کے استادوں سے مشق اور ان کی تربیت کے واقعات سنائے اور مدرسہ کے طلباء کرا م اور اساتذہ عظام کو قراءت کے متعلق نہایت مفید مشورے دئیے جن کو اساتذہ اور منتظمین نے نہایت شوق سے قلمبند کیا۔ حضرت والا نے مدرسہ کی انتظامیہ اور اساتذہ کرام کے حسن انتظام کی بہت تعریف فرمائی ۔

جیواء مسجد کوکائن میں حضرت والا دامت برکاتہم کا بیان

بعد نمازِ مغرب مولانا ہدایت اللہ صاحب دامت برکاتم کی جیواء مسجد کوکائن میں حضرت والا دامت برکاتہم کا بیان تھا۔ بیان میں حضرت والا نے خاص طور پر بدگمانی اور ایک دوسرے کے خلاف حسد اور عداوت کے بارے میں تفصیل سے بتایا ۔ حضرت والاکے بیا ن سے لوگ بہت متاثر نظر آرہے تھے خصوصاً علماء کرام اور نوجوان طبقہ جنہوں نے اس قسم کے بیانا ت کبھی نہیں سنے تھے۔

اس موقع پر موجود پاکستانی سفارتخانے کے افراد حضرت کی عوام میں پذیرائی سے بہت خوش تھے،ان کے ساتھ UNICEFکے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے جو ایسے بیانات کو یہاں کے مسلمان عوام کے لیے روح کی تازگی سمجھتے ہیں۔  UNICEFکے عہدیدار نے حضرت والا دامت برکاتہم سے خاص طور پر عرض کی کہ یہاں کے مسلمانوں اور ان کی حالتِ زار کے لئے خصوصی دعا فرمائیں جس پر حضرت والادامت برکاتہم العالیہ نے نہایت رقت آمیز دعافرمائی جس نے حاضرین مجلس کے دلوں کو گرما دیا۔ بہت سارے افراد حضرت کی دعا کو  اپنے لئے مژدۂ آزاری سمجھ رہے ہیں۔ دعا کے بعد علماء وصلحاء کی کثیر تعداد نے حضرت والا دامت برکاتہم سے بیعت کی درخواست کی، جسے آپ نے قبول فرما لیا۔ سب سے پہلے حضرت مولانا ہدایت اللہ صاحب دامت برکاتہم نے اپنا ہاتھ حضرت والا کے ہاتھ میں بغرضِ بیعت دیا۔ تما م افراد حضرت سے بیعت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے بیعت کے لیے سب کو قبول فرما لیا۔ 

آپ دامت برکاتہم بحیثیت حلیم الامت

حضرت مولانا ہدایت اللہ صاحب دامت برکاتہم، قاری طیب صاحب، مفتی ادریس صاحب، مفتی اسعد یوسفی صاحب، مفتی نور محمد صاحب اور مولانا ادریس کے زیر انتظام مدرسہ میں تقریب کا آغازپروقار انداز میں ہوا ،بعد ازاں حضرت والا نے بیان فرمایا جو اہل برما  اور یہاں کے علماء کرام کے لیے ایک نادر اور یادگار بیان تھا اس میں حضرت والانے ایک د وسرے کی عزت نفس، آپس میں اتحاد و یگانگت اور مسلم معاشرے کے ان پہلوؤ ں کو اُجاگر فرمایا جن پر عام مقررکی نظر نہیں جاتی کیونکہ آپ تو حلیم الامت ہیں اس لئے معاشرے کی برائیا ں اور بیماریوں پرنظر ہے لہٰذا یہاں کی معاشرتی اور سماجی سرگرمیوں کو  حضرت نے احادیث اور اتباع رسول  کی روشنی میں واضح کیا۔ بیان کے دورا ن حضرت نے اپنے والد ماجد حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے اپنے قلبی لگاؤ اور اکلوتا بیٹا ہونے کے ناطے حضرت کی حد درجہ محبت کو نہایت رقت انگیز طریقہ سے بیان فرمایا۔ اس کے علاوہ حضرت والا نے اپنے شیخ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی رحمۃ اللہ علیہ سے قلبی لگاؤاور ان اکابر کی محبت کو بھی  بیان فرمایا۔

ٹاموے قبرستان روانگی

بیان کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ مسجد و مدرسہ سے ملحق ٹاموے قبرستان گئے۔یہ قبرستا ن اب گورنمنٹ برما کے حکم کے تحت بند ہے اور یہاں کسی کو تدفین کی اجازت نہیں۔

جامعہ دارالعلوم سے متصل ٹاموے قبرستان میں مندرجہ ذیل علماء کرام مدفو ن ہیں:

شیخ الحدیث حضرت مولانا بشیر اللہ صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہ (سابق شیخ الحدیث جامعہ دار العلوم ٹاموے)، حضرت مولانا مفتی قاری حافظ سلیما ن صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہ (مفتی اعظم برما کے برادر اور جمعیۃ العلماء برماکے مفتی و جامعہ دارالعلوم کے استاذ حدیث اور سورتی جامع مسجد کے امام)، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز بانی دارالعلوم ٹاموے اور مفتی محمد سعد کے سکڑ دادا الحاج محمد یوسف صاحب راندیری، مدینہ منورہ کے سابق امام اور بعدہٗ سورتی سنی جامع مسجد کے سابق امام صاحب مفتی اعظم برما مفتی محمد داؤد یوسف صاحب ؒ کے دادا محمد ہاشم یوسف صاحب، محمد ابراہیم مظاہری صاحب۔ جمعیۃ العلما ء برما کے سیکریٹری مولانا مقصود احمد خاں صاحب، جمعیۃ العلماء کے سیکریٹری مولانا نور محمد صاحب، تبلیغی مرکز جامع مسجد کے سابق اما م حضرت مولانا قاری محمد علی صاحب مظاہری، اور حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب رامپوری کے خلیفہ مجاز پروفیسر محمد علی رحمۃ اللہ علیہم۔

مدھا ء مسجد

مدھاء مسجد میں حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کے بیان کے دوران بہت سے افراد کو زار وقطار روتے دیکھا گیا، بیان میں بوڑھے جوان ہر عمر کے لوگ شامل تھے، مستورات کے لیے بھی پردے کا بندوبست تھا، یہاں بیعت ہونے والوں کی تعداد تقریبا ً ڈھائی ہزار تھی، ایسا لگتا تھا کہ جیسے لوگ حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کو دیکھنے اور اُن سے بیعت ہونے کے لیے عرصہ سے تڑپ رہے تھے۔بیان و بیعت کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کے لیے عشائیہ کا بندوبست جناب مولانا یوسف صاحب کے گھر تھا جو جمعیت علماء برما کے صدر ہیں۔

26-08بروز پیر

ذکر بمقام سورتی مسجد 

نماز فجر حافظ حبیب اللہ صاحب نے  پڑھائی۔ حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ نے ذکر سے لوگوں کے دلوں کو اللہ کی محبت سے گرمایا ۔کچھ دیر آرام کرنے کے بعد حضرت والادامت برکاتہم ابتدا ء بخاری شریف کے لیے پنجابی مسجد و مدرسہ شوکت الاسلام تشریف لے گئے جہاں طلباء اور مقامی افراد کی ایک بڑی تعدا د موجودتھی۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا، اس کے بعد ایک طالب علم نے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی نعت بڑے ترنم اور خوش الحانی سے پڑھی جس سے طالبینِ عشقِ بڑے مسرور ہوئے۔

نعت شریف کے بعدجناب حافظ حبیب اللہ صاحب کا مختصر بیان ہوا جس سے حاضرین محفل پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔بیان کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ نے بخاری شریف کا افتتاح کیا او ر پہلی حدیث انما الاعمال بالنیات کی شرح فرمائی۔

26-08بروز پیر

مدرسہ پاک لینڈ فیض اختر آمد

مدرسہ شوکت الاسلام سے حضرت  والا دامت برکاتہم العالیہ ؛ جناب مولانا قاری یوسف اسعدی صاحب کے مدرسہ پاک لینڈ فیض اختر کے لیے روانہ ہوئے۔ مدرسہ میں استقبال کے لیے بہت سے طلباء، علماء اور اساتذۂ کرام موجود تھے۔ حضرت والا دامت برکاتہم کو دیکھتے ہی تمام افراد کےچہرے پھول  کی طرح کِھل اٹھے۔ حضرت والا کا بیان شروع ہوا جس میں حضر ت نے طلباء کرام کو علم حاصل کرنے، علم پر عمل کرنے اور خاص طور سے ان اساتذہ کرام کی صحبت میں بیٹھنے پر زور دیا جن کو کسی بزرگ کی صحبت حاصل ہے اور فضول گھومنے پھرنے سے اور لایعنی معاملات سے پرہیز کرنے پر زور دیا۔حضرت والا دامت برکاتہم کے بیان سے طلباء کرام اور اساتذہ کرام میں خدمتِ دین کا ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہوا۔ بیان کے بعد دورۂ حدیث کے طلباء نے حضرت والا سے اجازت حدیث طلب فرمائی جسے حضرت والا مدظلہم نے منظور فرمالیا۔

26-08-14

مفتی اعظم برما مولانا شمس الضحیٰ صاحب کی آمد اور والہانہ اظہارمحبت

حضرت مولانا مفتی شمس الضحیٰ صاحب دامت برکاتہم جو کہ مفتی اعظم برما ہیں حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ  سے ملاقات کے لیے بے حد بے چین تھےلیکن اپنی بیماری کی وجہ سے حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کے لیے تشریف نہ لاسکے۔حضرت والا؛ مفتی صاحب مدظلہم سے ملاقات کے لیے خود اُن کے گھر پہنچے اور ان سے برما کے حالات پر تبادلئہ خیال کیا ۔حضرت مفتی صاحب مدظلہم حضرت والا دامت برکاتہم کو دیکھ کر نہایت خوش ہوئے،  بڑے پُرتپاک انداز میں استقبال کیا، اپنے نہ آنے کی معذرت کی، حضرت والا کو بہت دعائیں دیں، برما میں حضرت والا دامت برکاتہم کے اصلاحی بیانا ت کو یہاں کے عوام اور علماء کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی 1998ء میں آمد سے اب تک کے حالات میں مثبت تبدیلیوں پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔

یہاں حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کانہایت مؤثربیان ہوا اور حاضرین کے دلوں میں  اپنے حسن بیان، سادگی اور خوش اسلوبی سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے جذبہ کو ابھارا۔ بیان کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت کی درخواست کی گئی جو آپ نے قبول فرمائی۔

بیان سے پہلے پاکستانی سفارتخانہ کے افراد جو کچھ دن پہلے حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات کرچکے تھےحضرت کے پاس تحفہ لے کر حاضر ہوئے اور دعاؤں کی درخواست فرمائی،حضرت نے اسی وقت ان کے لیے دعا کی۔عشائیہ مولانا یوسف صاحب کے بھائی جناب الحاج جلال الدین صاحب کے گھر تھا ۔وہاں سے فارغ ہوکر اپنی قیام گاہ پہنچے۔

رنگون میں آخری دن اور اہل ِ برما کی بے قراری

27-08-2014

جامع مسجد سورتی میں فجر کی نماز کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم نے ذکر کروایا اور ذکر کے بعد مختصر اور جامع بیان فرمایا۔آج حضرت کا رنگون میں آخری دن تھا لہٰذا فجر ہی سے لوگوں کا ہجوم حضرت والا کے گرد نظر آرہا تھا اور وہ اپنے محبوب کی ہر ہر ادا کو اپنے ذہنوں اور سینوں میں محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ نماز فجر سے ہی لوگوں کی ایک لمبی قطار حضرت سے مصافحہ کرنے کی منتظر تھی۔مصافحہ کے بعد حضرت والا اپنی آرام گاہ تشریف لائے اور ناشتہ کے بعد روانگی کی تیاری فرمائی۔ مولانا سراج الدین (برما) مرگوئی عبد اللہ صاحب،محمد اشرف علی  عبد العلی (برما)مولانا بلال صاحب ولد عبد اللہ (برما)مولانا عبدالعلی  ولد عبد اللہ ودیگر نے حضرت والامدظلہم کے دستِ  مبارک  پر اصلاح وتزکیہ کے لئے رجوع کیا۔

اہل برما کی دین سے محبت دیکھ کر لگتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں کو اپنی نسبت عطاء فرمائیں گے ۔ہر شخص کسی نہ کسی طریقہ سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے حضرت والا کے قریب سے قریب تر رہنے کی کوشش میں مصروف تھا۔

حضرت والا ائیر پورٹ پہنچے تو امیگریشن کے تمام مراحل سے گزر کر بآسانی VIP  لاؤنج  میں تشریف لے گئے۔ رنگون کے وقت کے مطابق بینکاک کے لیے 2:55 پر روانہ ہوئے اور بینکاک کے وقت کے مطابق 3:55 پر پہنچے۔ بینکاک ائیر پورٹ پر حضرت والا دامت برکاتہم نے کچھ دیر آرام فرمایا اور کراچی جانے والی فلائٹ سے کراچی روانہ ہوگئے۔

مولانا ملک عبد الحفیظ صاحب مکی دامت برکاتہم کی خانقاہ آمد

حضرت مولانا ملک عبد الحفیظ صاحب مکی دامت برکاتہم خلیفہ اجل حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ جمعۃ المبارک ۲؍ ذیقعدہ بعد نمازِ مغرب حلیم الامت حضرت والا حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات کے لیے خانقاہ تشریف لائے اور تقریباً آدھ پون گھنٹہ  حضرت والا دامت برکاتہم سے محوِ گفتگو رہے،  اور حضرت والا دامت برکاتہم کے سفر برما کی کارگزاری سن کر بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور خوب دعائیں دیں۔

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Monday 17th of June 2019 09:54:00 PM