حرمین شریفین کا مبارک سفر

حرمین شریفین کا مبارک سفر

شعار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت ’’یا محمداہ‘‘ تھا۔

لڑائی بہت سخت ہوئی، کثیر صحابہؓ شہید ہوئے یہاں تک کہ زمین سرخ ہوگئی۔

کل بارہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم  شہید ہوئے جن میں سے سات سو حفاظ کرام تھے۔

مدینہ منورہ کے مہاجرین و انصار میں سے تین سو ساٹھ شہدا تھے اور خارجِ مدینہ سے تین سو صحابہ رضی اللہ عنہم  مہاجر تھے اور بقیہ دیگر تابعین و صحابہ رضی اللہ عنہم  تھے۔

انصار مسیلمہ میں سے کل اکیس ہزار مارے گئے، سات ہزار حدیقۃ الموت سے باہر سات ہزار اس کے اندر اور سات ہزار طلب میں۔

اہل مدینہ کو جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کی شہادت اور مسلمانوں کے اس عظیم نقصان کا علم ہوا تو حکم ہوا کہ بقیہ تمام قبیلہ کو قتل کردیا جائے لیکن بعد قتال کے ان سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ صلح کرچکے تھے جس کی اطلاع ہونے پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صلح کو برقرار رکھنے کا حکم فرمایا۔

مشاہیر صحابہ عظام رضی اللہ عنہم  میں سے جو حضرات شہید ہوئے ان میں حضرت زید بن خطاب، حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ حضرت ابو حذیفہ، حضرت ثابت بن قیس انصاری، حضرت ابو دجانہ، حضرت عبد اللہ بن السہل، حضرت طفیل بن عمرو دوسی، حضرت عمر کے چچازاد بھائی حضرت عمار بن کثیر عددی، حضرت زبیر بن عوام کے بھائی حضرت سائب بن عوام رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں۔

حضرت والا دامت برکاتہم اور حضرت کے رفقاء سفر نے تینوں مقابر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے لیے ایصالِ ثواب کیا اور سب نے اس پوری وادی میں بہت ہی انوارات محسوس کیے۔  حضرت والا اور تمام رفقاء پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔

مقابہ صحابہؓ جبیلہ قدیمہ کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے سبزی کے کھیت تھے، تو حضرت والا وہاں پر کام کرنے والے کاشت کار سے جاکر ملے، تعارف کرانے پر معلوم ہوا کہ وہ پنجاب (پاکستان )کے رہنے والے ہیں، وہ حضرت والا سے مل کر بہت خوش ہوئے، حضرت والا نے ان سے تازہ سبزی (ساگ، مولی، جرجیر) خریدی اور فرمایا کہ یہاں صحابہ کرامؓ کی شہادت کے انوار اس زمین کے ذرے ذرے میں پیوست ہیں تو اس کا اثر ان سبزیوں میں بھی موجود ہے، لہٰذا یہ سبزیاں اس نیت سے خریدی ہیں کہ ان کے کھانے سے اللہ تعالیٰ ان میں موجود انوار ہمارے اندر بھی منتقل فرمادیں۔ لہٰذا وہاں سے واپسی پر حضرت والا نے گاڑی میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں ان شہداء کی زیارت نصیب فرمائی، تصور کریں کہ صحابہ کرامؓ اس دور میں مدینہ منورہ سے کس طرح اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے پہنچے ہوں گے، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔اور آج ہم شان دار سڑکوں اور عالی شان گاڑیوں میں بیٹھ کر یہاں کیسے آسانی سے پہنچ گئے۔

واپسی پر بھائی رزین کے گھر پر ناشتہ تیار تھا، رزین بھائی کے چھوٹے چھوٹے بچے محمد اسمٰعیل اور محمد ہارون سلمہما دسترخوان پر ناشتہ کا سامان بہت خوشی سے رکھ رہے تھے پھر حضرت والا نے رزین بھائی کو خوب دعاؤں سے نوازا کہ اللہ تعالیٰ ان کے جان و مال اور اولاد میں برکت عطا فرمائے۔ ماشاء اللہ خوب اخلاص اور محبت کے ساتھ خدمت میں مستعد ہیں۔

مجلس بر مکان بھائی رزین صاحب

جناب حافظ حبیب اللہ صاحب نے حضرت والا دامت برکاتہم کا ان الفاظ میں تعارف کروایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالیٰ کا بہت شکر اور احسان ہے کہ حضرت والا دامت برکاتہم یہاں تشریف فرما ہیں، حضرت  ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ جو کہ اپنے وقت کے ایک محدث گزرے ہیں اور مشکوٰ ۃ کی شرح ’’مرقاۃ ‘‘ گیارہ جلدوں میں لکھی ہے اور مکہ شریف کے قبرستان جنت المعلیٰ میں آرام فرما ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’’لَوْ مَرَّ وَلِیُّ مِنْ اَوْلِیَاءِ اللہِ تَعَالیٰ بِبَلَدَۃٍ ‘‘  کہ اللہ تعالیٰ کے دوستوں میں سے کوئی دوست اگر کسی بستی سے گزر بھی جائے تو وہ بستی والے اس اللہ والے کی برکت سے محروم نہیں رہتے، تو نسبت بہت بڑی چیز ہوتی ہے حضرت والا دامت برکاتہم کی نسبت یہ ہے کہ عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے بھی ہیں اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد خانقاہ کے مہتمم بھی ہیں اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے متوسلین کے بڑے بھی ہیں سب نے ان کو اپنا بڑا بنایا اور دوسری نسبت حضرت والا مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے آخری خلیفہ تھے ان کے خلیفہ مجاز بیعت بھی ہیں تو اللہ کا شکر ہے کہ حضرت تشریف فرما ہیں۔ اللہ حضرت کی برکتوں سے ہمارے قلوب کو منور فرمائے اور اخلاقِ حمیدہ نصیب فرمائے۔

اب حضرت والا دامت برکاتہم کے صاحبزادے عزیز حافظ عبد اللہ میاں سلّمہٗ اپنے دادا کا کچھ مال سنائیں گے، دادا کا مال دو نسبتوں سے ملے گا، پوتے سے بھی ملے گا اور صاحب زادے سے بھی۔

حافظ عبد اللہ میاں کی استغفار کے ثمرات سے تعلیم

دادا کی کتاب استغفار کے ثمرات سے پڑھ کر سنا رہا ہوں ابّا کے حکم پر

کُلُّ بَنِیْ اٰدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ

بہترین خطا کار وہ ہیں جو کثیر التوبہ ہیں،لیکن توبہ کی شرائط کیا ہیں؟اور توبہ کب قبول ہوتی ہے؟ اس کی تین شرطیں محدثین نے بیان کی ہیں۔

شیخ محی الدین ابوزکریا نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرحِ مسلم میں فرمایا کہ توبہ کی قبولیت کی تین شرطیں ہیں:

 ۱) یہ کہ اَنْ یَّقْلَعَ عَنِ الْمَعْصِیَۃِاس گناہ سے الگ ہوجائے۔ بعض لوگ بے پردہ عورتوں کو دیکھتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ مولانا! ذرا دیکھیے کیا بے پردگی ہے لَاحَوْلَ بھی پڑھ رہے ہیں اور دیکھتے بھی جارہے ہیں، تو ایسا لَاحَوْلَ خود ان پر لَاحَوْلَ پڑھتا ہے۔ فَاِنَّ ہٰذَا الْاِسْتِغْفَارَ یَحْتَاجُ اِلَی الْاِسْتِغْفَارِ ایسا استغفار دوسرے استغفار کا محتاج ہے، اس لیے توبہ جب قبول ہوتی ہے کہ اس گناہ سے انسان علیحدہ ہوجائے۔

۲) اور دوسری شرط یہ ہے کہ اَنْ یَّنْدَمَ عَلَیْہَا اس گناہ پر ندامتِ قلب بھی ہو، شرمندگی ہو۔ ندامت کی حقیقت تَأَ لُّمُ الْقَلْبِ ہے کہ قلب میں الم پیدا ہوجائے، جیسا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ حضرات جانتے ہیں کہ جب انہیں پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض ہیں تو قرآن پاک اعلان کرتا ہے وَضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ساری کائنات ان پر تنگ ہوگئی اور وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُہُمْ اور وہ اپنی جانوں سے بیزار ہوگئے۔ اور یہ محبت کے حقوق میں سے ہے، جس سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اس کی ناراضگی سے ایسا ہی اثر ہونا چاہیے۔ پس اگر گناہ ہوجائے تو اللہ کی ناراضگی اور غضب کے ساتھ کوئی چیز اچھی نہ لگے، بال بچے بھی اچھے نہ لگیں، کھانا پینا بھی اچھا نہ لگے، مکان بھی اچھا نہ لگے، ساری دنیا اس کی نگاہوں میں تنگ پڑجائے اور اپنی جان سے بیزار ہوجائے، جب تک کہ دو رکعت صلوٰۃالتوبہ پڑھ کر اشکبار آنکھوں سے استغفار و توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی نہ کرے۔ حالتِ نافرمانی میں  اور حالتِ اصرار علی الذنب میں دنیا کی نعمتوں کو برتنا شرافتِ عبدیت کے خلاف ہے۔ بدایوں کا ایک شاعر تھا، جس کو اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ محبت کے حق پر ایک شاعر کا شعر اور ذوق پیش کرتا ہوں۔ وہ ظالم کہتا ہے؎

ہم نے فانی ؔ ڈوبتے دیکھی ہے نبض کائنات

جب    مزاجِ   یار   کچھ   برہم نظر آیا  مجھے

یعنی میری بیوی جو ذرا سی ناراض ہوگئی تو مجھے ساری کائنات کی نبض ڈوبتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ لو بھائی! اپنی ہی نبض ڈوبتی ہوئی نہیں معلوم ہوئی، بلکہ کہتا ہے کہ ساری دنیا اندھیری نظر آرہی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ محبت کے حقوق میں سے یہ ہے کہ محبوب کی ناراضگی سے ایسا حال ہوجاوے، اور یہ محبت تو مجازی اور چند دن کی ہے اور عارضی و فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حق ہم پر کتنا ہے، اس کو تو ہم بیان بھی نہیں کرسکتے۔ ہماری رگِ جان سے بھی وہ قریب تر ہیں۔ ہمارا وجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے موجود ہوا۔ ہماری دنیا و آخرت کے سارے مسائل اللہ تعالیٰ سے متعلق ہیں۔ اگر ساری دنیا ہماری تعریف کرے تو اس تعریف سے ہمارا کچھ بھلا نہ ہوگا جب تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہ نہ فرمادیں کہ میں تم سے راضی ہوگیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا شعر یاد آیا۔ فرماتے ہیں کہ دنیا میں اگر بہت سے لوگ تمہاری تعریف کریں تو تم اپنی قیمت نہ لگالینا،کیوں کہ غلاموں کے قیمت لگانے سے غلام کی قیمت نہیں بڑھتی، غلاموں کی قیمت مالک کی رضا سے بڑھتی ہے، لہٰذا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

ہم  ایسے  رہے  یا  کہ  ویسے  رہے

وہاں دیکھنا ہے  کہ    کیسے   رہے

یہاں ہماری خوب تعریفیں ہورہی ہیں،لیکن وہاں ہماری قیمت کیا ہوگی یہ قیامت کے دن معلوم ہوگا۔ اور  ان کا دوسرا شعر بھی سنائے دیتا ہوں، کیوں کہ عارضی حیات سے بعض وقت آدمی کو دھوکا لگ جاتا ہے۔ فرماتے ہیں  ؎

حیاتِ  دو  روزہ  کا  کیا  عیش  و  غم

مسافر رہے    جیسے   تیسے   رہے

ملاقات اولیاء

مؤرخہ 18فروری 2015ء کو دوپہر کے وقت نماز ظہر سے قبل حلیم الامت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے صاحب زادے حضرت مولانا حافظ محمد اسحٰق صاحب دامت برکاتہم کی معیت میں جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم استاذ العلماء حضرت مولانا محمد عبید اللہ اشرفی صاحب دامت برکاتہم کی زیارت وملاقات کا شرف حاصل ہوا ، اس موقع پر جب حضرت سے عرض کیا گیا کہ کراچی خانقاہ سے حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہٗ کے پوتے مولانا حافظ محمد اسحٰق صاحب حضرت کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے ہیں تو حضرت نے خانقاہ اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا نام سنتے ہی بہت زیادہ خوشی اور مسرت کا اظہار فرمایا اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ بہت محبت سے فرمانے لگے اور بار بار فرمایا کہ حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی عجیب شخص تھے، بہت ہی عجیب شخص تھے اور فرمایا کہ حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو مجھ سے بہت پیار تھا اور مجلس صیانۃ المسلمین کے جلسہ کے موقع پر اسی کمرہ میں وہ قیام کرتے تھے وہ سارا منظر سامنے ہے، حضرت والا کی نسبت سے حضرت نے بہت ہی محبت اور شفقت بھری، شگفتہ اور دردو محبت سے لبریز نصیحت آمیز گفتگو ارشاد فرمائی جو نذر قارئین ہے:

حضرت مولانا محمد عبید اللہ صاحب اشرفی دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا کہ :

اللہ تعالیٰ کی عنایات میں سے ہے کہ اس نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت بھی کروائی، مار بھی کھلوائی اور انعام بھی دلوایا، اسی طرح حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی بھی زیارت کروائی، یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے جسے عطا فرمائے۔

حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو مجھ سے بہت پیار تھا بلکہ ان کا کیا !! میری خوش قسمتی ہے کہ حق تعالیٰ نے شروع سے ہیئت ایسی بنائی ہے کہ جس نے دیکھا پیار کیا باوجود نااہل ہونے کے، لاہور میں آپ آئے ہیں میں لاہور کا رہنے والا ہوں آپ مہمان ہیں، میرے لیے میزبان کی شکل بھی ہے آپ کا حق بھی ہے اور اس حق کو استعمال کرنا چاہیے کچھ ، لے لینا چاہیے۔ ( حضرت کے ان جملوں میں بہت ہی مٹھاس معلوم ہورہی تھی۔)

( حضرت سے عرض کیا گیا کہ حضرت مولانا محمد مظہر صاحب آپ کا پوچھتے رہتے ہیں، بہت یاد کرتے ہیں اور اکثر اپنے بیانات میں آپ کا تذکرہ کرتے ہیں، پچھلے دنوں نومبر میں حاضر بھی ہوئے تھے مگر آپ کی طبیعت ناساز تھی ، اس لیے ملاقات نہ ہوسکی۔ اس پر خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا: مولانا محمد مظہر میاں سے تو ہمارا استاذ ، شاگردی کا بھی رشتہ ہے)

پھر حضرت نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دیکھ کے آپ کو ترس آگیا ہوگا دعا فرماؤ، والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک جملہ ہے اس کو یاد رکھو جب تک سانس آرہا ہے  دعا فرماؤ ’’ امن ، امن ، امن ‘‘ اور نیت یہ کرو امن سے مراد دین بھی، دنیا بھی، عزت بھی، اولاد صالح بھی آگے ان کا سلسلہ بھی الی یوم القیٰمۃ  صحت ، دولت ، عزت ، امن ، ایمان اپنا بھی، اپنی اولاد کا بھی ، اولاد کی اولاد کا بھی۔ یہ امن کہاں تک گیا؟ قیامت تک، کس کے لیے گیا؟ سب کے لیے گیا۔ سانس آرہا ہے تو امن ، امن ، امن اور جانے لگے ، بلاوا آجائے تو ’’ ایمان ، ایمان ، ایمان ‘‘۔ من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ

والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جس شخص کے متعلق  اللہ تعالیٰ اس کے آخری وقت کے اندر فرشتوں کو تلقین کا حکم دیں کہ اس کے سامنے کلمہ پڑھو  وہ ان کو دیکھ کر کلمہ پڑھے گا اور چلا جائے گا اور الاسلام یھدم ما کان قبلہ سارا کا سارا ختم ہوجائے گا۔

عجیب تھی اللہ والوں کی باتیں والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا عجیب جملہ تھا، فرماتے تھے:  مجھے کہتے ہو نالائق بتلاؤ ایسا شخص کون ساہے نماز ایک نہیں پڑھی، حج نہیں کیا ، زکوٰۃ نہیں دی کوئی نیک کام نہیں کیا اور سیدھا جنت میں چلا گیا وہ کون ہے ایسا شخص وہ یہی ہے من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ نہ نماز آئی نہ زکوٰۃ آئی نہ کچھ اور چیز آئی سیدھا دخل الجنۃ دعا کرو اللہ تعالیٰ یہی آخری کلام بنادے۔ مجھے تو آپ لوگوں سے کچھ سیکھنا چاہیے تھا، آں باشد کہ چپ نہ شود ۔ ( اس جملہ سے حضرت کی تواضع اور عجز وانکساری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ والے اپنے آپ کو کس قدر مٹا کر رکھتے ہیں ۔)

(پھر حضرت دامت برکاتہم نے جوش وجذبہ کے ساتھ یہ ارشاد فرمایا ) ایک خوبی ہے اور تو کوئی خوبی نہیں ہے، بڑے بڑے بزرگوں کی زیارت بھی ہوئی اور پیار بھی ملا۔ اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے حق تعالیٰ نے زیارت کروادی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت علامہ انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مدنی   رحمۃ اللہ علیہ تو میرے استاد بھی تھے۔ بڑے اکابر کی زیارت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی برکت سے ہوگئی، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے ایسی تین خصوصیات اس نالائق کوملی ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے خلیفہ کو بھی نہیں ملی، خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھی نہیں ملیں،کسی کو نہیں ملیں، ناکارہ کو ملی ہیں ایک تو درسِ  نظامی کی ہر کتاب کا افتتاح حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے کیا ہے ’’میزان‘‘ سے لے کر’’ بخاری شریف‘‘ تک لاشریک لی فیہ احد دوسری خصوصیت تھپڑ بھی تین کھائے اکھٹے، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ہاتھ  ماشاء اللہ بڑا مضبوط تھا اور میری تو عمر تھوڑی تھی، نو دس سال کا تھا، کچھ غلطی ہوئی تھی بس غلطی کا تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں کوئی ادھار تھا ہی نہیں فوراً ایک تھپڑ، دو تھپڑ ، تین تھپڑ، میری چھوٹی عمر تھی حضرت کا ہاتھ مبارک بڑا مضبوط تھا، میں نے تو فوراً رونا شروع کردیا، خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ادھر ٹہل رہے تھے، دیکھ رہے تھے مجھے مار پڑتی ہوئی، حضرت رحمۃ اللہ علیہ تو مار کر چلے گئے خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ آئے، پوچھا کتنے تھپڑ کھائے؟ میں نے کہا تین، فوراً تین پیار دیے اور فرمایا ’’ تو بڑا خوش قسمت ہے، ہم تو ساری عمر ترس گئے ہمیں تو ایک تھپڑ بھی نہیں ملا ‘‘ کیسے قدر دان تھے، تین پیار دیے، یہ بھی میری خصوصیت ہے کسی کو نہیں ملی، کسی کو ایک آدھ تھپڑ ملا ہوگا وہ بھی اس انداز کا نہیں ملا ہوگا کہ اتنے بڑے آدمی کا اتنے چھوٹے سے بچے کو تھپڑ۔ اور تیسری خصوصیت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا آپ جب جائیں مجھے بتلانا عبید اللہ کے لیے میں نے ایک ہدیہ رکھا ہے وہ لیتے جانا، حضرت کہاں، میں کہاں، ہدیہ کہاں، بس پھر وہ ہدیہ ملا، آپ لوگوں نے تو شاید نہیں دیکھا ہوگا اس زمانے میں ہندوستان کے اندر’’روئی کا گرم ٹو پا ‘‘بنتا تھا، بچوں کے لیے ہوتا تھا، ریشم کا بچوں کے لیے جائز تھا، بڑوں کے لیے بھی تھوڑا سا جائز ہے تاکہ جنت یاد رہے کہ وہاں یہ ملے گا ،تھوڑا سا سونا بھی جائز ہے تاکہ وہ یاد آتا رہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے وہ ہدیہ رکھا اور والد صاحب سے فرمایا جب آپ جائیں عبید اللہ کے لیے ہدیہ رکھا ہوا ہے، لیتے جائیں، میں  ( حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ) رمضان میں وقت لگاتا تھا اور عید سے پہلے گھر واپس آجاتا تھا، والدہ اور بھائی وغیرہ امرتسر میں ہوتے تھے، والد صاحب پورا چلّہ کاٹ کے آتے تھے عید وہاں ہوتی  تھی میں پہلے ہی آگیا تھا، حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جانے سے دو دن پہلے بتلادینااور  والد صاحب سے فرمایا ’’یہ ہدیہ عبید اللہ کے لیے ‘‘ اس پیار سے کہے گئے جملے پر  ایک کائنات کیا لاکھوں کائنات ہوتیں تو میں قربان کردیتا، کہاں حضرت ،کہاں یہ پیار بھرا جملہ ‘‘ تو خیر جب والد صاحب نے بتلایا میں  جارہا ہوں تو حضرت نے وہ گرم ٹو پا اس میں تقریباً ایک پاؤ روئی ڈالتے تھے اور گرم اتنا کہ سردیوں میں پسینہ آجاتا تھا اور نرم اتنا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا یا ہے بھی کہ نہیں ایسی خصوصیت تھی، تو وہ ٹوپا دیا، قربان جائیں اللہ والوں کی دنیوی باتوں میں بھی لذت تھی، فرمایا یہ اس کے لیے لے جانا یہ سر پہ پہنے گا وفی الرأس کل شئی یعنی سب کچھ سر ہی میں ہے دماغ ہے تو آنکھ کام کی ہے، دماغ ہے تو ناک کام کی ہے، سونگھے گا، دیکھے گا ، کھائے گا، دماغ نہیں تو گویا میت پڑی ہوئی  ہے پہلے سے زیادہ خوبصورت سب کچھ لگایا ہوا ہے، آنکھیں ہیں، ناک ہے، کان ہیں، مگر دماغ نہیں ہے تو کچھ نہیں یہ معنی ہے وفی الرأس کل شئی۔

پھر بہت ہی محبت سے فرمایا کہ بس اب جاؤ۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔ آمین۔)

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Friday 20th of September 2019 03:55:40 PM