حضرت والا دامت برکاتہم کا گوادر کا سفر

 حضرت والا دامت برکاتہم کا گوادر کا سفر

۲۸؍فروری ۲۰۱۶ بروز اتوار  صبح ساڑھے نو بجے خانقاہِ اِمدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کے رئیس حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی معیت میں حضرت کے چند احبابِ خصوصی ، حضرت والا کے دو فرزندانِ گرامی  جناب مولانا حکیم محمد اِسماعیل صاحب اور جناب مولانا حافظ محمد اِسحاق صاحب  صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر  گوادر کے لیے روانہ ہوئے۔ کراچی سے گوادر کا راستہ اللہ جل شانہٗ کی قدرت کے مناظر سے بھرا ہوا ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے  کے دونوں اطراف بظاہر بنجر وبیابان  زمین اور پہاڑی سلسلے ہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی ماہر سنگ تراش نے اپنے ہاتھوں سے اس کے نقش و نگار بنائے ہیں لیکن یہ درحقیقت اللہ جل شانہٗ کی قدرت کی ادنیٰ سی جھلک  ہے۔ اور میلوں سفر کے بعد جب سمندر کا ساحل نظر آتا ہے تو وہ منظر دیکھنے والے کو مسحور کردیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کیسے کیسے قدرتی خزانوں سے نوازا ہے۔ حضرتِ والا دامت برکاتہم کی معیت میں  بہت سے حضرات کا گوادر کا یہ پہلا سفر تھا۔ سب احباب حضرتِ والا کے مشکور تھے کہ حضرت کی برکت سے  اللہ تعالیٰ نے یہ پُر لطف سفر میسر فرمایا۔ عصر کی نماز گوادر پہنچ کر ادا کی گئی، مغرب کے بعد گوادر کے مقامی علماء حضرتِ والا سے ملاقات کے لیے  حضرت کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے اور حضرت والا کے قیام کے دوران مختلف مساجد و مدارس میں  حضرت کے بیانات کے نظم کو ترتیب دیا گیا۔ پہلا بیان۲۹ فروری کو بعد نماز مغرب گوادر کی سب سے بڑی مسجد  جامع مسجد بلال میں ہوا۔  ماشاء اللہ! حضرت والا کے بیان میں گوادر، تربت، بلیدہ اور مختلف اطراف سے آئے ہوئے علمائے کرام اور عوام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ جنہوں نے حضرت والا کے بیان کو بہت شوق سے سنا۔

یکم مارچ بعد نمازِ عصر گوادر کے ایک  بڑے مدرسے میں حضرت والا نے طلباء میں مختصر اور پُر اثر بیان فرمایا۔ وہاں سے حضرت گوادر تبلیغی مرکز مدینہ مسجد پہنچے اور بعد مغرب خطاب فرمایا۔

۲مارچ کو گوادر کے تقریباً تمام علماء و ائمہ مساجد حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کی دعوت پر حضرت والا کی رہائش گاہ میں جمع ہوئے، جن سے حضرت نے گفتگو فرمائی اور بتلایا کہ مقامی طور سے اللہ کے دین کی اشاعت  اور تبلیغ کا کام کس انداز سے کیا جائے۔ اس عنوان پر حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ نے بہت سی ہدایات و نصائح ارشاد فرمائیں۔ عشاء سے قبل گوادر سے ۲۲  کلو میٹر پر واقع ایک شہر سُربندر میں بیان کے لیے تشریف لے گئے، سُربندر میں بھی مذکورہ تمام افراد اور عوام و علماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اور حضرت والا مدظلہٗ کی فکر آخرت پر مشتمل گفتگو سے مستفید ہوئے۔

اگلے دن صبح گوادر سے  کراچی کی طرف روانگی ہوئی اور عصر کی نماز خانقاہ کی مسجد اشرف میں پڑھی گئی۔

اجازتِ حدیث

۱۰؍ مارچ کو تقریباً دو سو سے زائد علماء نے حضرت والا دامت برکاتہم سے اِجازتِ حدیث لی۔

وفاق المدارس کی مشاورت میں حضرت والا دامت برکاتہم کی شرکت

جامعۃ العلوم الاسلامیہ  بنوری ٹاؤن میں گزشتہ دنوں ۳؍اپریل کو لاہور میں منعقد ہونے والی   وفاق المدارس العربیۃ والجامعات الاسلامیہ پاکستان  کی’’استحکامِ مدارس وپاکستان کانفرنس ‘‘(جوموجودہ ملکی نازک صورت حال کے باعث ملتوی کردی گئی ۔)کے سلسلہ میں مشاورت کے لیے ایک اجلاس رکھا گیا ، حضرت والا دامت برکاتہم وہاں تشریف لے گئے اور مشاورت میں شریک ہوئے اور حضرت والا دامت برکاتہم کی دعا پر ہی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

بیرون ملک سے سالکین کی آمد

گزشتہ دنوں محی السنۃ حضرت والا مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی  اور عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہما اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ایوب سورتی صاحب زید مجدہم کا خانقاہ میں قیام کا سفارشی رُقعہ لے کر جناب محمد امین صاحب خانقاہ تشریف لائے، اور حضرت والا دامت برکاتہم کی مجالس سے مستفید ہوتے رہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، آمین ۔

اسی طرح حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک اور خلیفہ مجاز حضرت مولانا یحییٰ بھام صاحب مدظلہم نے بھی اپنے ایک مرید جناب محمد یوسف صاحب کو خانقاہ وقت لگانے کے لیے بھیجا۔

دار العلوم زکریا ساؤتھ افریقہ کے مہتمم جناب مولانا شبیر احمد سالوجی صاحب بھی گزشتہ دنوں حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کے لیے خانقاہ تشریف لائے۔

جنوبی افریقہ (لینیشیا ایکسٹینشن ۹) مسجد حمزہ کے امام جناب مولانا ابرار الحق صاحب اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کی صحبت میں قیام کی غرض سے خانقاہ تشریف لائے اور خوب مستفید ہوکرگئے، اللہ تعالیٰ قبول فرماکر مزید روحانی ترقیات کا ذریعہ بنائے۔

حضرت مولانا محمد عبید اللہ اشرفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کا اِنتقالِ پُرملال

۱۱؍ مارچ ۲۰۱۶ء بروز جمعہ کی صبح فجر کے وقت پاک و ہند اور بنگلہ دیش میں موجودہ وقت میں سب سے اونچی نسبتوں کے حامل بزرگ، جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم واستاذِ حدیث  حضرت مولانا محمد عبید اللہ اشرفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

۱۱؍ مارچ بروز جمعہ کی صبح کو جیسے ہی حضرت مولانا محمد عبید اللہ اشرفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر خانقاہِ اِمدادیہ اشرفیہ گلشن اِقبال کراچی میں پہنچی، رنج و غم کی لہر دوڑ گئی، حضرت والا دامت برکاتہم فی الفور آٹھ بجے کے جہاز سے لاہور روانہ ہوئے، جمعہ کی نماز کے بعدنمازِ جنازہ کے لیے صفیں درست کرائی گئیں تو مسجد الحسن میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، مسجد مدرسہ سے باہر بھی دور دور تک لوگ شریکِ جنازہ تھے، اُس موقع پر جہاں اور بہت سے اکابر و مشایخ نے حضرت مولانا عبید اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کے انتقال پر تعزیتی خطاب کیا، وہیں حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم نے بھی اپنے اُستاذِ محترم کو خراجِ عقیدت پیش کیا، بعد ازاں مولانا عبید اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کے بڑے صاحب زادے  مولانا ارشد عبید صاحب نے جنازہ پڑھایا اور اِچھرہ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال اور جامعہ اشرف المدارس کے رئیس حلیم الامت حضرت مولانا شاہ حکیم­محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم، نائب رئیس حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب اور ادارہ ’’ماہنامہ الابرار‘‘ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادگان،  حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی صاحب اور ان کے پورے خاندان کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں، بلکہ اپنے آپ کو مستحقِ تعزیت سمجھتے ہیں۔ قارئینِ ’’ماہنامہ الابرار‘‘سے درخواست ہے کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور برابر اِیصالِ ثواب فرماتے رہیں۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ، اللہم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہٗ

حضرت والا دامت برکاتہم کے مرید جناب ظاہر شاہ صاحب کی رحلت

گزشتہ دنوں حضرت والا دامت برکاتہم کے مرید جناب ظاہر شاہ صاحب انتقال کرگئے۔ مرحوم بہت ہی مخلص، سیدھے سادھے اور حضرت والا اور خانقاہ سے بے لوث عقیدت و محبت رکھنے والے تھے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بے حساب مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے،قارئین سے بھی دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Friday 26th of May 2017 12:34:45 AM