حضرت والا دامت برکاتہم کا سفر اسلام آباد

حضرت والا دامت برکاتہم کا سفر اسلام آباد

۱۳ جون ۲۰۱۶ء بروز پیر کو حضرت والا دامت برکاتہم مختصر وقت کے لیے اسلام آباد تشریف لے گئے تھے منگل کی دوپہر کو بخیر وعافیت واپسی ہوئی۔

نائب رئیس الجامعہ کا سفر عمرہ

جامعہ اشرف المدارس کے نائب رئیس حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب زید مجدہم ۲۶ مئی ۲۰۱۶ء کو عمرہ کے سفر پر تشریف لے گئے تھے مولائے کریم ان کی حاضریٔ حرم کو قبول فرمائے۔

رمضان المبارک میں معمولاتِ خانقاہ

خانقاہِ اِمدادیہ اشرفیہ کراچی  میں بحمد اللہ پورے سال سالکینِ طریقت کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن ماہِ رمضان میں یہ تعداد کہیں بڑھ جاتی ہے جب کہ خانقاہ کے مہتمم حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کی ہر وقت یہ فکر ہوتی ہے کہ آئے ہوئے مہمانوں کا وقت ضایع نہ ہواور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت سیکھنے اور سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے اور گناہوں سے صد فیصد بچنے کی  فکر میں ہر وقت مستغرق رہیں  اور ہر طالب صادق کو یہ نعمتیں حاصل ہوجائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حضرت والا تو ہر وقت سالکین کو سیراب فرماتے ہی رہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ  اصلاحی بیانات، قرآن پاک کی تصحیح و تجوید، نماز کی عملی مشق اور روزہ کے مسائل سکھانے کے لیے  بھی باصلاحیت علما و قراء کو متعین فرماتے رہتے ہیں۔ چناں چہ خانقاہ میں بعد تراویح اصلاحی مجلس میں جناب مفتی عبد الباری صاحب (جو حضرت مفتی رشید احمد صاحب اور حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز ہیں اور اب اُن کا تعلقِ اصلاح و بیعت حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے ہے) خالص علمی رنگ میں سالکین کے لیے تصوف، تزکیۂ نفس، اصلاحِ اخلاق اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو بہت سہل انداز سے پیش کرتے ہیں اور صبح بعد فجر حضرت والا دامت برکاتہم مجلسِ ذکر کرواتے ہیں اور اس کے بعد جناب مفتی عبد الباری صاحب  کچھ دیر مزید اصلاحی اور تربیتی گفتگو فرماتے ہیں۔

صبح دس بجے تمام آنے والے مہمان حضرات کو جامعہ اشرف المدارس کے اُستاذِ تجوید جناب قاری فاروق جان صاحب  ایک ڈیڑھ گھنٹہ  قرآن پاک کی تجوید کے ساتھ مشق کرواتے ہیں، اس کے بعد نماز کی عملی مشق اور روزہ کے مسائل کے لیے جناب مفتی مفیض الرحمٰن صاحب (فاضل دار العلوم دیوبند) حضرت والا دامت برکاتہم کی ہدایت کے مطابق مسائل بیان کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ بعد عصر  اور تراویح حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سے سالکین اللہ کی محبت کی چاشنی پاتے رہتے ہیں۔

مہمانوں کی آمد

برما سے نو افراد کی جماعت جن میں اکثر علما ہیں حضرت والا سے استفادہ کے لیے خانقاہ تشریف لائے ہوئے ہیں  اس کے علاوہ انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ، بنگلہ دیش اور ملک بھر سے علما و طلبا اور صوفیا اصلاحِ نفس کے لیے   خانقاہ حضرت والا کی خدمت میں آئے ہوئے ہیں۔

حضرت والا کی طرف سے مہمان اور دیگر روزہ داروں کے لیے سحر و افطار کا انتظام

حضرت والا دامت برکاتہم کی طرف سے بحمد اللہ خانقاہ میں اندر باہر، اوپر نیچے سحر و افطار میں کئی دسترخوان لگائے جاتے ہیں، جن میں انواع و اقسام کی اللہ جل شانہ کی نعمتیں ہوتی ہیں، ان نعمتوں سے عوام وخواص اور مہمان حضرات و دیگر روزہ دار مستفید ہوتے ہیں، اللہ جل شانہ قبول فرمائے۔ آمین!

تراویح  کا نظم

حضرت والا دامت برکاتہم کی ہدایت کے مطابق خانقاہ میں بحمد اللہ مسجد کے علاوہ کئی جگہوں میں قرآن پاک سنانے کی ترتیب عمدگی کے ساتھ جاری ہے، مسجد اشرف گلشن اقبال میں امام صاحب اور مؤذن صاحب (جناب مولانا سیف الرحمٰن و مولانا شکیل احمد)  قرآنِ پاک سنارہے ہیں، جب کہ خانقاہ میں صاحب زادہ مولانا حافظ محمد اِسحٰق صاحب اور جناب حافظ ابوبکر صاحب تراویح سنارہے ہیں، حضرت والا دامت برکاتہم مسجد میں فرض نماز پڑھنے کے بعد خانقاہ میں اپنے فرزند ارجمند مولانا حافظ محمد اِسحٰق صاحب اور جناب ابوبکر صاحب کے پیچھے تراویح ادا فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔

خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ کے معمولاتِ رمضان ایک سالک کی زبانی

مولانا سعید احمد درخواستی

ماشاء اللہ خانقاہ میں وہ اعمال ہوتے ہیں جو اعمالِ مسجد نبوی میں ہوتے ہیں۔ فجر کی نماز کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم  ذکر کراتے ہیں جس سے لوگوں کے دل انوارات سے منور ہوجاتے ہیں اور بعد ازاں مختصر اصلاحی بیان بھی ہوتا ہے جو کہ انتہائی مؤثر ہوتا ہے۔ اس بیان میں سالکین کے علاوہ علمائے کرام، طلبائےعظام، خواص اور عوام سب ہی شریک ہوتے ہیں۔

اس کے بعد سالکین کی تجوید ٹھیک کرنے کے لیے قاری فاروق جان صاحب تشریف لاتے ہیں اور قرآن مجید کی مشق کراتے ہیں۔ اس پر مجھے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ (بانیِ جامعہ اشرفیہ لاہور) کا قصہ یاد آیا کہ جب آپ  حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تشریف لے گئے تھے، مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ  بہت بڑے عالم تھے اس کے باوجود حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ کے تلفظ صحیح نہیں ہے، لہٰذا آپ دوبارہ قاعدہ شروع کر یں۔

تو یہاں خانقاہ میں بھی قاری صاحب کے درس میں علما، طلبا اور حافظ سب بیٹھے ہوتے ہیں۔

اس کے بعد جامعہ اشرف المدارس کے مفتی مفیض الرحمٰن صاحب (جوکہ دار العلوم دیوبند کے فاضل بھی ہیں) نماز اور روزہ کے مسائل سکھانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

مفتی صاحب کے درس کے بعد ایک بار پھر شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کے بیان  (جو کیسٹ کے ذریعہ چلایا جاتا ہے) سے خانقاہ گونج اُٹھتی ہے۔

ماشاء اللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم  سالکین کا بھی بہت خیال فرماتے ہیں اسی لیے ظہر بعد سالکین کو آرام کا وقت دیتے ہیں۔

اس کے بعد نماز عصر سے فارغ ہوکر حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سے ہمارے دل منور کیے جاتے ہیں، پھر قرآنِ پاک کی تلاوت کے لیے وقت مختص کیا گیا ہے۔ بعد ازاں افطاری کے لیے تیاری ہوتی ہے بلاناغہ ہر روز ایک ہزار سے زائد لوگ  (عوام و خواص، مہمان و سالکین) سب  افطاری کرتے ہیں۔

ماشاء اللہ خانقاہ میں دس جگہ تراویح بھی پڑھائی جاتی ہے جس میں چھ روزہ، دس روزہ، پندرہ روزہ، بیس روزہ اور ستائیس روزہ تک ترتیب ہوتی ہے۔

حضرت والا دامت برکاتہم کے بارے میں ایک عجیب بات

حضرت والا دامت برکاتہم چوبیس گھنٹے میں صرف چند گھنٹے نیند فرماتے ہیں اس کے باوجود  حضرت والا اپنے چہرۂ مبارک سے ہر وقت ہشاش بشاش معلوم ہوتے ہیں اور ذرّہ برابر بھی کوئی تھکن محسوس نہیں ہوتی۔ (یہ اللہ  کے ولی ہونے کی نشانی ہے۔)

الحمد للہ مجھے خانقاہ میں وقت لگاتے  ہوئے بہت فائدہ محسوس ہوا۔ بحمد اللہ جب سے میں یہاں ہوں میری ایک بھی تکبیر اُولیٰ فوت نہیں ہوئی اور اسی طرح نمازِ تہجد قضا نہیں ہوئی۔


انتقال پُر ملال

۲۷ مئی ۲۰۱۶ء کو شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے رفیق ِ قدیم جناب حافظ عبد القدیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ انتقال کرگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کو حافظ عبد القدیر صاحب سے اور حافظ عبد القدیر صاحب کو حضرت والا سے خاص محبت تھی،دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی بے حساب مغفرت فرمائے۔اعلیٰ علیین میں ان کے درجات بلند فرمائے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ ادارہ ان کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Thursday 22nd of June 2017 11:32:06 PM