حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ومصاحبِ خاص حضرت میر سید عشرت جمیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ومصاحبِ خاص حضرت میر سید عشرت جمیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور مصاحبِ خاص اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ وملفوظات کے مرتب محترم جناب سید عشرت جمیل المعروف ’’ میر صاحب ‘‘ رحمۃ اللہ علیہ طویل علالت کے بعد بوقت شب ۱۳ رجب المرجب ۱۴۳۶ھ مطابق ۲ مئی ۲۰۱۵ء دار فانی سے کوچ کرگئے۔ حضرت سید عشرت جمیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت ادارے کے لیے کسی جانکاہ حادثہ سے کم نہیں، حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے متعلقین ومنتسبین خصوصاً خانوادہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے اور بلاشبہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا وصال سب ہی کے لیے قابل تعزیت ہے۔

حضرت سید عشرت جمیل میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ چالیس سالہ طویل ترین وقت کے مصاحبِ خاص تھے، آپ کو رومی وقت حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی محفل کا ’’ میر مجلس ‘‘ قرار دیا، اور علالت کے بعد اپنے نام کے ساتھ دستخط کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی، چناں چہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد خانقاہ کے جملہ خطوط کے جوابات آپ رحمۃ اللہ علیہ ہی تحریر فرماتے رہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کئی سالوں سے مختلف شدید امراض سمیت گردوں کی تکلیف میں مبتلا تھے ، روزانہ کی بنیاد پر آپ رحمۃ اللہ علیہ کا ڈائلاسیز ہوتا تھا، جس کے لیے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے خانقاہ کے داخلی حصے میں ہی ایک ڈائلاسیز کی مشین نصب فرمادی تھی، آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ مختلف امراض میں گھر کر بھی صبر وتحمل کی زندہ تصویر بنے رہے، اور وصال شیخ کے لیے رنجور ومضطر رہے، بالآخر پیام وصال آپہنچا اور آپ دیرینہ خواہش کی تکمیل کو پہنچ گئے۔

آپ کے وصال کی اطلاع ملتے ہی خانوادہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ پر خصوصاً اور متعلقین ومنستبین پر عموماً غمزدگی وپژمردگی کا عالم چھا گیا، چوں کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب مدظلہم کا بھائی قرار دیا تھا اس لیے اس جانکاہ خبر کا آپ پر بہت گہرا اثر ہوا اور آپ فوراً مع اپنے فرزند حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب مدظلہم وہاں پہنچے ، آپ مدظلہم نے اپنی نگرانی میں تجہیز وتکفین کا عمل بحسن وخوبی انجام دیا،آپ رحمۃ اللہ علیہ کو خانقاہ اشرف المدارس گلستان جوہر میں حضرت مولانا مفتی ارشاد اعظم، مولانا سید حسین احمد اور حضرت مولانا محمد اسحٰق صاحب مدظلہم ودیگر حضرت میر صاحب کے خدام نے سنت کے مطابق غسل دیا اور حضرت والا مدظلہم نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے مختص کردہ خاندانی قبرستان میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے بالکل پاینتی کی جانب حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مجازِ صحبت حضرت حاجی افضل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی قبر سے متصل آپ کی قبر تیار کروائی گئی اور بعد نماز فجر حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم مظہر صاحب مدظلہم نے رقت آمیز تکبیرات کے ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کی میت کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ قبرستان لے جایا گیا، بوقت تدفین حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب مدظلہم و نور الزمان صاحب قبر میں اترے اور حضرت مولانا محمد اسحٰق مدظلہ بھی برابر شریک رہے اور جسدِ خاکی کو سیدھی کروٹ پر قبر میں رکھا، سب سے پہلے حضرت والا مدظلہم نے قبر پر مٹی ڈالی اور قبرستان ہی میں کافی دیر تک تشریف فرمارہے اور رقت قلب اور نہایت غم واندوہ کے عالم میں حاضرین کو تسلی دیتے رہے۔

حضرت موصوف رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد فوراً ہی حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے متعلقین ومنتسبین خصوصاً وعامۃ الناس کی طرف سے عموماً حضرت والا مدظلہم کو تعزیتی پیغامات کا ایک تانتا بندھ گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جانکاہ حادثے پرچوں کہ سب ہی قابل تعزیت ہیں لہٰذا فرداً  فرداً تمام حضرات کو جواب دینا ممکن نہ ہوسکا، تاہم ادارہ ہٰذا تمام حضرات کے تعزیتی مراسلات پر بے حد ممنون ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرما کر جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور جنت الفردوس کے اعلیٰ علیین میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم کی خانقاہ آمد

مؤرخہ ۱۲ اپریل ۲۰۱۵ء بروز اتوار کو حضرت والا دامت برکاتہم کی دعوت پر انڈیا سے تشریف لائے ہوئے حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے، حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بھانجے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے اکلوتے فرزند، خلیفہ اور جانشین، جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے سرپرست حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم مع مولاناعبدالحفیظ مکی صاحب،مولاناعزیز الرحمٰن ہزاروی صاحب مدظلہم ایک بجے خانقاہ تشریف لائے، حضرت کی آمد کا سن کر صبح ہی سے خانقاہ میں ایک جم غفیر امڈ آیا تھا۔حضرت والا دامت برکاتہم کے حکم سے حضرت کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم  کی گاڑی خانقاہ کے صدر دروازے سے اندر لائی گئی،اولاً حضرت خانقاہ میں تشریف لائے اورآتے ہی حضرت والامدظلہم سےفرمایا:’’یہاں حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انوارات محسوس ہورہے ہیں‘‘۔

حضرت والا دامت برکاتہم نے انہیں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے فرمایا،تو ارشاد فرمایا کہ آپ اپنی مسند پر تشریف رکھیں میں اپنی وہیل چیئر پر ہی بیٹھوں گا ۔

پوچھا کہ کیا حضرت رحمۃاللہ علیہ  گلستانِ جوہر منتقل ہوگئے تھے؟ حضرت والا نے فرمایا کہ جی ہاں ہوگئے تھے،لیکن تین دن میں واپس یہیں آگئے۔ اس پر فرمایا کہ بزرگوں کو کشف ہوجاتا ہے کہ دین  کا کام کہاں سے پھیلے گا۔نیز حضرت والامدظلم سے فرمایا کہ ہمارا آپ کا تعلق بہت اوپر سے ہےاور ایک بہت عمدہ ’’خس‘‘ کا عطر عنایت کیا اور فرمایا کہ یہ کاندھلہ سے لایا ہوں۔

حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم کے نظم میں خانقاہ تشریف آوری کا وقت نہیں تھا۔ ہندوستان سے مکمل نظام الاوقات طے تھا،لیکن حضرت والا دامت برکاتہم کی دعوت پر حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم نے خصوصی وقت نکالا اور خانقاہ تشریف لائے۔

حضرت والا دامت برکاتہم نے جامعہ  اشرف المدارس آنے کی دعوت دی تھی، بعد میں حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم کے خدام نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی یہ معلوم کیا کہ حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا قیام کہاں رہا؟ بتایا گیا خانقاہ میں۔ تو فرمایا کہ میں وہیں جاؤں گا جہاں حضرت حکیم صاحب نور اللہ مرقدہٗ قیام پذیر رہے۔

بعد ازاں حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم مسجد تشریف لے گئے اور مختصر مگر پُرمغز وعظ فرمایا اور اس میں تعلیم، تبلیغ اور تزکیہ تینوں شعبوں کے جوڑ پر زور دیا، فرمایا کہ علماء تبلیغ میں سال بھی لگائیں اور پھر خانقاہ سے تعلق رَکھیں، درود شریف کا اہتمام کریں اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب نصیب ہوگا اور اس کی بدولت تعلق مع اللہ حاصل ہوگا۔ انگریزی طور طریقوں سے بچیں،اسلامی طرز اپنائیں۔ پھر دعا فرماکر مجلس ختم فرمائی۔ حق تعالیٰ حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم ایسے اکابر کا سایہ اُمت پر تادیر صحت و عافیت کے ساتھ قائم رکھے، آمین۔

مواعظ ۱۲۱ تا ۱۳۵ کی اشاعت

عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نئے مواعظ حسنہ سلسلہ نمبر ۱۲۱ تا ۱۳۵ شائع ہوکر منظر عام پر آگئے ہیں۔یہ مواعظ حسنہ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور کتب خانہ مظہری  گلشن اقبال بلاک ۲ سے دستیاب ہیں۔

حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب مدظلہ کے اصلاحی بیانات

۱۵ مارچ کوحضرت مولانا مفتی نجم الحسن صاحب دامت برکاتہم کے معروف دینی ادارے دارالعلوم یٰسین القرآن تشریف لے گئے اور جامعہ کے مقتدر اکابرعلمائے کرام وطلبائے کرام سے وعظ فرمایا۔بعد ازاں حضرت مولانا  مفتی الیاس صاحب مدظلہٗ ( خلیفہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ ) کی دعوت پر ان کے ادارے دارالعلوم انوار القرآن تشریف لے گئے اورعلماء وطلباء سے خطاب فرمایا۔

حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم ۲۹ مارچ کو جامعہ ابو ذرغفاری مسجدقبا  یو۔پی موڑ نارتھ کراچی تشریف لے گئے۔ اور صحبت اہل اللہ کی اہمیت سمیت مختلف اہم موضوعات پر پُراثر خطاب فرمایا ۔

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Tuesday 11th of December 2018 10:13:35 AM