ذوالقعدہ ۱۴۳۵ھ

مختلف اکابر اور قابلِ ذکر شخصیات کی خانقاہ آمد

۱۴؍ رمضان المبارک  کو بعد نماز مغرب مولانا ارشد الدین بن مولانا امام الدین شاہ صاحب فاضل جامعہ امدادیہ مہتمم مدرسہ مدینۃ العلوم بھاگر ضلع بلوچستان بولان تشریف لائے اور حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات فرمائی اور مواعظ وصول کیے۔

۱۵؍ رمضان المبارک کو تراویح کے بعد مولانا محمد یار صاحب (استاذ حدیث جامعہ بنوریہ عالمیہ) مدظلہم تشریف لائے۔

۲۸ ؍رمضان المبارک کو نمازِ عصر کے بعد  مجلس میں حضرت قاری فتح محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے جناب قاری شرافت علی صاحب مدظلہ سلان والی ضلع سرگودھا سے تشریف لائے اور حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات فرمائی۔  حضرت نے اپنے والد ماجد عارف باللہ حضرت  اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں قاری شرافت علی صاحب کو بطور ہدیہ عنایت فرمائیں۔

عید الفطر کے دوسرے دن مؤرخہ ۲؍ شوال ۱۴۳۵ھ مطابق ۳۰؍ جولائی ۲۰۱۴ء بروز بدھ تبلیغی مرکز مکی مسجد کراچی کے ذمہ داران جناب مولانا عبد الھادی صاحب، جناب حافظ محمد عرفان صاحب اور جناب ڈاکٹر نوشاد صاحب مدظلہم ۱۲؍ بجے کی مجلس میں تشریف لائے اور حضرت والا سے خصوصی ملاقات فرمائی۔  حضرت والا نے ان حضرات کو درجنوں مواعظ ہدیہ میں مرحمت فرمائے۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے پر محیط رہی، ان حضرات نے حضرت والا دامت برکاتہم کو کراچی کے تبلیغی کام کی کارگزاری سنائی جس پر حضرت والا نے خوشی کا اظہار فرمایا اور دعاؤں سے نوازا۔  حق تعالیٰ دین کے ہر شعبہ کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔

اسی دن نمازِ مغرب سے قبل مفتی اعظم پاکستان ثانی حضرت مولانا مفتی ولی حسن خان صاحب ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند جناب مولانا مفتی سجاد حسن خان صاحب ٹونکی مدظلہم مع جناب ڈاکٹر ایوب صاحب تشریف لائے اورحضرت والامدظلہ سے طویل ملاقات کی۔

۱۸؍شوّال بروز جمعہ قبیل مغرب حضرت قاری فتح محمد صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ خاص جناب  قاری خدا بخش صاحب مدظلہم حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کے لیے خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تشریف لائے۔ حضرت اس وقت نوکوٹ کے سفر پر تھے لہٰذا ان سے ملاقات نہ ہوسکی البتہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب  کی جانب سے ان کی خدمت میں عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں پیش کی گئیں جس پر محترم قاری خدا بخش صاحب دامت برکاتہم نے بہت مسرت کا اظہار فرمایا۔

حلیم الامت حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کا سفر نوکوٹ

(۱۸؍شوّال ۱۴۳۵ھ  مطابق ۱۵؍اگست ۲۰۱۴ء بروز جمعہ)

مہتمم جامعہ اشرف المدارس و خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کراچی حلیم الامت حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب  دامت برکاتہم نے بعد نمازِ عصر کراچی سے نوکوٹ کے لیے رختِ سفر باندھا، حضرت کے صاحبزادے مولانا حافظ محمد اسحاق صاحب اور جرمنی سے تشریف لائے ہوئے دو مہمانوں سمیت بیس افراد حضرت کے ہمسفر تھے۔مغرب کی نماز سے قبل راستہ کے ایک ہوٹل میں رُکے،جہاں سب نے چائے  نوش کی، ہوٹل کے مالک اور ملازمین سمیت سب لوگ حضرت کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے، ہوٹل کے مالک نے دروازہ پر آکر حضرت کا استقبال کیا اور روانگی کے وقت بھی  دروازہ پر ادب کے ساتھ کھڑے رہے، ہوٹل کا ایک بیرا حضرت کا اس قدر عقیدت مند ہوا کہ سارے کام چھوڑ کر حضرت کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کرنے مسجد میں آگیا،حضرت نے رخصت ہوتے وقت ہوٹل کے مالک کو کچھ تحائف دئیے جو حضرت اپنے ہمراہ لائے تھے۔

رات دس بجے کے قریب خانقاہ نوکوٹ  پہنچے، وہاں کے منتظم و  ملازمین نے حضرت کا نہایت پُرجوش انداز میں استقبال کیا، مدرسہ میں رہائش  پذیر طلباء جو سو چکے تھے حضرت کی آمد پر خوشی و مسرت سے بیدار ہوگئے، حضرت نے خانقاہ نوکوٹ میں تشریف فرما ہوکرتمام طلباء میں نقد رقم کا ہدیہ تقسیم فرمایا جس سے بچوں کے چہروں پر مسرت و انبساط کے رنگ بکھر گئے۔حضرت کا یہ سفر اچانک طے ہوا تھا لیکن اس قلیل وقت میں متعلقین  حضرات نے کھانے کا عمدہ انتظام کرلیاتھا، کھانے کے بعد عشاءکی  نماز ادا کی گئی جس کے بعد سب سونے چلے گئے۔

مسجد ابرار نوکوٹ میں فجر کی نماز کے بعد حضرت نے ذکر کروایاجس کے بعد مہمان حضرات کو مسجد، مدرسہ اور منسلک باغ کا مفصل دورہ کرایا، مسجد کی چھت پر پہنچے تو نہایت دلفریب منظر  نگاہوں کے سامنے تھا،  دور دور تک سرسبز کھیت کھلیان بادِ نسیم کے سبک رفتار جھونکوں سے جھوم رہے تھے ، فضا میں ان کی مہکار، پرندوں کی چہکار اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا، سب لوگ دم بخود ہوکر دیر تک اللہ  کی ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ناشتہ کے بعد حضرت کی روانگی ہوئی۔

اگلی منزل تھی ٹنڈو جان محمد کا مدرسہ بیت العلوم جس کا افتتاح حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب نے ہی فرمایا تھا۔وہاں بہت سے احباب حضرت کی آمد کے منتظر تھے جنہوں نے حضرت کا پرجوش انداز میں استقبال کیا۔حضرت مدرسہ میں تشریف فرما ہوئے تو جماعت میں آئے ہوئے تبلیغی حضرات نے حضرت سے ملاقات کی، اس موقع پر حضرت نےمختصراً چند باتیں ارشاد فرمائیں جن کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے۔حضرت نے ارشاد فرمایا  ’’الحمد للہ ہم سب صاحبِ ایمان ہیں، کلمہ اور ایما ن کی بدولت ہم سب کے پاس جنت کا ٹکٹ ہے لیکن ہمارے ایمان کی مثال ریل کے تھرڈ کلاس ڈبہ کی ہے مگر اپنے ایمان کو فرسٹ کلاس ڈبہ میں تقویٰ کی برکت سے ترقی دی جاسکتی ہے،تقویٰ ایمان کو اعلیٰ درجہ کا بناتا ہے، لہٰذا تقویٰ اختیار کرو اور جہاں کسی حسین نامحرم کی شکل نظر آجائے وہاں فوراً نظریں جھکا لو، نظروں کی حفاظت کرنا بھی اعلیٰ درجہ کا تقویٰ ہے، اس لیے ہر وقت محتاط رہو کہ کسی حسین پر بھول کر بھی نظر نہ پڑے جیسے وہ ہرن جس کی ناف میں مشک ہوتا ہے ہر وقت محتاط رہتا ہےکہ کہیں کوئی شکاری آکر مجھے شکار نہ کرلے، اس لیے کھڑے کھڑے اونگھ لیتا ہے، خود بھی نہیں سوتا اور اپنے ساتھیوں کو بھی نہیں سونے دیتا، لہٰذا جاگو اور جگاؤ اور بھاگو اور بھگاؤ، ہرن کی طرح جاگو اور جگاؤ تاکہ کوئی گناہ کے ذریعہ ہمارے ایمان اور تقویٰ  کا شکار نہ کرلے اور بھاگو اور بھگاؤ یعنی گناہ کے اسباب سامنے آجائیں تو انہیں ہٹاؤ، اپنے پاس سے بھگاؤ اور اگر بھگا نہیں سکتے تو خود اس جگہ سے بھاگ جاؤ، اسبابِ گناہ  سے راہِ فرار اختیار کرو۔ لیکن تقویٰ کی یہ دولت اہل اللہ کی صحبت کے بغیر نہیں مل سکتی۔ یہی وجہ تھی کہ بانی ِ تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ جب تبلیغی اسفار سے واپس آتے  تو اپنے شیخ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ان کی خانقاہ حاضر ہوتے تاکہ دل میں مخلوق کے اختلاط سے، عجب و کبر وغیرہ کا جوگرد وغبار لگ گیا ہے وہ صاف ہوجائے اور دل کی ٹیوننگ ہوجائے کیونکہ تبلیغ سے اعمال کاوجود ملتا ہے اور اہل اللہ کی صحبتوں سے خلوص ملتا ہے یعنی اخلاص کی دولت عطا ہوتی ہے جو اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے۔

سارے عالم کی فکر کرنا تو مبارک عمل ہے لیکن اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشادفرماتے ہیں یاایھا الذین امنوا قوا انفسکم و اھلیکم ناراً اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ یعنی  پہلے اپنی فکر کرو پھر اپنے گھر والوں کی فکر کرو، لہذا تبلیغ سے اور اہل اللہ کی صحبتوں سے جو کچھ سیکھو اس پر خود بھی عمل کرو اور اپنے گھر والوں کو بھی پیار محبت سے ان اعمال پر   لانے کی فکر کرو۔‘‘

تبلیغی جماعت کے ساتھی حضرت کے ان ارشادات کو  بڑے غور سے سن رہے تھے۔ بعد میں ایک صاحب نے بتایا کہ ان میں سے ایک ساتھی تصوف کے نہایت مخالف تھے، اہل اللہ کے پاس جانے کو وقت کا ضیاع سمجھتے تھےاور کہتے تھے کہ اللہ والوں کے پاس جاکر وقت ضائع کرنے کے بجائے یہ وقت تبلیغ میں لگایا جائے۔ لیکن حضرت کی باتیں سن کر ان کے سارے اعتراضات الحمد للہ ایک ہی مجلس میں ختم ہوگئے، حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی اکابر کی خدمت میں حاضری کے واقعات نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور وہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے بہت عقیدت مند و ممنون ہوئے، جب حضرت نے ان کو اپنے والد بزرگوار عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک وعظ دیا جس کا نام ہے ’’اصلی پیری مریدی کیا ہے؟‘‘ تو اس وعظ کے نام سے بھی بے حد متاثر ہوئے۔آخر میں وہاں کے احباب نے حضرت کو چائے کے ساتھ دیگر لوازمات اور اونٹنی کا دودھ پیش کیا۔ ماحضر تناول فرمانے کے بعد حضرت نے اپنے ہمراہ لائے ہوئے تحائف پیش کیے اور وہاں سے روانہ ہوئے، میزبان حضرات نے بہت محبت اور عقیدت سے حضرت کو رخصت کیا۔

اگلا پڑاؤ میرپور خاص تھا جہاں حضرت  مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب نے اپنے زیر انتظام حضرت مسیح الامت کے نام سے موسوم زیر تعمیر مسجد و خانقاہ کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ فرمایا اور ضروری ہدایات جاری فرمائیں۔یہاں جناب دین محمد صاحب موجود تھے جنہوں نے حضرت سے اپنے باغ میں تشریف لے جانے کی درخواست کی جس پر حضرت مع احباب ان کے باغ تشریف لے گئے ۔

چار دیواری میں گھرا یہ باغ، باغ کیا تھا حسن و جمال کا مرقع تھا، نزاکت و نفاست سے تراشیدہ لہلہلاتے  پودے،  پودوں پر کھلتے مہکتے رنگا رنگ پھول، مست ہواؤں کے زور پر جھومتے درخت اور ان کے پتوں کی سرسراہٹ، سر پر سایہ فگن گھنگھور گھٹا اور قدموں تلے بچھا سبزے کا قالین، اس قالین پر چہل قدمی کے لیے بنی قطار اندر قطار پختہ روشیں، اپنی بہار دِکھلاتے انواع و اقسام کے پھل دار پیڑ ، جھومتی، گدگداتی، سرسراتی بادِ بے لگام کی مستیاں،  فضاؤں میں اُڑتے پرندوں کی نت نئی  بولیاں اور کوئل کی کوکو۔ فطرت کی ان رعنائیوں نے جو مسحور کن سماں باندھ رکھا تھا حاضرین دیر تک اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔صاحبِ باغ نے مہمانوں کی خدمت میں چائے اور لوازمات پیش کیے جن سے لطف اندوز ہوکر حضرت اور تمام احباب وہاں سے روانہ ہوئے۔ یہاں تھوڑی دیر کے قیام نے سب کے جسم و جاں کو جو طراوت بخشی اس سے سفر کی ساری تھکن ہوا ہوگئی۔

اس باغِ دل فزاء سے چند قدم کے فاصلہ پر حضرت زیر تعمیر ایک مسجد و مدرسہ میں پہنچے، جب وہاں کے مہتمم مولانا یعقوب صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ حضرت کے دیرینہ معتقد نکلے، نہایت ادب و احترام سے حضرت کو زیرِ تعمیر عمارت میں لے گئے، صاف ستھری جگہ پر بٹھایااور حضرت سے دعا کی درخواست کی، حضرت اس مدرسہ کے لیے اور تمام عالم میں ہونے والے دینی کاموں کے لیے  دیر تک اللہ تعالیٰ سے مدد و نصرت کی دعا مانگتے رہے۔ آخر میں حضرت نے مہتمم صاحب کو تحائف پیش کیے اور سفر کی اس آخری منزل سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے، راستہ میں ایک مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی اور الحمد للہ دوپہر دو بجے بخیر و عافیت خانقاہ پہنچ گئے۔

عظیم الشان روحانی اجتماع کا انعقادخانقاہ گلستانِ جوہر

عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ وقتاً فوقتاً گلستانِ جوہر کی خانقاہ میں اتوار کی صبح دینی و روحانی اجتماع کا انعقاد فرماتے تھے جس میں حضرت والا کا روح پرور اور دل سوز بیان ہوتا تھا جو سالکین کے قلوب میں  اللہ کی محبت کی وہ آگ لگاتا تھا جس کے اثرات تادیر قائم رہتے تھے۔  حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم نے اپنے والد ماجد کے اس نیک عمل کو جاری رکھا ہے اور وقتاً فوقتاً گلستانِ جوہر کی خانقاہ میں اتوار کے روز روحانی اجتماع منعقد فرما کر اپنے والد بزرگوار کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ الحمد للہ ۲۰؍شوّال ۱۴۳۵ھ مطابق ۱۷؍اگست ۲۰۱۴ء  بروز اتوار  کو بھی ایک عظیم الشان روحانی اجتماع منعقد ہوا جس میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے محبین، خلفاء کرام اور حضرت مولانا حکیم محمدمظہر صاحب دامت برکاتہم کے احباب اور خلفاء کرام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اجتماع اتنا بڑا تھا کہ خانقاہ کی دو منزلوں مکمل طور پر بھرگئیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے باہر سڑک پر بیٹھ کر اجتماع کی کاروائی میں شرکت کی۔

اجتماع کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار پڑھے گئے۔ اشعار کے بعد جنوبی افریقہ میں حضرت مولانا ابرار الحق صاحب  ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت مولانا سلیمان گھانچی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے محمد گھانچی صاحب نے جو خانقاہ میں اصلاح کے لیے قیام پذیر ہیں انگریزی زبان میں مختصراً اپنے قیامِ خانقاہ کا مقصد واضح کیا ۔

جامعہ اشرف المدارس کراچی کے ناظم تعلیمات و استاذ الحدیث  اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز بیعت مولانا مفتی محمد ارشاد اعظم صاحب نے اجتماع کا مقصد    واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ دین کی نسبت سے ہونے والا یہ اجتماع عین اتباع سنت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے وجودِ مبارک کے ساتھ صحابہ کے درمیان تشریف رکھیے چاہے اس کے لیے آپ کو کتنا ہی صبر کرنا پڑے تاکہ صحابہ آپ سے خوب دین سیکھ سکیں۔ آپ صلی علیہ وسلم کے وصال کے بعد چھوٹے درجے کے صحابہ بڑے درجے کے صحابہ کے خدمت میں دین سیکھنے کے لیے حاضر ہوا کرتے تھے حالانکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھا چکے تھے لیکن اس فضیلت کو حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو دوسرے صحابہ کی صحبت سے مستغنی نہیں سمجھا۔

مولانا مفتی محمد ارشاد اعظم صاحب کے بعد حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت الحاج صوفی شمیم صاحب نے تین خواب سنائے جو مختلف لوگوں نے حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب کے لیے دیکھے تھے۔ ان میں سے ایک خواب اپنے وقت کے نہایت بڑے ولی اللہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مولانا حکیم محمد مظہر صاحب کو سلام کہلوایا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو کام کررہے ہو وہ کرتے رہو۔

حیدرآباد سے اجتماع میں شرکت کی غرض سےآئے ہوئے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ جناب صوفی اقبال صاحب نے صحبتِ اہل اللہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر غفلت کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہو تو لوگ انبیاء کی قدر بھی نہیں کرتے، کہتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے جیسے انسان ہیں، ہماری طرح کھاتے پیتے ہیں،ان میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ حالانکہ انبیاء کرام علیہم السلام  اپنے قلوب میں نبوت کا وہ موتی رکھتے تھے جس سے عام لوگوں کے قلوب خالی تھے، اسی طرح لوگ اللہ والوں کی قدر نہیں کرتے اور ان کو بھی اپنے جیسا ہی سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ان سے فیض حاصل نہیں کرپاتے، اللہ تعالیٰ ہم کو اہل اللہ کی خصوصاً اپنے شیخ و مربّی کی قدر کرنے اور ان سے فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

جناب صوفی اقبال صاحب کے بعد حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ جناب نثار احمد صاحب نے فرمایا کہ  اللہ کا شکر ہے کہ ہم جس تھانوی سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ شریعت و سنت کے بالکل تابع ہے، خدا کا شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سلسلہ کے قریب کردیا، اب ہمارا کام ہے کہ اپنے سلسلہ کے متبع شریعت و سنت شیخ سے خوب فیض حاصل کریں، اللہ والے دین سکھانے میں اور اللہ کی محبت سکھانے میں  کوئی کنجوسی نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کےانتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے ذریعہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کےکاموں کو جاری رکھا بلکہ اتوار کے اس اجتماع میں جتنے لوگ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی حیات میں ہوتے تھے آج مجمع اس سے بڑھا ہوا نظر آرہا ہے، یہ صحیح جانشین ہونے کی علامت ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے کام کو مزید بڑھاتے ہیں ۔

جناب نثار احمد صاحب کے بعد حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ جناب حافظ حبیب اللہ صاحب نے اکابر کے ایک نہایت عجیب پہلو کو اُجاگر کیا کہ بعض اوقات ہمارے بزرگ اپنے مرید کو کسی دوسرے اللہ والے کی تربیت میں دے دیتے  تھے تاکہ تربیت کے باب میں مرید کی کسی پہلو سے کوئی کمی نہ رہ جائے جیسے سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے شیخ حضرت میاں جی نور محمد صاحب جھنجھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے حاجی صاحب کے پیر بھائی حضرت حافظ ضامن صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا تھاکہ میرے انتقال کے بعد ان سے اصلاحی تعلق رکھنا۔ اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی بزرگ نے دوسرے بزرگ کے مرید میں کسی خاص صفت کو تراشنے کے لیے اس کے شیخ سے اپنی تربیت میں لینے کے لیے مانگ لیا جیسے شاہ عبد القادر محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے پیر شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی تربیت کرنے کے لیے مانگ لیا تھا۔یہ اکابر کی اپنے مریدین پر اور مریدوں کی اپنے مشائخ پر اعتماد کی بے مثال علامت تھی کہ وہ اپنے شیخ کے مشورے کو حکم کا درجہ دے کر اس کی اتباع کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ان سے دین کی وہ عظیم الشان خدمات سر انجام پائیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کےپوتے اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کے نائب مہتمم واستاذ الحدیث حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب دامت برکاتہم نے نہایت مختصر بیان میں اہلِ محبت کے بارے میں بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگ دین سے نکل گئے یعنی مرتد ہوگئے تو ہم ان بے وفاؤں کے مقابلہ میں ایسی باوفا قوم لائیں گے جس سے ہم محبت کریں گے اور جو ہم سے محبت کرے گی۔یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کو بندوں کی محبت سے پہلے بیان فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ سے محبت کر ہی نہیں سکتے جب تک اللہ ان سے محبت نہ کرے۔

حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب دامت برکاتہم کے مختصر بیان کے بعدعارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تین ملفوظات کی ریکارڈنگ سنائی گئی جو حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے بیٹے اور پوتوں کے بارے میں اظہارِ محبت اور اظہارِ اعتماد کا مظہر تھے۔

آخر میں مہتمم جامعہ اشرف المدارس و خانقاہ  امدادیہ اشرفیہ کراچی، حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ ارجمند اور حضرت والا ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجازِ بیعت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا کہ یہ اجتماع حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے جیسا کہ حضرت والا یہاں اللہ کی محبت کے جام پلایا کرتے تھے اور روحانی ناشتہ کے ساتھ ساتھ جسمانی ناشتہ کا انتظام بھی فرماتے تھے۔ان کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ہم آج یہاں جمع ہوئے ہیں جس کا اصل مقصد تو اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سننا اور ان پر عمل کرنے کی ہمت حاصل کرنا ہے لیکن اس روحانی غذا کے بعد جسمانی غذا کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور دعا کے بعد ان شاء اللہ ناشتہ بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس مل بیٹھنے کو قبول فرمائیں، آمین۔

اس مختصر ارشاد کے بعد حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم نے  گلوگیر آواز میں دلسوزی کے ساتھ دعا فرمائی۔ دعا کے بعد خانقاہ سے متصل جامعہ کے وسیع و عریض تہہ خانے میں ناشتہ کا انتظام کیا گیا ۔ ناشتہ کے بعد سب نے  مولانا محمد مظہر صاحب  مدظلہم کے ہمراہ از سر نو زیر تعمیر مسجد اشرف اور جامعہ اشرف المدارس کی عمارت کا معائنہ کیا  اور دعا مانگی جیسا کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ معذوری کے باوجودوہیل چیئر پربیٹھ کرجامعہ کا معائنہ فرماتے تھے اوردعا مانگتے تھے۔

اللہ تعالیٰ عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لگائے ہوئے اس گلشن اختر کو تاقیامت سرسبز و شاداب اور باغ و بہار رکھے، آمین۔

خواجہ عزیز الحسن صاحب مجذوبؔ کے پوتے اور خاندان کے دیگر افراد کی خانقاہ آمد

۲۱؍شوّال ۱۴۳۵؁ھ مطابق ۱۸؍اگست ۲۰۱۴؁ء کوحکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلیفہ  حضرت خواجہ  عزیز الحسن صاحب مجذوبؔ رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت فیض الحسن صاحب کے بیتے یعنی خواجہ صاحب کے پوتے حضرت فضل الحسن صاحب کے رشتے کی نواسی کانکاح  مسجدِاشرف میں ہوا۔اس نکاح میں حضرت خواجہ صاحب کے خاندان کے مرد حضرات شریک ہوئے ۔نکاح کے بعد خواجہ صاحب کے پوتے حضرت  فضل الحسن صاحب نے حضرت مولاناشاہ حکیم محمد مظہرصاحب سے  خانقاہ میں ان کے حجرہ مبارک میں ملاقات کی اور ان سے دعاؤں کی خصوصی درخواست کی۔حضرت مولاناشاہ حکیم محمد مظہرصاحب نے شدیدعلالت کے باوجود حضرت فضل الحسن صاحب کانہایت گرمجوشی سے استقبال فرمایا۔آخرمیں حضرت مولاناشاہ حکیم محمد مظہرصاحب نے  حضرت فضل الحسن صاحب کوسہ ماہی فغانِ اختر کی خصوصی اشاعت ’’شیخ العرب والعجم نمبر‘‘ کاایک نسخہ عنایت فرمایا۔ 

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Saturday 21st of September 2019 01:25:57 PM