شعبان المعظم ۱۴۳۵ھ

الحمدللہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی حیات مبارک  میں جس طرح کثرت سے  سال بھر سالکین طریق، اللہ تعالیٰ کی محبت کو سیکھنے کے لیے خانقاہ میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں قیام کے لیے تشریف لاتے رہتے تھے اسی طرح حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے (خلیفہ مُجاز بیعت محّی السنۃ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ) کی صحبت میں اصلاحِ اخلاق و تزکیہ نفس کے لیے اندورنِ ملک و بیرونِ  ملک سے علماء، طلباء اور صالحین، مریدین، متعلقین کی ایک کثیر تعدادکی آمد کا سلسلہ جاری ہے؎ 

ہاں  وہ  در میخانہ  نہ  تو  کھلتا  ہے  آج  بھی

پیمانۂ رحمت    تو     چھلکتا    ہے  آج     بھی (اخترؔ)

 آمد مہمان حضرات: حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء کرام (جن میں علماء و محدثین کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے) نے حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد حضرت کے  محبوب اور لائق بیٹے (حلیم الامت حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم) سے تجدیدِ بیعت واصلاح کا تعلق قائم کیا ہے، حضرت کی زیارت و ملاقات کے لیے تشریف لاتے رہتے ہیں۔   دوران ماہ ایران سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے ایک پرانے مرید محترم جناب مولانا نور اللہ صاحب خراسانی تشریف لائے اورایک ہفتہ حضرت دامت برکاتہم کی صحبت میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی پیاس بجھانے کی غرض سے قیام پذیررہے اور حضرت سے تجدید بیعت کی۔ مولانا دارالعلوم کورنگی کراچی  کے فاضل اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ 

دیگر احباب میں جنوبی افریقہ سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ جناب ڈاکٹر مولانا سید سلمان صاحب ابن مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ خانقاہ تشریف لائے اور حضرت دامت برکاتہم سے ملاقات فرمائی اور خانقاہ کی اصلاحی مجلس میں بھی شریک رہے۔

بہاولنگر سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ جناب مولانا جلیل احمد اخون صاحب حضرت دامت برکاتہم سے ملاقات کے لیے تشریف لائے، ماشاءاللہ مولانا سے اللہ تعالیٰ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے کا خوب کام لے رہے ہیں۔ بعد ازیں مولانا نے حضرت کے حکم سے مسجد اشرف گلستان جوہر اور خانقاہ گلشن اقبال میں اصلاحی بیان بھی فرمایا؎

ہے  مبارک  جواُن  پر  فدا  ہو گئی

زندگانی  تو  بس  آنی  جانی  ملی(اخترؔ)

رجب۱۴۳۵ھ بروز ہفتہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے محبوب خلیفہ جناب محبوب زکریا صاحب کے قدیم اور پیارے ساتھی جناب رفیق باوانی صاحب قضاءِالٰہی سے وفات پاگئے۔ بھائی محبوب اور بھائی رفیق کی رفاقت حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے احباب و متعلقین میں مثالی تھی، دونوں کاروباری شریک تھے مگرباہمی محبت بھائیوں سے بڑھ کر تھی، جناب رفیق صاحب انتہائی نرم گو اور میٹھے انداز سے ملنے والے اور متواضع شخص تھے۔  اللہ تعالیٰ مرحوم کی بے حساب مغفرت فرمائیں اور ان کے درجات بلند فرمائیں، قارئین الابرار سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

متعلقہ مراسلہ

Last Updated On Tuesday 20th of August 2019 02:50:01 AM