عورتوں سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات

۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت پانچ وقت کی نماز پڑھتی رہے، وہ رمضان کے روزے رکھ لیا کرے اور اپنی آبرو کی حفاظت رکھے اور اپنے خاوند کی تابعداری کرے تو ایسی عورت جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔

۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا:یارسول اللہ!فلانی عورت کثرت سے نفل نمازیں اور روزے اور خیر خیرات کرتی ہے لیکن زبان سے پڑوسیوں کو تکالیف بھی پہنچاتی ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: وہ دوزخ میں جائے گی۔ پھر اس شخص نے عرض کیا کہ فلانی عورت نفل نمازیں اور روزے اور خیرات کچھ زیادہ نہیں کرتی،یوں ہی کچھ پنیر کے ٹکڑے دے دلادیتی ہے لیکن زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔

۳) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :کسی عورت کا اپنے گھر میں گھر گرہستی کرنا جہاد کے رتبہ کو پہنچنا ہے۔

۴) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:اے عورتو! میں نے تم کو دوزخ میں بہت دیکھا ہے۔ عورتوں نے پوچھا:اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا:تم پھٹکار سب چیزوں پر بہت ڈالا کرتی ہو (یعنی لعن طعن کرتی ہو، کوستی ہو) اور شوہر کی ناشکری بہت کرتی ہو۔ اور اس کی دی ہوئی چیزوں کی بہت ناقدری کرتی ہو۔

۵) اسماء بنت یزید انصاریہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا:یارسول اللہ! میں عورتوں کی فرستادہ آپ کے پاس آئی ہوں۔ (یعنی عورتوں نے مجھے یہ کہہ کر بھیجا ہے کہ) مرد جمعہ اور جماعت اور عیادت مریض اور حضورِ جنازہ اور حج و عمرہ اور اسلامی سرحد کی حفاظت کی بدولت ہم پر فوقیت لے گئے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:تو واپس جا اور عورتوں کو خبر کر دے کہ تمہارا اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرنا یا حقِ شوہری ادا کرنا اور شوہر کی رضا مندی کا لحاظ رکھنا اور شوہر کے موافق مرضی کا اتباع کرنا یہ سب ان اعمال کے برابر ہے۔

۶) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ایسی عورت پر اللہ کی رحمت نازل ہو جو رات کو اٹھ کر تہجد پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے کہ وہ بھی نماز پڑھے۔

۷) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: سب عورتوں سے اچھی وہ عورت ہے کہ جب شوہر اس کی طرف نظر کرے تو وہ اس کو خوش کردے اور جب وہ اس کو کوئی حکم دے، تو وہ اس کی اطاعت کرے ۔ اور اپنی جان اور مال میں اس کو ناخوش کرکے اس کی مخالفت نہ کرے۔

۸) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو دنیا میں کچھ تکلیف دیتی ہے تو جنت میں جو حور اس شوہر کو ملے گی وہ کہتی ہے کہ خدا تجھے غارت کرے، وہ تیرے پاس مہمان ہے جلدہی تیرے پاس سے ہمارے پاس چلا آئے گا۔

۹) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: سب سے اچھی وہ عورت ہے جو اپنی عزت و آبرو کے بارے میں پارسا ہو اور اپنے خاوند پر عاشق ہو۔

۱۰) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:ا للہ تعالیٰ اس عورت کو پسند کرتا ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ تو محبت اور لاگ کرے اور غیر مرد سے اپنی حفاظت کرے۔

۱۱) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: کوئی عورت دوسری عورت سے اس طرح نہ ملے کہ اپنے خاوند کے سامنے اس کا حال اس طرح کہنے لگے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

۱۲) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا دوزخی عورتیں جن کو میں نے دیکھا نہیں، میرے زمانہ کے بعد پیدا ہوں گی کہ کپڑے پہنے ہوں گی اور ننگی ہوں گی۔  یعنی نام کو بدن پر کپڑا ہوگا۔ لیکن کپڑا اس قدر باریک ہوگا کہ تمام بدن نظر آئے گا اور اترا کر بدن کو مٹکاکر چلیں گی اور بالوں کے اندر موباف یا کپڑا دے کر بالوں کو لپیٹ کر اس طرح باندھیں گی کہ جس میں بال بہت سے معلوم ہوں جیسے اونٹ کا کوہان ہوتا ہے ایسی عورتیں جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نصیب نہ ہوگی۔

۱۳) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جو عورت زیور دکھلاوے کے لیے پہنے گی (قیامت میں) اسی سے اس کو عذاب دیا جائے گا۔

۱۴) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ایک سفر میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک آواز سنی جیسے کوئی کسی پر لعنت کررہا ہو۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا:یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ فلانی عورت ہے جو اپنی سواری کی اونٹنی پر لعنت کررہی ہے۔ وہ اونٹنی چلنے میں کمی کرتی ہوگی۔اس عورت نے چلاکر کہہ دیا ہوگا تجھےخدا کی مار ہو (لعنت ہو) جیسا کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے۔ (کوسنے اور لعنت کرنے کی)رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حکم دیا کہ اس عورت کو اور اس کے سامان کو اس کی اونٹنی پر سے اتار دو۔ یہ اونٹنی تو اس عورت کے نزدیک لعنت کے قابل ہے پھر اس کو کام میں کیوں لاتی ہے۔ (حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اصلاح اور تنبیہ کے واسطے ایسا فرمایا کہ جس چیز کو کام میں لاتی ہے اسی کو لعن طعن کرتی ہے۔)

۱۵) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے ایک عورت نے بخار کو برا کہا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ بخار کو برا مت کہو! اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمایا کہ بَین کرکے رونے والی عورت (یعنی نوحہ کرنے والی اور چیخ چلا کر رونے والی عورت) اگر توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے روز اس حالت میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے بدن پر کُرتا کی طرح ایک روغن لپیٹا جائے گا جس میں آگ بڑی جلدی لگتی ہے۔ اور کُرتا ہی کی طرح پورے بدن میں خارش بھی ہوگی یعنی اس کو دو طرح کا عذاب ہوگا۔ خارش سے پورا بدن نوچ ڈالے گی اور جو دوزخ کی آگ لگے گی وہ الگ ہے۔

۱۶) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسی اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر اور ہلکا نہ سمجھے چاہے بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔

فائدہ: بعض عورتوں میں یہ عادت بہت ہوتی ہے کہ دوسرے کے گھر سے آئی ہوئی چیز کو حقیر سمجھتی ہیں اور طعنہ دیتی ہیں۔

۱۷) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ ایک عورت کو ایک بلّی کی وجہ سے عذاب ہوا تھا جس نے اس کو پکڑ کر باندھا تھا، نہ اس کو کھانے کو دیا نہ اس کو چھوڑا۔ یوں ہی تڑپ تڑپ کر مر گئی۔

فائدہ:اسی طرح جانور پال کر اس کے کھانے پینے کی خبر نہ لینا عذاب کی بات ہے۔

۱۸) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: بعض مرد اور عورتیں ساٹھ برس تک خدا کی عبادت کرتے ہیں اور پھر جب موت کا وقت آتا ہے تو شریعت کے خلاف وصیت کرکے دوزخ کے قابل ہوجاتے ہیں۔ (مثلاً  یہ کہ فلاں وارث کو اتنا مال دے دینا)

تنبیہ: وصیت کے مسئلے میں کسی عالم سے پوچھ کر اس کے موافق عمل کرے کبھی اس کے خلاف نہ کرے۔

اصلاحِ خواتین

عورتوں کی اصلاح کی ضرورت

جاننا چاہیے کہ جس طرح نفقاتِ حسیہ (نان نفقہ) کے ذریعہ سے بیوی اور اولاد اور متعلقین کی جسمانی تربیت ضروری ہے اسی طرح علوم اور اصلاح کے طریقوں سے ان کی روحانی تربیت اس سے زیادہ ضروری ہے۔ اس میں بھی قسم قسم کی کوتاہیاں کی جاتی ہیں۔ بہت سے لوگ اس کو ضروری ہی نہیں سمجھتے یعنی اپنے گھر والوں کو نہ کبھی دین کی بات بتلاتے ہیں نہ کسی بُرے کام پر ان کو روک ٹوک کرتے ہیں۔ بس ان کا حق صرف اتنا سمجھتے ہیں کہ ان کو ضروریات کے مطابق خرچ دے دیا اور سبکدوش ہوگئے۔ حالاں کہ قرآن مجید میں نصِ صریح ہے:

یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا قُوۡۤا  اَنۡفُسَکُمۡ  وَ اَہۡلِیۡکُمۡ  نَارًا

اے ایمان والو! اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔

اس کی تفسیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو بھلائی یعنی دین کی باتیں سکھلاؤ۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی بیوی بچوں کو دین کی باتیں سکھلانا فرض ہے ورنہ انجام دوزخ ہوگا۔

اور حدیث صحیح میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

کُلُّکُمْ رَاعٌ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُلٌ عَنْ رَّعْیَتِہٖ

تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے قیامت کے روز ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

ایک حدیث میں ہے:

اَخْفَھُمْ فِی اللہِ وَلَا تَرْفَعُ عَنْھُمْ عَصَاکَ

یعنی گھر والوں کو اللہ سے ڈراتے رہو اور تنبیہ کے واسطے ان سے ڈنڈے کو ختم نہ کرو۔

عورتوں کو اصلاحِ اخلاق کی ضرورت

ہماری عورتوں کے اخلاق نہایت خراب ہیں، ان کو اپنی اصلاح کرانا نہایت ضروری ہے۔ اور یاد رکھو بغیر اخلاق کے درست ہوئے عبادت اور وظیفہ کچھ کار آمد نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ! فلانی عورت بہت عبادت کرتی ہے۔ راتوں کو جاگتی ہے لیکن اپنے ہمسایوں (پڑوسیوں) کو ستاتی ہے۔ فرمایا ھِیَ فِی النَّارِ کہ وہ دوزخ میں جائے گی اور ایک دوسری عورت کی نسبت عرض کیا گیا کہ وہ (زیادہ) عبادت نہیں کرتی مگر ہمسایوں سے حسن سلوک کرتی ہے۔ فرمایا ھِیَ فِی الْجَنَّۃِ کہ وہ جنت میں جائے گی۔ مگر ہماری عورتوں کا سرمایہ بزرگی آج کل تسبیح اور وظیفہ پڑھنا رہ گیا۔ اخلاق کی طرف بالکل توجہ نہیں۔ حالاں کہ اگر دین کا ایک جز بھی کم ہوگا تو دین ناتمام (ناقص) ہوگا۔

عورتوں کی اصلاح و تربیت کی ضرورت

اولاد کی اصلاح کے لیے عورتوں کی تعلیم کا اہتمام نہایت ضروری ہے  کیوں کہ عورتوں کی اصلاح نہ ہونے کا اثر مردوں پر بھی پڑتا ہے  کیوں کہ بچے اکثر ماؤں کی گود میں پلتے ہیں جو مرد ہونے والے ہیں اور ان پر ماؤں کے اخلاق و عادات کا بڑا اثر ہوتا ہے حتیٰ کہ حکماء کا قول ہے کہ جس عمر میں بچہ عقل ہیولانی کے درجہ سے نکل جاتا ہے تو گو وہ اس وقت بات نہ کرسکے مگر اس کے دماغ میں ہر بات ہر فعل منقش ہوجاتی ہے۔ اس لیے اس کے سامنے کوئی بات بے جا اور نازیبا  نہ کرنی چاہیے، بلکہ بعض حکماء نے یہ لکھا ہے کہ بچہ جس وقت ماں کے پیٹ میں جنین ہوتا ہے اس وقت بھی ماں کے افعال کا اثر اس پر پڑتا ہے۔ اس لیے لڑکیوں کی تعلیم و اصلاح زیادہ ضروری ہے۔

اصلاح و تربیت فرضِ عین ہے

بعض لوگ تعلیم کو تو سب کے لیے ضروری سمجھتے ہیں مگر تربیت کو سب کے لیے ضروری نہیں سمجھتے، حالاں کہ تربیت کی ضرورت تعلیم سے بھی اہم ہے۔ درسی تعلیم فرضِ عین نہیں۔ بہت سے صحابہ علوم درسیہ سے خالی تھے مگر ان پر کبھی اس کو لازم نہیں کیا گیا اور تربیت یعنی تہذیبِ نفس ہر شخص پر فرضِ عین ہے۔تعلیم سے مقصود ہی تربیت ہوتی ہے کیوں کہ تعلیم تو علم دینا اور تربیت عمل کرانا ہے اور علم سے مقصود عمل ہی ہے اور مقصود کا اہم ہونا ظاہر ہے۔بہر حال تربیت تعلیم سے اہم ہے، اس سے قطع نظر کرنے کی اور ضروری نہ سمجھنے کی تو کسی حال میں گنجایش نہیں۔

عورتوں کی اصلاح و تربیت کی اہمیت

زوجین (میاں بیوی) کا تعلق ایسا ہوتا ہے کہ ہر وقت کا سابقہ رہتا ہے اور مرد اپنی مصلحتوں کی وجہ سے قطع تعلق (یعنی اس کو چھوڑنا) پسند نہیں کرتا۔ اور نہ عورتوں کی جہالت کو برداشت کرتا ہے تو یہاں ہمیشہ کے لیے لڑائی جھگڑے کی بنیاد قائم ہوجاتی ہے جس کے نتائج جانبین (دونوں طرف) کے حق میں برے سے برے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور دونوں کی زندگی موت سے بھی تلخ (بدمزہ) ہوجاتی ہے اور ان سب کا سبب وہی شروع میں اصلاح کی طرف توجہ نہ کرنا ہے، لیکن اگر ایسا اتفاق ہوگیا تو یہ نہیں کہ ان لوگوں کو مہمل چھوڑ دیا جائے، بلکہ جب بھی قدرت ہو تب ہی اس کی سعی (کوشش) کرنا ضروری ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ماں باپ یا پرورش کرنے والوں کے ذمہ بچوں کی تعلیم  و تربیت ضروری ہوئی اور شوہر کے ذمہ بیبیوں کی۔

عورتوں سے شکایت اور ان کی بدحالی پر افسوس

مجھ کو عورتوں کی غفلت سے شکایت ہے کہ افسوس ان کو دنیا کی تکمیل کا خیال ہے، دین کی تکمیل کا قطعاً نہیں۔ میرا مقصود یہ ہے کہ عورتوں کو دین کی تکمیل سے بھی غافل نہ ہونا چاہیے جیسا کہ اپنے زیور، کپڑے اور مکان کی ضروریات کی تکمیل سے کسی وقت بھی غفلت نہیں ہوتی اور وقتاً فوقتاً مردوں سے اس کے متعلق فرمایشیں کرتی رہتی ہیں اور اگر مرد کسی وقت کسی فرمایش کو غیر ضروری بتلاتے ہیں تو برتنوں اور مکان کی ضرورتوں کے متعلق اختلاف ہونے لگتا ہے۔ اور مرد یوں کہتے ہیں کہ ان چیزوں کی ضرورت نہیں اور مستورات کے نزدیک ان کی ضرورت ہو تو ایسے موقع پر عورتیں کہہ دیا کرتی ہیں کہ اس کو تو ہم ہی زیادہ جانتی ہیں۔ اور بعض عورتوں کا تو یہ کہنا صحیح بھی ہوتا ہے کیوں کہ واقعی مردوں کو ان ضرورتوں کا پوری طرح علم نہیں ہوتا اور بعض اوقات اس اختلاف کا سبب یہ ہوتا ہے کہ مردوں میں قناعت کا مادّہ عورتوں سے زیادہ ہے۔ مرد تھوڑے سے سامان میں بھی گزر کرلیتا ہے اور عورتوں میں قناعت کا مادّہ ہے ہی نہیں، ان کی طبیعت میں بکھیڑا بہت ہے، ان سے تھوڑے سامان میں گزار اہوتا ہی نہیں جب تک سارا گھر سامان سے بھرا بھرا نظر نہ آئے۔

’’میرے عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تکمیل کا تو اس قدر خیال کہ تھوڑے پر قناعت نہیں ہوتا، مردوں سے اختلاف ہونے لگتا ہے تو دین کی تکمیل کا اس قدر خیال کیوں نہیں، اس میں کیوں تھوڑے پر قناعت کرلی جاتی ہے۔‘‘

عورتوں کی اِصلاح کی ذمہ داری مردوں پر ہے

مرد اپنی بیبیوں کی تو شکایتیں کرتے ہیں کہ ایسی بدتمیز اور ایسی جاہل ہیں مگر وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر تو دیکھیں کہ انہوں نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ بس یہ اپنی راحت ہی کے ان سے طالب ہیں اور ان کے دین کا ذرا بھی خیال نہیں کیا جاتا۔ عورتوں کی تو خطا ہے ہی مگر ان کی بے تمیزی میں مردوں کی بھی خطا ہے کہ یہ ان کے دین کی درستی کا اہتمام نہیں کرتے اور ان کے دینی حقوق کو تلف کرتے ہیں۔ ہم بیبیوں کی شکایت تو کرتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے بیبیوں کا کون سا حق ادا کیا ہے۔ چناں چہ  ان کا ایک حق یہ تھا کہ ان کے دین کا خیال کرتے ، ان کو احکام الٰہیہ بتلاتے۔ دوسرا حق یہ تھا کہ معاشرت میں ان کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کرتے، باندیوں اور نوکروں کا سا برتاؤ نہ کرتے۔ مگر ہم نے سب حقوق ضایع کردیے۔

افسوس ہم دنیوی حقوق تو کیا ادا کرتے دینی حقوق پر بھی ہم کو توجہ نہیں۔ چناں چہ  نہ بیوی کی نماز پر توجہ ہے، نہ روزہ پر۔ ان باتوں کو ان کے کانوں میں ڈالتے ہی نہیں۔ یاد رکھو قیامت میں تم سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بیوی بچوں کو دین دار بنانے کی کتنی کوشش کی تھی؟

عورتوں کو دین دار بنانا اور ان کی اصلاح کرنا مردوں کے ذمہ ہے اگر وہ اس میں کوتاہی کریں گے ان سے بھی مواخذہ ہوگا ، کیوں کہ حق تعالیٰ کا حکم ہے:

یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا قُوۡۤا  اَنۡفُسَکُمۡ  وَ اَہۡلِیۡکُمۡ  نَارًا

اے مسلمانو! اپنی جانوں کو بھی جہنم سے بچاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی۔

اگر کوئی مرد خود متقی بن جائے اور اپنے گھر والوں کے دین کی خبر نہ لے تو خدا تعالیٰ اس کی عورتوں کے ساتھ اس کو بھی جہنم میں بھیج دیں گے۔ تنہا اس کا متقی بن جانا قیامت میں عذاب سے نجات کے لیے کافی نہ ہوگا۔

گھر والوں کو دوزخ سے بچانے کا مطلب یہی ہے کہ ان کو تنبیہ کرو۔ بعض لوگ بتلا تو دیتے ہیں مگر ڈھیل چھوڑ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دس دفعہ تو کہہ دیا، نہ مانیں تو ہم کیا کریں۔ سچ تو یہ ہے کہ مردوں نے بھی دین کی ضرورت کو ضرورت نہیں سمجھا، کھانا ضروری، فیشن ضروری مگر غیر ضروری ہے تو صرف دین۔

اصلاحِ عقائد کی ضرورت

تعلیم و تربیت کے مختصر اور ضروری قواعد یہ ہیں:

۱)  جب گھر میں بیوی کا نکاح کرکے لائے تو پہلے اس کو اپنے سے بے تکلف کرلے۔

۲) اس کے بعد (جب پورے طور پر بے تکلفی ہوجائے) اس کے ضروری عقائد کا امتحان لے۔ یعنی (عقائد حقہ) مثلاً جو بہشتی زیور کے پہلے حصہ میں لکھے ہیں، ان کو سناکر اور سمجھاکر اس سے پوچھے کہ کیا تیرا یہی عقیدہ ہے؟ جس کا وہ اقرار کرلے، اس کے اقرار پر اکتفا کرے۔ زیادہ کھود کرید نہ کرے، اس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنی زبان سے پوری تقریر کرسکے ( کیوں کہ) بعض عوام اس پر قادر نہیں ہوتے تو ایسے لوگوں کو اس کی تکلیف نہ دی جائے۔ اور جس (عقیدہ کے بارے میں) شک  و شبہ ظاہر کرے،(یا قرائن سے اس کی بدعقیدگی معلوم ہوجائے) اس کو خوب سمجھا کر بتلائے کہ یہ عقیدہ ضروری ہے اسی کے موافق اپنا اعتقاد رکھے۔

نماز کی اصلاح کی ضرورت

۳) اس کی پوری نماز سن لیں یعنی جو کچھ اس میں پڑھا جاتا ہے وہ بھی اور رکعات کی تعداد بھی، فرض اور واجب اور سنتوں کے ساتھ اور ہر ایک کی جس طرح نیت کی جاتی ہے اور رکوع و سجود اور قعدہ کی ہئیت سب پوچھ لے۔ جہاں کوئی غلطی ہو اس کو درست کردے اور درست کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ بس ایک دفعہ زبان سے کہہ دے ممکن ہے کہ وہ پھر بھول جائے۔ اورممکن ہے کہ بہت سی غلطیوں پر ایک دم متنبہ کیا اور وہ سب کو ضبط (محفوظ) نہ کرسکی اس لیے ایک ایک غلطی کی اصلاح کرکے اس پر بار بار عمل کراکر دیکھ لے۔ اسی طرح پوری نماز کو درست کردے۔

۴) اس کو پردہ کے سب احکام و مسائل بتلادے کہ کس کس سے پردہ کرنا ضروری ہے اور کون کون محرم ہیں (جن سے پردہ ضروری نہیں) اور اس کی بہت تاکید کردے۔ یہ سب مسائل بہشتی زیور میں(اور اس سے زائد تفصیل سے اسی کتاب میں انشاء اللہ) ملیں گے، ان کو دیکھ دیکھ کر بتلادے۔ (یہ ساری کتابیں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہی کے علوم و معارف اور اصلاحی ارشادات کے مجموعے ہیں)۔

۵) اس کو اہلِ حقوق کے حقوق خصوصاً جن سے ہر وقت واسطہ پڑے گا (ان حقوق کو اچھی طرح) سمجھادے۔ رسالہ حقوق الاسلام میں یہ حقوق مذکور ہیں (اور مزید تفصیل کے ساتھ ان شاء اللہ اسی کتاب میں ملیں گے) ان کو پڑھ کر سنادے یا سمجھا دے۔

۶) رسومِ جہالت کی قباحت اس کے دل میں بٹھادے اور ان سے نفرت دلادے کہ وہ ان کے پاس نہ پھٹکے۔ اصلاح الرسوم اس کے لیے کافی ہے اور اس کی مکمل تفصیل نہایت آسان’’اسلامی شادی‘‘(یہ ساری کتابیں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہی کے علوم ومعارف اور اصلاحی ارشادات کے مجموعے ہیں) میں ملے گی، مختصر بیان اس کتاب میں بھی نقل کیا جائے گا۔

۷)  دوسرے اعمال و اخلاق اور عادتوں کی اصلاح کی بھی کوشش جاری رکھے جس کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ (دینی کتابیں) تھوڑا تھوڑا پڑھ کر (روزانہ) سنادیا کرے۔ بہشتی زیور (اسلامی شادی، حقوقِ معاشرت، اسلامی تہذیب، اصلاحِ اعمال اور خصوصاً یہ کتاب۔ ان سب کا پڑھ کر سنانا ان شاء اللہ بہت مفید ہوگا) اور جو کوئی حرکت ان کتابوں کے خلاف ہو نرمی سے مطلع کردے اور بار بار مطلع کرنے سے اُکتائے نہیں، ان شاء اللہ نفع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ ذَکِّرۡ فَاِنَّ  الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ

نصیحت کرتے رہیے  کیوں کہ نصیحت کرنا، سمجھانا ایمان والوں کو نفع دیتا ہے۔

خرچ کرنے کے آداب اس کو سمجھائے کہ فضولیات میں خرچ نہ کرے۔

۸) زیور اور لباس کے زیادہ اہتمام کرنے سے اس کو نفرت دلائے۔

۹) اور اگر کوئی شیخ متبعِ سنت محقق میسر ہو تو اس کے برکات و کمالات اس کے سامنے بیان کرے اور جب اس کو اعتقاد ہوجائے اس کو بیعت کرادے۔ (اور جو کچھ وہ بزرگ پڑھنے کو بتلائیں اس کو معمول میں رکھے) (ورنہ) تھوڑا سا ذکر و شغل قصد السبیل سے (یا کسی بزرگ دین دار کے مشورہ سے) بتلادے۔

۱۰) اگر تھوڑا سا وقتِ فرصت نکال کر کچھ لکھ پڑھ لے اس قدر کہ (دینی کتابیں) پڑھ کر سمجھ سکے تو زیادہ بہتر ہے۔ اس سے اس کی نظر دین پر وسیع ہوجاتی ہے اور جس قدر نظر وسیع ہوگی اسی قدر اصلاح میں ترقی کی امید ہے۔

(تلک عشرۃ کاملۃ۔ مذکورہ بالا امور میں سے ہر ایک کی وضاحت مستقل باب کے تحت ان شاء اللہ کی جائے گی۔)

دین دار عورتوں کے اوصاف

(اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہتر اور نیک عورتوں کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔)

مُؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبۡکَارًا

وہ اسلام والیاں ہوں گی اور ایمان والیاں اور فرماں برداری کرنے والیاں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنے والیاں اور عبادت کرنے والیاں اور روزہ رکھنے والیاں ہوں گی۔

(بیان القرآن:۱۲/ ۱۹ تحریم)

اب میں ان صفات کو بیان کرتا ہوں جو حق تعالیٰ نے (عورتوں کی نیکی اور) خیریت کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔

۱) مُسۡلِمٰتٍ:یعنی وہ عورتیں مسلمان ہوں گی۔ اور اسلام جب ایمان کے مقابل مستعمل ہوتا ہے تو اس سے مراد عمل ہوتا ہے (تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ) وہ احکام الٰہی کی اطاعت کرتی ہوں گی۔

۲) مُؤۡمِنٰتٍ: یعنی وہ ایمان والیاں ہوں گی۔ اس میں عقائد کی درستگی کا بیان ہے کہ جن چیزوں کی تصدیق ضروری ہے جیسے توحید و رسالت و معاد (برزخ، قیامت) وغیرہ ان سب پر ان کا ایمان ہوگا۔ یہاں تک تو عقائد و اعمال کا ذکر ہوا۔

۳) قٰنِتٰتٍ: وہ صاحبِ قنوت ہوں گی، جس کے معنیٰ خشوع و خضوع کے ہیں۔ میرے نزدیک اس میں حال کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان و اسلام کے ساتھ وہ صاحبِ حال بھی ہوں گی جس میں اصل چیز خشوع و خضوع ہے۔

قٰنِتٰتٍ :(کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ’’وہ شوہر کی اطاعت گزار ہوں گی۔‘‘

تٰٓئِبٰتٍ: وہ توبہ کرنے والی ہوں گی،یعنی وہ عمل کے ساتھ توبہ کرنے والی ہوں گی۔ یعنی وہ عورتیں ایسی ہوں گی کہ عمل کے باوجود اپنی کوتاہی (اور گناہوں) سے توبہ کریں گی ۔

عٰبِدٰتٍ: اور وہ عورتیں عبادت کرنے والی ہوں گی،یعنی توبہ کے بعد بھی وہ عبادت اور عمل میں کوتاہی نہ کریں گی  بلکہ پہلے سے زیادہ کوشش کریں گی، ہماری طرح نہ ہوں گی کہ ہم توبہ کے بھروسہ پر گناہ بھی کرتے اور عمل میں کوتاہی بھی کرتے ہیں۔

سٰٓئِحٰتٍ: جمہور سلف نے سائحت کی تفسیر صائمات (روزہ والیاں) سے کی ہے کہ وہ بیبیاں روزہ رکھنے والی ہوں گی۔‘‘ سائحت کی اصل تفسیر صائمات ہے، اکثر علماء مفسرین نے سٰٓئِحٰتٍ کی یہی تفسیر کی ہے۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ سائحت کی تفسیر روزہ رکھنے والیاں ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ روزہ بہت بڑی عبادت ہے ۔ کیوں کہ تعمیم کے بعد تخصیص اہتمام کے لیے ہوتی ہے، حالاں کہ مسلمات اور عابدات میں روزہ بھی داخل تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اہتمام کے ساتھ الگ بیان فرمایا ہے جس سے اس کی خاص عظمت اور فضیلت معلوم ہوئی کہ یہ بہت بڑی عبادت ہے۔

(النسواں فی رمضان ملحقہ فضائل صوم و صلوٰۃ:۲۱۹۔۲۳۷)

دینِ اسلام

قَالَ اللہُ تَعَالٰی: اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللہِ الۡاِسۡلَامُ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بلاشبہ سچا دین اللہ کے نزدیک یہی اسلام ہے ۔

وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ اس سے مقبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔

اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے اور پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مر جائے تو ایسے لوگوں کے نیک اعمال دنیا و آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

(ص ۳ البقرۃ آیت۲۱)

فائدہ:بندوں کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ اور ارادہ دیا ہے جس سے وہ گناہ اور ثواب کے کام اپنے اختیار سے کرتے ہیں۔گناہ کے کام سے اللہ تعالیٰ ناراض اور ثواب کے کام سے خوش ہوتے ہیں۔عمر بھر کوئی کیسا ہی بھلا برا ہومگر جس حالت پر خاتمہ ہوتا ہے اسی کے موافق جزا سزا ہوتی ہے۔

(تعلیم الدین:۱۲)

دین کے اجزاء

دین کے پانچ اجزاء (حصے) ہیں:

۱) ایک جز تو ہے عقائد کا،کہ دل سے اور زبان سے یہ اقرار کرنا کہ اللہ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جس چیز کی، جس طور پر خبر دی ہے وہی حق ہے۔ اس کی تفصیل عقائد کی کتابوں سے معلوم ہوگی۔

۲) دوسرا جز، عبادات ہیں یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ۔

۳) تیسرا جز، معاملات ہیں یعنی نکاح و طلاق کے احکام اور کفارات بیع و شراء، اجارۃ زراعت (یعنی لین دین، خرید و فروخت، تجارت کاشت کاری) وغیرہ اور ان کے جزو دین ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ شریعت یہ سکھاتی ہے کہ کھیتی اس طرح بویا کرو اور تجارت فلاں چیز کی کیا کرو۔ بلکہ شریعت یہ بتلاتی ہے کہ کسی پر ظلم و زیادتی مت کرو۔ اور اس طرح معاملہ نہ کرو جس میں نزاع (یعنی جھگڑے) کا اندیشہ ہو۔ غرض جائز و ناجائز کو بیان کیا جاتا ہے (جس کی تفصیل کتبِ فقہ میں ہے)

۴) چوتھا جز معاشرت کا،یعنی اٹھنا بیٹھنا، ملنا جلنا، مہمان بننا، کسی کے گھر پر کس طرح جانا چاہیے اور اس کے کیا آداب ہیں۔ بیوی بچوں، رشتہ داروں، اجنبیوں اور نوکروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے؟

۵۔پانچواں جز: اخلاق اور اصلاحِ نفس ہے۔

یہ پانچ اجزاء دین کے ہیں، ان پانچوں کے مجموعہ کا نام دین ہے۔ اگر کسی میں ایک جز بھی ان میں سے کم ہو تو وہ دین میں ناقص ہے۔ جیسے کسی کا ایک ہاتھ نہ ہو وہ پیدایش میں ناقص ہے۔ حسین (خوبصورت) وہ ہے جس کی ناک، کان، آنکھ سب ہی حسین ہوں۔ اگر سب چیزیں اچھی ہوں مگر آنکھوں سے اندھا ہو یا ناک کٹی ہو تو وہ حسین نہیں۔ اسی طرح دین دار وہ ہے جو تمام شعبوں کا جامع ہو۔

اب دیکھ لیجیے کہ ہم نے ان پانچوں کا کتنا اہتمام کر رکھا ہے۔ حالت یہ ہے کہ بعض لوگوں نے عقائد و عبادات کو کم کر رکھا ہے۔

عقائد میں توحید و رسالت کے متعلق جو گڑ بڑ کر رکھی ہے سب ہی جانتے ہیں۔عقائد میں کتاب و سنت کو چھوڑ کر رسوم وبدعت کو داخل کرلیا۔ اولیاء اللہ کو انبیاء کے درجہ سے متجاوز کردیا۔ انبیاء کو خدا کے درجہ سے آگے بڑھادیا۔

دوسرا جزدیانت ہے۔ ان کے متعلق معلوم ہے نماز کی پابندی کتنے لوگ کرتے ہیں؟ روزہ کتنے لوگ رکھتے ہیں؟ زکوٰۃ کتنے لوگ ادا کرتے ہیں؟ حج کتنے لوگوں نے ادا کیا؟

تیسرا جز معاملات کا ہے۔ معاملات کی حالت تو یہ ہے کہ بڑے بڑے دین دار لوگ معاملات کو دین ہی نہیں سمجھتے، حالاں کہ معاملات کا دین میں داخل ہونا بدیہی ہے۔

چوتھا جز معاشرت ہے۔ اس کی جو گت بنائی ہے سب ہی واقف ہیں۔ شادی، غمی جس طرح جی چاہتا ہے کرتے ہیں نہ ان کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہے نہ فتویٰ لینے کی ضرورت۔ جو کچھ بیگم صاحبہ نے کہہ دیا وہی کرلیا گویا وہی شریعت کی مفتی ہیں۔

پانچواں جز اخلاق ہے۔ اس میں حالت یہ ہے کہ دین دار لوگوں کو اس کی فکر تو ہوتی ہے کہ سارا لباس داڑھی شریعت کے موافق ہو، لیکن اخلاق کو دیکھیے تو اس قدر خراب کہ گویا شریعت کی ہوا بھی نہیں لگی۔ (دین کے اجزاء کی تفصیل اور ضروری اصلاحات ان شاء اللہ مستقل ابواب کے ساتھ کی جائیں گی)۔(وعظ تفصیل الدین۔ طریق النجاۃ ملحقہ دین و دنیا:۱۵۔تجدید تعلم:۲۲۷)

ضروری عقائد

ایمان نام ہے خاص علوم کا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کی اطلاع رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی معرفت دی ہے، ان باتوں کو اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو سچا جاننا،ان علوم کا نام درجہ یقین میں (یعنی ان باتوں پر یقین رکھنا یہی) ایمان ہے۔

(العاقلات الغافلات:۳۱۲)

حق تعالیٰ فرماتے ہیں:

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ  قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ

مطلب یہ ہے کہ کچھ ساری خوبی اسی میں نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کرلو یا مغرب کی طرف لیکن اصل خوبی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر بھی اور فرشتوں کے وجود پر بھی اور سب آسمانی کتابوں پر بھی اور سب پیغمبروں پر بھی۔ الخ

اس آیت میں دین کے تمام اجزاء کا ذکر آگیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت میں کُل احکام کا حاصل تین چیزیں ہیں:۱) عقائد۔ ۲) اعمال۔ ۳) اخلاق۔ باقی تمام جزئیات ان ہی کلیات کے تحت داخل ہیں۔

(الکمال فی الدین دین و دنیا:۱۹۰)

اَلۡبِرْ کے معنیٰ بھلائی کے ہیں اور لام عہد کا ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف مشرق ومغرب کی طرف نماز میں منہ کرلینا کافی نہیں ہے کہ اسی پر قناعت کرلی جائے۔ بلکہ کافی بھلائی وہ ہے جس کا ذکر آگے ہے۔ یعنی کافی بھلائی والا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور قیامت کے دن پر۔

۱) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے میں ذات و صفات کے متعلق جس قدر احکام ہیں، سب آگئے۔

۲) اور قیامت کے دن پر ایمان لانے میں، جزا و سزا، حساب و کتاب، جنت و دوزخ وغیرہ کے سب احکام آگئے۔

۳) وَالۡمَلٰٓئِکَۃ: اور فرشتوں پر ایمان لائے یعنی ان کے موجود ہونے کا قائل ہو۔ اس میں تمام غیب کی باتیں داخل ہیں اور فرشتوں کی تخصیص اس واسطے کی گئی ہے کہ شریعت کے معلوم ہونے کا مدار اور واسطہ فرشتے ہی ہیں۔

۴) وَالۡکِتٰبْ: اور کتاب (یعنی قرآن) پر ایمان لائے۔ یہ قرآن ایسا جامع ہے کہ تمام آسمانی کتابوں پر حاوی ہے۔ اس لیے اس پر ایمان لانا گویا سب کتابوں پر ایمان لانا ہے۔ یا یہ کہا جائے کہ آسمانی کتابوں میں سے ہر کتاب دوسری کتاب پر ایمان لانے کا حکم کرتی ہے اور جو شخص ایک کتاب کو مان کر دوسری کا انکار کرے وہ حقیقت میں پہلی کتاب پر بھی ایمان نہیں رکھتا۔ لیکن یہ حکم ایمان کا ہے اور عمل کرنا سب کتابوں پر جائز نہیں، بلکہ عمل صرف مؤخر پر ہوگا (جو سب سے بعد میں ہو اور وہ قرآن ہے)  کیوں کہ وہ مقدم  (گزشتہ کتابوں کے لیے ناسخ ہے)۔

۵) وَالنَّبِیّٖنْ: اور پیغمبروں پر ایمان لائے، یہاں تک اہم عقائد مذکور ہیں۔ آگے اخلاق و اعمال کا ذکر ہے۔

(وعظ الکمال فی الدین دین و دنیا:۱۹۰)

ضروری عقائد کی تفصیل

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:ایمان یہ ہے کہ یقین لائے اللہ پر اور اس کے سب فرشتوں پر اور اس کے سب پیغمبروں پر اور اس کی سب کتابوں پر اور آخرت کے دن پر اور تقدیر پر اور اس کے خیر پر بھی اور اس کے شر پر بھی (روایت کیا اس کو بخاری و مسلم نے)۔اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے اور یقین لانا جنت پر اور دوزخ پر اور مرنے کے بعد زندہ ہونے پر۔

(فروع الایمان:۸)

اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر ایمان لانا

اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے میں یہ سب داخل ہیں۔ اس کی ذات پر ایمان لانا، اس کی صفات پر ایمان لانا، اس کو ایک جاننا۔

(فروع الایمان:۸)

اہلِ سنّت کے نزدیک اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کا اور دوسری سب صفاتِ کمال کا اعتقاد رکھے۔ یعنی یہ سمجھے کہ وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا۔ تمام جہان کو اسی نے پیدا کیا، وہ بڑی قدرت والا ہے، وہ اپنے ارادے سے جو چاہتا ہے کرتا ہے، تمام عالم میں جو کچھ ہونے والا ہے اس نے سب پہلے ہی لکھ دیا تھا،اس جیسی کوئی چیز نہیں، اس کے علم و قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی، وہی سب کا خالق اور رازق ہے، وہی زندگی دیتا ہے، وہی موت دیتا ہے، وہی غالب ہے، حکمت والا ہے۔

(خطبات الاحکام:۱۵)

کلمہ طیبہ کی تشریح

حضرت شارع علیہ السلام سے توحید کے دو معنی ثابت ہیں۔ ایک لامبعود الا اللہ (یعنی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) دوسرے لامقصود الا اللہ (یعنی اللہ کے سوا کوئی مقصود نہیں۔)پہلے کا ثبوت تو بالکل ظاہر ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ

اور ان لوگوں کو یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی اس طرح عبادت کریں کہ عبادت کو اسی کے لیے خاص رکھیں۔

اور تمام قرآن اس سے بھرا پڑا ہے اور یہی توحید ہے، جس کے اتلاف (یعنی جس کے چھوڑنے) اور نقصان سے (آدمی) کافر اور مشرک ہوجاتا ہے اور جہنم میں ہمیشہ رہنا پڑتا ہے، یہ ہر گز معاف نہ ہوگا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

(توحید کے) دوسرے معنی کا ثبوت اس طرح ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ریا کو شرکِ اصغر فرمایا ہے۔

محمود بن لبید سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ بڑی خوف ناک چیز جس سے میں تم پر اندیشہ کرتا ہوں، شرکِ اصغر ہے۔ لوگوں نے عرض کیا:یارسول اللہ! شرک اصغر کیا چیز ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ریاء (احمد) اور ظاہر ہے کہ ریا کاری میں غیر اللہ (اللہ کے سوا) معبود نہیں ہوتا، البتہ مقصود ضرور ہوتا ہے۔ جب غیر اللہ کا مقصود ہونا شرک ہوا، تو توحید جو شرک کا مقابل ہے اس کی حقیقت یہ ہوگی کہ اللہ ہی مقصود ہو تو غیر اللہ بالکل مقصود نہ ہو یہی معنی لامقصود الا اللہ کے ہیں۔

کامل توحید

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے اور بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (روایت کیا اس کو بخاری و مسلم نے)

فائدہ: مطلب یہ ہے کہ وہ جو جھاڑ پھونک بالکل نہ کرے۔اور بدشگونی یہ کہ مثلاً چھینکنے کو یا کسی جانور کے سامنے سے نکل جانے کو منحوس سمجھ کر وسوسے میں مبتلا ہوجائیں ۔مؤثر حقیقی اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہیں اس قدر وسوسہ نہ کرنا چاہیے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد فرمایا جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر اور جب تو مدد چاہے تو اللہ ہی سے مدد مانگ اور اس بات کو جان لے کہ اگر تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرلیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچائیں تو ہر گز اس کے سوا کچھ نفع نہیں پہنچاسکتے  مگر جو اللہ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے۔ اور اگر تمام لوگ اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھ کو کچھ نقصان پہنچائیں تو ہر گز اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر جو کہ اللہ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے۔

شرک

شرک کی دو قسمیں ہیں: ۱) شرک فی العقیدہ۔ ۲) شرک فی العمل

۱) شرک فی العقیدہ (یعنی عقیدہ میں شرک) یہ ہے کہ غیر اللہ کو مستحقِ عبادت سمجھا جائے یہی وہ شرک ہے۔ جس کے متعلق ارشاد ہوا ہے :

اِنَّ اللہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ

بے شک اللہ نہ بخشیں گے اس کو کہ ان کے ساتھ شرک کیا جائے۔ اور بخش دیں گے اس سے کم کو جس شخص کے لیے چاہیں گے۔

۲) شرک فی العمل (یعنی عمل میں شرک) یہ ہے کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرنا چاہیے، وہ غیر اللہ کے ساتھ کیا جائے۔ اس شرک میں اکثر عوام یا بالخصوص عورتیں کثرت سے مبتلا ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا، کسی کی منت ماننا، کسی چیز کو طبعاً مؤثر سمجھنا، کسی کے روبرو سجدۂ تعظیم کرنا، بیت اللہ کے سوا کسی اور چیز کا طواف کرنا، کسی قبرپر بطورِ تقرب کچھ چڑھانا، اسی طرح کے اور ہزاروں افعال ہیں جو سخت معصیت ہیں، مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے گھروں میں اس کا پورا انسداد کریں ۔

شرک کی مختلف اقسام

شرک فی العلم

کسی بزرگ یا پیر کے ساتھ یہ اعتقاد کرنا کہ ہمارے سب حال کی اس کو ہر وقت خبر ہے۔ نجومی، پنڈت سے غیب کی خبریں دریافت کرنا،یا کسی بزرگ کے کلام سے فال دیکھ کر اس کو یقینی سمجھنا۔ (جیسا آج کل عوام فالنامہ دیکھ کر اس پر یقین کرتے ہیں) یا کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہوگئی (یہ سب شرک فی العلم ہے)

شرک فی التصرف

اللہ کے سوا کسی اور کو نفع و نقصان کا مختار سمجھنا، کسی اور سے مرادیں مانگنا، روزی، اولاد مانگنا، (یہ شرک فی التصرف ہے)

شرک فی العبادۃ

اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا، کسی کے نام کا جانور چھوڑنا، چڑھاوا چڑھانا، کسی کے نام کی منت ماننا، کسی کی قبر یا مکان کا طواف کرنا، خدا کے حکم کے مقابلے میں کسی دوسرے کے قول یا رسم کو ترجیح دینا، کسی کے نام پر جانور ذبح کرنا، کسی کی دہائی دینا، کسی کے نام کا روزہ رکھنا اور  کسی جگہ کا کعبہ کا سا ادب کرنا۔ (یہ شرک فی العبادۃ ہے)۔

(تعلیم الدین:۱۳، ۱۴)

غیر اللہ کی منت ماننا

بعض لوگ غیر اللہ کی نذر مانتے ہیں، بعض لوگ تو کھلم کھلا کہتے ہیں کہ اے فلاں بزرگ اگر ہمارا کام ہوگیا تو آپ کے نام کا کھانا کریں گے، یا آپ کی قبر پر غلاف چڑھائیں گے،یا آپ کی قبر پختہ بنائیں گے، یا آپ کی قبر کا طواف کریں گے، یہ تو بالکل شرکِ جلی ہے، کیوں کہ نذر(یعنی منت ماننا بھی) عبادت کی ایک قسم ہے۔ (رد المحتار اوّل احکام النذر و قبیل باب الاعتکاف)

عبادت میں کسی کو شریک کرنا صریح شرک ہے۔ اس کا علاج توبہ اور عقیدہ کی درستگی ہے۔ (اصلاحِ انقلاب)

قیامت و آخرت

آخرت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور آخرت کے دن پر ایمان لانے میں سب کچھ داخل ہے۔ قبر کے ثواب و عذاب پر ایمان لانا، حشر و نشر (یعنی دوبارہ زندہ کیے جانے پر) یقین رکھنا، پل صراط پر اور حوضِ کوثر اور میزانِ اعمال (یعنی اعمال کے تولے جانے پر) اور قیامت کے واقعات پر یقین رکھنا۔

(فروع الایمان:۱۳)

یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ مرنے کے بعد قبر میں سوال ضرور ہوگا اور قبروں سے قیامت کے دن اٹھایاجائے گا اور اعمال تو لے جائیں گے اور سب اعمال کا حساب ہوگا۔ اورنیک بندوں کو حوض کوثرسے پانی پلایا جائے گا، دوزخ پر پل صراط رکھا جائے گا، جو بال سے زیادہ باریک تلوار سے زیادہ تیز ہوگا، جنتی لوگ اس پر سے پار ہوکر جنت میں پہنچیں گے اور دوزخی کٹ کٹ کر گر پڑیں گے اور قیامت میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  شفاعت بھی کریں گے۔ جنت دوزخ ہمیشہ رہے گی، نہ وہ کبھی فنا ہوگی نہ ان میں رہنے والے مریں گے۔

(خطبات الاحکام:۶۱)

جب آدمی مرجاتا ہے اگر دفن کیا جائے تو دفن کرنے کے بعد، ورنہ جس حال میں ہو اس کے پاس دو فرشتے جن میں ایک منکر اور دوسرے کو نکیر کہتے ہیں، آکر پوچھتے ہیں کہ تیرا پروردگار کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے متعلق پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہیں؟ اگر مردہ ایمان دار ہو تو ٹھیک ٹھیک جواب دیتا ہے۔ پھر اس کے لیے سب طرح کی چین ہوتی ہے اور نہیں تو (اگر وہ ایمان دار نہ ہوا) وہ سب باتوں میں یہی کہتا ہے کہ مجھے کچھ خبر نہیں پھر اس پر بڑی سختی ہوتی ہے اور بعضوں کو اللہ تعالیٰ اس امتحان سے معاف کردیتا ہے۔ مگر یہ (قبر کی) باتیں مردے ہی کو معلوم ہوتی ہیں اور لوگ نہیں دیکھتے، جیسا سوتا آدمی خواب میں سب کچھ دیکھتا ہے اور جاگتا آدمی اس کے پاس بیٹھا ہوا بے خبر ہے۔

اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے قیامت کی جتنی نشانیاں بتائی ہیں سب ضرور ہونے والی ہیں۔ جب ساری نشانیاں پوری ہوجائیں گی تب قیامت کا سامان شروع ہوگا۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام خدا کے حکم سے صور پھونکیں گے،اس صورت کے پھونکنے سے تمام زمین و آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے، تمام مخلوقات مرجائیں گی اور جو مرچکے ہیں ان کی روحیں بے ہوش ہوجائیں گی۔ مگراللہ تعالیٰ کو جن کا بچانا منظور ہے، وہ اپنے حال پر رہیں گے ۔ ایک مدت اسی حالت پر گزرجائے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا کہ تمام عالم دوبارہ پیدا ہوجائے گا دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔ اس سے پھر سارا عالم موجود ہوجائے گا۔ مردے زندہ ہوجائیں گے اور قیامت کے میدان میں سب اکٹھے ہوں گے اور وہاں کی تکلیف سے گھبراکر سب پیغمبروں کے پاس سفارش کرانے جائیں گے، آخر ہمارے پیغمبر حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  سفارش کریں گے۔

سب بھلے بُرے عمل تو لے جائیں گے ان کا حساب ہوگا، مگر بعض لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے، نیکوں کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں اور بدوں کا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی امت کو حوض کوثر کا پانی پلائیں گے، جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔

پل صراط پر چلنا ہوگا جو نیک لوگ ہیں وہ اس پر سے پار ہوکر جنت میں پہنچ جائیں گے، جو بدکار ہیں وہ اس پر سے پھسل کر دوزخ میں گر پڑیں گے۔

(تعلیم الدین: ص۱۱، ۱۲)

جنت و دوزخ

جنت پیدا ہوچکی ہے اور اس میں طرح طرح کی راحتیں اور نعمتیں ہیں، جنتیوں کو کسی طرح کا ڈر اور غم نہ ہوگا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ اس سے نکلیں گے اور نہ وہاں مریں گے۔ جنت میں سب سے بڑی نعمت اللہ کا دیدار ہوگا، اس کی لذت میں تمام نعمتیں ہیچ معلوم ہوں گی۔

دوزخ بھی پیدا ہوچکی ہے اور اس میں سانپ بچھو اور طرح طرح کا عذاب ہے۔ دوزخیوں میں سے جن میں ذرا بھی ایمان ہوگا وہ اپنے اعمال کی سزا بھگت کر پیغمبروں اور بزرگوں کی سفارش سے نکل کرجنت میں داخل ہوں گے، خواہ کتنے ہی بڑے گناہ گار ہوں اور جو لوگ کافر مشرک ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کو موت بھی نہ آئے گی۔

(تعلیم الدین:۱۲)

فائدہ: مردے کے لیے دعا کرنے سے، کچھ خیرات دے کر بخشنے سے اس کو ثواب پہنچتا ہے اور اس سے اس کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔

(تعلیم الدین:۱۱)

تقدیر

دنیا میں بھلا بُرا جو کچھ بھی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو اس کے واقع ہونے سے پہلے جانتا ہے اور اپنے جاننے کے موافق اس کو پیدا کرتا ہے، اسی کا نام تقدیر ہے۔ (جس پر یقین رکھنا ضروری ہے)۔

(تعلیم الدین:۷)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:تم میں کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک کہ تقدیر پر ایمان نہ لائے ا س کی بھلائی پر بھی اور اس کی برائی پر بھی(یعنی اچھی تقدیر پر بھی اور بری پر بھی) یہاں تک کہ یہ یقین کرے کہ جوبات ہونے والی تھی، وہ اس سے ہٹنے والی نہ تھی اور جو بات اس سے ہٹنے والی تھی وہ اس پر واقع ہونے والی نہ تھی۔

(ترمذی، حیات المسلمین روح پنجم)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں کی پانچ چیزوں سے فراغت فرمادی ہے۔ (یعنی بالکل طے کردی ہیں):

۱) اس کی عمر سے۔ ۲) اس کے رزق سے۔ ۳) اس کے عمل سے۔ ۴) اس کے دفن ہونے (یعنی مرنے کی جگہ) سے۔ ۵) اور یہ کہ انجام میں شقی (بدبخت) ہے یا سعید (نیک بخت) ۔

(احمد بزار کبیر)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے نفع کی چیز کو کوشش سے حاصل کرو اور اللہ سے مدد چاہو اور ہمت مت ہارو۔ اور اگر تجھ پر کوئی واقعہ (یعنی کوئی مصیبت یا ناکامی) ہوجائے تو یوں مت کہو کہ اگر میں یوں کرتا تو ایسا ایسا ہوجاتا، البتہ ایسے وقت میں یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہی مقدر فرمایا تھا اور جو اس کو منظور تھا اس نے وہی کیا۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ آدمی کی سعادت (خوش نصیبی) میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خیر مانگے اور جو حکم اللہ تعالیٰ نے نافذ فرمایا اس پر راضی رہے اور آدمی کی شقاوت (بدبختی) میں سے ہے کہ اللہ سے خیر مانگنا ترک کردے اور اللہ کے حکم سے ناخوش ہو۔

(ترمذی)

فائدہ: تقدیر پر راضی رہنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ دل میں بھی رنج  نہ آنے پائے۔ رنج و غم ہونا تو طبعی بات ہے یہ کس طرح اختیار میں ہوسکتا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ دل سے (یعنی عقل سے) اس کو پسند کرے (اور اس پر راضی ہو۔ شکوہ شکایت، ناشکری نہ کرے) جیسے پھوڑے والا خوشی سے ڈاکٹر کو آپریشن کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر تکلیف اور دکھ ضروری ہوتا ہے۔ (لیکن دل سے راضی ہوتا ہے)

(فروع الایمان:۲۸)

تقدیر پر ایمان رکھنے میں یہ فائدے ہیں:

۱) کیسی ہی مصیبت یا پریشانی ہو اس (عقیدہ) سے دل مضبوط رہے گا، (کیوں کہ وہ) یہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا، اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا تھا اور وہ جب چاہے گا اس (مصیبت) کو ختم کردے گا۔

جب یہ سمجھ گیا تو اگر اس مصیبت کے دور ہونے میں دیر بھی لگے گی تو بھی پریشان اور مایوس اور دل کمزور نہ ہوگا اور یوں سمجھے گا کہ مصیبت خدا تعالیٰ کے چاہے بغیر دفع نہ ہوگی۔ سو یہ شخص سب تدبیروں کے ساتھ دعا میں بھی مشغول ہوگا جس سے اللہ سے تعلق بڑھے گا جو تمام راحتوں کی جڑ ہے۔

(حیوۃ المسلمین:۸۸)

فرشتے

اللہ تعالیٰ نے کچھ مخلوقات کو نور سے پیدا کرکے ان کو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ کیا ہے، ان کو فرشتے کہتے ہیں ان کے سپرد بہت سے کام ہیں وہ کبھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔ ان میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضرت میکائل علیہ السلام، حضرت اسرافیل علیہ السلام، حضرت عزرائیل علیہ السلام۔

(تعلیم الدین:۸)

چوں کہ  فرشتوں کا مرد یا عورت ہو نا کسی دلیل سے ثابت نہیں اس لیے نہ ان کے مرد ہونے کا اعتقاد رکھے اور نہ عورت ہونے کا۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے علم کے حوالے کرے۔(فروع الایمان:۱۳)،جو فرشتوں کے وجود کا انکار کرے وہ کافر ہے۔

(خطبات الاحکام:۱۶)

نبوت و رسالت

بہت سے پیغمبر (رسول) اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندوں کو سیدھی راہ بتلانے آئے اور وہ سب گناہوں سے پاک ہیں، ان کی گنتی پوری طرح اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔

(تعلیم الدین:۷)

رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں،یعنی مخلوق کی ہدایت کے واسطے ان کو خدا نے بھیجا ہے اور وہ سچے ہیں جو خبریں اور جو احکام انہوں نے پہنچائے ہیں وہ برحق ہیں۔

(خطبات الاحکام:۱۶)

پیغمبروں میں بعضوں کا رتبہ بعضوں سے بڑا ہے، سب میں زیادہ مرتبہ ہمارے پیغمبر محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں آسکتا۔ قیامت تک جتنے آدمی اور جن ہوں گے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سب کے پیغمبر ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے بہت سی چھوٹی بڑی کتابیں آسمان سے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے بہت سے پیغمبروں پر اتاریں تاکہ وہ اپنی امتوں کو دین کی باتیں بتلائیں۔ ان میں چار کتابیں بہت مشہور ہیں: توریت، انجیل، زبور اور قرآن مجید۔

قرآن مجید ہمارے پیغمبر محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل کیا گیا اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پر اتاری ہوئی کتاب سے مراد قرآن مجید ہے، وہ خداوند قدوس کا کلام ہے، جبرائیل علیہ السلام اس کو لائے۔

قرآن مجید آخری کتاب ہے،اب کوئی کتاب آسمان سے نہیں آئے گی، قیامت تک قرآن کا حکم چلتا رہے گا۔ دوسری کتابوں میں گمراہ لوگوں نے بہت کچھ بدل ڈالا، مگر قرآن مجید کی نگہبانی (اور حفاظت) کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔

(تعلیم الدین:۶، خطبات الاحکام:۱۶)

فصل (عقائد کی بعض خرابیاں)

عقائد میں سے بعض عقائد غلط اور بعض واقع کے خلاف ہیں۔ جن میں عورتیں مبتلا ہوتی ہیں مثلاً عورتیں بہت سی اچھی چیزوں کو بری یا بری چیزوں کو اچھا سمجھتی ہیں، جیسے بعض دنوں کو منحوس کہنا، اکثر عورتیں بدھ کے دن کو منحوس اور ذی قعدہ اور محرم کے مہینہ کو بے برکت اورمنحوس سمجھتی ہیں اور غضب یہ کہ بعض مرد بھی اس میں ان کے ہم عقیدہ ہیں۔

مثلاً عورتوں کا عقیدہ ہے کہ اگر کسی دن کوا گھر میں بولے تو اس دن مہمان ضرور آتے ہیں اسی طرح اگر آٹے میں پانی زیادہ ہوجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ آج کوئی مہمان آنے والا ہے۔ بہت سے جانوروں کو منحوس  سمجھ رکھا ہے۔ چناں چہ  کہا جاتا ہے کہ قمری (فاختہ کے برابر سفید پرندہ) منحوس ہے، اس کو گھر میں نہ پالو۔

اور بعض چیزوں کو مرد بھی منحوس سمجھتے ہیں، جیسے الّو کے بارے میں ہے کہ یہ جس مقام پر بولتا ہے وہ مقام ویران ہوجاتا ہے، اس لیے وہ منحوس ہے حالاں کہ یہ بالکل غلط ہے، نہ الو منحوس ہے نہ اس کے بولنے سے کوئی جگہ ویران ہوتی ہے۔ یاد رکھو وہ جو بولتا ہے تو خدا کا ذکر کرتا ہے تو کیا خدا کے ذکر سے یہ نحوست آئی؟ (نعوذ باللہ)۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ ذاکر تو ہے لیکن اس کا ذکر جلالی ہے، اس لیے اس کا اثر یہ پڑتا ہے۔ حالاں کہ خود (ذکر کی) یہ تقسیم اوریہ کہ جلالی میں یہ خاصیت ہوتی ہے بے اصل ہے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ الّو ایسے مقام کو تلاش کرتا ہے۔ جہاں یکسوئی (تنہائی) ہو اور اس کو اندیشہ نہ رہے، اس لیے وہ ویرانوں میں بیٹھتا ہے۔ اب یہ دیکھیے کہ وہ ویرانی جو پہلے سے ہے وہ کہاں سے آئی؟ سو وہ ہم لوگوں کے گناہ اور اعمالِ بد کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے بعد الّو اس مقام پر آتا ہے اور بولتا ہے۔ پس ویران کرنے والے ہم اور ہمارے گناہ ہوئے نہ کہ الّو۔ اور جب یہ ہے کہ منحوس گناہ گار لوگ ہوئے، الّو کیوں منحوس ہوا۔

(وعظ تفصیل التوبہ دعوات عبدیت:۷/ ۴۰)

کوئی چیز منحوس نہیں

یہ اعتقاد کہ چیزوں میں نحوست ہوتی ہے، غلط ہے۔ اور جو کچھ نحوست ہوتی ہے وہ ان گناہوں کی بدولت ہوتی ہے جو ہمارے اندر موجود ہیں۔ مگر افسوس کہ ہم کو اپنے اندر نظر نہیں آتی، دوسروں میں نظر آتی ہے۔ نحوست خود اپنے اندر ہے کہ گناہ پر گناہ کیے چلے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ الّو منحوس ہے اور قمری منحوس ہے۔بعض لوگ اگر کسی عورت کی کالی زبان دیکھ لیتے ہیں تو اس کو منحوس سمجھتے ہیں، یہ بھی لغو ہے۔

بعض عورتیں کیلے کے درخت کو منحوس سمجھتی ہیں، کہتی ہیں کہ یہ درخت مردہ کے کام میں آتا ہے۔ اس لیے اس کو گھر میں نہ ہونا چاہیے۔  کیوں کہ یہ شگونِ بد ہے اور مردہ کی چارپائی کو اور اس کے کپڑوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ اس کے کپڑوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اس کا قیمتی دو شالہ (چادر ہو) یا اس کی جائیداد ہو تو اس کو منحوس نہیں سمجھتے،حالاں کہ اگر مردہ کے ساتھ تعلق سے یا اس کے لباس سے نحوست آئی ہے تو اس کی وجہ سے قیمتی کپڑوں میں بھی نحوست آنی چاہیے اور اگر مردے کی طرف نسبت کرنے سے ان چیزوں میں نحوست آئی ہے تو اس نسبت سے جائیداد میں بھی نحوست آنی چاہیے۔ یہ عقیدہ بالکل مہمل اور وہم ہے، مسلمانوں میں اس کا رواج ہندوؤں سے آیا ہے۔

(تفصیل التوبہ دعوات عبدیت:۷/ ۴۰)

بعض غلط قسم کے عقیدے

۱) ہمارے یہاں عورتیں کوّے کے بولنے سے مہمان کے آنے کا شگون لیتی ہیں(یعنی اگر کوّا بولے تو سمجھتی ہیں کہ کوئی آنے والا ہے) سو یہ بے اصل ہے۔

۲) دستور ہے کہ جب کہیں کوئی جارہا ہو اور کوئی چھینک دے تو جانے والا واپس چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب کام نہیں ہوگا۔ سو یہ (عقیدہ) غلط ہے۔

(اغلاط العوام ملتقطاً)

۳) بعض عوام کسی خاص دن یا کسی خاص وقت میں سفر کرنے کو برا یا اچھا سمجھتے ہیں،یہ کفار یا نجومیوں کا اعتقاد ہے۔

۴) بعض لوگ رات کو جھاڑو دینے کو یا منہ سے چراغ گل کرنے کو یا دوسرے کے کنگھا کرنے کو برا سمجھتے ہیں،تو اس کی کچھ اصل نہیں۔

۵) مشہور ہے کہ ہاتھ کی ہتھیلی پر خارش ہونے سے کچھ ملتا ہے۔ اس کی کچھ اصل نہیں۔

۶) بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں جانور بولنے سے موت پھیلتی ہے، سو یہ محض بے اصل ہے۔

۷) اکثر عورتیں مردوں سے پہلے کھانا کھانے کو شرعاً معیوب سمجھتی ہیں،یہ بے اصل بات ہے۔

۸) مشہور ہے کہ چارپائی پر نماز پڑھنے سے بندر ہوجاتا ہے۔ سو یہ محض بے اصل ہے۔

۹) بعض عورتیں نماز پڑھ کر جائے نماز کا گوشہ یہ سمجھ کر الٹ دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ شیطان اس پر نماز پڑھے گا، سو اس کی بھی اصل نہیں۔

۱۰) مشہور ہے کہ جھاڑو مارنے سے جس کو ماری گئی اس کا جسم سوکھ جاتا ہے، جھاڑو پر تھکتا دو، سویہ بے اصل ہے۔

(اغلاط العوام)

ٹونے ٹوٹکے

عقیدہ کے متعلق ایک گناہ عورتیں یہ کرتی ہیں کہ ٹونے ٹوٹکے کرتی ہیں۔ افسوس ہے کہ نہ شریعت کا لحاظ ہے نہ خدا کا خوف ہے۔ایک گناہ عقیدہ کے متعلق یہ ہے کہ اکثر عورتیں منت مانتی ہیں کہ اگر ہمارا یہ کام ہوجائے تو ہم فلاں بزرگ کی نیاز دیں گے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ہم تو ایصال ثواب کرتے ہیں اور ایصال ثواب میں کیا حرج ہے، حالاں کہ یہ بالکل غلط ہے۔ وہاں محض ثواب پہنچانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اس فعل سے یہ خوش ہوں گے اور چوں کہ  یہ خدائی کارخانہ میں دخیل ہیں اس لیے ان کی خوشی سے ہمارا کام ہوجائے گا۔ سو یہ یاد رکھو! اے بیبیو! خدائی کارخانہ میں کوئی دخیل نہیں ہے، نہ وہاں کسی کا کچھ اثر ہے۔

(تفصیل التوبہ:۸/ ۴۳، دعوات عبدیت)

اولاد پیدا ہونے کے لیے جادو منتر ہے

اولاد کے پید اہونے میں اکثر لوگوں کی اور خصوصاً عورتوں کی یہ عادت ہے کہ کہیں منترا کراتی ہیں۔ کہیں (تعویذ) گنڈے اور اس کی بھی پرواہ نہیں کرتیں کہ یہ شریعت کے موافق ہیں یا نہیں۔ اس میں بعض عورتیں یہاں تک بے باک ہیں کہ اگر کوئی ان سے یہ کہہ دے کہ تم فلانی (عورت) کے بچے کو مار ڈالو تو تمہارے اولاد ہوجائے گی، تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ بعض دفعہ کسی کے بچہ پر ہولی دیوالی کے دنوں میں جادو کرادیتی ہیں یا خود کردیتی ہیں۔ بعض جاہل عورتیں ستیلا پوجتی ہیں، کہیں چوراہے پر کچھ رکھ دیتی ہیں،محض اس غرض سے کہ اولاد پیدا ہو۔ پھر وہ اولاد بعض دفعہ ایسی خبیث (نالائق، نافرمان) پیدا ہوتی ہے کہ بڑے ہوکر ماں باپ کو اتنا ستاتی ہے کہ وہ بھی یاد کرتے ہیں، اس وقت وہ ایسی اولاد کو جس کی تمنا میں سینکڑوں گناہ کیے تھے۔ ہزاروں مرتبہ کوستے ہیں۔ (لیکن اس وقت کوسنے سے کیا فائدہ)۔

(اسباب الغفلۃ:۳۹۶، ملحقہ دین و دنیا)

نکاح ثانی کے متعلق کوتاہی

عقیدے کے متعلق ایک گناہ یہ ہے کہ تقریباً ساری عورتیں اور بہت سے مرد بھی نکاح ثانی (دوسرا نکاح کرنے) کو برا سمجھتے ہیں اور افسوس ہے کہ بعض پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ صاحب نکاح ثانی فرض تو نہیں، پھر اگر نہ کیا تو کیا حرج ہے؟ میں کہتا ہوں کہ نکاح ثانی فرض نہیں تو کیا نکاح اوّل فرض ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو نکاح اوّل کے ساتھ یہی معاملہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا وجہ ہے کہ پہلے نکاح کے لیے اس قدر کوشش کی جاتی ہو کہ اگر لڑکی کی عمر چودہ پندرہ برس کی ہوجائے اور کہیں سے پیغام نہ آئے تو فکر پڑ جاتی ہے اور اس کے تذکرے کیے جاتے ہیں۔

بعض مقامات پر اس قدر جہالت ہے کہ اگر منگنی کے بعد لڑکے کا انتقال ہوجائے تب بھی نکاح نہیں کرتے اور لڑکی کو بٹھائے رکھتے ہیں، یہ سخت جہالت ہے۔

اور عورتوں سے زیادہ مردوں کی حالت پر افسوس ہے کہ وہ عقل مند ہونے کے باوجود بھی اس کو عیب سمجھتے ہیں اور بعض مرد اگرچہ زبان سے اس کو برا نہیں کہتے لیکن ایسی عورت کو جس نے دوسرا نکاح کرلیا ہو ذلیل سمجھتے ہیں اور ان کے دل میں اس کی اتنی عزت نہیں ہوتی جتنی اس عورت کی ہوتی ہے جو ساری عمر بیوہ بنی بیٹھی رہے۔ علماء اس بارے میں جتنی کوشش کرتے ہیں ان کا مقصود صرف یہ ہے کہ لوگوں کے دل سے اس کے عیب سمجھنے کا خیال نکل جائے۔

ہاں اگر کسی عورت پر پہلے شوہر کا بہت ہی رنج غالب ہو یا اس کے پاس چھوٹے چھوٹے بچے ہوں کہ پرورش کا انتظام نکاح کے بعد دشوار ہویا بچوں کی جائیداد وغیرہ موجود ہو کہ اس کا انتظام اس کے سپرد ہو تو البتہ ایسی عورت کو اجازت ہے کہ وہ نکاح نہ کرے، بشرط یہ کہ مرد کی بالکل خواہش نہ ہو لیکن اگر کوئی مانع بھی  نہ ہو اور پھر بھی عرف (رواج) کی شرم کی وجہ سے نکاح ثانی نہ کرے اور اس کو عیب سمجھے، تو یہ سخت گناہ ہے۔

(تفصیل التوبہ دعوات عبدیت:۴۳)

نماز کی اہمیت

اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کا بہت بڑا مرتبہ ہے، کوئی عبادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز سے زیادہ پیاری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کردی ہیں، ان کے پڑھنے کا بڑا ثواب ہے اور ان کے چھوڑ دینے سے بڑا گناہ ہوتا ہے۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو کوئی اچھی طرح وضو کیا کرے اور خوب دل لگا کر اچھی طرح نماز پڑھا کرے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ سب بخش دے گا اور اُسے جنت دے گا۔

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز دین کا ستون ہے، سو جس نے نماز کو اچھی طرح پڑھا اس نے دین کو ٹھیک ٹھاک رکھا اور جس نے اس ستون کو گرایا،یعنی نماز نہ پڑھی اس نے دین کو برباد کردیا۔

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں سب سے پہلے نماز ہی کی پوچھ ہوگی اور نمازیوں کے ہاتھ اور پاؤں اور منہ قیامت میں سورج کی طرح چمکتے ہوں گے اور بے نمازی اس دولت سے محروم رہیں گے۔

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازیوں کا حشر قیامت کے دن نبیوں اور شہیدوں اور ولیوں کے ساتھ ہوگا۔اور بے نمازیوں کا حشر فرعون اور ہامان اور قارون جیسے بڑے بڑے کافروں کے ساتھ ہوگا۔ اس لیے نماز پڑھنا بہت ضروری ہے اور نہ پڑھنے سے دین اور دنیا دونوں کا بہت نقصان ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ بے نمازی کا حشر کافروں کے ساتھ کیا جائے گا۔ بے نمازی کافروں کے برابر سمجھا گیا، خدا کی پناہ نماز نہ پڑھنا کتنی بری بات ہے۔

البتہ ان لوگوں پر نماز واجب نہیں، مجنون (پاگل) اور چھوٹی لڑکی اور لڑکا جو ابھی جوان نہ ہوئے ہوں، باقی سب مسلمانوں پر نماز فرض ہے۔

(بہشتی زیور:۲/۱۰)

چند احادیث

۱) ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس نماز نہیں(یعنی جو نماز نہ پڑھتا ہو) اس کے پاس دین نہیں۔ نماز کو دین سے وہ نسبت ہے جیسے کہ سر کو دھڑ سے کہ سر نہ ہو تو دھڑ مردہ ہے، اسی طرح نماز نہ ہو تو تمام اعمال بے جان ہیں۔

فائدہ: جس چیز پر دین کا اتنا بڑا دارو مدار ہو اُس کو چھوڑ کر کسی دوسرے نیک عمل کو کافی سمجھ لینا کتنی بڑی غلطی ہے۔

۲) عبداللہ بن قرط سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے قیامت میں حساب ہوگا، وہ نماز ہے اگر ٹھیک اتری تو اس کے سارے عمل ٹھیک اتریں گے اور اگر وہ خراب نکلی تو سارے عمل خراب نکلیں گے۔

(طبرانی اوسط)

۳) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اور کفر کے درمیان بس ترکِ نماز کی کسر ہے ( یعنی جب ترکِ نماز کیا یعنی نماز کو چھوڑدیا تو کسر مٹ گئی اور کفر آگیا۔ چاہے بندہ کے اندر نہ آئے پاس ہی آجائے مگر دوری تو نہ رہی۔

(مسلم)

فائدہ: دیکھو نماز چھوڑنے پر کتنی بڑی وعید ہے کہ وہ بندے کو کفر کے قریب کردیتا ہے۔

(حیاۃ المسلمین روح یازدہم:۱۲۸)

نماز میں کوتاہی

فروع (اعمال) بیان کرتا ہوں۔ جن میں اکثر عورتیں کوتاہی کرتی ہیں تاکہ ان پر قیاس کرکے وہ دوسرے اجزاء دین سے بھی غفلت نہ کریں۔ اس وقت میں ان فروع (اعمال) کا ذکر کروں گا جو بہت ظاہر ہیں جب ان میں بھی کوتاہیاں کی جاتی ہیں تو دوسرے فروع ( اعمال) کا کیا حال ہوگا، اس کو خود سمجھ لینا چاہیے۔ چناں چہ  سب سے پہلے نماز کا بیان شروع کرتا ہوں۔ جس کا فرض ہونا ہر مسلمان کو معلوم ہے مگر افسوس ہے کہ عورتیں بہت کم نمازی ہیں حالاں کہ قرآن پاک کی آیت میں نماز ترک کرنے کو شرک میں داخل کیا گیا ہے۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں:

مُنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ وَ اتَّقُوۡہُ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ

یعنی اللہ سے ڈرو، نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے مت بنو۔

اس سےمعلوم ہوا کہ نماز نہ پڑھنا مشرک بننا ہےاور حدیث میں تو یہ مضمون بہت صاف آیا ہے:

مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِدًا فَقَد کَفَرَ

یعنی جس نے نماز کو قصداً ترک کردیا وہ کافر ہوگیا۔

گو جمہور علماء نے ان آیات و احادیث میں تاویل کی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ نماز کا چھوڑنا کافروں کا سا کام ہے۔

مگر صاحبو! اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ظاہر الفاظ میں ایسے شخص کو کافرکہہ دیا ہے گویاعلماء تاویل کرتے ہیں۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ یہ تاویل غلط ہے لیکن ہم کو اس تاویل کے بھروسے پر بے فکر نہ ہونا چاہیے کیوں کہ خدا اور رسول جس بات کو کفر فرمارہے ہیں اگر واقعی میں وہ کفر نہیں بھی تو کفر سے بہت قریب تو یقیناً ہے اور کفر کا انجام جو کچھ ہے سب کو معلوم ہے کہ ابد الآباد(ہمیشہ ہمیشہ) کے لیے جہنم کی سزا ہوگی۔ تو جو کام کفر سے قریب کرنے والا ہو، مسلمان کو اس سے کوسوں دور بھاگنا چاہیے۔

(الکمال فی الدین:۱۰۳)

نماز پڑھنے میں بعض دوسری کوتاہیاں

۱) بعض عورتیں نماز پڑھتی ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ وہ رکوع سجدے ٹھیک نہیں کرتیں، بڑی جلدی کرتی ہیں۔حالاں کہ تعدیلِ ارکان واجب ہے، بلکہ بعض علماء کے نزدیک فرض ہے۔ تعدیلِ ارکان کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے ہر رکن کو اطمینان و سکون کے ساتھ ادا کیا جائے، مثلاً رکوع کے بعد سر اٹھا کر تھوڑی دیر سیدھا کھڑا ہوجانا چاہیے اور سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہْ، رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدْ، سیدھا کھڑا ہو کر کہے،اس کو قومہ کہتے ہیں۔ عورتیں قومہ بالکل نہیں کرتیں اور بعض مرد بھی نہیں کرتے، بس رکوع سے فارغ ہو کر ذرا سر کا اشارہ کرکے فوراً سجدے میں چلے جاتے ہیں۔ اس طرح نماز نہیں ہوتی۔ رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اکثر عورتیں دونوں سجدوں کے بیچ میں جلسہ نہیں کرتیں، بس ایک سجدہ کرکے ذرا سا سر کا اشارہ کرکے فوراً دوسرا سجدہ کر لیتی ہیں۔ اس طرح بھی نماز نہیں ہوتی اس کا خوب خیال رکھو اور قومہ و جلسہ خوب اطمینان سے ادا کرو۔

(الکمال فی الدین:۱۰۳)

۲) بعض عورتیں نماز وقت سے ٹال دیتی ہیں،نماز کا وقت آگیا اور بیٹھی باتیں بنارہی ہیں جب وقت قریب الختم ( آخری) ہوتا ہے، اس وقت پیشاب پاخانہ کے لیے لوٹا ہاتھ میں لے لیا جاتا ہے،حتیٰ کہ ان مقدمات ہی میں وقت نکل جاتا ہے۔ یاد رکھو بغیر کسی عذر کے نماز کا وقت سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔

بعض دفعہ ایام ( ماہواری) سے پاک ہونے کے بعد جلدی نماز شروع نہیں کرتیں، دو تین وقت ٹال دیتی ہیں کہ کل سر دھو کر بال درست کرکے نہائیں گے، پھر نماز شروع کریں گے۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر تین دن پورے ہونے سے پہلے پاک ہوجائے تب تو آخر وقت مستحب تک انتظار واجب ہے، اگر آخر وقت تک پاک ہی رہی تو غسل کرکے نماز پڑھنا واجب ہے۔ اور اگر تین دن کے بعد مگر عادت سے پہلے پاک ہوئی تو آخر وقت تک انتظار کرنا مستحب ہے پھر غسل کرکے نماز پڑھنا واجب ہے۔ غرض پاکی نظر آنے کے بعد ایک وقت کی نماز قضا کرنا جائز نہیں ہے اور یہی حکم روزہ کا ہے۔ خوب سمجھ لو۔

پاکی و ناپاکی ( وغیرہ) کے مسائل معلوم کرنا بھی عورتوں کے ذمہ لازم ہے بقدر ضرورت بہشتی زیور میں اس کے مسائل موجود ہیں کسی سمجھ دار عورت سے یا اپنے شوہروں سے سمجھ کر پڑھ لیں۔

( الکمال فی الدین النساء ملحقہ حقوق الزوجین مطبوعہ پاکستان:۱۰۴)

بعضی عورتیں خود نماز کی پابندی کرتی ہیں،مگر بچوں اور ماماؤں ( گھر کی نوکرانیوں) کو نماز کے واسطے نہیں کہتیں۔ ماماؤں ( نوکرانیوں) کو بھی نماز کی تاکید کرنی چاہیے،چوں کہ  وہ تمہاری ماتحت (تابع) ہیں، اگر تم ان کو دھمکاؤ تو ضرور اثر ہوگا اور اس میں سستی کرنے سے تم پر بھی مواخذہ ( گناہ) ہوگا کہ تم نے قدرت ہوتے ہوئے کیوں سستی کی بلکہ جس ماما ( نوکرانی) کو مقرر کرو، اس سے یہ شرط طے کرلیا کرو کہ تم کو پانچوں وقت نماز پڑھنا ہوگی، جس گھر میں ایک شخص بھی بے نمازی ہوتا ہے، اس گھر میں نحوست برستی ہے۔ عورتوں کو اس طرف بالکل توجہ نہیں۔ یہ عورتوں کی نماز کے متعلق چند کوتاہیاں ہیں۔

( الکمال فی الدین النساء:۱۰۵)

فضول عذر کی وجہ سے نماز میں کوتاہی

اکثر عورتیں تو نماز ہی نہیں پڑھتیں اور یہ عذر کرتی ہیں کہ ہم کو گھر کے کاموں سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ میں کہتا ہوں کہ ان عذر کرنے والوں کو اگر عین کام کے وقت پیشاب کی ضرورت اس شدت سے ہو کہ اس کو روک ہی نہ سکیں یا اتفاق سے بیت الخلاء میں جانے کا شدید تقاضا ہو تو اس صورت میں کیا کریں گی؟ آیا اس وقت تک جب تک کہ پیشاب سے فراغت ہو کام کا حرج کریں گی یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ مجبوراً  کام کا حرج کرنا پڑے گا۔ تو کیا خدائی حکم کی اتنی بھی ضرروت نہیں جتنی کہ طبعی تقاضوں کی ہوتی ہے۔

( تفصیل التوبہ دعوات عبدیت:۸/۴۴)

اس گناہ میں تو قریب قریب سبھی عورتیں مبتلا ہیں کہ بچہ ہونے کے بعد (پاک ہونے کے بعد) اکثر نماز نہیں پڑھتیں اور جو کوئی نماز کو کہتا ہے تو جواب دیتی ہیں کہ بچوں کے ساتھ نماز پڑھنا کہاں ممکن ہے۔ ہر وقت تو کپڑے ناپاک رہتے ہیں۔ کبھی پاخانہ کردیا،کبھی پیشاب کردیا، پھر کپڑے بدلیں تو بچے گود سے نہیں اترتے، نماز کے لیے ان کو الگ کریں تو بہت روتے ہیں چیختے چلاتے ہیں۔ اور یہ بھی کہتی ہیں کہ مولویوں کے تو بچے ہوتے نہیں، انہیں اس مصیبت کی کیا خبر ان کو تو بس نماز کے لیے تاکید کرنا آتا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ مولویوں کے بچے کیوں نہیں ہوتے، مولویوں کے تو ہوتے ہیں پھر جاکر ذرا دیکھ لو کہ وہ کس پابندی سے پانچوں وقت کی نمازیں پڑھتی ہیں۔ بعض اللہ کی بندیاں نماز کے بعد تلاوتِ کلام پاک اور مناجاتِ مقبول اور اشراق تک کی بھی پابندی کرتی ہیں۔ کیا ان کی اولاد نہیں۔ ایسی انوکھی اولاد تمہاری ہی ہے، جس کے ساتھ نماز پڑھنا دشوار ہے۔

پھر میں کہتا ہوں کہ جس وقت تمہارا بچہ روتا ہے اور گود سے ہر گز نہ اترتا ہو اگر اس وقت تم کو پیشاب یا پاخانہ کا تقاضا ہو تو بتاؤ کہ تم کیا کروگی کیا اس کو پلنگ پر روتا ہوا ڈال کر پاخانہ میں نہ جاؤ گی؟ یقیناً سب جاتی ہیں اور بعض دفعہ خوب دیر لگتی ہے اور بچہ کے رونے کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ تو کیا نماز کے لیے تم سے اتنا بھی نہیں ہوسکتا جتنا پیشاب کے لیے کرتی ہو؟ افسوس ! معلوم ہوا یہ سب مہمل عذر ہیں۔

(اسباب الغفلۃ ملحقہ دین و دنیا:۳۹۸)

بعض عورتیں اگر نماز پڑھتی بھی ہیں تو بہت ہی دیر کرکے اور مکروہ وقت میں اور پھر اس قدر جلدی کہ نہ قیام درست نہ رکوع ٹھیک، گویا ایک مصیبت ہے کہ جس طرح بنے اس سے چھوٹیں۔

بیبیو! اگر زیادہ ہمت نہیں تو نفلیں نہ پڑھا کرو لیکن فرائض اور سنتوں میں تو کتر بیونت ( کانٹ چھانٹ اور کوتاہی ) نہ کیا کرو، ان میں تو ارکان کی تعدیل کا لحاظ ضرور کیا کرو۔

( تفصیل التوبہ :۸/۴۵)

نماز کی پابندی کا طریقہ و تدبیر

آدمی جس کام کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں ضرور مدد فرماتے ہیں۔ تو جو عورتیں ( نماز نہ پڑھنے کے ) ایسے بہانے کرتی ہیں وہ ذرا نماز شروع کرکے تو دیکھیں، ان شاء اللہ پھولوں کی طرح ہلکی ہوجائیں گی۔ مگر اب تو عورتیں ارادہ ہی نہیں کرتیں۔ اس لیے نہ کرنے کے سو بہانے ہیں۔ ورنہ ارادہ وہ چیز ہے کہ ایک ایسا شخص جس سے بارش یا سردی میں خود اٹھ کر پانی بھی نہیں پیا جاتا، اگر کلکٹر صاحب کا حکم اس حالت میں اس کے پاس پہنچے کہ فلاں مقام میں ہم سے آکر ملو، تو وہ دو میل پیدل چلا جاتا ہے۔ لوگ حیرت کرتے ہیں کہ اس میں یہ قوت کہاں سے آگئی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ارادہ کی قوت ہے جس پر حق تعالیٰ نے امداد کا وعدہ فرمایا ہے۔

عورتیں نماز کا ارادہ ہی نہیں کرتیں، ورنہ کچھ مشکل بات نہ تھی۔ لیجیے میں ایک تدبیر بتلاتا ہوں جس سے بہت جلد نماز کی پابندی حاصل ہوجائے گی۔ وہ یہ کہ جب ایک وقت کی نماز قضا ہو تو ایک وقت کا فاقہ کرو، پھر دیکھیں نماز کیسے قضا ہوتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ نماز کی پابندی تو فاقہ سے ہوگئی مگر فاقہ کی پابندی کیسے ہوگی۔ اس کی بھی تو کوئی ترکیب بتلاؤ۔ کیوں کہ یہ تو نماز سے بھی زیادہ مشکل ہے،فاقہ کس سے ہوسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ فاقہ میں تو کچھ کرنا ہی نہیں پڑتا بلکہ چند کاموں سے اپنے کو روکنا پڑتا ہے اور یہ اختیاری بات ہے کہ ایک کام مت کرو، کسی کام کا کرنا تو مشکل ہوتا ہے، مگر نہ کرنا کیا مشکل ہے۔

اگر کسی سے یہ نہ ہوسکے تو وہ اپنے ذمہ کچھ مالی جرمانہ مقرر کرلے کہ اتنے پیسے فی نماز خیرات کیا کروں گی،یا کچھ نمازیں مقرر کرلیں کہ ایک نماز قضا ہوئی تو مثلاً دس رکعتیں نفل بطور جرمانہ کے پڑھا کروں گی۔ اس طرح چند روز میں نفس ٹھیک ہوجائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ذرا عمل کرکے تو دیکھو۔

(اسباب الغفلۃ ملحقہ دین ودنیا)

خلاصہ کلام

نماز میں عورتیں بہت کوتاہی کرتی ہیں،بعض تو نماز پڑھتی ہی نہیں اور ایسی بھی زیادہ ہیں اوربعض پڑھتی ہیں مگر ان کا قرآن صحیح نہیں ہے اور نہ قرآن صحیح کرنے کا اہتمام کرتی ہیں اور بعض کا قرآن بھی صحیح ہے تو وقت کو بہت تنگ کردیتی ہیں۔ ظہر کی نماز عصر کے وقت اور عصر کی مغرب کے وقت پڑھتی ہیں۔ حالاں کہ مردوں کے لیے تو بعض اوقات میں تاخیر مسنون بھی ہے مگر عورتوں کے لیے تو سب نمازیں اوّل وقت میں پڑھنا افضل ہے۔ مگر یہ اوّل تو اوّل، آخیر میں بھی نہیں پڑھتیں بلکہ اکثر قضا پڑھتی ہیں اوربعض عورتیں( یہ کوتاہی کرتی ہیں کہ ) ان نمازوں کی قضا نہیں کرتیں جو ہر مہینہ ان سے غسل کی تاخیر کی وجہ سے چھوٹ جاتی ہیں اگر احتیاط کریں اور مسئلہ اچھی طرح معلوم کرلیں تو اوّل تو ایسی نوبت ہی نہ آئے اور جو غلطی سے ایسا ہوجائے تو جلد ہی قضاء کرنا چاہیے۔

غرض اعمالِ ظاہرہ میں نماز سب سے اہم ہے، اس کی اچھی طرح پابندی کرنی چاہیے اور دل لگا کر نماز پڑھا کریں جلدی جلدی سر سے بوجھ نہ اتاریں۔

(التبلیغ:۳/ 55) (علاج الحرص)

بعض عورتیں قرآن غلط پڑھتی ہیں۔ اس کا اہتمام بھی ضروری ہے کہ (قرآن پاک صحیح ہوجائے) بعض دفعہ ایسی غلطی ہوجاتی ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ چند سورتیں تو نماز کے لیے کم از کم ضرور صحیح کرلو۔

(الکمال فی الدین:۱۰۳)

روزہ کی اہمیت

رمضان کے روزے رکھنا بھی نماز و زکوٰۃ کی طرح اسلام کا ایک رکن یعنی بڑی شان کا ایک لازمی حکم ہے۔ چناں چہ  اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ

اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے۔

( حیاۃ المسلمین:۱۵۸)

حدیث شریف میں روزے کا بڑا ثواب آیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ  کے نزدیک روزہ دار کا بڑا رتبہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے محض اللہ تعالیٰ کے واسطے ثواب سمجھ کر رکھے تو اس کے سب اگلے گناہ صغیرہ بخش دیئے جائیں گے۔

(مشکوۃ)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ قیامت کے دن روزے کا بے حد ثواب ملے گا۔

( مشکوۃ)

روایت ہے کہ روزہ داروں کے واسطے قیامت کے دن عرش کے نیچے دسترخوان بچھایا جائے گا۔ وہ لوگ اس پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے اور سب لوگ ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگ کیسے ہیں کہ کھانا کھا پی رہے ہیں اور ہم ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو جواب ملے گا کہ یہ لوگ روزہ رکھا کرتے تھے اور تم لوگ روزہ نہ رکھتے تھے۔

(در منثور جلد ۱)

غرض یہ روزہ بھی دینِ اسلام کا بڑا رکن ہے جو کوئی رمضان کے روزے نہ رکھے گا، اس کو بڑا گناہ ہوگا اور اس کا دین کمزور ہوجائے گا۔

روزہ میں ایک خاص بات ایسی ہے جو کسی عبادت میں نہیں۔ وہ یہ کہ چوں کہ  روزہ ہونے یا نہ ہونے کی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو خبر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے روزہ وہی رکھے گا جس کو اللہ تعالیٰ کی محبت یا اللہ تعالیٰ کا ڈر ہوگا اور اگر اس میں کچھ کمی ہوگی تو تجربہ سے ثابت ہے کہ محبت و عظمت کے کام کرنے سے محبت و عظمت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیے روزہ رکھنے سے یہ کمی پوری ہوجائے گی اور ظاہر ہے کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ہوگی وہ دین میں کتنا مضبوط ہوگا۔ تو روزہ رکھنے میں دین کی مضبوطی کی خاصیت ثابت ہوگئی۔

اور روزہ جس طرح گناہوں سے بچاتا ہے جو کہ باطنی بیماریاں ہیں اسی طرح بہت سی ظاہری بیماریوں سے بھی بچاتا ہے کیوں کہ زیادہ تر بیماریاں کھانے پینے کی زیادتی سے ہوتی ہیں۔ روزہ سے اس میں کمی ہوگی تو ایسی بیماریاں بھی نہ آئیں گی۔ ایک حدیث میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک زکوٰۃ ہے اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے۔

(ابن ماجہ)

یعنی جس طرح زکوٰۃ میں مال کا میل کچیل نکل جاتا ہے، اسی طرح روزہ میں بدن کا میل کچیل یعنی فاسد مادہ جس سے بیماری پیدا ہوتی ہے دور ہوجاتا ہے ۔ ایک حدیث میں یہ مضمون بالکل صاف آیا ہےکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ رکھا کرو تندرست رہو گے۔

(طبرانی)

اور روزہ سے جس طرح ظاہری و باطنی مضرت زائل ہوتی ہے۔ اسی طرح اس سے ظاہری و باطنی مسرت بھی حاصل ہوتی ہے۔

( حیاۃ المسلمین:۱۶۰، روح شانزدھم)

رمضان کا فائدہ

تجربہ سے معلوم ہوا کہ (رمضان کی ) عبادت کا اثر اس کے بعد گیارہ مہینےتک رہتا ہے جو کوئی رمضان میں طبیعت پر زور دے کر بھی نیکی (اور عبادت) کر لیتا ہے تو اس کے بعد آسانی سے نیکی کرسکتا ہے اور جو کوئی رمضان میں کسی گناہ سے بچا رہے تو پورا سال اس گناہ سے بچ سکتا ہے اور اس مہینے میں گناہ چھوڑنا کچھ مشکل نہیں کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان قید ہوگئے۔ تو گناہ آپ ہی کم ہوجائیں گے اور ان کا چھوڑ دینا آسان ہوجائے گا۔ کیوں کہ گناہ کی رغبت دلانے والی دو چیزیں ہیں ایک تو شیطان اور دوسرا نفس۔ پس شیطان تو قید کردیئے گئے، اب صرف ایک نفس گناہوں کی طرف رغبت دلانے والا رہ گیا پس اس کو روک لینا آسان ہے۔ پہلے کی طرح رمضان میں دونوں کو روکنے کی مشقت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ اس ایک مہینہ میں تکلیف اٹھالینا کوئی بڑی بات نہیں اور جب اس مہینہ میں گناہ چھوڑے رکھو گے پھر تمام سال اس سے بچا رہنا آپ ہی آسان ہوجائے گا۔ غرض اس مہینہ میں ہر عضو کو گناہ سے بچانا چاہیے۔

(تسہیل المواعظ جلد ۱)

روزہ کا مقصد

اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ میں ان چیزوں کو بھی حرام کردیا ہے جو پہلے حلال تھیں، پھر جو چیزیں پہلے ہی سے حرام ہیں وہ کس قدر زیادہ حرام ہوگئی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے تو روزہ رکھنے کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ اس واسطے ہے کہ تم پرہیز گار ہوجاؤ۔ اب ہر شخص سوچ لے کہ رمضان میں پہلے سے کتنا زیادہ پرہیز گار ہوگیا۔ پہلے کی حالت میں اور اب میں کتنا فرق ہوا۔ بے پردگی کو چھوڑ دیا یا نہیں، غیبت سے یعنی کسی کو پیٹھ پیچھے برا کہنے سے رکا یا نہیں؟ مگر دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بات بھی نہیں چھوڑی دونوں حالتیں ایک سی ہیں۔ کسی بات میں کچھ کمی نہیں ہوئی، بس فقط ایک کام یہ کیا کہ کھانا کھانے کے وقت بدل دیئے ہیں۔ کچھ کھانے میں کمی بھی نہیں کی، جتنا پہلے کھاتے تھے اتنا ہی رمضان میں بھی کھاتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزہ ہم پر اس واسطے فرض کیا کہ برائیاں کم ہوجائیں مگر ہم لوگوں نے کچھ کوشش نہ کی۔ اللہ والے تو کھانا بھی اس مہینہ میں پہلے سے کم کھاتے ہیں، خیر کھانا اگر پہلے کے برابر کھاؤ تو جائز ہے مگر گناہ تو کسی طرح جائز نہیں لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ دن بھر گناہوں میں  گھرے رہتے ہیں بلکہ بعض تو رمضان میں اور زیادہ گناہ کرنے لگتے ہیں۔ اسی کو دیکھ لیجیے( پانچوں وقت) کی نماز اپنے وقت پر ہوتی ہے یا نہیں؟ عموماً نماز کو وقت سے دیر کرکے پڑھنے کی عادت ہوگئی ہے۔ (خصوصاً عورتیں کھانے اور افطاری کی تیاری میں عصر کی نماز میں بہت دیر کرتی ہیں) ان کی نماز قضا ہوتی ہے اور قضا  نہ بھی ہوتو دیر تو ضرور ہوجاتی ہے۔ خوش ہیں کہ ہم نے روزہ رکھ لیا، بڑا تعجب ہے کہ نماز کو چھوڑ دیا، بھلا صرف روزہ اس کے لیے کیسے کافی ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی بخشش کو اس قدر بڑھادیا کہ دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا اور ہم اس قدر گناہ کرتے ہیں کہ نیکیوں کو دس گنا کردینے پر بھی ہمارے گناہ ہی زیادہ رہتے ہیں ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جب ہماری یہ حالت ہے کہ وہ تو ایک نیکی کو دس نیکیاں بنادیتے ہیں اور پھر بھی ہمارے گناہ ہی بڑھتے رہتے ہیں تو پھر ہمارا کیا حال ہونا چاہیے۔ اچھا اس کو بھی جانے دیجیے، اگر ہم ہمیشہ گناہوں کو گھٹا نہیں سکتے تو رمضان میں تو ایسا کرلیا جائے کہ ہر عضو کو گناہ سے بچایا جائے۔

( تسہیل المواعظ۔ رمضان کا خالص رکھنا:۱/۷۶)

روزہ کے متعلق عورتوں کی کوتاہیاں

عورتوں کو روزہ دشوار نہیں، اس میں وہ ماشاء اللہ مردوں سے بھی زیادہ شیر (اور آگے) ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عورتیں روزے بہت رکھ لیتی ہیں مگر نماز سے ان کی جان نکلتی ہے اور روزہ رکھنے میں عورتوں کا زیادہ کمال بھی نہیں بلکہ ایک طبی راز ہے وہ یہ ہے کہ ان میں رطوبت و برودت کا غلبہ ہے، سرد مزاج والے کو بھوک پیاس کم لگتی ہے، اس لیے ان کو روزہ آسان ہے۔ دوسرے ان کو کھانے کے اندر مشغولی رہتی ہے، اپنے ہاتھ سے سب چیزیں پکاتی ہیں، خوشبو سونگھتی ہیں۔ اس سے بھوک کم ہوجاتی ہے۔ صرف پیاس کی تکلیف رہ گئی، اس کی سہار بھی ان کو مشکل نہیں کیوں کہ اوّل تو وہی برودت و رطوبت مانع عطش (پیاس کو روکتی ) ہے۔ دوسرے یہ دن بھر گھر میں ہی رہتی ہیں، کہیں دھوپ میں آنے جانے کا ان کو کام نہیں پڑتا۔ رہا یہ کہ کھانے پکانے میں آگ کے سامنے بیٹھنا پڑتا ہے تو اکثر عورتیں جو روزہ دار ہوتی ہیں وہ اپنے ہاتھ سے کم پکاتی ہیں، ان کے آگے خدمت کرنے کو مامائیں موجود ہوتی ہیں اور جن کو خود کام کرنا پڑتا ہے وہ یہ ترکیب کرتی ہیں پہلے سالن کی ہانڈی تیار کرلیتی ہیں۔ سالن پکانے میں آگ کے سامنے جم کر نہیں بیٹھنا پڑتا ، ایک دفعہ آگ جلا دی ہانڈی رکھ دی اور چلتے پھرتے پکالی، پھر جب عصر کا وقت ہوگیا گرمی کم ہوگئی جلدی جلدی پندرہ بیس منٹ میں روٹی پکالی۔ اس لیے ان کو کھانا پکانے میں زیادہ دقّت نہیں ہوتی۔

تیسری وجہ روزہ کی سہولت کی یہ ہے کہ عموماً عورتوں کو کھانے کی حرص کم ہوتی ہے۔ ان کو عمدہ کھانا مرغوب نہیں ہوتا۔ بس ان کی ہانڈی صرف مردوں ( اور بچوں ) کی خاطر پکتی ہے اگر کبھی مرد گھر پر نہ ہو تو یہ چٹنی پیس کر ہی گزارہ کرلیتی ہیں، جب یہ اپنے نفس کو مارتی ہیں تو رفتہ رفتہ ان کی بھوک بھی مرجاتی ہے، اس لیے روزہ میں ان کا کمال نہیں، اس میں تو مردوں کا کمال ہے کہ ہاؤ ہپ ( کھانے میں بہت تیز ہیں ) پھر روزہ رکھتے ہیں مگر افسوس کہ اب مردوں نے روزہ رکھنے میں ہمت ہاردی۔

پس میں عورتوں سے یہ تو نہیں کہتا کہ وہ وزہ نہیں رکھتیں ہاں روزہ میں غیبت سے بچنے کو ضرور کہوں گا کیوں ان کا روزہ غیبت سے بہت کم پاک ہوتا ہے۔ جب ان کو روزے میں کھانا پکانے کا مشغلہ کم ہوتا ہے تو آپس میں محفل جما کر بیٹھتی ہیں اور تیری میری غیبت و شکایت میں روزہ برباد کرتی ہیں۔یوں تو غیبت ہر حال میں حرام ہے مگر روزے کی حالت میں اس کا گناہ زیادہ ہے۔ جیسے زنا کرنا حرام ہے اور مکہ معظمہ میں کرنا سخت گناہ ہے، کیوں کہ زمان ومکان کے شرف سے جس طرح طاعات کا ثواب بڑھ جاتا ہے اسی طرح معاصی کا گناہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

بعض پان کھانے والی عورتیں یہ کوتاہی کرتی ہیں کہ سحری میں منہ کے اندر پان دبا کر سورہتی ہیں اگر صبح تک منہ میں پان رہا تو روزہ نہیں ہوتا۔ اس کی احتیاط بہت ضروری ہے۔

(الکمال فی الدین:۱۷۰)

روزے میں تو عورتیں بڑی بہادر ہیں، چاہے بیماری ہو یا تکلیف ہو اور حکیم بھی افطار کی اجازت دے دے، مگر یہ روزہ قضا نہیں کرتیں لیکن اس کے ساتھ روزہ میں غیبت بھی بہت کرتی ہیں کیوں کہ صبح سے دوپہر تک تو کچھ کام ہوتا نہیں، بس بیٹھی ہوئی ادھر ادھر کی باتیں بناتی رہتی ہیں۔ اس لیے ان میں وہ عورتیں ( اس وقت) بہت اچھی ہیں جن کو تمباکو کی عادت کی وجہ سے روزہ بہت لگتا ہے ( اگرچہ تمباکو کھانا بہت برا ہے) کیوں کہ وہ روزے میں ایک طرف کونے میں سر ڈالے پڑی رہتی ہیں۔ ان سے بغیر پان کھائے بات تک نہیں ہوسکتی، تو وہ ان قصوں سے غیبت و شکایت سے محفوظ رہتیں ہیں۔

بہر حال عورتوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دینے کی ضرورت نہیں، اس کو تو عورتیں خود بڑے شوق سے کرلیتی ہیں۔ البتہ روزے کے حقوق ادا کرنے کی ان کو تاکیدکرتا ہوں کہ فضول گناہ کی باتوں میں روزہ کو برباد نہ کریں۔ بلکہ قرآن مجید پڑھا کریں بزرگوں کی حکایتیں سنا کریں اور یہ بھی نہ ہو تو ایک طرف پڑ کر سو رہا کریں۔

(التبلیغ علاج الحرص:۳/۵۶)

اعتکاف

رمضان شریف کی بیسویں تاریخ کے دن چھپنے سے ذرا پہلے سے رمضان کی انتیس یا تیس تاریخ یعنی جس دن عید کا چاند نظر آئے اس تاریخ کے دن چھپنے تک اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کے لیے جگہ مقرر کر رکھی ہو اس جگہ پر پابندی سے بیٹھے۔ اس کو اعتکاف کہتے ہیں۔ اس کا بڑا ثواب ہے۔

(بہشتی زیور:۱۴۷)

علی بن حسین اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  جو شخص رمضان میں دس روز اعتکاف کرے تو اس کو دو حج اور دو عمرہ جیسا ثواب ہوگا۔ (بیہقی)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے حق میں فرمایا کہ وہ تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے اور اس کو ایسا ثواب ملتا ہے جیسے کوئی تمام نیکیاں ( اور ثواب کے کام ) کررہا ہو۔

(مشکوٰۃ از ابن ماجہ)

عورتیں گھر ہی میں اپنی نماز پڑھنے کی جگہ اعتکاف کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں بھی اعتکاف کرتی تھیں۔

(فروع الایمان:۶۳)

اگر اعتکاف شروع کرے تو صرف پیشاب پاخانہ یا کھانے پینے کی ضرورت سے وہاں سے اٹھنا درست ہے اور اگر کوئی کھانا پانی دینے والا ہو تو اس کے لیے بھی نہ اٹھے، ہر وقت اسی جگہ رہے، اور وہیں سوئے اور بہتر یہ ہے کہ بے کار نہ رہے۔ قرآن پڑھتی رہے، نفلیں اور تسبیحیں جو توفیق ہو اس میں لگی رہے اور اگر حیض یا نفاس آجائے تو اعتکاف چھوڑ دے۔ اس حالت میں اعتکاف درست نہیں اور اعتکاف میں مرد سے ہم بستر ہونا یا چمٹنا بھی درست نہیں۔

( بہشتی زیور:۱۴۷)

صدقہ فطر

۱) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آخر رمضان میں فرمایا کہ اپنے روزہ کا صدقہ نکالو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ مقرر فرمایا ہے ہر شخص پر (جو صاحبِ نصاب ہو ) آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا۔( ابو داؤد و نسائی)

۲) ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کا ایک صاع مقرر فرمایا ہے کھجور سے اور ایک صاع جو سے اور حکم دیا ہے کہ یہ عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جائے۔

(متفق علیہ)

۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں جو مال دار ہو وہ صدقہ فطر ادا کرے ، کیوں کہ صدقہ فطر دینے سے اللہ تعالیٰ روزوں کو پاک کردیتا ہے اور تم میں جو فقیر ہو پھر بھی صدقہ دے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے دینے سے بھی زیادہ عطا فرماتے ہیں۔

(ابو داؤد)

۴) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو اس واسطے مقرر فرمایا ہے کہ روزے لغو اور فحش باتوں سے پاک ہوجائیں اور غریبوں کو کھانے کو ملے۔

(فروع الایمان)

زکوٰۃ کا بیان

زکوٰۃ کی اہمیت

زکوٰۃ بھی نماز کی طرح اسلام کا ایک رکن اور بڑی شان والا لازمی حکم ہے۔ بہت سی آیتوں میں زکوٰۃ دینے کا حکم اور اس کے دینے کا ثواب اور زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب مذکور ہے۔

۱) حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ زکوٰۃ اسلام کا ایک پل ہے یا بلند عمارت ہے کہ اگر زکوٰۃ نہ دے تو اسلام پر نہیں چلا جاسکتا۔

(اصفہانی)

۲) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے تھے جو شخص تم میں اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے۔

( طبرانی صغیر)

۳) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کو نماز کی پابندی کا اور زکوٰۃ دینے کا حکم کیا گیا ہے اور جو شخص زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

(طبرانی)

۴) اور ایک روایت میں ہے کہ جو شخص نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ نہ دے تو وہ پورا مسلمان نہیں کہ اس کا نیک عمل اس کو نفع دے۔

(اصفہانی)

۵) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوٰۃ نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں جائے گا۔

(طبرانی صغیر)

۶) حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس قوم نے زکوٰۃ دینا بند کرلیا اللہ تعالیٰ ان کو قحط میں مبتلا کرتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک لیتا ہے۔

(حیاۃ المسلمین)

زکوٰۃ کے متعلق عورتوں کو تہدید

۱) جس عورت کے پاس مال ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ نہ نکالتی ہو، تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑی گناہ گار ہے، قیامت کے دن اس کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

(بیہقی، حاکم)

۲) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اور میری خالہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئیں کہ ہم سونے کے کنگن پہنے ہوئی تھیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا: کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ ہم نے عرض کیا :نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ تم کو اس سے ڈر نہیں لگتا کہ تم کو اللہ تعالیٰ آگ کے کنگن پہنائے؟ اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔

(حیاۃ المسلمین)

۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس سونا چاندی ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کرکے اس کی دونوں کروٹیں اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی، جب ٹھنڈی ہوجائیں گی پھر گرم کر لی جائیں گی۔

(بخاری و مسلم)

اور نبی علیہ السلام نے فرمایا جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ نہ ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال ایک بڑے زہریلے گنجے سانپ کی شکل کا بنادیا جائے گا اور اس کے گلے میں طوق کی طرح ڈال دیا جائے گا اور وہ اس کی گردن میں لپٹ جائے گا پھر اس کے دونوں جبڑے نوچے گا اور کہے گا کہ میں ہی تیرا مال ہوں اور میں ہی تیرا خزانہ ہوں۔

(بہشتی زیور:۳/۲۲، حیاۃ المسلمین)

خدا کی پناہ بھلا اتنے عذاب کی کون سہار کرسکتا ہے۔ تھوڑے سے لالچ کے بدلے یہ مصیبت بھگتنا بڑی بے وقوفی کی بات ہے۔ خدا ہی کی دی ہوئی دولت کو خدا ہی کی راہ میں نہ دینا کتنی بے جا بات ہے۔

(بہشتی زیور:۳/۲۳)

زکوٰۃ کے متعلق عورتوں کی کوتاہیاں

زکوٰۃ میں عورتیں بہت سستی کرتی ہیں کہ اپنے زیوروں لچکوں کی زکوٰۃ نہیں دیتیں۔ یاد رکھو! جتنا زیور عورت کو جہیز میں ملتا ہے وہ اس کی مالک ہے۔ اس کی زکوٰۃ دینا اس پر واجب ہے اور جو زیور شوہر کے گھر سے ملتا ہے، اگر وہ اس نے اس کو ملک کردیا ہے تو اس کی زکوٰۃ بھی اس پر واجب ہے اور اگر ملک نہیں کیا۔( یعنی ان کو مالک نہیں بنایا) محض پہننے کے واسطے دیا ہے تو اس کی زکوٰۃ مردوں کے ذمہ واجب ہے ۔ ہر سال اپنے زیور کا حساب کرکے جتنی زکوٰۃ اپنے ذمہ ہو فوراً ادا کردینی چاہیے، اس میں سستی کرنے سے گناہ ہوتا ہے۔

دیکھو خدا تعالیٰ نے بہت سے غریبوں کو مال نہیں دیا،حالاں کہ تم ان سے کچھ (کامل) نہیں ہو، اکثر غرباء کمالات میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں کہ وہ نمازی بھی  ہیں، دین دار بھی ہیں۔ پھر جو ان کو خدا نے مال نہیں دیا اور تم کو دیا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ خدا نے امیروں (مال داروں) کو اسی واسطے مال دیا ہے کہ وہ غریبوں کو دیا کریں کیوں کہ ہر شخص اتنے ہی مال کا حق دار ہے جتنے  کی اسے ضرورت ہے، پھر جس کو خدا نے حاجت سے زیادہ مال دیا ہے، وہ جمع کرنے کے واسطے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو دینے کے واسطے ہے جن کو بقدر حاجت بھی نہیں ملا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں وہ غریبوں کو امیروں کے ہاتھ سے دلوانا چاہتے ہیں۔ اس قاعدہ کا تو یہ مقتضی تھا کہ امیروں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جتنا مال ان کی ضرورت سے زیادہ ہو سب غریبوں کو دے دیا کریں کیوں کہ عقلاً وہ ان ہی کا حق ہے لیکن خدا کی کتنی بڑی رحمت ہے کہ اس نے سارا مال دینے کا حکم نہیں کیا بلکہ صرف چالیسواں حصہ واجب کیا، پھر اس میں بھی کوتاہی کرنا بڑا ظلم ہے۔

(الکمال فی الدین:۱۰۷)

مسلمانوں کی زیادہ تر ظاہری وباطنی پریشانی کا سبب افلاس ( تنگدستی) ہے اور زکوٰۃ اس کا کافی علاج ہے، اگر مال دار فضول خرچی نہ کریں اور ہٹے کٹے (لوگ) محنت مزدوری کرتے رہیں اور معذور لوگوں کو زکوٰۃ سے امداد ہوتی رہے، تو مسلمانوں میں ایک بھی بھوکا ننگا نہ رہے۔ سب سے زیادہ زکوٰۃ کے حقدار اپنے غریب رشتہ دار ہیں، خواہ بستی میں ہوں یا دوسری جگہ۔ ان کے بعد اپنی بستی کے دوسرے غریب، لیکن اگر دوسری بستی کے لوگ زیادہ غریب ہوں تو پھر ان ہی کا حق زیادہ ہے۔

(حیاۃ المسلمین:۱۵۰)

اکثر عورتوں کی عادت

اکثر عورتیں زکوٰۃ نہیں دیتیں کیوں کہ روپیہ خرچ ہوگا۔ بعض دفعہ زیور کی زکوٰۃ نہ مرد دیتا ہے نہ عورت۔ مرد کہتا ہے کہ زیور عورت کا ہے اور عورت کہتی ہے کہ زیور مرد کا ہے،میں کیوں زکوٰۃ دوں،جس کا مال ہے خود دے۔ مگر اس بہانے سے خدا کے یہاں سے نہیں چھوٹ سکتے ۔ آخر دونوں میں سے کسی کا تو ہے ہی، بس اس کے ذمہ زکوٰۃ ہے اور اگر دونوں کا ہے تو ہر ایک اپنے اپنے حصے کی زکوٰۃ ادا کرے اور اگر واقعی نہ اس کا ہے، نہ اس کا تو پھر یہ مال خدا کا ہے۔ اس کو وقف کے مصارف میں کسی مسجد یا مدرسہ میں لگادینا چاہیےیا غریبوں کو بانٹ دینا چاہیے۔

(اسباب الغفلۃ، دین و دنیا)

فصل :زکوٰۃ ادا کرنے سے مال کی کمی کا شبہ اور اس کا جواب

اکثر مال دار لوگ زکوٰۃ دینے سے اس وجہ سے کوتاہی کرتے ہیں کہ وہ ڈرتے ہیں کہ زکوٰۃ دینے سے روپیہ کم ہوجائے گا۔

سو اوّل تو اس کا تجربہ ہوچکا ہے ہے کہ زکوٰۃ و صدقہ دینے سے مال کبھی کم نہیں ہوتا، اس وقت اگر کسی قدر نکل جاتا ہے تو کسی دوسرے موقع پر اس سے زیادہ اس میں آجاتا ہے۔ حدیث شریف میں بھی یہ مضمون موجود ہے۔ 

دوسرے اگر بالفرض کم ہی ہوگیا تو کیا ہے؟ آخر اپنی نفسانی لذتوں میں ہزاروں روپیہ خرچ کرڈالتے ہیں، وہ بھی کم ہوتا ہے۔ سرکاری ٹیکس اورمحصول میں بھی تو بہت کچھ دینا پڑتا ہے اگر نہ دو تو باغی اور مجرم قرار دیئے جاؤ۔ آخر اس میں بھی تو گھٹتا ہے۔ پھر اس کو بھی خدائی ٹیکس سمجھو۔

تیسرے یہ کہ دنیا میں اگرچہ کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے مگر وہاں (یعنی آخرت میں) جمع ہوتا ہے۔ آخر ڈاکخانہ میں، بینک میں روپیہ جمع کراتے ہو تمہارے قبضہ سے تو نکل ہی جاتا ہے مگر اطمینان ہوتا ہے کہ معتبر جگہ جمع ہے نفع بڑھتا رہے گا۔ اسی طرح ایمان والے کو خداوند جل شانہ کے وعدوں پر اعتماد کرکے سمجھنا چاہیے کہ وہاں جمع ہورہا ہے اور قیامت کے روز اصل مال نفع کے ساتھ ایسے موقع پر ملے گا جس وقت سخت ضرورت ہوگی۔

اس کے علاوہ مال کی حفاظت کے واسطے چوکیدار نوکر رکھتے ہو ان کی تنخواہ دینی پڑتی ہے، باجودیہ کہ تعداد گھٹ جاتی ہے مگر اس ڈر سے کہ تھوڑی بچت کے واسطے کہیں سارا روپیہ نہ چوری ہوجائے۔ اس لیے رقم خرچ کرنا گوارا ہوتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ ادا کرنے کو مال کا محافظ سمجھو۔ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے سے مال ہلاک ہوجاتا ہے۔ ( اس کی وجہ سے کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور آتی ہے)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ نہیں مخلوط ہوتی زکوٰۃ کسی مال میں مگر وہ اس مال کو ہلاک کردیتی ہے۔

(صرواہ الشافعی و البخاری)

اور ایک روایت میں ہے کہ تجھ پر زکوٰۃ واجب ہوئی اور تو نے اس کو نہ نکالا ہو، سو یہ حرام اس حلال کو ہلاک کرڈالتا ہے۔

سو اپنے مال ہی کی حفاظت کے لیے زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر یہ کہ ایسا کوئی شخص نہیں ہے جس کو ضرورت مندوں کے لیے کچھ نہ کچھ خرچ نہ کرنا پڑتا ہو۔ کاش اگر حساب کرکے خرچ کریں تو زکوٰۃ سہولت سے ادا ہوجائے۔

(فروع الایمان:۵۷)

حج

جس شخص کے پاس ضرورت سے زائد اتنا خرچ ہو کہ سواری پر متوسط گزر کے ساتھ کھاتا پیتا چلا جائے اور حج کرکے واپس چلا آئے اس کے ذمہ حج فرض ہوجاتا ہے۔

حج کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حج گناہوں اور خرابیوں سے پاک ہو، اس کا بدلہ سوائے جنت کے اورکچھ نہیں۔ اسی طرح عمرہ کرنے پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ چناں چہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کرتی ہے۔ اور جس کے ذمہ حج فرض ہو اور وہ نہ کرے، تو اس کے لیے بڑی دھمکی آئی ہے۔چناں چہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس کھانے پینے اور سواری کا اتنا سامان ہو جس سے وہ بیت اللہ شریف تک جاسکے اور پھر حج نہ کرے، تو وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے، خدا کو اس کی کچھ پرواہ نہیں۔اور یہ بھی فرمایا ہے کہ حج کا ترک کرنا اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔

(بہشتی زیور)

چند حدیثیں

۱) حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو کوئی ظاہری مجبوری یا معذور کردینے والی بیماری حج سے روکنے والی نہ ہو( اور اس پر حج فرض ہو ) اور پھر وہ حج کیے بغیر مرجائے، اس کو اختیار ہے خواہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔

(مشکوٰۃ از دارمی)

۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اگر وہ دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرتا ہے، اگر وہ اس سے مغفرت چاہتے ہیں تو وہ ان کی مغفرت کرتا ہے۔

(مشکوٰۃ، ابن ماجہ)

زیارتِ مدینہ

اگر گنجایش ہو تو حج کے بعد یا حج سے پہلے مدینہ منورہ حاضر ہو کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک اور مسجد نبوی کی زیارت سے برکت حاصل کرے۔ اس کے متعلق رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس کو وہی برکت ملے گی جیسے میری زندگی میں کسی نے زیارت کی اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص خالی حج کرے اور میری زیارت کو نہ آئے اس نے میرے ساتھ بڑی بے مروتی کی۔

اور اس مسجد کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس میں ایک نماز پڑھے اس کو پچاس ہزار نمازوں کے برابر ثواب ملےگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ دولت نصیب کرے اور نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

( بہشتی زیور:۳۵)

قربانی

قربانی کرنے کا بڑا ثواب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت یعنی ذبح کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے زمین تک پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول ہوجاتا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ سبحان اللہ! بھلا سوچو تو اس سے بڑھ کر کیا ثواب ہو کہ ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل جاتی ہیں۔ بھیڑ (بکرے) کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں اگر کوئی صبح سے شام تک گنے تب بھی نہ گن پائے،پس سوچو تو کتنی نیکیاں ہوئیں۔

بڑی دین داری کی بات یہ ہے کہ اگر کسی پر قربانی کرنا واجب بھی نہ ہو تب بھی اتنے ثواب کے لالچ میں قربانی کردینا چاہیے۔ جب یہ دن چلے جائیں گے تو یہ دولت کہاں نصیب ہوگی اور اتنی آسانی سے اتنی نیکیاں کیسے کما سکے گا اور اللہ نے مال دار اور امیر بنایا ہو تو مناسب ہے کہ جہاں اپنی طرف سے قربانی کرے جو رشتہ دار مرگئے ہیں جیسے ماں باپ وغیرہ ان کی طرف سےبھی قربانی کردے تاکہ ان کی روح کو اتنا بڑا ثواب پہنچ جائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیبیوں کی طرف سے بھی قربانی کردے اور نہیں تو کم از کم اتنا ضرور کرے کہ اپنی طرف سے قربانی کرے کیوں کہ مال دار پر قربانی واجب ہے۔

جس کے پاس مال و دولت سب کچھ موجود ہے اور قربانی کرنا اس پر واجب ہے پھر بھی اس نے قربانی نہیں کی، اس سے بڑھ کر بد نصیب اور محروم اور کون ہوگا؟ اور گناہ الگ رہا۔

(بہشتی زیور:۲۸)

قربانی سے متعلق چند حدیثیں

۱) حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قربانی کرے کہ اس کا دل خوش ہو اور اپنی قربانی میں ثواب کی نیت رکھتا ہو، وہ قربانی اس شخص کے لیے دوزخ سے آڑ  ہوجائے گی۔

(طبرانی)

۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قربانی کو خوب طاقتور کیا کرو ( یعنی کھلا پلا کر) کیوں کہ یہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔

(کنزالعمال)

۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قربانی کرنے کی گنجایش رکھے اور قربانی نہ کرے، سو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔

(حاکم)

فائدہ: اس حدیث سے کس قدر ناراضگی ٹپکتی ہے۔ کیا کوئی مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی برداشت کرسکتا ہے؟ جس کے ذمہ قربانی واجب ہو اور جس کی گنجایش نہ ہو اس کے لیے نہیں۔

۴) ابو طلحہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دنبہ کی قربانی فرمائی اور دوسرے دنبہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ قربانی میری امت کی طرف سے ہے جو مجھ پر ایمان لائے۔

(جمع الفوائد)

فائدہ: غور کرنے کی بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی میں اپنی امت کویاد رکھا تو افسوس ہے کہ امتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد نہ رکھیں؟ اور ایک حصہ بھی آپ کی طرف سے نہ کریں؟

(حیاۃ المسلمین)

ذکر اللہ کا بیان!

اب میں بعض (ایسی باتیں بیان) کرتا ہوں جن کی برکتیں بہت ہیں اور جن سے توجہ الی اللہ کی قوت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ نماز روزہ کے ساتھ کچھ اللہ کا ذکر بھی کرنا چاہیے،اس سے دل کو خدا تعالیٰ کے ساتھ لگاؤ ہوتا ہے، اور نماز میں دل لگتا ہے مگر عورتوں میں ذکر اللہ کا رواج بہت کم ہے، اس لیے کہ ان میں کوئی شیخ نہیں ہے۔ ہاں شیخ زادیاں بہت ہیں مگر شیخ بمعنیٰ پیر کوئی نہیں۔

عورتیں اپنے مردوں کے ذریعہ سے کسی شیخ کامل سے ذکر کا طریقہ پوچھ کر کیا کریں اور آپس میں اس کا رواج ڈالیں،کیوں کہ ان کی طبیعتوں کو ذکر اللہ سے بہت مناسبت ہے، اس لیے کہ ذکر اللہ کا اثر ان لوگوں پر زیادہ ہوتا ہے  جن کے دلوں میں سکون و یکسوئی کی حالت ہو اور عورتوں کو یہ بات خاص درجہ کی حاصل ہے۔ ان کے قلوب میں تشتت و تفرق (انتشار و پھیلاؤ) نہیں ہے اور یہ پردہ کی برکت ہے۔ عورتیں گھر کی چار دیواری میں مقید رہتی ہیں، اس لیے ان کے دلوں میں یکسوئی (سکون کی کیفیت) بہت ہے۔ عورتوں کے اندر یہ سکون کی کیفیت بہت اچھی ہے جو مخصوص پردہ کی برکت سے ہے، اس حالت میں اگر یہ ذکر اللہ کرنے لگیں تو جلد نفع ہو۔ اس لیے ان کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور دل لگا کر ذ کر اللہ کرنا چاہیے۔ اور کچھ وقت تلاوتِ قرآن کے لیے بھی نکالیں۔ عورتیں قرآن کم پڑھتی ہیں حالاں کہ اس سے دل بہت صاف ہوتا ہے اور نیک کاموں کی طرف رغبت اور شوق بڑھتا ہے اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

(التبلیغ علاج الحرص)

ذکر اللہ کی اہمیت و ضرورت

۱) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ بندوں میں سب سے افضل اورقیامت میں اللہ کے نزدیک سب سے برتر کون لوگ ہیں؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جو مرد کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں اور جو عورتیں کثرت سے ذکر اللہ کرنے والی ہیں۔

(احمد و ترمذی)

۲) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہو اور جو شخص ذکر نہ کرتا ہو ان کی حالت زندہ و مردہ کی سی ہے یعنی پہلا شخص زندہ کی مثال ہے اور دوسرا مردہ کی مثل، کیوں کہ روح کی زندگی یہی اللہ کی یاد ہے یہ نہ ہو تو روح مردہ ہے۔

(بخاری و مسلم)

۳) عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے اعمال ( یعنی نوافل وغیرہ ثواب کے کام ) تو بہت ہیں اس لیے مجھے کوئی ایسی چیز بتلا دیجیے کہ اس کا پابند ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ تم اس کی پابندی کرلو کہ تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تررہے۔ (یعنی چلتی رہے)

۴) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت لوگ دنیا میں نرم نرم بستروں پر اللہ کا ذکر کرتے ہوں گے اللہ ان کو اونچے اونچے درجوں پر داخل فرمائے گا۔

(ابن ماجہ)

فائدہ: یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ مال داری ( عیش و آرام کے سامان) چھوڑے بغیر ذکر اللہ سے نفع نہیں ہوتا۔

۵) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے تھے کہ ہر شے کی ایک قلعی ہے اور دل کی قلعی اللہ کا ذکر ہے۔

(بیہقی)

۶) ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے سوا بہت باتیں مت کیا کرو کیوں کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں کرنے سے دل میں سختی پیدا ہوتی ہے اور سب سے زیادہ اللہ سے دور وہ دل ہے جس میں سختی ہو۔

(ترمذی)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان آدمی کے دل پر چمٹا ہوا بیٹھا رہتا ہے جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ہٹ جاتا ہے اور جب یاد خدا سے غافل ہوتا ہے، وسوسہ ڈالنے لگتا ہے۔

(بخاری)

فائدہ: اچھے برے اعمال کی جڑ دل کا ارادہ ہے اور ارادہ کی جڑ خیال ہے جب ذکر میں کمی ہوتی ہے شیطان برے برے خیال دل میں پیدا کرتا ہے جس سے بُرے ارادوں کی نوبت آجاتی ہے اور نیک ارادوں کی ہمت نہیں رہتی۔ پس نیک کام نہیں ہوتے اور برے ہونے لگتے ہیں اورجب ذکر کی کثرت ہوتی ہے تو برے خیالات دل میں پیدا نہیں ہوتے۔ پس برا ارادہ بھی نہیں ہوتا اور گناہ بھی نہیں ہوتے اور نیک کام ہوتے رہتے ہیں (اس لیے ذکر اللہ کی بہت ضرورت ہے)۔

(حیاۃ المسلمین)

اللہ کا ذکر کرنے کا طریقہ

ذکر اللہ یعنی جس قدر ہوسکے اللہ کا نام لیتے رہنا چاہیے۔ نہ اس میں کسی گنتی کی قید ہے اور نہ وقت کی اور نہ تسبیح رکھنے کی، نہ پکار کر پڑھنے کی،نہ وضو کی، نہ قبلہ کی طرف منہ کرنے کی، نہ کسی خاص جگہ کی، نہ ایک جگہ بیٹھنے کی۔ہر طرح سے آزادی اور اختیار ہے۔ البتہ اگر کوئی خوشی سے تسبیح پر پڑھنا چاہے خواہ گنتی یاد رکھنے کے لیے یا اس لیے کہ تسبیح ہاتھ میں ہونے سے پڑھنے کا خیال آجاتا ہے خالی ہاتھ یاد نہیں رہتا، تو اس مصلحت کے لیے تسبیح رکھنا بھی جائز بلکہ بہتر ہے اور یہ خیال نہ کرے کہ تسبیح رکھنے سے دکھلاوا ہوجائے گا۔ دکھلاوا تو نیت سے ہوتا ہے یعنی جب یہ نیت ہو کہ دیکھنے والے مجھ کو بزرگ سمجھیں گے اور اگر یہ نیت نہ ہو تو دکھلاوا نہیں، اسے دکھلاوا سمجھنا اور اس خیال سے ذکر چھوڑنا شیطان کا دھوکا ہے، وہ اس طرح بہکا کر ثواب سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔

اور ایک دھوکا یہ بھی دیتا ہے کہ جب دل تو دنیا کے ( اور گھر کے ) کام میں پھنسا رہا اور زبان سے اللہ کا نام لیتے رہے، تو اس سے کیا فائدہ؟ سو خوب سمجھ لو کہ یہ بھی غلطی ہے، جب دل سے ایک دفعہ یہ نیت  کر لی کہ ہم ثواب کے واسطے اللہ کا نام لینا شروع کرتے ہیں اس کے بعد دل دوسری طرف ہوجائے مگر نیت نہ بدلے، برابر ثواب ملتا رہے گا۔ البتہ جو وقت اور کاموں سے خالی ہو، اس میں دل کو اللہ کی طرف متوجہ رکھنے کی کوشش کرے۔ فضول قصوں کی طرف خیال نہ لے جائے تاکہ اور زیادہ ثواب ہو۔

تنبیہ

عورت کو جن دنوں میں حیض آئے (ناپاکی کی حالت میں ) ان دنوں میں بھی وظیفوں کے وقت میں وضو کرکے وظیفے پڑھ لیا کرے، سوائے قرآن مجید کے اس کا زبانی بھی پڑھنا اس حالت میں درست نہیں۔

(حقوق البیت:۴۵)

گھر کے کام کاج کے ساتھ ذکر اور تسبیح کا اہتمام

دین داری میں اتنا غلو نہ کرو کہ گھر کی خبر ہی نہ لو، نماز، روزہ اس طرح ادا کرو کہ اس کے ساتھ گھر کا بھی پورا حق ادا کرو اور تمہارے واسطے یہ بھی دین ہی ہے کیوں کہ تم کو گھر کے کام کاج میں بھی ثواب ملتا ہے۔ ہاں گھر کے کاموں میں ایسی منہمک (مشغول) نہ ہو کہ دین کو چھوڑدو بلکہ اعتدال سے کام لو کہ دین کے ضروری کام بھی ادا ہوتے رہیں اور گھر کا کام بھی نگاہ کے سامنے نکلتا رہے۔ یہ سخت بے تمیزی ہے کہ تسبیح اور نفلوں میں مشغول ہوکر گھر کے کام کو بالکل چھوڑ دیا جائے اور اللہ اللہ تو گھر کے کام کرتے ہوئے بھی ہوسکتا ہے یہ کیا ضروری ہے کہ تسبیح اور مصلّیٰ ہی کے ساتھ اللہ اللہ کیا جائے۔

حدیث میں آتا ہے کہ لِسَانُکَ رَطْبًا مِّنْ ذِکْرِ اللہِ یعنی زبان کوخدا کی یاد سے ہر وقت تر رکھنا چاہیے اور ظاہر ہے کہ تسبیح اور مصلّیٰ ہر وقت ساتھ نہیں رہ سکتا۔ تو معلوم ہوا کہ ذکر اللہ کے لیے کسی قید اور پابندی کی ضرورت نہیں، بلکہ ہر وقت ہر حال میں ( مثلاً آٹا گوندھنے اور کھانا پکانے کی حالت میں  بھی) ہوسکتا ہے( لیکن) کچھ وقت نکال کر نفلیں اور تسبیح بھی پڑھا کرو، اگر زیادہ وقت نہ ملے تو پھر چلتے پھرتے ہی اللہ اللہ کرتی  رہا کرو۔

(حقوق البیت:۴۵)

فصل:مخصوص اذاکار، استغفار

۱) ذکر اللہ میں استغفار داخل ہے۔

عبد اللہ بن بسر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑی خوشی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے نامہ اعمال میں بہت سا استغفار پائے۔

(ابن ماجہ)

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص استغفار کو لازم کرلے اس کے لیے اللہ تعالیٰ ہر تنگی سے نجات کی سبیل اور ہر غم و فکر سے کشادگی کردیں گے اور اس کو ایسی جگہ سے روزی پہنچاتے ہیں جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

(ابو داؤد ۔ ابن ماجہ)

کلمہ طیبہ

امام احمد نے حدیث روایت کی ہے کہ اپنا ایمان تازہ کرلیا کرو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس طرح تازہ کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کثرت سے کہا کرو۔(فروع الایمان)

۳) عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بی بی کے یہاں گئے اور اس بی بی کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں تھیں جن پر وہ سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھ رہیں تھیں۔ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کو منع نہیں فرمایا)

فائدہ: یہ اصل ہے تسبیح پر گننے کی۔

(ترمذی ۔ ابو داؤد)

معمولات

۱) اگر ہوسکے تو اخیر رات میں تہجد پڑھے ورنہ عشاء کے بعد ہی وتر سے پہلے کچھ نفلیں تہجد کی جگہ پڑھ لیا کریں اور وقت خالی ہو تو پانچوں نمازوں کے بعد، ورنہ صبح و شام ہی سہی۔ سُبْحَانَ اللہِ سو بار اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ سو بار اور سوتے وقت اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ سو بار پڑھا کرے اور ہر وقت اٹھتے بیٹھے درود شریف پڑھتی رہے اور اس میں وضو اور کسی گنتی کی ضرورت نہیں۔ وضو اور بے وضو ہر حال میں درود شریف پڑھا کرے۔ لیکن تسبیح ہر وقت ہاتھ میں نہ لیے پھرے۔ اور اگر قرآن شریف پڑھی ہوئی ہو تو روزانہ کسی قدر قرآن شریف کی تلاوت کرلیا کرے۔

(کمال قرۃ الشامی)

تسبیحاتِ فاطمہ!

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حکایت

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جو خاندان میں سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو عزیز تھیں جن کے لیے محبت و جوش میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جن کے لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ فرمایا کہ سَیِّدَۃُ نِسَاءِ  اَھْلِ الْجَنَّۃِ ( ترجمہ) جنت کی عورتوں کی سردار فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور جن کی شان یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب دوسرا نکاح کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے فاطمہ کو تکلیف پہنچے گی،اس سے مجھ کو بھی تکلیف پہنچے گی۔ اتنی پیاری بیٹی نے جب ایک مرتبہ چکی چلانے سے ہاتھوں میں چھالے پڑجانے کی شکایت کی جس کو اس قدر عیب سمجھا جاتا ہے کہ میں نے اپنے خاندان کی عورتوں کو یہ رائے دی کہ لڑکیوں سے چکی پسواؤ تاکہ ان کی صحت درست رہے۔ کیوں کہ اکثر مال داروں کے لیے بیماری لازمی ہوگئی اور اس کی وجہ آرام طلبی ہے۔ غرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ  میں (چکی پیسنے کی وجہ سے ) چھالے پڑگئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے کوئی غلام لونڈی لے آؤ تاکہ کوئی مدد دے۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس گئیں۔ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہا  حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے کہہ کر چلی آئیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم  گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے معلوم ہوا تو آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیںِ۔ آپ کو دیکھ کر اٹھنے لگیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بیٹھی رہو، غرض اس وقت پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اگر کہو تو لونڈی غلام دے دوں اور کہو تو اس سے اچھی چیز دے دوں۔ یہ سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ اچھی چیز کیا ہے ؟ بلکہ فوراً عرض کیا کہ اچھی ہی چیز دے دیجیے۔   آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت سبحان اللہ ۳۳ بار اور الحمد للہ ۳۳ بار اور اللہ اکبر ۳۴ بار پڑھ لیا کرو۔   پس یہ غلام اور لونڈی سے بھی بہتر ہے۔ اس خدا کی بندی نے خوشی خوشی اس کو قبول کرلیا۔

(تسہیل)

 قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن مجید پڑھا کرو، کیوں کہ وہ قیامت کے روز سفارشی بن کر آئے گا اور بخشوائے گا۔

(مسلم)

بیہقی نے حدیث نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امّت کی تمام عبادتوں میں افضل عبادت قرآن مجید کا پڑھنا ہے۔

(بیہقی)

اور امام احمد نے حدیث روایت کی ہے کہ قرآن والے ہی اللہ والے اور اس کے خاص بندے ہیں۔

(احمد)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سب اچھا وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔

(بخاری)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کے سینہ میں کچھ قرآن نہ ہو وہ تو ایسا ہے جیسے اجڑا ہوا گھر۔

(ترمذی ، دارمی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کلام اللہ میں سے ایک حرف پڑھا،اس کو ایک نیکی ملتی ہے اور ایک نیکی دس نیکی کے برابر ہے اور میں یوں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔

(ترمذی، دارمی)

مسلمانو! ان حدیثوں میں غور کرو اور قرآن مجید کا علم حاصل کرنے اور اولاد کو پڑھانے کی کوشش کرو۔ اگر پورا قرآن پڑھنے پڑھانے کی فرصت نہ ہوتو جتنا ہوسکے اسی کی ہمت کرو۔ لڑکا ہو یا لڑکی قرآن شریف پورا نہ ہو آدھا ہی سہی،یہ بھی نہ ہو، اخیر کی طرف سے ایک ہی منزل پڑھادی جائے۔ اس میں چھوٹی چھوٹی سورتیں ہیں، نماز میں کام آئیں گی۔ الغرض، سب مرد عورتیں قرآن پڑھ لیں۔ اگر کوئی سپارہ نہ پڑھ سکے وہ زبانی ہی کچھ سورتیں یاد کرلے اور جو شخص جتنا پڑھ لے، خواہ پورا، خواہ تھوڑا، اس کو ہمیشہ پڑھتا رہا کرے، تاکہ یاد رہے ورنہ پڑھا اور بے پڑھا سب یکساں ہوجائے گا۔

اگرقرآن حاصل کرنے کی ( یعنی پڑھنے اور سیکھنے کی ) ہمت نہیں یا فرصت نہیں تو کسی قرآن پڑھنے والے کے پاس بیٹھ کر سن ہی لیا کرے۔ حدیث پاک میں اس کا بھی ثواب آیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرآن پاک کی ایک آیت سننے کے لیے بھی کان لگائے، اس کے لیے ایسی نیکی لکھی جاتی ہے جو بڑھتی چلی جاتی ہے اور جو اس آیت کو پڑھے گا، اس کے لیے قیامت کے دن ایک نور ہوگا۔

(احمد)

اللہ اکبر! قرآن مجید کیسی بڑی چیز ہے کہ جب تک قرآن مجید پڑھنا نہ آئے کسی پڑھنے والے کی طرف کان لگا کر سن ہی لیا کرے، تب بھی ثواب سے مالا مال ہوجائے گا ۔ خدا کے بندو! اللہ کی بندیو!یہ تو کچھ مشکل نہیں۔ لیکن افسوس ہمارے زمانے میں اکثر لوگ قرآن مجید کی طرف سے بالکل بے توجہ ہوگئے، بعض لوگ تو اس کے پڑھنے پڑھانے کو نعوذ باللہ  بے کار سمجھتے ہیں اور جو لوگ پڑھتے ہیں اس کے یاد رکھنے کی فکرنہیں کرتے اور ہمیشہ جو پڑھتے ہیں، اس کی تصحیح (تجوید کے ساتھ پڑھنے) کا اہتمام نہیں کرتے۔

(اغلام العوام )

تنبیہ

عوام الناس میں مشہور ہے کہ دوپہر کے وقت قرآن پڑھنا ممنوع ہے، سو یہ غلط ہے، البتہ نماز پڑھنا اس وقت ممنوع ہے۔ اسی طرح مشہور ہے کہ بے وضو درود شریف اور قرآن پڑھنا درست نہیں، یہ بالکل  غلط ہے۔ بے وضو قرآن پڑھنا درست ہے، البتہ قرآن شریف کو بلا وضو ہاتھ لگانا درست نہیں۔

(حیاۃ المسلمین)

قرآن مجید کی تلاوت

قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے ضروری آداب

تلاوتِ قرآن کے بہت سے آداب ہیں کچھ ظاہری کچھ باطنی مختصر یہ کہ جب قرآن مجید پڑھے تو با وضو ہو، کپڑا پاک ہو، جگہ پاک ہو ،وہاں بدبو نہ ہو، قبلہ رو ہو تو بہتر ہے،حروف صاف صاف پڑھے، جب(پڑھنے میں) بالکل دل نہ لگے، اس وقت موقوف کردے (یعنی پڑھنا بند کر دے) پڑھتے وقت دل حاضر ہو۔ اس کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تلاوت شروع کرنے سے پہلے یہ سوچے کہ گویا اللہ تعالی نے مجھ سے فرمایش کی ہے کہ تم کچھ قرآن سناؤ اور میں اس فرمایش کو پورا کرنے کے لے پڑھتا ہوں اور ان کو سناتا ہوں اور اس مراقبہ سے تمام آداب کی خود رعایت ہو جائے گی۔

قرآن مجید کا بہت ادب کرنا چاہیے، اس کی طرف پاؤں نہ کرو، اس سے اونچی جگہ مت بیٹھو، اس کوزمین یا فرش پرمت رکھو بلکہ رحل یا تکیہ پر رکھو اور اگر وہ پھٹ جائےتو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر پاک جگہ پر جہاں پاؤں نہ پڑے، دفن کردو اور جب قرآن پڑھاکرو تو یہ دھیان رکھو کہ ہم اللہ سے باتیں کررہے ہیں، پھر دیکھنا دل پر کیسی روشنی ہوتی ہے۔ (یعنی دل میں نور اور قلبی سکون حاصل ہوگا)۔ ( حیاۃ المسلمین)

دعا کی اہمیت اور اس کے آداب

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کو اپنے رب سے حاجتیں مانگنا چاہیے،یہاں تک کہ اس سے نمک بھی مانگے اور جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے وہ بھی اس سے مانگے۔

(ترمذی)

فائدہ: یعنی یہ خیال نہ کرے کہ ایسی معمولی چیز اتنے بڑے سے کیا مانگے؟ ان کے نزدیک بڑی چیز بھی چھوٹی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر غصّہ کرتا ہے۔

(حیاۃ المسلمین روح ششم)

۱) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی)

۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ قدر کی کوئی چیز نہیں۔

(ترمذی)

۳) ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دعا نفع دیتی ہے اس مصیبت سے جو نازل ہوچکی ہے اور اس مصیبت سے بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئی۔ اللہ کے بندو! اپنے ذمہ دعا کو لازم کرلو۔

(ترمذی)

۴) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ کوئی شخص نہیں ہے جو دعا مانگے مگر اس کو اللہ تعالیٰ اس کی مانگی ہوئی چیز دیتے ہیں یا کوئی برائی اس سے روک دیتے ہیں، جب تک کہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔

(ترمذی)

فائدہ: ان احادیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں جو درج ذیل ہیں۔

۵) ایک تو دعا کی فضیلت اور تاثیر۔ اکثر لوگ پریشانی و مصیبت کے وقت طرح طرح کی تدبیریں کرتے ہیں مگر دعا کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے،حالاں کہ وہ اہم تدبیر ہے۔

۶) دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ دعا کبھی بے کار نہیں جاتی یا تو وہی چیز مل جاتی ہے یا اور کوئی آنے والی بلا ٹل جاتی ہے۔یا ایک روایت کے موافق آخرت میں اس کے لیے جمع ہوجاتی ہے۔ بہرحال دعا قبول ضرور ہوتی ہے۔

۷) تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ دعا قبول ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ دعا خلاف شرع نہ ہو اور حضور ِقلب سے ہو اور قبولیت کا یقین ہو۔

۸) نیز دعا کے قبول ہونے کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ حرام خوراک و پوشاک (یعنی حرام رزق، حرام لباس) سے بچے۔

آج کل ان سب شرائط کی طرف سے غفلت ہے (اور پھر شکایت ہوتی ہے کہ دعا قبول نہیں ہوتی)۔

(فروع الایمان، حیاۃ المسلمین روح ششم)

دعا کی حقیقت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں دعا کیا کرو کہ تم دعا کے قبول ہونے کا یقین رکھا کرو اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ غفلت سے بھرے دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔ (ترمذی)

دعا صرف اس کا نام نہیں کہ دو چار باتیں یاد کرلیں اور نماز کے بعد اس کی صرف زبان پر آموختہ کی طرح پڑھ دیا۔ یہ دعا نہیں ہے محض دعا کی نقل ہے۔ دعا کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں درخواست پیش کرنا ہے۔ سو جس طرح حاکم کے یہاں درخواست پیش کرتے ہیں، کم از کم دعا اس طرح تو کرنا چاہیے کہ درخواست دیتے وقت آنکھیں بھی اسی طرف لگی ہوتی ہیں۔ دل بھی ہمہ تن ادھر ہی ہوتا ہے، صورت بھی عاجزی کی سی ہوتی ہے۔ اگر زبانی کچھ عرض کرنا ہوتا ہے تو کیسے ادب سے گفتگو کرتے ہیں اور اپنی درخواست منظور ہونے کے لیے پورا  زور لگاتے ہیں اور اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کو آپ سے پوری امید ہے کہ ہماری درخواست پر پوری توجہ فرمائی جائے گی۔

تو اے مسلمانو! دل میں سوچو کیا تم دعا مانگنے کے وقت خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہو؟سوچو اور شرماؤ۔ جب یہ برتاؤ نہیں کرتے تو اپنی دعا کو دعا یعنی درخواست کس منہ سے کہتے ہو؟ حقیقت میں کمی تمہاری طرف سے ہے جس سے وہ دعا درخواست نہ رہی۔ جب دعا کی حقیقت معلوم ہوتی ہے تو اس حقیقت کے موافق دعا مانگو پھر دیکھو کیسی برکت ہوتی ہے۔

(حیات المسلمین ۹۶)

آخرت کی تیاری

دنیا سے دل نہ لگا کر آخرت کی تیاری کرنا!

۱) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے تھے کہ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

(بیہقی)

۲) سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی پینے کو نہ دیتا۔

(ترمذی، ابن ماجہ، احمد)

۳) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرے ہوئے بکری کے بچے پر گزر ہوا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم میں کون پسند کرتا ہے کہ یہ مردار بچہ اس کو ایک درھم کے بدلہ میں مل جائے۔ لوگوں نے عرض کیا ( درہم تو بڑی چیز ہے) ہم تو اس کو بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ ہم کو ادنیٰ چیز کے بدلے بھی مل جائے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی!اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جس قدر تمہارے نزدیک یہ ذلیل ہے۔

(مسلم)

۴) کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے گلے میں چھوڑ دیئے جائیں وہ بھی بکریوں کو اتنا تباہ نہ کریں گے جتنا انسان کے دین کو مال اور بڑائی تباہ کرتی ہے۔ ( ترمذی، دارمی) (یعنی ایسی محبت کہ اس میں دین تباہ ہونے کی بھی پرواہ نہ رہے)

۵۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذّتوں کو ختم کرنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔

(ترمذی، نسائی)

۶) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت مومن کا تحفہ ہے۔ (بیہقی) سو تحفہ سے خوش ہونا چاہیے اور اگر کوئی عذاب سے ڈرتا ہے تو اس سے بچنے کی تدبیر کرے یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو بجا لائے۔

۷) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب شام کا وقت آئے تو صبح کے وقت کا انتظار مت کرو اور جب صبح کا وقت آئے تو شام کے وقت کا انتظار مت کرو۔

(بخاری)

۸) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں شانے (کندھے) پکڑے پھر فرمایا: دنیا میں اس طرح رہ گویا تو پردیسی ہے، بلکہ اس طرح رہ جیسے گویا تو راستہ میں چلا جارہا ہے۔

(بخاری)

۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (موت کو یاد کرنے سے ) دین میں پختگی اور دل میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہمیشہ یوں سوچا کرے کہ دنیا ایک ادنیٰ درجہ کی چیز اور پھر ختم ہونے والی ہے( ایک دن مرجانا ہے) اپنی عمر تو بہت جلد گزر جائے گی، موت بہت جلد آ کھڑی ہوگی، پھر لگاتار یہ واقعات شروع ہوجائیں گے۔ قبر کا ثواب و عذاب، قیامت کا حساب کتاب اور جنت دوزخ کی جزا وسزا۔

(حیاۃ المسلمن جلد بست ویکم :۱۹۵)

گناہوں سے توبہ و استغفار

۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب گناہ کرتا ہے اس کے دل پر ایک کالا دھبہ ہوجاتا ہے پھر اگر توبہ و استغفار کرلیا تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر گناہ میں زیادتی کی تو وہ کالا دھبہ اور زیادہ ہوجاتا ہے۔

(مسند احمد، ترمذی)

۲) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کو گناہوں سے بچانا کیوں کہ گناہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوجاتا ہے۔

(مسند احد)

۳) رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی گناہ کے سبب رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔ ( مسند احمد)

۴) انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تم کو تمہاری بیماری اور دوا نہ بتلادوں؟ سن لو کہ تمہاری بیماری گناہ ہیں اور تمہاری دوا استغفار ہے۔

(بیہقی، ترغیب)

۵) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دلوں میں گناہوں کی وجہ سے ایک قسم کا زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی صفائی استغفار ہے۔

(ترغیب، بیہقی، حیاۃ المسلمین:۳۰۲)

۶) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کی قسم! میں استغفار کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ۔

(فروع الایمان، بہیقی:۲۷)

۷) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ذمہ اس کے بھائی کا کوئی حق ہو آبرو کا یا کسی اور چیز کا اس کو آج معاف کرالینا چاہیے اس دن سے پہلے کہ نہ دینار ہوگا نہ درہم ( یعنی قیامت کا دن) ورنہ نیک عمل اس کے حق کے بقدر لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو دوسرے کے گناہ اس پر لادے جائیں گے۔

(مسلم)

صبر وشکر کی اہمیت

صبر وشکر کی اہمیت اور اس کا طریقہ

۱) ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر نصف ایمان ہے۔

(فروع الایمان، بیہقی)

۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوزخ گھری ہوئی ہے خواہشات (اور حرام کاموں) کے ساتھ اورجنت گھری ہوئی ہے ناگوار چیزوں کے ساتھ۔

(مسلم)

فائدہ: جو عبادتیں نفس پر دشوار ہیں اور جن گناہوں سے بچنا دشوار ہے اس میں سب آگئے۔

۳) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو کوئی مصیبت یا کوئی مرض یا کوئی فکر یا کوئی رنج یا کوئی تکلیف یا کوئی غم نہیں پہنچتا،یہاں تک کہ کانٹا جو چبھ جائے مگر اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔

(بخاری ومسلم)

۴) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے کے لیے جب کہ میں دنیا میں رہنے والوں میں سے اس کے کسی پیارے کی جان لے لوں پھر وہ اس کو ثواب سمجھ کر اس پر صبر کرے، تو ایسے شخص کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں۔

(بخاری)

وہ پیارا خواہ اولاد ہو یا بیوی یا شوہر ہو یا کوئی رشتہ دار ہو یا دوست ہو۔ انسان کو جو حالتیں پیش آتی ہیں وہ دو طرح کی ہوتی ہیں:یا تو وہ طبیعت کے موافق ہوتی ہیں، ایسی حالت کو خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھنا اور اس پر خوش ہونا اور اپنی حیثیت سے اس کو زیادہ سمجھنا اور زبان سے خدا تعالیٰ کی تعریف کرنا اور اس نعمت کا گناہوں میں استعمال نہ کرنا، یہ شکر ہےیا انسان کے ایسے حالات ہوتے ہیں جو طبیعت کے موافق نہیں ہوتے بلکہ نفس کو ان سے گرانی اور ناگواری ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں میری مصلحت رکھی ہے اور شکایت نہ کرنا اور اگر کوئی شرعی حکم ہے تو اس پر مضبوطی سے قائم رہنا اور اگر وہ مصیبت ہے تو اس کو برداشت کرنا اور پریشان نہ ہونا، یہ صبر ہے۔

مثال کے طور پر نفس دین کے کاموں سے گھبراتا ہے،یا گناہ کے کاموں کا تقاضا کرتا ہے، خواہ نماز روزے سے جی چرائے یا حرام آمدنی کو چھوڑنے یا کسی کا حق دینے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسے وقت  میں ہمت کرکے دین کے کام کو بجالائے اور گناہ سے رُکے اگرچہ کسی قدر تکلیف ہو ، کیوں کہ بہت جلدی اس تکلیف سے زیادہ آرام اور مزہ دیکھے گا۔

اور مثلاً اس پر کوئی مصیبت پڑگئی، خواہ فقر و فاقہ کی ( تنگدستی کی ) خواہ بیماری کی خواہ کسی کے مرنے کی، خواہ کسی دشمن کے ستانے کی ( یا اپنے گھر والوں مثلاً شوہر کے ظلم کرنے کی) خواہ مال کے نقصان ہوجانے کی۔ پس ایسے وقت میں مصیبت کی مصلحتوں کو یاد کرے اور سب سے بڑی مصلحت ثواب ہے جس کا مصیبت پر وعدہ کیا گیا ہے اور اس مصیبت کا بلا ضرورت اظہار نہ کرے اور دل میں ہر وقت اس کی سوچ بچار نہ کرے، اس سے ایک خاص سکون پیدا ہوتا ہے۔ البتہ اس مصیبت کے دور کرنے کی کوئی تدبیر ہو جیسے حلال مال کا حاصل کرنا۔ یا بیماری کا علاج کرنا یا دعا کرنا تو اس کا کچھ مضایقہ نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ کوئی وقت خالی نہیں کہ انسان پر کوئی نہ کوئی حالت نہ ہوتی ہو  خواہ طبیعت کےموافق، خواہ طبیعت کے مخالف، پہلی حالت میں شکر کا حکم ہے اور دوسری حالت میں صبر کا حکم ہے۔ تو صبر و شکر ہر وقت کرنے کے کام ہوئے۔ ماؤں بہنو! اس کو نہ بھولنا پھر دیکھنا کیسی راحت میں رہو گی۔ ان شاء اللہ۔

ادنیٰ مصیبت اور رنج پر اجر و ثواب کا وعدہ

حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی کوئی چیز جیب میں رکھ کر بھول جائے اور اِدھر اُدھر  اس کو تلاش کرنے میں اس کو  جو پریشانی ہوگی، خدا تعالیٰ اس پر بھی ثواب عطافرمائیں گے اور گناہوں کا کفارہ بنادیں گے۔ بالکل ایسی حالت ہے جیسے ہمارا چہیتا بچہ ہو کہ اس کے چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے حتیٰ کہ گر پڑنے پر بھی ہم کو پیار آتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ہم کو ہر فعل پر ثواب عطا فرماتے ہیں، جب تک کہ وہ فعل معصیت اور عناد نہ ہو۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت گھر میں چراغ گل ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ حضور! یہ بھی کوئی مصیبت ہے؟ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم تھا کہ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ مصیبت کے وقت پڑھا جاتا ہے لیکن ان کو اس واقعہ کے مصیبت ہونے میں تامل تھا کیوں کہ ظاہر میں یہ ایک معمولی بات تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بات مومن کو ناگوار ہو وہ مصیبت ہے اور چراغ گل ہوجانے سے ناگواری ہوتی ہے، لہٰذا یہ بھی مصیبت ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے معلوم ہوا کہ اللہ نے اپنے بندوں کو ثواب دینے کے کیسے معمولی معمولی طریقے رکھے ہیں۔

(الہدی آداب انسانیت)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے لیے دنیوی وسعت اور عیش وعشرت کی زندگی کو پسند نہیں فرمایا

ایک مرتبہ ازواجِ مطہرات نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خرچ زیادہ مانگا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی حالاں کہ ظاہر میں ان کی درخواست کی وجہ معقول بھی تھی کیوں کہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات بہت ہونے لگی تھیں اور سب مسلمان فتوحات کی وجہ سے مال دار ہونے لگے تھے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی اپنی خاص ذات اور اپنے گھر والوں کے لیے دنیوی وسعت کو گوارا نہ کیا۔ تو ازواج مطہرات نے اس موقع پر زیادہ خرچ کی درخواست کی،تنگی کے وقت انہوں نے ایسی درخواست کبھی نہ کی تھی کہ تنگی کے زمانے میں بعض وقت پانی بھی گھر میں نہیں ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ شکایت نہیں کی۔ ہاں جب فتوحات سے مسلمان مال دار ہونے لگے اور تنگی رفع ہوگئی، اس وقت انہوں نے اپنے لیے وسعت چاہی مگر یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کے خلاف تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے لیے وسعت کیا پسند کرتے، اپنی بیٹی تک کے لیے بھی اس کو گوارہ نہیں کیا۔

چناں چہ  ایک مرتبہ کسی جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سی باندیاں اور غلام قید ہو کر آئے اور آپ مسلمانوں میں ان کو تقسیم فرمانے لگے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  سے فرمایا کہ تم چکی پِسنے اور پانی بھرنے میں بہت تکلیف اٹھاتی ہو اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باندی و غلام بہت سے آئے ہیں جن کو آپ لوگوں میں تقسیم فرمارہے ہیں اگر تم بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ایک باندی یا غلام مانگ لو تو اس محنت سے تم کو راحت ہوجائے گی۔ چناں چہ  حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا،  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئیں

اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں نہ تھے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی درخواست کا مضمون بیان کردیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو میری طرف سے یہ عرض کردی جائے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کردیا کہ صاحبزادی صاحبہ اس مقصد کے لیے تشریف لائی تھیں۔ آپ اسی وقت حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے فاطمہ! تم غلام یا باندی چاہتی ہو یا میں اس سے بھی اچھی چیز تم کو بتلاؤں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جو چیز اس سے اچھی ہو وہی بتادیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیٹتے وقت ۳۳ بار سُبْحَانَ اللہِ، ۳۳ بار اَلْحَمْدُ لِلہِ اور ۳۴ بار اَللہُ اَکْبَرُ پڑھ لیا کرو یہ تمہارے لیے غلام اور باندی سے بہتر ہے۔ وہ ایسی لائق صاحبزادی تھیں کہ اس پر خوش ہوگئیں اور آخرت کو دنیاوی راحت پر ترجیح دی۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اولاد کے لیے بھی باندی رکھنا پسند نہیں فرمایا تو بیویوں کی ان باتوں کو کیسے پسند فرماتے۔ آپ تو ہمیشہ یہ دعا فرماتے تھے۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ اٰلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا یعنی اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر والوں کا رزق بقدر قوت کفایت کردیجیے، جس سے زندگی قائم رہ سکے۔ غرض مال کا زیادہ ہونا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مزاج کے خلاف تھا،اس لیے ازواج کی اس فرمایش سے آپ تنگ دل ہوئے۔ ( حقوق البیت)

عورتوں کے عیوب اور امراض

مال کی محبت

زیادہ افسوس تو اسی بات کا ہے کہ ہم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے اندر کچھ امراض بھی ہیں یا نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر لوگوں میں دو مرض بکثرت پائے جاتے ہیں: ایک حب مال، دوسرا حب جاہ ( یعنی مال کی محبت اور عزت اور بڑا بننے کی کوشش)۔ گو دونوں کا رنگ مردوں اور عورتوں میں مختلف ہے یعنی مردوں میں حب مال اور حب جاہ کا اور رنگ ہے اور عورتوں میں دوسرا رنگ ہے، مگر دونوں میں یہی دو مرض زیادہ ہیں اور عورتیں اپنے کو بڑا تو نہیں سمجھتیں مگر اپنے کو بڑا ظاہر کرنا چاہتی ہیں ایسی باتیں اور ایسے طریقے اختیار کرتی ہیں کہ جن سے ان کا بڑا ہونا دوسرے پر ظاہر ہو۔  اسی طرح مال کی محبت کے رنگ میں بھی دونوں مختلف ہیں۔ مردوں کو روپوں سے زیادہ محبت ہے کہ کسی چیز سے اتنی نہیں، اسی واسطے اس کے جوڑنے اور جمع کرنے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور عورتوں کو زیور اور کپڑے اور برتن و غیرہ خانگی (گھریلو) سامان سے محبت زیادہ ہوتی ہے کہ رنگ برنگے کپڑے ہوں، قسم قسم کے برتن ہوں مختلف قسم کے زیور ہوں۔ مگر اس بارے میں مردوں کی سمجھ عورتوں سے اچھی ہے  کیوں کہ روپیہ ایسی چیز ہے جس سے ہر چیز حاصل ہوسکتی ہے۔ جس کے پاس روپیہ ہے اس کےپاس سب کچھ ہے کیوں کہ وہ ہر چیز کا بدل ہوسکتا ہے اور ہر چیز اس سے حاصل ہوسکتی ہے، بخلاف برتن اور کپڑوں وغیرہ کے کہ وہ ہر چیز کا بدل نہیں ہوسکتے اور ہر چیز ان سے حاصل نہیں ہوسکتی۔

یہ شبہ نہ کیا جائے کہ مرد بھی تو بکثرت جائیدادیں خریدتے ہیں، کہیں زمین کہیں مکان مول لیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بھی سامان سے محبت ہے روپے سے نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں بھی سامان سے محبت نہیں بلکہ روپیہ ہی سے محبت و رغبت ہے، جائیداد کے لینے میں بھی روپیہ پھنسانے کی ایک صورت اختیارکرلی ہے۔ پس مردوں کو جو جائیداد سے محبت ہے وہاں بھی اس سے روپیہ ہی مقصود ہے کہ جائیداد سے آمدنی ہوتی رہے گی اور سرمایہ محفوظ رہے گا۔ بس وہاں بھی مقصود روپیہ ہی ہے اور عورتوں میں یہ رنگ نہیں، وہ ساز و سامان پر فریفتہ  (عاشق)  ہیں، ہر وقت چیزوں کے جمع کرنے کی ان کو حرص رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روپے کو بے دریغ اڑاتی ہیں۔ اوّل تو اس وجہ سے کہ ان کی اس بات پر توجہ نہیں کہ روپے سے ہر چیز حاصل ہوجاتی ہے اور دوسرے روپیہ ان کا کمایا ہوا نہیں جس سے دل دکھے۔ اس لیے بے دریغ خرچ کرتی ہیں۔(خیر الاثاث للاناث  ملحقہ حقیقت مال و جاہ)

خیر جو کچھ بھی وجہ ہو عورتوں کو روپیہ کی قدر نہیں، ان کو زیادہ شوق چیزوں کا ہے۔ حتیٰ کہ فضولیات (غیر ضروری سامانوں) تک ان کی نظریں پہنچتی ہیں۔ بس ان کو تو یہ خبر ہونی چاہیے کہ فلاں چیز بک رہی ہے، فوراً اس کے خریدنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ گویا پہلے ہی سے اس چیز کی منتظر تھیں۔ ان کو چیزوں سے ایسی محبت ہے کہ ہر شے کے لیے بیس ضرورتیں گھڑلیں گی۔ برتن بکتا ہوا آجائے، خواہ اس کی کچھ بھی ضرورت نہ ہو بس خرید لیں گی۔ چناں چہ  گنجایش والے گھروں میں اتنا سامان موجود ہوتا ہے کہ کبھی استعمال کی بھی نوبت نہیں آتی مگر عورتوں کو سامان خریدنے سے کسی وقت بھی انکار نہیں۔ حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے فرش اور صندوقیں فضول رکھے ہوئے ہیں مگر ان کی خریداری بند نہیں ہوتی۔ خصوصاً نازک اور تکلف کا سامان خریدنے کا آج کل بڑا شوق ہے، جو سوا ئے زینت اور آرایش کے کسی کام کا نہیں۔ ( اور وہ سامان کمزور اتنا ہے کہ ) ذرا سی ٹھیس لگ جائے تو کسی کام کا بھی نہیں، مگر عورتوں کو دن رات ہر وقت یہی دھن ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ان کے اندر حب مال اس رنگ میں ہے کہ ان کے پاس کتنی ہی چیزیں ہوں مگر زائد ہی کی طالب  رہتی ہیں،ان کا پیٹ ہی نہیں بھرتا۔ ان کو سامان سے کبھی صبر ہوتا ہی نہیں۔

(خیر الاثاث للاناث)

مرد تو کپڑوں میں پیوند تک لگالیتے ہیں مگرعورتیں ہیں کہ ان کو نئے کپڑوں بھرے صندوق بھی کافی نہیں ہوتے۔ چاہتی ہیں کہ کپڑوں سے گھر بھر لیں، اگر سخت مجبوری ( تنگی ) ہو تو پیوند بھی لگالیں گی مگر وسعت میں تو لگاتی ہی نہیں مگر بعض مرد بیچارے ملازم تو ہیں معمولی تنخواہ کے، مگر بیبیوں کو دیکھو تو بیگم بنی ہوئی ہیں۔ مرد اپنے لیے پیوند لگے کپڑوں کو عیب نہیں سمجھتا، مگر عورت غریب کی بھی ہوگی تو اپنے کو ایسا بنائے گی کہ گویا بالکل امیر کی لڑکی یا کسی بڑے آدمی کی بیوی ہے اور یہ سب ساز و سامان اور سجاوٹ شوہر کے لیے نہیں بلکہ دوسرے کو دکھانے کی غرض سے ہوتا ہے۔ حالاں کہ یہ محض ناسمجھی کی بات ہے، دکھانے سے ہوتا کیا ہے کیوں کہ آپس میں خاندان والوں کو ایک دوسرے کا حال معلوم ہی ہوتا ہے کہ اس کی اتنی حیثیت ہے اور اس کو پھر دکھانے سے کیا فائدہ؟یہ مانا کہ عورتوں کے لیے زینت مناسب ہے مگر اس اعتدال (حد) سے آگے تو نہ ہو۔

(خیر الاثاث للاناث)

 حرص اور حب دنیا کا مرض

حرص تمام بیماریوں کی جڑ ہے اور یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایسا مرض ہے کہ اس کو ام الامراض ( تمام گناہوں کی جڑ ) کہنا چاہیے، کیوں کہ اس کی وجہ سے جھگڑے فساد ہوتے ہیں، اسی وجہ سے مقدمہ بازیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگوں میں مال کی حرص نہ ہو تو کوئی کسی کا حق نہ دبا ئے۔ پھر ان فسادات کی بھی نوبت نہ آئے۔ بدکاری اور چوری وغیرہ کا سبب بھی حرص ہی ہے۔ عارفین کا قول ہے کہ تمام اخلاقِ رذیلہ کی جڑ تکبر اور تکبر کا سبب بھی ایک درجہ میں حرص ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ بھی حرص کا ایک فرد ہے۔ نا اتفاقی کا سبب بھی حرص ہے اور فخر کرنے کا سبب بھی یہی حرص ہے، کیوں کہ مال و دولت کا دکھانا مال جمع کرنے کےبعد ہی ہوسکتا ہے اور مال جمع ہوتا ہے حرص سے۔ تو حرص کا ام الامراض اور تمام معاصی کی بنیاد ہونا ثابت ہوگیا۔ حدیث پاک میں آیا ہے حُبُّ الدُّنْیَا رَاْسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ یعنی دنیا کی محبت تمام گناہوں کی بنیاد ہے۔ دنیا کی محبت ہی کا نام تو حرص ہے اور عورتوں میں یہ مرض مردوں سے زیادہ ہے۔

(علاج الحرص، التبلیغ)

حبِّ دنیا

عورتوں میں دنیا کی محبت کا بہت غلبہ ہے۔ ان میں زیور اور کپڑے کی حرص بہت زیادہ ہے اور حالت یہ ہے کہ جب چار عورتیں جمع ہوکر بیٹھیں گی تو صبح سے شام تک دنیا ہی کا چرچا رہے گا، دین کا ذکر ہی نہیں آتا۔ عورتیں خود غور کرسکتیں ہیں کہ مجلسوں میں سے کتنی مجلسیں ایسی ہیں جن میں دین کا ذکر ہوتا ہے اور گویا دنیا کا زیادہ تذکرہ کرنا بھی مباح ہے جبکہ معصیت کی کوئی بات( غیبت و چغلی وغیرہ) نہ کی جائے، مگر اس مباح کی سرحد گناہ سے ملی ہوئی ہے۔ جو شخص دنیا کے تذکرے کا مشغلہ زیادہ رکھے گا وہ ضرور گناہوں میں مبتلا ہوگا۔ بزرگوں کا بھی یہی ارشاد ہے اور تجربہ بھی یہی بتلاتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ زیادہ طاعات میں مشغول رہے، مباحات میں بھی زیادہ انہماک نہ کرے۔ اس لیے دنیا کا زیادہ تذکرہ کرنا کہ ساری مجلس میں اوّل سے آخر تک یہی ذکر ہو،یہ معصیت کا مقدمہ (ذریعہ ) ضرور ہے، اس کا منشاء (سبب) وہی دنیا کی محبت ہے جو سب عورتوں پر عموماً غالب ہے۔ اس لیے عورتیں بہت کم دین دار ہوتی ہیں اور جن بعض مقامات کی عورتوں میں دین داری ہے وہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ ان میں دنیا کی محبت کم ہے۔

(ہم الاخرۃ)

حرص

عورتوں میں چوں کہ  ناشکری کا مادہ زیادہ ہے، اس لیے ان کو تھوڑے سامان پر قناعت نہیں ہوتی۔چناں چہ  دیکھا جاتا ہے کہ بعض عورتوں کے پاس سال بھر کے کپڑے موجود ہوتے ہیں جو صندوق میں بھرے رکھے ہیں لیکن پھر بھی کیا مجال ہے کہ بزاز (کپڑے بیچنے والا) ان کے گھر کے سامنے سے خالی گزرجائے، جہاں بزاز ( پھیری والے) کی آواز سنیں گی فوراً اس کو دروازہ پر بٹھا کر اور کپڑا پھڑوالیں گی۔ برتن گھر میں ضرورت سے زیادہ ہوں گے مگر پھر بھی ان کی فرمایشوں کا سلسلہ ختم نہ ہوگا۔

غرض ان کو دنیا کی تکمیل کی بہت زیادہ فکر ہے ہر وقت اسی دھن میں رہتی ہیں، ان کی ہوس کبھی پوری نہیں ہوتی۔ زیور کی ہوس کا یہ حال ہے کہ بعض عورتیں سر سے پیر تک لدی پھندی رہتی ہیں مگر پھر بھی بس نہیں،اگر نیا زیور نہ بنوائیں گی تو پہلے زیور کی توڑ پھوڑ میں روپیہ برباد کرتی رہیں گی۔ آج تو زیور بڑے شوق سے بنوایا تھا، کل کو کسی عورت کے پاس زیور دوسرے نمونہ کا دیکھ لیا تو اب ان کو توڑ پھوڑ کی، بے کلی لگتی ہے کہ میں بھی اسی نمونہ کا بنواؤں گی۔

(الکمال فی الدین النساء)

تھوڑے پر قناعت نہ کرنا

عورتوں میں قناعت کا مادہ ہے ہی نہیں۔ ان کی طبیعت میں بکھیڑا بہت ہے، ان سے تھوڑے سامان میں گزر ہوتا ہی نہیں، جب تک کہ سارا گھر سامان سے بھرا بھرا نظر نہ آئے۔ مردوں کے نزدیک تو ضرورت کا درجہ یہ ہے کہ جس کے بغیر تکلیف ہو، سو اتنا سامان تو اکثر متوسط الحال( درمیانے قسم کے) لوگوں کے گھروں میں بحمد للہ موجود ہوتا ہی ہے، اس لیے مردوں کو اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔ ہاں اگر خدا وسعت دے تو اس کا بھی مضایقہ نہیں کہ اتنا سامان جمع کرلیا جائے جس سے زیادہ راحت نصیب ہو۔ یہ درجہ مردوں کے نزدیک کمال کا مرتبہ ہے۔ مگر عورتوں کے نزدیک ضرورت کا درجہ کوئی چیز نہیں، مرد جس کو ضرورت کا درجہ سمجھتے ہیں وہ عورتوں کے نزدیک قلت اور تنگی کا درجہ ہے۔ ان کے نزدیک ضرورت کا درجہ وہ ہے جس کو مرد کمال کا درجہ سمجھتے ہیں اور کمال کا درجہ وہ ہے جو حقیقت میں ہوس کا درجہ ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ عورتوں میں ناشکری زیادہ ہے۔

(الکمال فی الدین النساء)

بکھیڑے کا مرض

عورتوں میں مرنے اور کھپنے (یعنی منہمک ہونے) کی یہ حالت ہے کہ اگر ان کا ایک کپڑا تیار ہوگا،تو اس کے لیے بھی ایک کمیٹی منعقد ہوتی ہے۔ خالہ دیکھنا گوٹ اچھی بھی ہے یا نہیں؟ دیکھنا اس پر بیل لگاؤں یا لچکا لگاؤں کیا اچھا لگے گا؟ اور جو ان سے کہا جائے کہ دنیا بھر کو ایک کپڑے کے واسطے جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جو اپنے کو اچھا لگے پہن لو۔ تو یہ جواب دیں گی کہ واہ قاعدہ یہی ہے کہ کھائے اپنی پسند کا اور پہنے دوسرے کی پسند کا۔ نیز عورتوں کا مقولہ یہ بھی ہے کہ پیٹ کا کیا ہے چاہے ڈھیلے پتھروں سے بھرلو مگر کپڑا ہو تو عزت کا۔ صاحبو! یہ ساری مستیاں اور یہ سارے قاعدے اس واسطے ہیں کہ یہ یاد نہیں کہ ایک دن ہم یہاں نہ ہوں گے۔

(الفانی)

ضرورت سے زائد سامان جمع کرنے کی ہوس

گھر میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن سے کبھی کام نہیں پڑتا، مگر اس بات کا شوق ہوتا ہے کہ ہمارے گھر میں اتنے برتن اوراتنے پلنگ اور اتنے بستر ہوں۔ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے ہیں، باقی ضرورت کی مقدار کی ممانعت نہیں اور اس کا راز یہ ہے کہ زیادہ تر غیر ضروری چیزیں بھی دل کو پریشان کرتی ہیں اور جو ضرورت کے موافق ہو ان سے پریشانی نہیں ہوتی۔ آج کل ہم لوگ زیادہ فضول چیزوں ہی کے درپے ہیں۔ ان ہی کے جمع کرنے میں وقت ضایع کرتے ہیں۔ خصوصاً عورتوں کی تو یہ حالت ہے کہ یہ تو بے ضرورت بہت سامان جمع کرتی ہیں۔ جو چیز ان کے سامنے سے گزرتی ہے فوراً اس پر ان کی رال ٹپک جاتی ہے۔ ایک عورت نے خود اقرار کیا کہ ہم تو جہنم ہیں جیسے اس کا پیٹ نہ بھرے گا اور ہَلۡ مِنۡ مَّزِیۡدٍ ( کیا اور زائد ہے) کہتا رہے گا۔ ایسے ہی ہمارا پیٹ بھی ( دنیاوی چیزوں سے) نہیں بھرتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس انہماک سے منع فرماتے ہیں جس کی وجہ سے غیر ضروری چیزوں میں دل اٹکا ہوا ہے۔ ہماری جو حالت ہے اس میں تو واقعی ہماری جان بھی مرتے ہوئے سامان میں اٹکی رہے گی ( یعنی مشکل اور مصیبت سے جان نکلے گی) خصوصاً عورتوں کی۔ کیوں کہ یہ بے ضرورت سامان بہت جمع کرتی ہیں، پھر سامان کے بارے میں تو عورتیں ایسی ہیں کہ ہر چیز ان کے لیے دل ربا( بھا جانے والی) ہے ۔

(غریب الدنیا)

حسن تدبیر اور آسان علاج

اس کا علاج یہ ہے کہ ہر شخص اپنے گھر کی چیزوں میں غور کرے کہ روزانہ اس کے استعمال میں کتنی چیزیں آتی ہیں تو معلوم ہوگا کہ دو چار دس یا پانچ چیزوں کے سوا اور تمام سامان ایسا ہے جس کی ضرورت مہینوں برسوں نہیں ہوتی۔

(غریب الدنیا)

چناں چہ  جہاں تک ہوسکے ( ہر چیز میں) اختصار کرو مثلاً ایک عورت پان چھوڑ سکتی ہے وہ پان چھوڑدے۔ ایک چائے کی عادی  ہے جس میں دل اٹکا رہتا ہے حالاں کہ اس کی ضرورت بھی نہیں بلکہ محض شوق و تفریح میں پیتی ہے اس کو چاہیے کہ وہ چائے چھوڑ دے جو ایک روپے گز کا کپڑا پہنتی ہے، وہ بارہ آنے گز کا پہننے لگے، اسی طرح تمام اخراجات اور سامانوں میں اختصار کرو یعنی قدرِ ضرورت پر اکتفاء کرو، پھر ضرورت کے بھی درجے ہیں۔

حب جاہ کا مرض

دوسرا مرض عورتوں میں حب جاہ کا ہے۔ اور یہ مرض مردوں میں بھی ہے مگر دوسرے رنگ کا۔ مرد بھی اپنے کو بڑا بناتے ہیں مگر اس کا رنگ اور ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اکثر مردوں میں تو اور کمالات بھی ہیں جیسے علم وغیرہ اس لیے ان کا حبِّ جاہ ( بڑا بننا) اس قدر نازیبا (برا) نہیں اور عورتوں میں تو یہ بھی نہیں، مگر پھر بھی ان میں حبِّ جاہ ہے۔

(غریب الدنیا)

گو یہ عورتیں اپنے کو بڑا نہیں سمجھتیں مگر یہ چاہتی ہیں کہ دوسرے ان کو بڑا سمجھیں۔ ان میں اس کے ساتھ تذلل اور تواضع کی بھی ایک شان ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ عورتیں اس کی بھی کوشش کرتی ہیں کہ ہم سب سے بڑی رہیں، بیچاریوں میں کمالات ہوتے نہیں اس لیے چاہتی ہیں کہ زیور اور سامان بہت ہو، تاکہ دوسروں سے بڑھی چڑھی رہیں۔ جب کہیں جائیں گی تو خوب زیور لاد پھاند کر جائیں گی، خواہ مانگاہوا ہی کیوں نہ ہو اور گو دوسروں کو معلوم بھی ہو کہ مانگ کر پہنا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہم کو کوئی کم درجہ کا نہ سمجھے۔ رات دن اسی کا اہتمام ہے کہ لیس ہو،گوٹہ ہو، ٹھپہ ہو، لچکہ ہو، کپڑے کی کٹنگ ایسی  ہو، جھالر بھی لگا ہوا ہو۔ جہاں تک ان کے امکان میں ہے بناوٹ کا اہتمام کرتی ہیں۔

اس کے متعلق ان میں کمیٹی بھی ہوتی ہے جس میں بڑے بڑے معاملات اس کے متعلق طے ہوتے ہیں کہ بہن ذرا بتلاؤ کہ کُرتے کے ساتھ کونسا پاجامہ اچھا لگے گا اور اس جوڑے پر دوپٹہ کونسا ہونا چاہیے۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ ان کے پاس اچھا خاصا زیور ہے مگر کسی کی بیوی کے پاس کسی اور وضع یا نقشہ کا زیور بنا ہوا دیکھا تو فریفتہ ہوگئیں اور اس سے فرمایش کی جاتی ہے کہ بہن ذرا مجھ کو دے دینا میں بھی ایسا ہی بنواؤں گی۔ پھر اس سے زیور لے کر شوہر سے فرمایش کرتی ہیں کہ ایسا بنوادو۔ اب وہ ہر چند سمجھا تا ہے کہ کیوں اس کو خراب کرتی ہو کہ اچھا خاصا بنا بنایا زیور خراب ہوجائے گا۔ سنا ر کھوٹ ملا دے گا تو چار پیسے کا زیور رہ جائے گا مگر ایک نہیں سنتی،یہی کہتی ہیں کہ مجھے تو اسی نمونہ کا بنوا دو چاہے کچھ بھی  ہو۔ اب وہ بے چارہ ا ن کے اصرار پر دلجوئی  بھی کرتا ہے ۔ آخر وہ کہتا ہے کہ تم جیتی میں ہارا، اور اس پر بھی بس نہیں اگلے مہینے میں اور کوئی نمونہ سامنے آگیا تو یہی کہتی ہیں کہ اب یہ نمونہ ہونا چاہیے غرض ہر چیز پر ان کا عشق ہے۔ بس یہی چاہتی ہیں کہ جیسی چیز اوروں کے پاس ہے ویسی ہی ہمارے پاس ہوجائے، شوہر کی ساری کمائی ان کی زیب و زینت میں ہی صرف ہوتی ہے اور یہ ساری مذکورہ خرابیاں حب جاہ اور حب مال کی ہیں، مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی صرف فرق یہ ہے کہ مردوں میں کسی قدر ضرورتوں پر نظر ہے اور عورتوں میں ضرورتوں پر نظر نہیں۔

(خیر الاثاث للاناث)

تصنع و تکلف و ریا کاری

اصل مرض اپنے کو بڑا سمجھنا ہے۔ اس کی اصل ہے خدا کو بڑا  نہ سمجھنا۔ ساری خرابی اسی کی ہے۔ پس اس کا علاج کرو، نیز اس سے ایک اور مرض پیدا ہوتا ہے یعنی زیب و زینت کا خیال، عورتوں کی پرورش ہی زیب و زینت میں ہوتی ہے۔ ان کے اندر ایک خاص شان زیب و زینت کی ہوتی ہے جس میں ان کی ساری عقل صرف ہو جاتی ہے۔ آگے علوم و کمالات تک رسائی نہیں ہوتی۔

زینت میں عورتوں کا مزاج یہ ہے کہ خوب زینت کرنی چاہیے، کوئی مہمان آجائے تو بڑے بڑے سامان ہوتے ہیں خاصدان جو مہمان کے سامنے ایک مرتبہ گیا تھا دوسری دفعہ پان اس میں نہ جانا چاہیے بلکہ دوسرا خاصدان ہونا چاہیے۔ صرف یہ بات ظاہر کرنے کے لیے کہ ہمارے ہاں خاصدان اور بھی ہیں۔ پھر ایک دفعہ تانبے کا ہو تو دوسری دفعہ اسٹیل وغیرہ کا ہو۔ اسی طرح اور چیزوں کا اندازہ کرلیجیے۔

روزانہ گھر تو کوڑے سے بھرا رہتا تھا مہمان آیا تو صاف کیا ( صرف دکھلانے کے لیے کہ ہم اس طرح صفائی سے رہتے ہیں) غرض ہر بات میں دکھلاوا ہے۔ ان کا تو مذہب یہ ہے کہ کوئی یوں نہ کہے کہ ایسے ہیں اور ویسے ہیں اور کوئی سے مراد ان کی مخلوق ہوتی ہے۔ کاش اللہ تعالیٰ کو بھی اس میں داخل کیا جاتا۔ ( یعنی اللہ تعالیٰ کی بھی ناراضگی اور خوشی کا لحاظ کیا جاتا)۔

(خیر الاثاث للاناث)

اسی طرح بناؤ سنگھار کرکے کہیں جانے کا سبب محض تکبر ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں بڑا ہوں۔ اس عادت کو بدلیے کیوں کہ بڑا بننے کی عادت بہت بری ہے۔ حدیث میں ہے یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبَر یعنی جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا۔

(ملفوظات کمالات اشرفیہ)

ایک اور مرض

ایک مرض عورتوں میں یہ ہے کہ جب کہیں یہ محفل میں جاتی ہیں تو سب کے لباس اور زیور کو سر سے پیر تک تاک لیتی ہیں تاکہ دیکھیں کہ ہم سے تو کوئی زیادہ نہیں؟ اور ہم کسی سے کم تو نہیں، یہ بھی اسی ریا اور تکبر کا شعبہ ہے۔ یہ مرض مردوں میں کم ہے، اگر دس آدمی ایک جگہ جمع ہوں تو مردوں میں سے کسی کو اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کسی کا لباس کیسا ہے، اسی لیے مجلس میں اٹھ کر وہ کسی کے لباس کا حال بیان نہیں کرسکتے اور عورتوں میں سے ہر ایک کو یاد رہتا ہے کہ کس کی بیوی کے پاس کتنا زیور تھا۔ خوب یاد رکھو اس غرض سے قیمتی لباس وغیرہ پہننا جائز نہیں۔

(غریب الدنیا ملحقہ دین و دنیا)

عورتوں کی نگاہ ایسی تیز ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ، کہیں محفل میں جائیں گی تو ذرا سی دیر میں سب کے زیور اور لباس پر فوراً نظر پڑجائے گی۔ اب جب سب کے زیور اور کپڑے دیکھ بھال کر آئیں تو خاوند کو پریشان کرنا شروع کیا کہ ہمیں بھی ایسا ہی بنا کر دو اور غضب یہ کہ اگر وہ زیور جو دوسری کے پاس دیکھا ہے اپنے پاس بھی ہو۔ لیکن دوسرے نمونے کا ہو تب بھی پریشان کرتی ہیں کہ بھدا بنا ہوا ہے، فلانی کا نمونہ اچھا ہے ویسا بنوا دو۔ اب اگر خاوند ہزار کہے کہ اس میں پہلی گھڑائی کا نقصان ہے اور دوسری گھڑائی خواہ مخواہ ذرا سے نمونہ کے واسطے دینی پڑے گی تو ایک نہیں سنیں گی۔

(بہتر طریقہ یہ ہے کہ ) پہلی دفعہ ( من چاہی) خوبصورت بنوالو۔ پھر جیسا ہو اسی پر اکتفا کرلو۔ بار بار توڑ پھوڑ میں گھڑائی (بنوائی) ضایع ہونے کے علاوہ خود سونا بھی ضایع ہوجاتا ہے  کیوں کہ سنار ہر دفعہ اس میں کچھ نہ کچھ کھوٹ ضرور ملاتے ہیں۔ جس سے دو تین دفعہ میں زیور کی مالیت آدھی رہ جاتی ہے۔ مگر عورتوں کی بلا سے وہ جانتی ہیں کہ مرد اور لاکر دے گا۔ جو چاہو فرمایش کرلو، پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مجبوراً خاوند کو رشوت لینی پڑتی ہے، تو اکثر رشوت لینے کا سبب یہ عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ کمانے میں سارا گناہ مرد کو ہوتا ہے بلکہ یہ بھی اس کے ساتھ عذاب بھگتیں گی۔

(اسباب الغفلۃ :۳۸۴)

شیخی کا مرض

شیخی مذموم اور ممنوع ہے اور یہ ذمیمہ ( یعنی شیخی بگھارنے کی بری عادت) عورتوں کی گویا سرشت میں داخل ہے۔ اٹھنے میں، بیٹھنے میں، بولنے میں،چلنے میں اور زیور میں تو ایسا اس شیخی کو اپنایا ہے کہ اس کی بنیاد ہی اس پر ہے۔ زیور بلا باجے کے نہیں پہنیں گی۔ باجے میں فائدہ یہ ہے کہ کہیں جائیں تو پہلے ہی سے مردوں و عورتوں سب کو آپ کی تشریف آوری کی اطلاع ہوجائے۔ جب کہیں جائیں گی تو ڈولی (رکشہ وغیرہ) سے اترتے ہیں۔ گھر میں اطلاع کے لیے کہا جائے گا کہ بیگم صاحبہ آئی ہیں۔ وہاں پہنچ کر ایسی جگہ بیٹھیں گی کہ سب کی نظریں ان پر پڑیں،  ہاتھ اور کان ضرور دکھلائیں گی۔ ہاتھ کسی کام میں گھرا ہو، تب بھی کسی بہانے سے نکالیں گی اور کان گو ڈھکے ہوئے ہوں، مگر گرمی کے بہانے سے یا کسی ضرورت سے کھول کر ضرور دکھلائیں گی کہ ہمارے پاس اتنا زیور ہے اور اگر کوئی عورت مہذب ہوئی اور بہشتی زیور پڑھی ہوئی ہے اور دکھاوے اور شیخی کی مذمت ان کو یاد ہوئی تو خدا سلامت رکھے، باریک کپڑے ان کے بلا ارادہ سب بناؤ سنگھار کو دکھلا دیتے ہیں اور اگر کسی کی نظر نہ بھی پڑے تو کھجلی اٹھا کر کان تو دکھاہی دیں گی۔ جس سے اندازہ کیا جائے کہ جب اتنا زیور ان کے کانوں میں ہے تو گھر میں تو نہ معلوم کتنا ہوگا؟ چاہے گھر میں خاک نہ ہو۔ یہ گناہ تو ہاتھ پیر سے کیے پھر وہیں بیٹھتے ہی سوائے غیبت کے اور کوئی دوسرا مشغلہ ہی نہیں۔ ان عورتوں کی شیخی کے دو موقعے ہوتے ہیں: ایک خوشی کا ایک غمی کا ان ہی دو موقعوں میں اجتماع ہوتا ہے۔ ( التبلیغ دواء العیوب)

                عورتوں کو ایسا غلو ہوا ہے کہ اس تصنع ( شیخی اور دکھلاوے) کے اہتمام میں خاوند کی اچھی آمدنی بھی ان کو کافی نہیں ہوتی اور سب آمدنی لے کر مردوں کو بے وقوف بنانا چاہتی ہیں، جو مرد ان کی مرضی کے موافق چلے اور ان سے حساب و کتاب نہ لے اور آنکھ بند کرکے خرچ کرنے دے تو وہ ان کے نزدیک بہت اچھا ہے۔ آپس میں بیٹھ کر فخر کرتی ہیں کہ میرے میاں تو ایسے ہیں کہ دے کر پوچھتے بھی نہیں کہ کہاں خرچ کیا؟ جو مرد الو اور احمق ہو، وہ ان کے نزدیک اچھا ہے اور جو متنظم ہو اور دیکھ بھال کر خرچ کرے تو اس کو کہتی ہیں کہ ہمارے میاں تو بڑے جلاد ہیں، ظالم ہیں، کیا مجال ہے کہ ہم پیٹ بھر کر بھی کھالیں؟ ہم تو اس کے راج میں کھانے پینے کو بھی ترس گئے۔ غرض ان کو یا شہرت اور تفاخر میں آزاد چھوڑ دو، جب تو خیر ہے ورنہ پھر ان کا منہ سیدھا نہیں۔ظاہر ہے کہ یہ باتیں کس قدر عیب والی ہیں جن کو دنیا کے عقلاء نے بھی عیب کہا ہے ۔کسی اخلاقی کتاب کو اٹھا کر دیکھیے یہی لکھا ہوگا کہ ان عیبوں سے بچو۔ مگر یہ عیب ایسے جمے ہوئے ہیں کہ عورتوں کی کوئی بات بھی ان سے خالی نہیں، ان کا رات دن فخر کرنے(اور شیخی بھگارنے) ہی میں گزرتا ہے۔ خاوند پر فخر، مکان پر فخر، جائداد پر فخر، نسب پر فخر، جب پڑھی لکھی اور دین دار عورتوں میں تفاخر و شیخی اس طرح رچا ہوا ہے تو دنیا والوں میں کیوں نہ ہو اسی طرح عورتوں کا بار بار کپڑے بدلنا اور اس میں گھنٹوں وقت صرف کرنا (فخر کے لیے کرتی ہیں) غرض ہر کام میں شیخی اور تفاخر موجود ہے۔ عورتوں میں زیادہ مردوں میں کم۔

( دواء العیوب التبلیغ)

شیخی اور تکبر و ریا کاری سے بچنے کی عمدہ تد بیر

شیخی سے بچنے کے لیے ایک ترکیب میں نے مردوں کو سکھلائی ہے گو عورتیں اس سے بہت خفا ہوتی ہیں مگر وہ شیخی کا علاج ہے۔ (بڑی اور سمجھ دار عورتوں کو چاہیے کہ اس کا رواج ڈالیں)۔ وہ ترکیب یہ ہے کہ عورتوں سے یہ تو مت کہو کہ وہ آپس میں جمع نہ ہوں۔ یہ تو ہونا مشکل ہے اور اس میں معذور بھی ہیں اَلْجِنْسُ یَمِیْلُ اِلَی الْجِنْسِ ’’جنس کا میلان اپنی جنس ہی کی طرف ہوتا ہے‘‘۔ عورتوں کا دوسری عورتوں سے ملنے کا کبھی تو جی چاہتا ہے اس لیے اس میں تو سختی نہ کرو مگر یہ کرو، کہ کہیں جاتے وقت کپڑے نہ بدلنے دیا کرو۔ اس کے لیے مردانہ حکومت سے کام لو اور جب کہیں جائیں تو سر پر کھڑے ہو کر مجبور کرو کہ کپڑے نہ بدلنے پائیں۔

یہ عجیب بات ہے کہ گھر میں بھنگنوں اور ماماؤں ( نوکرانیوں) کی طرح رہیں اور ڈولی رکشہ آتے ہی بن سنور کر بیگم صاحبہ بن جائیں۔ ہر چیز کی کوئی غرض اور غایت ہوتی ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ اچھے کپڑے پہننے کی غرض و غایت کیا ہے؟ صرف غیروں اور دوسروں کو دکھانا ہے۔ تعجب ہے کہ جس کے واسطے یہ کپڑے بنے اور جس کے دام لگے، اس کے سامنے تو کبھی نہ پہنے جائیں اور غیروں کے سامنے پہنے جائیں۔ حیرت ہے کہ شوہر سے کبھی سیدھے منہ نہ بولیں، کبھی اچھا کپڑا،اس کے سامنے نہ پہنیں اور دوسروں کے گھر میں جائیں تو شیریں زبان بن جائیں اور کپڑے بھی ایک سے ایک بڑھے چڑھے پہن کر جائیں۔ کام آویں غیروں کے اور دام لگیں خاوند کے۔یہ کیا انصاف ہے؟یہ باتیں ذرا شرم کی سی ہیں مگر اصلاح کے لیے کہی جاتی ہیں۔ الغرض مردوں سے میں کہتا ہوں کہ ان کی شیخی مٹانے کی یہ تدبیر کرو کہ کہیں جاتے وقت ان کو کپڑے نہ بدلنے دو اور عورتیں بھی سن لیں کہ اگر کپڑے بالکل ہی میلے ہوں تو خیر بدل لو وہ بھی سادے، ورنہ ہرگز نہ بدلو، سیدھے سادھے کپڑوں میں مل آیا کرو۔ ملنے سے جو غرض ہے وہ اس صورت میں بھی حاصل ہوگی اور اخلاق کی درستگی کے علاوہ ذرا کرکے دیکھو تو اس کے فوائد معلوم ہوں گے۔

اور اگر یہ خیال ہو کہ اس میں ہماری حقارت ہوگی تو جواب تو ایک اس کا یہ ہے کہ نفس کی تو حقارت ہونی ہی چاہیے اور دوسرا تسلی بخش جواب یہ ہے کہ جب ایک بستی کی بستی میں یہ رواج ہو جائے گا کہ سیدھی سادی طرح سے مل لیا کریں، وہاں انگشت نمائی اور تحقیر بھی نہ رہے گی۔ اور کیوں بیبیو! اگر ایک غریب عورت جو مزدور کی بیوی ہے، وہ کہیں ٹھاٹ باٹ سے بن سنور کر، زیور سے آراستہ ہو کر جاتی بھی ہے لیکن عورتوں کو اس کے گھر کے حالت معلوم ہے، وہ تو یہی کہیں گی کہ نگوڑی مانگے کا کپڑا اور زیور پہن کر آئی ہے، اس پر اتراتی ہے۔

(دواء العیوب التبلیغ)

عورتوں کے لیے تکبر اور حبِّ دنیا کا علاج

۱) عورتوں کو چاہیے کہ عمدہ کپڑا پہن کر کہیں نہ جائیں۔ جہاں جائیں ان ہی کپڑوں میں چلی جائیں جو پہلے سے پہنے ہوئے ہوں۔ اس طرح کرنے سے تکبر ٹوٹ جائے گا، مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جہاں جائیں گی لد پھد کر جائیں گی تاکہ شان ظاہر ہو۔

۲) عورتوں میں حب دنیا ( زیور وغیرہ) کا غلبہ زیادہ ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ زیور لباس شوہر کے سامنے تو گھر میں خوب پہنا کریں، مگر ان کی حالت یہ ہے کہ برادری میں جائیں گی تو خوب بن ٹھن کر اور جب آئیں گی فوراً اتاردیں گی۔ تاکہ جس حال میں خاوند نے دیکھا تھا اسی میں دیکھے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ خاوند کے سامنے پہنیں اور کہیں جائیں تو نہ پہنیں۔

۳) ایسے ہی علاج غیبت کا ہے کہ اس میں استغفار کافی نہیں بلکہ جس کی غیبت کی ہے، اس سے کہو کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے، معاف کردو۔( الحیوۃ ملحقہ حقیقت مال و جاہ)

حرص اور دنیا کی محبت کا علاج

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرص کا صحیح علاج بتلایا ہے۔ چناں چہ  ارشاد ہے: وَیَتُوْبُ اللہُ عَلٰی مَنْ تَابَ، اس میں توبہ کو حرص کا علاج بتایا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں توجہ الی اللہ اور یہ حرص کا علاج اس وجہ سے ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ نفس ایک وقت میں دو چیزوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ حرص کی حقیقت دنیا کی طرف متوجہ اور میلان ہونا ہے۔ جب اس توجہ کو کسی دوسری شے کی طرف پھیر دیا جائے گا تو دنیا کی طرف توجہ باقی نہ رہے گی۔

جب حرص کا علاج معلوم ہوگیا، تو اب سمجھیے کہ توجہ الی اللہ کیا چیز ہے؟ بعض لوگوں نے تو یہ سمجھا ہے کہ توجہ الی اللہ کا مطلب ہے کہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور احکام شرعیہ بجالائے۔ ان لوگوں نے ظاہری اعمال پر اکتفا کیا اور یہ لوگ دل سے خدا کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

اور بعض لوگوں نے کہا کہ توجہ الی اللہ (یعنی اللہ کی توجہ ہونے کے) معنی صرف یہ ہیں  کہ صرف دل سے خدا کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ لوگ ذکر و شغل اور مراقبہ ہی کو لے بیٹھے، ان لوگوں نے نماز اور روزہ تلاوت قرآن پاک نظر بد کو بچانا وغیرہ سب چھوڑ دیا، مگر ان کو بھی برکت اور نورانیت حاصل نہیں ہوتی۔

لو سنو! توجہ الی اللہ کی حقیقت تو یہی ہے کہ خدا کی طرف دل سے متوجہ ہو، مگر حقیقت کی ایک صورت بھی ہوا کرتی ہے اور توجہ الی اللہ کی صورت وہی ہے جو شریعت نے بتلائی ہے۔ بس دونوں کو جمع کرنا چاہیے کہ دل سے اللہ کی طرف متوجہ رہو اور ظاہر سے اعمال شریعہ کے پابند رہو۔ طاعات کو بجالانا اور معاصی سے بچنے کا اہتمام کرو، نگاہ کو روکو، نامحرموں کی باتیں بھی نہ سنو۔ اعمال ظاہرہ، اعمال باطنہ دونوں کو جمع کرنا چاہیے، پھر ان شاء اللہ کامیابی ضرور ہوگی۔

(علاج الحرص التبلیغ)

ایک ترکیب بتلا کر مضمون کو مختصر کرتا ہوں اور وہ ایسی ترکیب ہے کہ جس سے تم کو ان شاء اللہ تعالیٰ صحبت کی برکت حاصل ہوگی اور یہ جو دائرے سے باہر قدم نکلا جارہا ہے یہ رک جائے گا اور وہ ترکیب یہ ہے:

۱) ایک وقت مقرر کرکے اس وقت میں موت کو یاد کرو۔

۲) اور پھر قبر کو یاد کرو اور پھر حشر کو یاد کرو۔

۳) اور پھر یوم حشر (قیامت) کے احوال (ہولناکیوں) اور وہاں کے مصائب کو یاد کرو اور سوچو کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے روبروکھڑا کیا جائے گا اور ہم سے باز پرس ہوگی۔ ایک ایک حق اُگلنا پڑے گا اور پھر سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔

اس طرح روزانہ سوتے وقت سوچا کرو کہ دو ہفتے میں ان شاء اللہ کایا پلٹ جائے گی اور دنیا کے ساتھ جو دلچسپی ہے وہ نہ رہے گی۔

(الرضا بالدنیا ملحقہ دین و دنیا)

بڑا علاج یہی ہے کہ سوچنا شروع کرو۔ آخرت کے تمام امور کو سوچا کرو، میں مرکر قبر میں جاؤں گا، وہاں سوالات ہوں گے، اگر ٹھیک جواب دے دیے تو راحت ہوگی اور اگر ٹھیک جواب نہ دے سکا تو عذاب ہوگا۔ پھر اس کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا۔ میدانِ قیامت کی سختیوں کو بھی سوچو۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کیا جاؤں گا۔ اس کے بعد پل صراط پر چلنا ہوگا، پھر جنت ملے گی یا دوزخ میں ڈالا جاؤں گا، دوزخ میں کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ غرض ان سارے اُمور کو سوچا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ گو تکلیف ہی سہی۔ خدا کی اطاعت میں خاص اثر ہے کہ اس سے فکر پیدا ہوگی اور فکر پیدا ہونے سے تمام کام درست ہوجائیں گے۔

اور ایک بات اپنے اوپر لازم کرلو وہ یہ کہ جو اپنے جی میں آئے اسے فوراً مت کرلیا کرو بلکہ علماء سے تحقیق کرکے کیا کرو۔ اگر ناجائز بتلائیں ہرگز اس کام کو مت کرو۔

اس طرح دستورالعمل رکھنے سے پھر قلب دنیا سے ہر گز مطمئن نہ ہوگا۔

(الاطمینان بالدنیا التبلیغ)

عورتوں کو ایک دوسرے سے ملنے میں احتیاط

قرآن شریف میں عورتوں کو حکم ہے وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنّ کہ تم اپنے گھر جم کر بیٹھی رہو۔ اس میں تقسیم، اَلْاٰحَادْ عَلَی الْاحَادْ، ہے جس کا یہ مطلب ہو اکہ ہر عورت اپنے گھر جم کر بیٹھی رہے ۔ اس سے  صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لیے، اصلی حکم یہی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں، نہ عورتوں سے ملنے کے لیے نہ مردوں سے ملنے کے لیے۔

آخر کچھ تو بات ہے جو حق تعالیٰ نے عورتوں کو گھر میں رہنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر سے نکلنا مضر ہے۔ ( البتہ ضرورت کے مواقع اس سے مستثنیٰ ہیں) پس جس کو ملنے جلنے سے یہ ضرر ہوتا ہے۔ اس کے لیے یہی حکم ہوگا کہ وہ کسی سے نہ ملے، اپنے گھر ہی میں بیٹھی رہے، ہاں جس کو ضرر نقصان نہ ہوتا ہو، وہ اپنے خاوند کی اجازت سے دوسروں کے گھر جاسکتی ہے۔

بیبیو (اللہ کی بندیو!) آخر تم کھجلی ( یعنی جس کو کھجلی کا مرض ہو )اس  سے بچتی ہو اور ان کے پاس بیٹھنا اور ان سے ملنا جلنا تم کو گوارہ نہیں ہوتا کہ کہیں ہم کو بھی کھجلی نہ ہوجائے اور یہ حالت تو کھجلی سے بھی بدتر ہے۔ کھجلی کا ضرر ( نقصان) تو صرف جسمانی ہے اور اس کا ضرر جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی۔ جسمانی ضرر تو یہ ہے کہ جب تم دوسری عورتوں کو اپنے سے اچھی حالت میں دیکھو تو تم کو خواہ مخواہ پریشانی ہوگی اور رات دن تم س کی فکر میں گھلوگی کہ ہائے میرے پاس بھی یہ چیز ہوتی وہ ہوتی۔ پھر بعض دفعہ تم مردوں سے بھی اس قسم کی فرمایش کرو  گی جو ان کی حیثیت سے زیادہ ہے ان کو یہ فرمایش ناگوار ہوگی۔ جس سے خواہ مخواہ دلوں میں کدورت ( میلا پن اور دوری) پیدا ہوگی جس سے بعض اوقات دور تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

اور روحانی ضرر یہ ہے کہ اس سے ناشکری کا مرض بڑھتا ہے، جب تم دوسروں کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھو گی تو ان نعمتوں کی قدر نہ کروگی جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عطافرمائی ہیں۔ ہمیشہ یہی سمجھوگی کہ میرے پاس کیا ہے کچھ بھی نہیں ہے۔

اس لیے جس پر ملنے جلنے کا ایسا اثر پڑتا ہو اس کو یہی حکم دیا جائے گا کہ وہ کسی سے نہ ملے اور اگر ملے تو غریب نادار عورتوں سے ملے، کیوں کہ غریبوں سے مل کر تمہارا جی خوش ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروگی کہ الحمد للہ میں بہت سی عورتوں سے اچھی حالت میں ہوں اور یہی نکتہ ہے اس حدیث میں بلکہ یہ واضح دلیل ہے مذکورہ بالا تفصیل کی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سے فرمایا: یَاعَائِشَہُ قَرِّبِی الْمَسَاکِیْنَ وَجَالِسِیْھِمْ۔

ترجمہ: اے عائشہ مسکینوں کے پاس بیٹھا کرو اور ان کو اپنے نزدیک کیا کرو۔ مسکینوں( غریبوں) کے پاس بیٹھنے سے خدا کی نعمتوں کی قدر ہوتی ہے اور دل خوش رہتا ہے۔

(الکمال فی الدین)

حرص اور بے صبری کا مادہ کیسے پیدا ہوجاتا ہے

عورتوں میں زیور و کپڑے کی حرص طبعی طور پر ہوتی ہے لیکن آپس میں ملنے ملانے سے یہ حرص اور بڑھ جاتی ہے۔ ان کا آپس میں ملنا جلنا بڑا غضب ہے۔ ایک دوسری کو دیکھ کر رنگ پکڑتی ہیں۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے زیور اور کپڑا حیثیت کے موافق دے رکھا ہو، تو وہ اسی وقت تک خوش ہے جب تک برادری بہنوں میں نہ جائے اور جہاں برادری میں نکلنا ہوا، پھر ان کی نظر میں اپنا زیور اور کپڑا حقیر معلوم ہونے لگتا ہے، دوسروں کا زیور دیکھ کر ان کا دل للچاتا ہے کہ ہمارے پاس بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اور اس میں اپنی حیثیت پر ان کی نظر نہیں جاتی کہ جس کے پاس ہم سے زیادہ زیور ہے اس کی حیثیت بھی تو ہم سے زیادہ ہے لیکن جس مرد کی آمدنی پچاس روپے ماہوار ہے وہ بھی برابری کرتی ہے اس کی جس کے مرد کی آمدنی ہزار روپے ماہوار ہے۔ عورتوں پر ملنے جلنے کا بہت جلد اثر ہوتا ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ مستورات کا آپس میں ملنا جلنا بالکل بند کرادو۔ میرا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو اپنے اس مرض کی اصلاح کرنی چاہیے، اگر کسی کا دل دوسروں کے  کپڑے، زیور دیکھ کر نہ للچائے، اس کو ملنے جلنے کا مضایقہ نہیں مگر جس پر دوسروں کو دیکھ کر یہ اثر ہو اس کو ضرور نہ ملنا چاہیے۔

(الکمال فی الدین)

ایک واقعہ

عورتوں پر ملنے جلنے کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ سہارنپور میں ایک انسپکٹر صاحب تھے جن کی تنخواہ چار پانچ سو روپے ماہوار تھی، مگر اس کی یہ عادت تھی کہ ساری تنخواہ اپنے غریب رشتہ داروں پر خرچ کرتے تھے، گھر میں کم رکھتے تھے، ان کی بیوی کے پاس زیور کا ایک چھلہ بھی نہ تھا، نہ گھر میں کوئی خادمہ تھی، بیچاری اپنے ہاتھ سے آٹا پیستی تھی اور خود ہی پکاتی تھی اور اس حالت میں خوش تھی۔ میرے ایک عزیز بھی اس زمانہ میں سہارنپور میں ملازم تھے اور ان کا مکان انسپکٹر صاحب کے مکان سے متصل تھا۔ وہ اپنی بیوی کو کسی کے یہاں نہ بھیجتے تھے مگر ایک دفعہ ان کے عزیز کے گھر والوں کے اصرار پر انہوں نے ملنے کی اجازت دے دی۔ وہ جو یہاں آئی تو اس نے یہاں باندیوں اور نوکروں کو بھی اپنے سے اچھا پایا ان کے پاس کچھ زیور تھا اور انسپکٹر صاحب کی بیوی کے پاس ایک چھلہ تک نہ تھا، بس یہاں سے جاکر اس نے بھی اپنے میاں کی خوب خبر لی۔ واہ! صاحب کی تنخواہ بھی تم سے کم ہے، پھر بھی ان کے گھر والے زیور میں لدے پھدے ہیں اور میں بالکل ننگی ہوں اور ان کی بیوی اپنے ہاتھ سے ایک کام بھی نہیں کرتی۔ کئی کئی باندیاں ہیں، سارا کام وہی کرتی ہیں اور میں سارا کام اپنے ہاتھ سے کرتی ہوں۔ اب مجھ سے اس طرح نہیں رہا جاتا۔ مجھ کو زیور بنا کردو اور عمدہ لباس بنا کر دو اور گھر میں خادمہ نوکر رکھو۔ وہ انسپکٹر صاحب مجھ سے الٰہ آباد میں ملے تھے۔ بیچارے کہتے تھے کہ شیخ کامل ( یعنی عورت سے میل جول) کا اثر ایک منٹ میں ایسا ہوا کہ میری ساری عمر  کا اثر فوراً ختم ہوگیا۔ اب میرے گھر میں دن رات زیور کی فرمایش رہتی ہے اور کوئی کام خود نہیں کرتی زیور بناتا بناتا تھک گیا ہوں مگر سلسلہ ختم نہیں ہوتا اور میری ساری خیر خیرات بند ہوگئی۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ ان کا آپس میں ملنا بڑا غضب ہے۔

(الکمال فی الدین)

دنیا کے معاملہ میں اپنے سے کمتر کو دیکھو

عورتوں کو بھی چاہیے کہ دنیا کے بارے میں اپنے سے گھٹیا لوگوں کو دیکھیں۔ مثلاً تمہارا گھر کسی رئیس زادی کے گھر سے کم ہے تو ان لوگوں پر نظر کرو جن کے گھر تم سے بھی گھٹیا ہیں اور نہایت (چھوٹے اور) تنگ ہیں۔ پلنگ بچھنے کے بعد چلنے کا بھی راستہ نہیں رہتا۔ وہاں ہوا کا تو کہاں گزر، بارش کا بھی بچاؤ نہیں اور تم ہوا دار صحن میں ایسے آرام سے سوتی ہو کہ صبح کی نماز بھی قضا ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے مکانات دیکھ کر تم کو اپنے مکان کی قدر ہوگی کہ اس میں جھاڑ فانوس وغیرہ نہیں ہیں تو کیا ہوا بارش کا بچاؤ تو ہے، ہوا کا گزر تو ہے۔

شیخ سعدی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے پاس جوتا نہ تھا تو میں رنجیدہ تھا کہ اچانک میں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا کہ جس کے پیر ہی نہ تھے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ میرے پیر تو ہیں، جوتا نہیں تو کیا ہوا۔

تو دنیا کے باب میں اپنے سے کمتر حیثیت والوں کو دیکھنے سے دل کو بڑی راحت ہوتی ہے مگر اب ایسا مزاج بدلا ہے کہ دنیا میں جہاں ذرا کمی ہوئی تو اس کا تو قلق ہوتا ہے اور اس پر کبھی نظر نہیں ہوتی کہ اللہ کی بہت سی مخلوق ہم سے بھی ابتر حالت میں ہے۔ ہم ان سے بہت اچھے ہیں اور دین میں ایسا استغناء برتا جاتا ہے کہ پانچ وقت کی نماز پر اکتفاء کرلیا ہے اگر کوئی ان سے تہجد واشراق کو کہہ دے تو جواب میں کہتے ہیں کہ کیا ہم مرجائیں؟ بہت تو کام کرتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔

(الکمال فی الدین)

ایک بزرگ کا ارشاد

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ امراء (مال داروں) کے پاس بیٹھنے سے دن بدن میری پریشانی بڑھتی رہی اور میں سمجھتا تھا کہ میرے اوپر خدا کی نعمت نہیں۔ پھر میں نے غریبوں کے پاس بیٹھنا شروع کیا تو مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا بادشاہ ہوں اور میری ساری پریشانی دور ہوگئی اور خوشی بڑھ گئی۔ اس لیے حدیث میں ہے کہ دین کے باب میں انسان کو اپنے سے اونچے کو جو اس سے زیادہ دین دار ہو اور دنیا کے بارے میں اپنے سے نیچے کو دیکھنا چاہیے۔ مگر آج کل معاملہ برعکس (الٹا) ہے، لوگ دین کے بارے میں تو ان لوگوں پر نظر کرتے ہیں جو زیادہ کام نہیں کرتے، پھر اپنے دل کو سمجھالیتے ہیں کہ اگر ہم رات کو نہیں اٹھتے تو کیا ہوا، فلاں مولوی صاحب بھی تو رات کو نہیں اٹھتے، اگر ہم عمدہ عمدہ کپڑے پہنتے ہیں تو کیا ہوا؟ فلاں شاہ صاحب بھی تو بڑا عمدہ لباس پہنتے ہیں۔ دین کے بارے میں لوگ ان بزرگوں کو نہیں دیکھتے جن کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہیں ہوتی اور بے چارے معمولی حالت میں رہتے ہیں اور دنیا کے بارے میں ہمیشہ اپنے سے زیادہ پر نظر کرتے ہیں، ہائے میں فلاں رئیس ( مال دار) کے برابر نہیں ہوگیا، فلاں سوداگر کے برابر نہیں ہوا۔ جس سے سوائے پریشانی بڑھنے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

(الکمال فی الدین)

زبان کی حفاظت

زبان کی حفاظت اور اس کا طریقہ

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے واسطے اس چیز کا ذمہ دار ہوجائے جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان اور جو اس کی ٹانگوں کے درمیان ہے یعنی شرم گاہ، میں اس کے لیے جنت کا ذمہ دار ہوں۔

(فروع الایمان)

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تمہارا گھر تمہارے لیے گنجایش والا ہونا چاہیے یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر مت نکلو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو۔

فائدہ: بڑی آفتوں میں سے ایک زبان کی آفت ہے جو بظاہر نہایت ہلکی ہے اور حقیقت میں بہت بھاری ہے۔ اسی واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنبھالنے کی بہت تاکید فرمائی ہے کیوں کہ اکثر آفتیں زبان کی بدولت ہوتی ہیں۔ جب تک زبان نہیں چلتی نہ کسی سے لڑائی ہو اور نہ عدالت میں خصومت اور جہاں زبان چلی یہ سب باتیں موجود ہوجاتی ہیں۔

اس کا علاج اور حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی بات کہنے کا ارادہ کرے تو بے سوچے سمجھے نہ کہہ ڈالے، کم از کم دو تین سیکنڈ یہ سوچ لے کہ میں جو بات کہنا چاہتی ہوں۔ میرے مالک حقیقی کو ناخوش کردینے والی تو نہیں، اگر اطمینان ہو تو بولنا شروع کرو مگر ضرورت کے موافق اور اگر ذرا بھی خلجان ہو تو خاموش رہو۔ ان شاء اللہ نہایت سہولت سے سب آفتوں سے حفاظت رہے گی۔

جھوٹ

زبان کے بہت سے گناہ ہیں، سب سے بچنا بہت ضروری ہے۔ ایک ان میں سے جھوٹ بھی ہے۔ جس کو لوگوں نے ایسا بنا رکھا ہے جیسے ماں کا دودھ ہوتا ہے۔ کہ اس سے کوئی بچا ہوا نہیں ہوتا اور جھوٹ وہ چیز ہے کہ کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں اور پھر اس کو مسلمان کیسا مزے دار سمجھتے ہیں حالاں کہ جھوٹ کے ذرا سے لگاؤ ہوجانے سے بھی گناہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ صحابیہ رضی اللہ عنہا نے ایک بچے کے بہلانے کے طور پر کہا کہ آؤ چیز دیں گے، تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ آجائے تو کیا چیز دوگی؟ انہوں نے دکھایا کہ یہ میرے ہاتھ میں کھجور ہے۔ فرمایا: اگر تمہاری نیت کچھ دینے کی نہ ہوتی تو گناہ لکھا جاتا۔ دیکھا آپ نے؟ جھوٹ ایسی بری چیز ہے۔

(تسہیل المواعظ)

غیبت

زبان کا یہ گناہ ہے کہ لوگوں کی پیٹھ پیچھے ان کی ایسی باتیں کرے جن سے وہ برا مانیں اسے غیبت کہتے ہیں۔ ( عموماً عورتیں) یہ کہا کرتی ہیں کہ ہم اس کے منہ پر کہہ دیں گے۔ اجی اگر منہ پر عیب لگاؤ گی تو کون سا اچھا کروگی۔ ہاں اتنی بات ہے کہ اگر منہ پر (یعنی سامنے) برا کہو گی تو بدلہ بھی پاؤگی، وہ تم کو برا کہے گی۔

پیٹھ پیچھے برائی کرنا تو دھوکا سے مارنا ہے، یاد رکھو جیسے دوسروں کے مال کی قدر و عزت ہوتی ہے ایسے ہی بلکہ اس سے زیادہ آبرو کی عزت ہے۔ دیکھو نا جب عزت آبرو پر آنچ آتی ہے تو مال تو کیا چیز ہے جان تک کی پروا نہیں کی جاتی، تو جب دوسرے کے مال پر ہاتھ ڈالنا جائز نہیں، تو عزت آبرو پر ہاتھ ڈالنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ مگر غیبت ایسی پھیل گئی ہے کہ باتوں میں معلوم نہیں ہوتا کہ غیبت ہوگئی ہے یا نہیں۔

اس سے بچنے کی ترکیب تو بس یہی ہے کہ کسی کو بھلا یا برا کچھ ذکر نہ کیا جائے کیوں کہ بھلائی کا بھی ذکر کروگی تو شیطان دوسرے کی برائی تک پہنچا دیتا ہے اور کہنے والا سمجھتا ہے کہ بھلائی کا ذکر کررہا ہوں۔حالاں کہ برائی کے مل جانے سے وہ بھلائی بھی کی نہ کی برابر ہوگئی۔

محترم ماؤں، بہنو! آپ کو تو اپنے ہی کام بہت ہیں پہلے ان کو پورا کیجیے، آپ کو دوسرے کی کیا پڑی، غیبت میں گناہ ہونے کے علاوہ کچھ مزہ بھی تو نہیں اور دنیا میں بھی اس کا نقصان ہوتا ہے کیوں کہ جب دوسرے کو معلوم ہوگا تو عداوت پیدا ہوجائے گی، پھر آپ خود ہی سمجھ لیجیے کہ اس کا کیا اثر ہوگا۔

عورتوں میں غیبت کا مرض بہت ہے، وہ عورت ہی نہیں جو غیبت نہ کرے اور غیبت غیر رمضان میں بھی حرام ہے اور رمضان میں تو بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ نہ معلوم لوگوں کو غیبت میں کیا مزہ آتا ہے، تھوڑی دیر کے لیے اپنا جی خوش کرلیتے ہیں، پھر اگر اس کو خبر ہوگئی جس کی غیبت کی ہے اور اس سے دشمنی بڑھ گئی تو عمر بھر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

اگر کسی کو ذرا بھی حس ہو تو غیبت کے ساتھ ہی دل میں ایسی حالت ( تاریکی) پیدا ہوتی ہے ، جس سے سخت تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی نے گلاگھونٹ دیا ہو ۔ اس لیے عورتوں سے کہتا ہوں کہ تم خاص طورپر اس سے بچنے کا اہتمام کیا کرو ۔

 کیوں کہ تمہارے یہاں اس کا بازار بہت  گرم رہتاہے۔ عورتوں کو جتنا روزہ کا بہت شوق ہے اتنا ہی ان کا روزہ ناقص ہوتا ہے اور صرف اس منحوس غیبت کی وجہ سے ، کیوں کہ اور گناہ رشوت اور ظلم اور سود وغیرہ سے عورتیں محفوظ رہتی ہیں، تو بھائی خداکے لیے روزہ میں اپنی زبان کو روک لو۔

(النسواں فی رمضان، العلاقات الغافلات حقوق الزوجین)

غیبت کی عادت

عورتیں غیبت بہت کرتی ہیں، خود بھی حکایت شکایت کرتی ہیں اور دوسروں سے بھی سنتی ہیں اور اس کی تلاش میں رہتی ہیں، کوئی عورت باہر سے آئی اور پوچھنا شروع کیا: فلانی مجھ  کو کیا کہتی تھی؟ گویا انتظارہی کررہی تھیں ۔ آنے والی نے کچھ کہہ دیا کہ یوں کہتی تھی ۔بس پھرتوپل باندھ لیا ۔

خوب سمجھ لو کہ اس غیبت سے نااتفاقی ہوجاتی ہے آپس میں عداوت او ر دشمنی قائم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ غیبت کرنا اور اس کا سننا بذات خود بڑا گناہ بھی ہے، کلام اللہ میں اس کی بڑی مذمت آئی ہے۔

(العلاقات الغافلات حقوق الزوجین)

غیبت زنا سے سخت ہے

فرمایا: حدیث شریف میں ہے اَلغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا... الخ( غیبت کرنا زناسے زیادہ سخت ہے) حضرت حاجی صاحب نے اس کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ زنا کا گناہ باہی یعنی شہوت سے متعلق ہے اور غیبت کا گناہ جاہی (یعنی تکبر سے متعلق) اور تکبر شہوت سے اشد ہے یعنی زیادہ خطرناک ہے۔

(حسن العزیز)

غیبت کی تعریف اور اس کا حکم

۱)غیبت یہ ہے کہ کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی ایسی برائی کرنا کہ اگر  اس کے سامنے کی جائے تو اس کو رنج ہو گو وہ سچی ہی بات ہو ورنہ وہ بہتان ہے اور پیٹھ پیچھے کی قید سے یہ نہ سمجھے کہ سامنے برائی کرنا جائز ہے  کیوں کہ وہ لمز میں داخل ہے جس کی ممانعت  اوپر آئی ہے۔

۲) اور تحقیقی بات یہی ہے کہ غیبت گناہ کبیرہ ہے۔ البتہ جس غیبت سے بہت کم تکلیف ہو وہ صغیرہ ہوسکتا ہے جیسے کسی کے مکان یا سواری کی برائی کرنا۔

۳) اور جو سننے والا دفع کرنے پر قادر ہو اور منع نہ کرے، اس کا سننا بھی غیبت کے حکم میں ہے۔

۴) غیبت میں حق اللہ اور حق العبد دونوں ہیں۔ البتہ توبہ واجب ہے اور معاف کرانا بھی ضروری  ہے۔ البتہ بعض علماء نے کہا کہ جب  تک اس شخص کو اس غیبت کی خبر نہ پہنچے  تو حق العبد نہیں ہوتا لیکن اس صورت میں بھی جس شخص کے سامنے غیبت کی تھی اس کے سامنے اپنی تکذیب کرنا ( یعنی اپنے کو غلطی پر بتلانا) ضروری ہے اور اگر ممکن نہ ہو تو مجبوری ہے۔

۵) مرنے کے بعد وارثوں سے معاف کرانا کافی نہیں بلکہ غائب میت کے لیے استغفار کرتا رہے (ان کے لیے بھی ) اور اپنے لیے بھی۔

۶) بچہ، مجنوں اور کافر ذمی کی غیبت بھی حرام ہے کیوں کہ اس کو تکلیف دینا حرام ہے اور حربی کافر کی غیبت تضیع وقت کی وجہ سے مکروہ ہے۔

۷) اور غیبت کبھی فعل سے بھی ہوتی ہے مثلاً کسی لنگڑے کی نقل بنا کر چلنے لگے جس سے اس کی حقارت ہو۔

۸) اور جس سے غیبت کو معاف کرایا جائے اس کے لیے مستحب ہے کہ معاف کردے۔

۹) بغیر مجبوری غیبت سننا غیبت کرنے کے مثل ہے۔

۱۰) اگر برائی کرنے کی کوئی ضرورت یا مصلحت ہو جو شرعاً معتبر ہو وہ غیبت حرام میں داخل نہیں، جیسے ظالم کی شکایت ایسے شخص سے جو ظلم دفع کرسکے یا مسلمانوں کو دینی یا دنیوی شر سے بچانے کے لیے کسی کا حال بتلادیا، یا کسی کے مشورہ لینے کے وقت اس کا حال ظاہر کردیا۔

(بیان القرآن سورۂ حجرات)

غیبت و چغلی سے معافی تلافی کا طریقہ

اگر کسی کی غیبت ہوگئی ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کے ساتھ اس شخص سے بھی معافی مانگنے کی ضرورت ہے جس کی غیبت کی ہے۔ لیکن غیبت کی پوری تفصیل بتلانے سے ( کہ میں نے تمہاری یہ غیبت کی ہے اس سے) اس کو تکلیف ہوگی۔ اس لیے اجمالی طور پر اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میرا کہا سنا معاف کرو۔

اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جن لوگوں کے سامنے غیبت کی تھی ان کے سامنے اس کی تعریف بھی کرے اور پہلی بات کا غلط ہونا ظاہر کردے اور اگر وہ بات غلط نہ ہو سچی بات ہو( یعنی اس میں واقعی وہ غیبت موجود ہو) تب یوں کہہ دو کہ بھائی اس بات پر اعتماد کرکے تم فلاں شخص سے بدگمان نہ ہونا کیوں کہ مجھے خود اس پر اعتماد نہیں۔ اگر وہ شخص مرگیا جس کی غیبت کی تھی تو اب معاف کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے لیے دعا و استغفار کرتے رہو یہاں تک کہ دل گواہی دے دے کہ اب وہ تم سے راضی ہوگیا ہوگا۔

(انفاس عیبی)

مرحوم اور لاپتا کی غیبت سے معافی کا طریقہ

غیبت، شکایت ( گالی گلوچ) اور جانی ظلم سے تلافی کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مظلوم جس کی غیبت کی ہے یا گالی دی ہے، وہ مر گیا ہو،یا لا پتا ہو گیا ہو تو اس کے حق میں دعا کرو، نماز اور قرآن پڑھ کر اس کو ثواب بخشو۔ اور عمر بھر اس کے لیے ( جن جن کی غیبت کی ہے) دعا کرتے رہو۔ ان شاء اللہ حق تعالیٰ ان کو تم سے خوش راضی کردیں گے، جس کی صورت قاضی ثناء اللہ نے یہ لکھی ہے کہ قیامت میں مسلمانوں کو بڑے بڑے خوبصورت عالیشان محل دکھائے جائیں گے اور حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ ان محلات کا خریدار کوئی ہے اور ارشاد ہوگا کہ ان کی قیمت یہ ہے کہ جس کا جو حق کسی کے ذمہ ہو، اسے معاف کردے، اس وقت کثرت سے اہلِ حقوق اپنے حق معاف کردیں گے۔

(خیر الارشاد، حقوق  وفرائض)

حقوق العباد کی اہمیت اور ناحق دوسروں کا مال لینے کا وبال

حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن بندہ کو حق تعالیٰ کھڑا کرکے دریافت فرمائیں گے کہ جوانی کہاں خرچ کی اور مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

(التبلیغ)

اور حدیث شریف میں ہے کہ حقوق کو دنیا میں ادا کرو یا معاف کرالو، اس دن سے پہلے جس میں روپیہ پیسہ کچھ نہ ہوگا۔

ظلم ہلکی چیز نہیں ہے، ساری عبادتیں اس وقت تک  ناکافی ہیں جب تک ظلم سے برأت نہ ہوگی۔ درمختار میں لکھا ہے کہ ایک دانگ کے بدلہ میں جو درہم کا چھٹا حصہ  ہے جس کو تین پیسہ سمجھ لیجیے۔ (اس کے بدلہ میں ) سات مقبول نمازیں حق دار کو دلائی جائیں گی۔ کتنی سخت مصیبت ہوگی۔ اوّل تو ہماری نمازیں مقبول ہی کتنی ہیں، پھر تین تین پیسہ کے بدلہ میں وہ بھی جاتی رہیں تو بتلائیے قیامت میں کیسی حسرت ہوگی۔

مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم مفلس کس کو سمجھتے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر مفلس وہ ہے جس نے نمازیں بھی بہت پڑھی تھیں، روزے بھی بہت رکھے تھے، زکوٰۃ بھی دی تھی اور صدقات بھی کیے تھے مگر اس کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی تھی، کسی کو مارا پیٹا تھا، کسی کا مال لے لیا تھا، اب قیامت میں ایک آیا، وہ اس کی نمازیں لے گیا اور دوسرا روزے لے گیا، تیسرا آیا وہ حج لے گیا، چوتھا آیا وہ زکوٰۃ و صدقات لے گیا۔ پھر بھی کچھ حق دار بچ گئے اور ان کو دینے کو نیکیاں نہ بچیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیئے گئے اور طاعات سے خالی ہو کر گناہوں سے لد کے جہنم میں داخل ہوگا، یہ سب سے بڑا مفلس ہے۔

کیا یہ بات تھوڑی ہے کہ ذرا ذرا سے حقوق العباد کے بدلے میں ساری کی کرائی محنت دوسروں کو مل جائے، اب تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ بعض اعتبار سے حقوق العباد نماز روزہ سے بھی مقدم ہیں، ان کا بہت اہتمام کرنا چاہیے مگر افسوس! لوگوں کو ان کا بالکل ہی اہتمام نہیں ہے۔

(خیر الارشاد، حقوق و فرائض)

خلاصی اور تلافی کا طریقہ

تلافی اور حقوق سے خلاصی کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کام شروع کردینا اور ادائیگی کا پختہ ارادہ کرلینا بھی مقبول ہے، پہلے تو تم حق والے سے معافی کی درخواست کرو اگر وہ خوشی سے معاف کردے، تب تو مسئلہ آسان ہے جلدی خلاصی ہوگئی اور اگر معاف نہ کرے تو اب پورا حق ادا کرنا ضروری ہے اگر بہت زیادہ ہواور ا ک دم سے ادا کرنا مشکل ہو تو تھوڑا تھوڑا جتنا ہوسکے اس کا حق ادا کرتا رہے۔ اور اگر وہ ( یعنی حق والے ) مرگئے ہوں تو ان کے ورثاء کو دو۔ اور اگر ورثاء بھی معلوم نہ ہوں تو ان کی نیت سے خیرات کرتے رہو ان شاء اللہ امید ہے کہ دنیا ہی میں سارا حق ادا ہوجائے گا اور اگر کچھ ادا ہوگیا اور کچھ رہ گیا تو اس کی حق تعالیٰ تلافی کردیں گے، حق تعالیٰ کے یہاں نیت کو زیادہ دیکھا جاتا ہے، جس کی نیت پختہ ہو کہ میں حق ادا کروں گا پھر اس پر عمل بھی شروع کردے، حق تعالیٰ اس کو بالکل بری کردیتے ہیں۔

(خیر الارشاد، حقوق  وفرائض)

شوہر سے متعلق عورتوں کی کوتاہیاں

عورتوں کی زبردست کوتاہی

دینی حقوق میں ایک کوتاہی عورتیں یہ کرتی ہیں کہ مرد کو جہنم کی آگ سے بچانے کا اہتمام نہیں کرتیں یعنی اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتیں کہ مرد ہمارے واسطے حلال و حرام میں مبتلا ہے اور کمانے میں رشوت و غیرہ سے ( پرہیز) نہیں کرتا تو اس کو سمجھائیں کہ تم حرام آمدنی مت لیا کرو، ہم حلال ہی میں اپنا گزارہ کرلیں گی۔

اسی طرح اگر مرد نماز نہ پڑھتا ہو تو اس کو بالکل نصیحت نہیں کرتیں حالاں کہ اپنی غرض کے لیے اس سے سب کچھ کرالیتی ہیں۔ اگر عورت مرد کو دین دار بنانا چاہے تو کچھ مشکل نہیں۔ مگر اس کے لیے ضرورت ہے کہ پہلے تم خود دین دار بنو، نماز اور روزہ کی پابندی کرو، پھر مرد کو نصیحت کرو تو ان شاء اللہ اثر ہوگا، مگر بعضی عورتیں دین داری پر آتی ہیں تو یہ طریقہ اختیار کرلیتی ہیں کہ تسبیح اور مصلّیٰ لے کر بیٹھ گئیں اور گھر ( کے کام اور شوہر کی خدمت) کو ماماؤں پر ڈال دیتی ہیں، یہ طریقہ اچھا نہیں ہے کیوں کہ گھر کی نگرانی اور شوہر کے مال کی حفاظت و خدمت عورت کے ذمہ فرض ہے اور جب فرض میں خلل آگیا تو یہ نفلیں اور تسبیح کیا کام دیں گی، اس لیے دین داری میں اتنا غلو بھی نہ کرو کہ گھر کی خبر ہی نہ لو، نماز روزہ اس طرح کرو کہ اس کے ساتھ گھر اور شوہر کا بھی پورا حق ادا کرو۔

(حقوق البیت:۵۴)

اگر عورتیں چاہیں تو مرد پکے دین دار بن جائیں

اگر عورتیں ہمت سے کام لیں تو بہت جلد خرابیاں زائل ہوسکتی ہیں اور اگر زائل نہ ہوں تو کم تو ضرور ہوجائیں گی کیوں کہ مرد زیادہ تر مال کے گناہ میں ( مثلاً سود رشوت وغیرہ میں ) عورتوں کی وجہ سے مبتلا ہوتے ہیں اگر  یہ ذرا ہمت کرکے زیور اور لباس کی فرمایش کم کردیں اور مردوں سے کہہ دیں کہ ہماری وجہ سے حرام کمائی میں مبتلا نہ ہونا تو بہت کچھ اصلاح ہوجائے۔

میں سچ کہتا ہوں کہ بعضی عورتیں مردوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہیں، اس لیے جو عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ہم مجبور ہیں، جو خاوند لاتا ہے وہی کھانا پڑتا ہے۔ یہ ان کے لچر بہانے ہیں، اگر یہ زیور اور کپڑے کی فرمایش نہ کیا کریں تو بہت سے مرد تو خود ہی رشوت سے توبہ کرلیں اور اگر کوئی پھر بھی لے تو عورتیں ہمت کرکے ان سے کہہ دیں کہ ہمارے پاس رشوت کا مال نہ لانا، صرف حلال تنخواہ کا روپیہ لانا، ورنہ آخرت میں ہم تمہارے دامن گیر ہوں گی، دیکھیے پھر مردوں کی کتنی جلدی اصلاح ہوتی ہے۔

(اسباب الغفلۃ:۳۹۵)

چند اللہ کی بندیوں کی حالت

۱) حضرت مولانا گنگوہی کی صاحبزادی کا جب نکاح ہوا تو ان کے خاوند مولوی ابراہیم صاحب کے یہاں بالائی آمدنی میں کچھ احتیاط نہ تھی، حضرت کی صاحبزادی نے پہلے ہی دن ان سے صاف کہہ دیا کہ میں تمہارے گھر میں اس وقت تک کھانا نہ کھاؤں گی جب تک بالائی آمدنی سے تم توبہ نہ کرو گے، غرض ان اللہ کی بندی نے جاتے ہی خاوند سے توبہ کرائی اور عہد لیا کہ آیندہ سے کبھی رشوت نہ لی جائے۔

حضرت گنگوہی کی صاحب زادی  بہت زیادہ زاہدہ تھیں، یہ ان کا زہد ہی تو ہے کہ پہلے ہی دن خاوند کو رشوت سے روک دیا حالاں کہ اس وقت عورت کو روپیہ کا لالچ ہوا کرتا ہے خصوصاً اس کو جسے ماں باپ کے یہاں سے بھی رئیسانہ زیور کپڑا نہ دیا گیا ہو مگر اس کے باوجود ان کو دنیا کی بالکل حرص نہ ہوئی بلکہ دین کا خیال غالب ہوا۔

۲) اسی طرح کاندھلہ میں ایک بی بی تھیں، ان کے خاوند تحصیلدار تھے جن کے متعلق آبکاری کا انتظام تھا، (وہ بھی رشوت وغیرہ لیتے تھے) ان بی بی نے اپنے خاوند کی آمدنی کو ہاتھ تک نہیں لگایا، نہ اس سے زیور بنایا اور نہ کپڑا اور کمال یہ کیا کہ ملازمت کے مقام پر رہنے کے زمانہ میں غلہ اور نمک اور ہر چیز اپنے میکہ سے منگاتی تھیں اور شرافت  یہ کہ شوہر کو اطلاع تک نہیں کی کہ ان کو کہیں رنج نہ ہو۔

۳) ہمارے یہاں ایک کاندھلہ کی بی بی تھیں، ان کے شوہر کے یہاں کچھ زمین رہن تھی جس کی آمدنی وہ اپنے خرچ میں لاتے تھے مگر ان کی بیوی نے رہن ( گروی ) کی آمدنی سے ایک دانہ بھی نہ کھایا۔

۴) میں نے اپنے خاندان کے بزرگوں سے سنا ہے کہ میری والدہ مرحومہ نے سارا زیور اتار کر والد صاحب کے سامنے پھینک دیا تھا اور یہ فرمایا کہ یا تو اس کی زکوٰۃ،دو ورنہ اس کو اپنے پاس رکھو، میں نہ پہنوں گی۔ آخر مجبور ہو کر والد صاحب نے سب کی زکوٰۃ دی تب وہ زیور پہنا گیا۔ ذرا عورتیں اس طرح کرکے تو دیکھیں ان شاء اللہ خود بخود مردوں کی اصلاح ہوجائے گی۔  کیوں کہ جس طرح بعض دفعہ مرد سے عورت کی اصلاح ہوتی ہے، اسی طرح عورت سے بھی مرد کی اصلاح ہوتی ہے، اور زوجہ صالحہ ( نیک بیوی) تو وہی ہے جو مرد کو دین میں محتاط بنادے نہ یہ کہ پہلے سے بھی زیادہ اور بے احتیاط بنادے۔

(اسباب الغفلۃ ملحقہ دین و دنیا:۳۹۵)

شوہر کی تعظیم و خدمت میں کوتاہی

ایک کوتاہی عورتوں کی یہ ہے کہ وہ شوہر کی تعظیم اور ان کا ادب نہیں کرتیں اور یہ سخت بے حیائی ہے۔ بعض عورتیں شوہروں کی اطاعت و خدمت میں کمی کرتی ہیں، بعض عورتیں مرد کی خدمت ماماؤں ( نوکرانیوں) پر ڈال دیتی ہیں اور خود اس کے کاموں کا اہتمام نہیں کرتیں اور بعض عورتیں مردوں سے خرچ بہت مانگتی ہیں۔

بعض عورتیں مردوں سے ایسا برابری کا برتاؤ کرتی ہیں کہ گویا شوہر ان کے برابر کا بھائی ہے اور یہ بھی غنیمت ہیں، بعض جگہ تو عورتیں مردوں پر حکومت کرتی ہیں حالاں کہ شریعت میں شوہروں کی تعظیم کے متعلق سخت تاکید آئی ہے۔ حدیث میں صاف آیا ہے کہ اگر میں خدا کے سوا کسی کے لیے سجدہ کو جائز کرتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں۔ لیکن سجدہ توخدا کے سوا کسی کو جائز نہیں مگر اس سے یہ بات تو معلوم ہوگئی کہ شوہر کی کس درجہ تعظیم عورتوں کے ذمہ واجب ہے۔

بعض جگہ تو عورتیں مرد کو ذلیل بھی کرتی ہیں اور بعض جگہ مرد بھی ظالم ہوتے ہیں کہ وہ عورتوں کو بہت ذلیل رکھتے ہیں اور بعض جگہ دونوں طرف سے یہ برتاؤ ہوتا ہے، قیامت میں ان سب کا حساب ہوگا اور جس نے جس کی حق تلفی کی ہوگی اس سے انتقام لیا جائے گا، پس مردوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں کے حقوق کی رعایت رکھیں اور عورتیں کو مردوں کی تعظیم کرنی چاہیے اور ان کی اطاعت و فرماں برداری کا خیال رکھنا چاہیے۔

(الکمال فی الدین:۱۱۱، حقوق البیت:۴۷)

شوہر کی شان میں گستاخی و زبان درازی کا مرض

بعض عورتوں کی یہ عادت ہے کہ وہ خاوند سے زبان درازی سے پیش آتی ہیں، اس کے سامنے خاموش ہی نہیں ہوتیں، حتیٰ کہ بعض خاوند مارتے بھی ہیں، مگر یہ چپ نہیں ہوتیں۔

بعض جگہ عورتیں مردوں کو ذلیل کرتی ہیں اور یہاں تک کوشش ہوتی ہے کہ مناظرہ ( آپسی تکرار و گفتگو) میں بھی ہم غالب رہیں، جو بات شوہر کہتا ہے اس کا جواب ان کے پاس تیار رہتا ہے، کوئی بات بے جواب نہ چھوڑیں گی خواہ گوارہ ہو یا ناگوار، خواہ معقول ہو یا نا معقول، غرض عورتوں میں زبان درازی کا بڑا مرض ہے اور یہ ساری خرابی تکبر کی ہے، عورتیں یہ چاہتی ہیں کہ ہم ہاریں نہیں تاکہ ہیٹی نہ ہو چناں چہ  شوہر سے جھگڑ کر اپنی ہمجولیوں میں فخر کرتی ہیں کہ دیکھا ہم کیسا مرد کو بہکا کر آئی ہیں۔

حدیث میں سیدنا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر میں خدا کے سوا کسی کے لیے سجدہ کرنے کی اجازت دیتا تو عورت کو حکم کرتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ کیا ٹھکانہ ہے مرد کی عظمت کا کہ اگر خدا کے بعد کسی کے لیے سجدہ جائز ہوتا تو عورت کو مرد کے سجدہ کا حکم ہوتا، مگر اب عورتیں مردوں کی یہ قدر کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ زبان درازی اور مقابلہ سے پیش آتی ہیں۔

اے عورتو! خدا نے تم کو جیسا بنایا ہے ویسا ہی اپنے مرد سے چھوٹا سمجھو اور اس کے غصّہ کے وقت زبان درازی کبھی نہ کرو اس وقت خاموش رہو، اور جب اس کا غصّہ اتر جائے تو دوسرے وقت کہو کہ میں اس وقت نہ بولی تھی۔اب بتلاتی ہوں کہ تمہاری فلاں بات بے جا تھی یا زیادتی کی تھی۔اس طرح کرنے سے بات بھی نہ بڑھے گی اور مردوں کے دل میں تمہاری قدر بھی ہوگی۔

(حقوق البیت:۱۵، اصلاح النساء:۱۸۹)

 مردوں سے خوشامد کرانے اور نخرے کرنے کا مرض

عورتوں پر تعجب ہے کہ یہ مردوں سے بھی زیادہ حج کا ارادہ کرکے اپنے کو بڑا سمجھنے لگتی ہیں بلکہ آج کل عموماً ویسے بھی عورتوں میں بڑائی کا مادہ (عیب) زیادہ ہوتا ہے۔

بعض دفعہ تو یہ مردوں سے خوشامد کراتی ہیں ان کو شرم اور غیرت بھی نہیں آتی کہ مرد رات دن جان کھپاکر ان کے واسطے کما کر لاتے ہیں، کیا مردوں کی عنایت و بخشش کا یہی نتیجہ ہے کہ یہ مردوں کے سر چڑھیں، میں سچ کہتا ہوں کہ اگر عورتیں ذرا صبر وتحمل سے کام لیا کریں تو ان کو مردوں سے زیادہ ثواب ملے کیوں کہ یہ ضعیف اور کمزور ہیں، کمزوروں کا تھوڑا سا عمل بھی طاقتور آدمی  کے بہت سے اعمال سے بعض دفعہ بڑھ جاتا ہے مگر عورتوں میں جس قدر ضعف ( کمزوری) ہے یہ اسی قدر مردوں پر شیر ہوتی ہیں اور یہ مردوں کا تحمل ہے کہ ان کو سر چڑھا لیتے ہیں ورنہ ان کے سامنے عورتوں کی حقیقت ہی کیا ہے اگر مرد کو غصّہ آجائے تو ایک دن میں ان کو درست کرسکتا ہے، چناں چہ  سخت مزاج کے لوگ ایسا کر بھی لیتے ہیں۔

بزرگوں نے نقل کیا ہے کہ عاقل مرد پر عورت غالب ہوجاتی ہے مگر جاہل مرد ان پر غالب ہوتا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ عقل مند آدمی صبر و تحمل سے کام لیتا ہے اور جاہل تحمل نہیں کرتا اس لیے جاہلوں سے یہ خوب درست رہتی ہیں، بہرحال عورتوں کو تکبر کرنا بہت نازیبا ہے۔

(الصحایۃ ملحقہ سنت ابراہیم:۱۷/ ۱۳۷)

شوہر کو ناراض کرنا

۱) عورتیں اس میں بھی کوتاہی کرتی ہیں، شوہر کی ناراضگی ایسی چیز ہے کہ اس سے فرشتے لعنت کرتے ہیں، عورتوں کی عادت ہے کہ شوہروں کے سامنے زبان درازی بہت کرتی ہیں، بھلا اس کو اس طرح تکلیف پہنچانی چاہیے؟ اوّل تو ہر  وقت ہی اس کا مزاج دیکھ کر بات کہو، ایسی بات نہ کہو جو اس کو ناگوار ہو۔

۲) خاص طور پر جب وہ باہر سے گھر میں آئے اس وقت تو ضرور ہی پہلے اس کے مزاج کو دیکھ لو کہیں سے لڑ کر تو نہیں آیا، کسی وجہ سے غصّہ میں نہ ہو، مگر ان کو ذرا بھی صبر نہیں ہوتا، بس آتے ہی ٹانگ لیتی ہیں۔

۳) شوہر کے حق میں( اگر تم سے) گستاخی ہو جائے تو توبہ کرو اور اس سے معاف کراؤ، تم خاوند کو برابر کا دوست سمجھتی ہو اور اس کے ساتھ برابر کا برتاؤ کرتی ہو، یاد رکھو وہ جیسے دوست ہے حاکم بھی تو ہے دوست تو اس واسطے ہے تاکہ اس کے حقوق ادا کرسکو۔ کیوں کہ محبت میں جیسے حقوق ادا ہوسکتے ہیں بغیر محبت کے ادا نہیں ہوسکتے۔

شوہر کی غلطی اور بے جا غصّہ اور ناراضگی  کے وقت عورت کو کیا کرنا چاہیے؟

ایک عورت نے حضرت حکیم الامّت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لکھا کہ میرے شوہر صاحب مجھ سے کسی بات پر ناراض ہوجاتے ہیں تو میں منت سماجت کرکے منالیتی ہوں، تب آرام ملتا ہے، لیکن بعض اوقات اپنی غلطی دل کو نہیں لگتی، (بلکہ ان ہی کی غلطی ہوتی ہے) ایسے وقت معافی مانگنے کو جی نہیں چاہتا، حضرت ارشاد فرمائیں کہ ایسے وقت میں کیا کروں۔

حضرت نے ارشاد فرمایا:

’’خواہ غلطی سمجھو یا نہ سمجھو( ہر صورت میں اپنی غلطی کا اقرار کرکے معافی مانگ کر) شوہر سے پوچھ لیا کرو کہ غلطی ہے یا نہیں اگر وہ غلطی بتلائیں تو عذر کرلیا کرو۔

(الغرض شوہر کی ناراضگی کے وقت) اس کی خوشامد کرکے عذر معذرت کرکے جس طرح بنے اس کو منالو، چاہے تمہارا قصور نہ ہو شوہر ہی کا قصور ہو تب بھی ہاتھ جوڑ کر قصور معاف کرانے کو اپنا فخر اور اپنی عزت سمجھو۔

الغرض مرد کی واقعی غلطی اور بے جا غصّہ کے وقت بھی زبان درازی نہ کرو، اس وقت خاموش رہو اور جب اس کا غصّہ اتر جائے تو دوسرے وقت کہو کہ میں اس وقت نہ بولی تھی اب بتلاتی ہوں کہ آپ کی فلاں بات بے جا تھی یا زیادتی کی تھی، اس طرح کرنے سے بات نہ بڑھے گی اور مرد کے دل میں تمہاری قدر بھی ہوگی۔

اگر غصّہ میں شوہر تم کو برا بھلا کہے تو تم برداشت کرو اور بالکل جواب نہ دو۔ چاہے وہ کچھ کہے تم چپکی بیٹھی رہو، غصّہ اترنے کے بعد دیکھنا وہ خود شرمندہ ہوگا اور پھر کبھی ان شاء اللہ تم پر غصے نہ ہوگا اور اگر تم بول اٹھیں تو بات بڑھ جائے گی، پھر نہ معلوم نوبت کہاں تک پہنچے۔

(بہشتی زیور:۱۴)

بد زبانی و زبان درازی کا مرض

عورتوں میں قوت بیانیہ اور قوت استدلال نہیں ہوتی، مرد کے ساتھ جب ان کی گفتگو ہوتی ہے، وہ بے چارہ اس سے رنج ہی اٹھاتا ہے وہ تو مناظرہ رشیدیہ کے قانون سے گفتگو کرتا ہے اور یہ الٹی سیدھی ہانکے چلی جاتی ہیں۔ بس زبان چلائے جائیں گی خواہ ایک بات بھی موقع کی نہ ہو ان کا مرد بیچارہ ان کی زبان زوری دیکھ کر خاموش ہوجاتا ہے، مگر یہ کبھی خاموش نہیں ہوتیں، آخر یہ مناظرہ میں اس پر غالب آجاتی ہیں، اگر محض بولنے بک بک کرنے کا نام مناظرہ ہے ، تو گدھا بڑا مناظر ہے۔

ہماری عورتوں میں ایک تھوڑی سی کسر ہے اگر وہ مٹ جائے تو یہ سچ مچ کی حوریں بن جائیں گی، وہ کسر کیا ہے ان کی زبان نہایت خراب ہے ان کی زبان وہ اثر رکھتی ہے جیسے بچھو کا ڈنک۔ ذرا سی حرکت میں آدمی بلبلا جاتا ہے۔ ایک بزرگ نے اس کا خوب علاج کیا تھا ان سے ایک عورت نے شکایت کی کہ خاوند سے روز لڑائی رہتی ہے کوئی تعویذ ایسا دے دیجیے کہ لڑائی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک بوتل میں پانی لے آؤ میں پڑھ دوں گا، اس سے لڑائی نہ ہوگی، وہ بوتل میں پانی لائی اس نے اوپر کچھ جھوٹ موٹ پڑھ دیا اور فرمایا کہ جب شوہر گھر میں آیا کرے تو اس پانی کا ایک گھونٹ منہ میں لے کر بیٹھ جایا کرو، پھر لڑائی نہ ہوگی اس نے ایسا ہی کیا واقعی لڑائی ختم ہوگئی۔ پانی کا دم کرنا تو نام کے واسطے تھا اصل تدبیر یہ تھی کہ جب پانی منہ میں لے کر بیٹھ  جائے گی تو زبان قینچی کی طرح نہ چلے گی کیوں کہ لڑائی ہوتی تھی اس کی بدزبانی سے۔ اس لیے ان بزرگ نے اس  کے منہ بند کرنے کی یہ حکیمانہ تدبیر کی، اب بھی عورتیں اگر کسی طرح منہ بند کرلیں تو واقعی کبھی لڑائی نہ ہو۔

لوگ آج کل اس کے لیے تعویذ وغیرہ مانگتے پھرتے ہیں۔ سب واہیات (خرافات) ہیں ہاں اگر کوئی یہ عمل کرائے جو ان بزرگ نے کیا تھا تو اس کو تو میں بھی کردوں گا کہ بوتل میں پانی لائے اور جھوٹ موٹ پڑھ دوں گا اور جب میاں بیوی کی لڑائی شروع ہو بیوی پانی کا ایک گھونٹ منہ میں لے کر بیٹھ جائے، ان بزرگ کی تو چھو میں بھی کچھ اثر ہوگا یہاں چھو میں تو کچھ اثر ہے نہیں مگر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ لڑائی بند ہوجائے گی، خدا جانتا ہے کہ یہ بے مثل علاج ہے۔ یہ تو حکمت عملی تھی۔

اور دراصل بات یہی ہے کہ عورتوں کی بد زبانی بگاڑ کی جڑ ہے، یہ عیب عورتوں سے نکل جائے تو یہ سچ مچ حوریں بن جائیں۔

(التبلیغ:۷/۸۶، وعظ کساء النساء)

عورتوں کو ضروری تنبیہ

آج کل عورتوں کی حالت یہ ہے کہ یوں چاہتی ہیں کہ شوہر ہمارا غلام رہے۔ بس رات دن ہماری ہی عبادت کیا کرے۔ اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد یہ ہے کہ

وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ  اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ

(میں نے جنات اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔)

لیکن عورتوں کا مسلک یہ ہے کہ وَمَا خُلِقَ الْاَزْوَاجُ اِلَّا لِیُطِیْعُوْنَ ( شوہروں کو صرف اس لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ میری اطاعت کریں)

(وعظ الخضوع)

عورتوں کو چاہیے کہ شوہر کی اطاعت کیا کریں اس کا دل نہ دکھایا کریں۔

آج کل عورتیں اس کا ذرا بھی خیال نہیں کرتیں وہ باہر سے دن بھر محنت اور مشقت اٹھا کر گھر میں آرام کے واسطے آتا ہے۔ یہاں ایک محنت بیگم اس غریب کو ستانے کے لیے موجود ہیں، کوئی بات نصیحت کی کہی تو ایک طعن ( یا کوئی سخت کلمہ) بیچارے پر کس دیا اور اگر کچھ تیز ہوا تو فرماتی ہیں کہ میں کسی کی لونڈی یا باندی تو نہیں جو مجھ کو ایسا ایسا کہتے ہو۔

خدا کے لیے شوہر کا دل نہ دکھایا کرو۔ اس سے کوئی بڑی فرمایش نہ کیا کرو۔ اس کی کسی بات کو رد نہ کیا کرو۔ ( یعنی نافرمانی نہ کرو)

فرمایش اگر کوئی کیا کرو تو وقت دیکھا کرو آدمی کا دل ہر وقت یکساں نہیں رہتا جب دیکھو کہ اس وقت خاوند خوش ہے اس وقت ادب سے درخواست پیش کردیا کرو۔

شوہروں کو حقیر نہ سمجھو

اگر شوہر بے نمازی ہو اس کو بھی حقیر نہ سمجھو عورتوں میں ایک مرض یہ بھی ہے کہ اگر وہ خود نماز روزہ کی پابند ہوتی ہیں اور شوہر ان کا ایسا مل گیا جو آزاد ہے تو اس کو وہ بہت حقیر سمجھتی ہیں اور اگر خاوند انگریزی پڑھا ہوا ہے پھر تو اس کو وہ کافر اور اپنے آپ کو رابعہ بصری سے کم نہیں جانتیں، ہم نے مانا کہ وہ گناہ گار ہے لیکن علماء سے مسئلہ تو پوچھو ، دیکھو وہ کیا کہتے ہیں؟

یاد رکھو! اپنی ذات کے اعتبار سے خواہ وہ کیسا ہی ہو، لیکن تم پر ان کی اطاعت ہی واجب ہے اس لیے کہ وہ تمہارا  مالک اور حاکم ہے اور حاکم اگر فاسق بھی ہو تو رعایا پر اس کی اطاعت فرض ہے، اگر یزید جیسا بھی کوئی حاکم ہو اور اس کا حکم شرعی قاعدے سے ثابت ہوجائے تو اس کی بھی اطاعت ضروری ہے۔

پس تمہارا خاوند یزید سے تو زیادہ نہیں جب یزید کی اطاعت واجب ہے تو خاوند کی کیوں نہ ہوئی اس لیے کہ خاوند کا حاکم ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔

اس کے خاوند ہونے میں شبہ نہیں اس کے نکاح کے گواہ موجود ہیں، اس کا شوہر ہونا معلوم ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ تم اس کی اطاعت میں کوتاہی کرو، غرض زوجیت ( یعنی بیوی ہونا) اطاعت کا سبب ہے، وہ یزید سہی مگر تمہارا تو وہ بایزید ہے تم کو نافرمانی کا کیا حق ہے۔

ہاں اگر وہ نماز روزہ سے منع کرتا ہے تو اس میں اس کی اطاعت نہ کرے۔ لیکن نماز روزہ سے مراد بھی فرض نماز روزہ ہے، نفل نماز روزہ سے اس کی اطاعت مقدم ہے بلکہ فرائض کے متعلق بھی اگر وہ کہے کہ ذرا ٹھہر کر پڑھ لو اور وقت میں گنجایش ہے تو مؤخر کردینا چاہیے، ہاں اگر وقت مکروہ ہونے لگے تو اس وقت اس کا کہنا نہ مانے البتہ اگر وہ صریح کفر و شرک کا ارتکاب کرے، اس وقت کسی محقق عالم سے فتویٰ لے کر اس سے جدا ہوجائے، باقی فسق تک جب کہ وہ تم کو فسق کا حکم نہ کرے اس کی اطاعت کرو یہاں تک کہ اگر وہ یہ کہے کہ وظیفہ چھوڑ کر میری خدمت کرو تو وظیفہ (تسبیحات) چھوڑ دو مگر تم تو سمجھتی ہوگی کہ اس سے بزرگی میں فرق آجائے گا۔

اے عورتو! تم کو بزرگ بننا بھی نہ آیا ، بزرگی تو شریعت کی اتباع کا نام ہے، رائے کی اتباع کو بزرگی نہیں کہتے۔ جب تم کو خاوند کی اطاعت کا شریعت نے حکم دیا ہے، تو بس بزرگی اسی میں ہے کہ ان کی اطاعت کرو۔( وعظ الخضوع ملحقہ حقیقت عبادت:۳۱۶)

شوہر کی سفر سے واپسی کے وقت عورتوں کی کوتاہی

عورتوں میں ایک یہ بھی قاعدہ ہے کہ جب مرد سفر سے آئے تو اس کی لیاقت یہ ہے کہ ان کے واسطے کچھ سوغات( ادھر ادھر کے سامان وغیرہ) ضرور لے کر آئے اور جو رقم دے گیا تھا اس کا حساب وکتاب کچھ نہ دے اور اگر کوئی مرد حساب لیتا ہو کہ اتنا دے گیا تھا وہ کہاں خرچ ہوگیا تو اس پر فتویٰ لگتا ہے کہ یہ مرد بہت برا ہے اور ذرا ذرا سی چیز کا حساب لیتا ہے بس ان کے یہاں سب سے اچھا وہ ہے جو بالکل زن مرید (بیوی کا مرید) ہو جو بیوی نے کہا فوراً پورا کردیا اور رقم دے کر کچھ نہ پوچھے کہ تم نے کہاں خرچ کی۔ اور یہ ساری خرابی مال کی محبت کی بدولت ہے جو عورتوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

(اسباب الغفلۃ:۳۸۴)

شوہر کے مال میں تصرف

عورتیں بعض دفعہ خاوند کے مال میں تصرف کرتے ہوئے یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اجازت دے دے گا اور بعض دفعہ وہ خاموش بھی ہوجاتا ہے مگر بعض مرتبہ خوب خفا ہوتا ہے اور میاں بیوی میں خوب اچھی طرح تو تو میں میں ہوتی ہے۔ کانپور میں ایک دفعہ کسی بی بی نے مراد آباد کا حقہ ایک مدرسہ کے جلسہ میں عاریۃً دے دیا خاوند نے بے حد سختی کی۔

(اسباب الغفلۃ :۳۸۷)

غرض جب تک اجازت صراحۃً نہ ہو یا ظن غالب نہ ہو اس وقت تک عورتوں کو چندہ میں کچھ نہ دینا چاہیے۔

میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں چندہ کے بارے میں بہت سخی ہوتی ہیں، جہاں انہوں نے صدقہ کے فضائل کسی وعظ میں سنے اور زیور نکالنا شروع کیا۔یاد رکھو جو زیور خاص تمہاری ملک میں ہو اس میں سے دینے کا تو مضائقہ نہیں مگر جو زیور شوہر نے محض پہننے کے لیے دیا ہو اس کو چندہ میں دینا خاوند کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔ یہ تفصیل اس صورت میں ہے جب کہ خاوند کا مال دیا جائے۔ اور اگر خاص عورت ہی کا مال ہو تو اس میں خاوند کی اجازت کی ضرورت نہیں مگر اس سے مشورہ کرلینا چاہیے، البتہ اگر کوئی ایسی معمولی چیز ہو جس میں غالب احتمال اجازت کا ہو تو خیر کوئی حرج نہیں۔

(اسباب الغفلۃ:۳۸۷)

عورتوں کے مختلف امراض

ناشکری

ناشکری کا مادہ عورتوں میں بہت زیادہ ہے۔ حدیث میں بھی عورتوں کی اس صفت کا ذکر آیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار عورتوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ تَکْثُرَنَّ اللَّعْنَ وَتَکْفُرَنَّ الْعَشِیْرَ کہ لعنت  اور پھٹکار بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔

ایک حدیث میں ہے کہ اگر تم عورت کے ساتھ عمر بھر احسان و سلوک کرتے رہو پھر کبھی کوئی بات اس کے مزاج کے خلاف ہوجائے تو صاف یوں کہیں گی مَارَاَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ ، کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔ ساری عمر کے احسان کو ایک منٹ میں بھلا دیتی ہیں۔

(حقوق البیت:۴۹)

ناشکری کا مرض

عورتوں میں ناشکری کا مادہ زیادہ ہے اگر اللہ تعالیٰ ان کو ضرورت کے موافق سامان عطافرمادیں تو یہ اس کو غنیمت نہیں سمجھتیں نہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرتی ہیں۔ بلکہ ناشکری کرتی ہیں کہ ہائے ہمارے پاس ہے کیا، کچھ بھی نہیں۔ حدیث میں بھی ان کی اس صفت کا تذکرہ آیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناشکری کا مادہ عورتوں میں ہمیشہ سے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ مَا رَاَیْتُ مِنْکَ خِیْرًا قَطٌ

اگر تم کسی  عورت کے ساتھ عمر بھی اچھا برتاؤ کرتے رہو پھر کبھی ایک دفعہ کوئی خلاف مزاج بات دیکھ لے تو وہ یوں کہے گی کہ میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔

بس ذرا سی بات میں ساری عمر کے احسانات کو فراموش کرجاتی ہیں، جہاں کسی دن ان کو شوہر کے گھر میں کھانے پہننے کی تنگی ہوئی اور انہوں نے اس کو منہ پر لانا شروع کیا کہ اس نگوڑے کے گھر میں آکر میں نے ہمیشہ تنگی ہی دیکھی، ماں باپ نے مجھے جان بوجھ کر کنویں میں دھکا دے دیا، میں نے اس منحوس کے گھر میں کیا آرام دیکھا۔ غرض جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتی ہیں اور اس کا ذرا خیال نہیں کرتیں کہ آخر اسی گھر میں ساری عمر میں نے عیش برتا ہے مجھے اس کو نہ بھولنا چاہیے اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تکلیف کم ہی دکھلائی ہے اور زیادہ زمانہ عیش کا گزرا ہے۔

(الکمال فی الدین:۷۶)

چیزوں کے خریدنے میں اسراف اور شوہر کی ناشکری

ایک مرض عورتوں میں اور بھی ہے جو ناشکری کا شعبہ ہے کہ کوئی چیز خواہ کار آمد ہو یا نکمی ہو پسند آنا چاہیے۔ بے سوچے سمجھے اس کو خرید لیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ خریدی ہوئی چیز کام آہی جاتی ہے۔

اور یہ عادت ناشکری کا شعبہ اس لیے ہے کہ اس میں شوہر کے مال کو برباد کرنا ہے۔ خود اپنے مال کو برباد کرنا بھی ناشکری ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا

بے شک بے موقع مال اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

اور جب مال بھی دوسرے کا ہو تو کفرانِ حق کے ساتھ کفرانِ شوہر بھی ہے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ کی ناشکری کے ساتھ شوہر کی بھی ناشکری ہے) مومن کا قلب تو زیادہ بکھیڑے سے گھبرانا چاہیے گو اسراف ( فضول خرچی) بھی نہ ہو اور بے ضرورت کوئی چیز خریدنا تو صریح اسراف میں داخل ہے۔ حدیث میں ہے نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ اِضَاعَۃِ  الْمَالِ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کے ضایع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

آج کل گھروں میں خصوصاً بڑے گھروں میں بہت زیادہ اسراف ہوتا ہے۔ برتن ایسے خریدے جاتے ہیں جو قیمت میں تو بہت زیادہ لیکن مضبوط خاک بھی نہیں، ذرا ٹھیس لگ جائے چار ٹکڑے ہوجائیں  اور پھر ضرورت سے بھی زائد، بعض گھروں میں اس کثرت سے شیشے چینی وغیرہ کے برتن ہوتے ہیں کہ عمر بھر ان کے استعمال کی نوبت نہیں آتی۔ اس طرح کپڑوں میں بھی بہت اسراف ہے۔

(اصلاح النساء:۱۸۴)

اسراف اور فضول خرچی

اور ایک کوتاہی عورتیں یہ کرتی ہیں کہ خاوند کے مال کو بڑی بے دردی سے اڑاتی ہیں، خاص کر بیاہ شادی کی خرافات و رسموں میں اور شیخی کے کاموں میں بعض جگہ تو مرد و عورت دونوں مل کر خرچ کرتے ہیں اور بعض جگہ صرف عورتیں ہی خرچ کی مالک ہوتی ہیں۔ پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرد رشوت لیتا ہے یا مقروض ہوتا ہے، تو زیادہ تر جو مرد حرام آمدنی میں مشغول ہوتے ہیں اس کا بڑا سبب عورتوں کی فضول خرچی ہے۔

(حقوق البیت:۵۲)

الغرض عورتوں میں یہ بڑی کوتاہی ہے کہ وہ اسراف ( فضول خرچی) بہت کرتی ہیں، بس یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم کو تو کمانا نہیں پڑتا ہم جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ مرد اپنے آپ کما کر لائے گا، بعض جگہ مامائیں ( نوکرانیاں) خوب گھر لوٹتی ہیں اور یہ خبر نہیں لیتیں،یاد رکھو! شوہر کے مال کی نگہبانی عورتوں کے ذمہ واجب ہے اس کو اس طرح رائیگاں کرنا جائز نہیں ، قیامت میں عورتوں سے اس کا بھی حساب ہوگا۔

(الکمال فی الدین:۱۱۳)

شادیوں میں فضول خرچی

خصوصاً شادیوں میں تو عورتیں بہت فضول خرچی کرتی ہیں۔ ان میں تو عورتیں ہی مفتی اعظم ہوتی ہیں، سارے کام انہیں سے پوچھ پوچھ کرکیے جاتے ہیں۔ مرد جانتے ہی نہیں کہ شادیوں میں کہاں خرچ کی ضرورت ہے کہاں نہیں، بس جس جگہ عورتیں خرچ کرنے کا حکم دیتی ہیں وہاں بلاچوں و چرا خرچ کیا جاتا ہے۔ اور عورتوں نے ایسے بے ڈھنگے خرچ نکال رکھے ہیں جن میں فضول روپیہ برباد ہوتا ہے، ان شادیوں کی بدولت بہت سے گھر تباہ وبرباد ہوگئے لیکن اب بھی لوگوں کو عقل نہیں آئی اور ان رسوم وغیرہ میں عورتوں کا اتباع نہیں چھوڑتے، اب بھی لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلیں۔ جب سارا گھر بار نیلام ہوجائیگا اس وقت شریعت کے موافق شادی کی سوجھے گی۔

صاحبو! شادیوں میں بہت اختصار کرنا چاہیے کہ بعد میں افسوس نہ ہو کہ ہائے ہم نے یہ کیا کیا ، اگر کسی کے پاس بہت زیادہ ہی رقم ہو تو اس کو اس طرح برباد کرنا مناسب نہیں بلکہ دین  دار کو کچھ رقم جمع بھی رکھنی چاہیے، اس سے دل کو اطمینان رہتا ہے۔

(الکمال فی الدین النساء:۱۱۲)

غمی کی رسموں میں کوتاہی اور فضول خرچی

ایک کوتاہی عورتوں میں یہ ہے کہ غمی کے موقعوں پر بھی بہت اسراف کرتی ہیں بھلا وہاں خرچ کا کیا موقع، وہ تو کوئی فخر کا موقع نہیں، بلکہ عبرت کا موقع ہے، مگر ان کے یہاں غمی میں بھی خاص بارات کا اہتمام ہوتا ہے، پھر حیرت تو ان جانے والیوں پر ہے کہ جہاں کسی کے گھر موت ہوئی اور یہ گاڑیاں لے کر اس کے گھر پہنچ گئیں، اب اس غریب پر ایک تو موت کا صدمہ تھا ہی۔ دوسرا یہ وبال سر پر آکھڑا ہوا کہ آنے والیوں کے کھانے کی فکر کرے، پان چھالیہ کا انتظام کرے۔ پھر اگر ذرا بھی کسی بات میں کوتاہی ہوگئی تو آنے والیاں طعنے دیتی ہیں کہ ہم گئے تھے، ہمیں پان بھی نصیب نہ ہوا۔ بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ یہ وقت تمہارے ناز و نخرے پورے کرنے کا تھا یا اس بیچاری پر مصیبت کا وقت تھا۔ مگر ان کی بلا سے ان کے نازونخرےکسی وقت کم نہیں ہوتے، حالاں کہ اس وقت یہ مناسب تھا کہ آنے والیاں اپنا دال آٹا ( بلکہ اس بیچاری کے لیے کھانا) ساتھ باندھ کر لاتیں، اور گھر والوں سے کہہ دیتیں  کہ اس وقت تم ہماری فکر نہ کرو تم خود مصیبت میں مبتلا ہو، جب کبھی خوشی کا موقع ہوگا ہماری خاطر مدارت کرلینا، باقی اس وقت تو ہم اپنا انتظام خود ہی کریں گے اور یہ تو بہت ہی سخت بے حیائی ہے کہ وہاں جاکر بھی اپنے سارے معمولات پورے کریں کہ نہ پان میں فرق آئے نہ چائے میں۔

(الکمال فی الدین:۱۱۲)

ضرورت اور فضول خرچی کی حدود

 ایک محترمہ نے حضرت حکیم الامّت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لکھا کہ حضرت اقدس ہمارے گھر میں کھانے پینے کی فراغت رہتی ہے، کئی عورتوں نے مجھ سے کہا کہ تم فضول خرچ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرمائیں کہ کس حد سے آگے بڑھنا اسراف کہلاتا ہے۔ جس سے انسان فضول خرچ بن جاتا ہے۔

حضرت نے ارشاد فرمایا:           

جزئیات کو تو صاحبِ معاملہ ہی سمجھ سکتا ہے، مگر اصولی طور پر اتنا کہا جاسکتا ہے کہ شروع میں ضروری خرچ پر اکتفا کرنے کی عادت ڈالنا چاہیے ، اب سمجھنا چاہیے کہ ضروری کسے کہتے ہیں، سو ضروری کا مطلب یہ ہے کہ اگر موقع پر خرچ نہ کریں تو کوئی نقصان لاحق ہو مثلاً کوئی تکلیف ہونے لگے جیسے کپڑے کی کمی سے سردی کی تکلیف یا موٹا کپڑا پہننے سے گرمی کی تکلیف ہو یا ابھی نہ ہو مگر آیندہ تکلیف ہو، یہ تو ضرورت کا ابتدائی درجہ ہے اس کی عادت ڈالنی چاہیے۔

(مکتوبات اشرفیہ بحوالہ نیک خاوند نیک بیوی:۱۲۰)

ضرورت کی تفصیل

الغرض تمام اخراجات اور سامانوںمیں اختصار کرو یعنی قدر ضرورت پر اکتفا کرو، پھر ضرورت کے بھی درجے ہیں۔ ایک یہ کہ جس کے بغیر کام نہ چل سکے، یہ مباح بلکہ واجب ہے، دوسرے یہ کہ ایک چیز کے بغیر کام تو چل سکتا ہے مگر اس کے ہونے سے راحت ملتی ہے اگر نہ ہو تو تکلیف ہوگی گو کام چل جائے گا مگر دقت سے چلے گا، ایسے سامان رکھنے کی اجازت ہے۔

ایک سامان اس قسم کا ہے کہ جس پر کوئی کام نہیں اٹکتا نہ اس کے بغیر تکلیف ہوگی مگر اس کے ہونے سے اپنا دل خوش ہوگا تو اپنا جی خوش کرنے کے واسطے بھی کسی سامان کے رکھنے میں بشرط وسعت مضایقہ نہیں ہے۔ یہ بھی جائز ہے۔

ایک یہ کہ دوسروں کو دکھانے اور ان کی نظر  میں بڑا بننے کے لیے کچھ سامان رکھا جائے، یہ حرام ہے۔

اور ضرورت وغیرہ کے یہ درجے ہر چیز میں ہیں، مکان میں بھی اور برتنوں میں بھی، ہر چیز کی ضرورت کا معیار یہ ہے کہ جس کے بغیر تکلیف ہو ضروری ہے اور اور جس کے بغیر تکلیف نہ ہو وہ غیر ضروری ہے، اب اگر اس میں اپنا جی خوش کرنے کی نیت ہو تو مباح ہے اور اگر دوسروں کی نظر میں بڑا بننے کی نیت ہو تو حرام ہے۔ اس معیار کے موافق عمل کرنا چاہیے۔

(التبلیغ:۴/۱۶۷)

فضول خرچی کی حد

اسراف (فضول خرچی) اس کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی مصلحت (فائدہ) نہ ہو، کھانے پینے میں وسعت کرنا بشرطیکہ کسی حد شرعی سے تجاوز لازم نہ آئے، اسراف میں داخل نہیں اور سامان خریدنے کے متعلق کہتا ہوں کہ جب کوئی چیز خریدنا چاہو تو پہلے سوچ لو کہ اس کی ضرورت ہے یا نہیں،اگر فوراً ضرورت ذہن میں آجائے تو خرید لو، اگر فوراً ضرورت ذہن میں نہ آئے تو نہ خریدو، کیوں کہ جس ضرورت کو آدھ گھنٹہ تک سوچ سوچ کر پیدا کیا جائے وہ ضرورت نہیں اور اگر دل میں بہت ہی تقاضا اس سامان کے خریدنے کا ہو تو خرید لو اور اطمینان سے بیٹھ کر سوچتے رہنا اگر اسراف ہونا معلوم ہو تو خیرات کر دینا، ورنہ استعمال کرلینا۔

دوسروں کے کپڑے دیکھ کر خود اسی طرح کے کپڑے بنوانا

ایک عورت نے لکھا کہ حضرت اقدس میرا دل چاہتا ہے کہ اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنا کروں۔ اللہ تعالیٰ نے دے بھی رکھا ہے اور نیت بھی یہ ہوتی ہے کہ میرے شوہر خوش رہیں اور میرے شوہر بھی یہ چاہتے ہیں۔

مگر مرض یہ ہے کہ جب کسی عورت کو عمدہ کپڑے پہنے دیکھتی ہوں تو دل یہ چاہتا ہے، مگر کبھی فرمایش بھی کردیتی ہوں اور پھر مل بھی جاتا ہے اگر یہ مرض ہو تو علاج ارشاد فرمائیں۔

فرمایا: زینت اختیار کرنے کے درجات ہیں افراط و تفریط ( یعنی کمی و زیادتی) مذموم ہے اور اعتدال ( یعنی درمیانی طریقہ) محمود اور پسندیدہ ہے، صورتِ مذکورہ میں اعتدال یہ ہے کہ کسی کو دیکھ کر اس وقت مت بناؤ اگر توقف سے( یعنی وقت گزر جانے کے بعد ذہن سے نکل جائے، توفبھا،( بہت اچھا) اور اگر نہ نکلے تو جس وقت کپڑوں کے بنانے کی ضرورت ہو، اس وقت بنالو، اگر اتفاقاً نہ مل سکیں تو جانے دو اور اگر دیکھو کہ اتنی مدت تک ( انتظار کرنے سے طبیعت) مشغول رہے گی، پسند کے وقت خرید کر رکھ لو مگر بناؤ مت، بناؤ اس وقت جب نئے کپڑوں کے بنانے کی ضرورت ہو تا کہ اس کے عوض کا کپڑا بچ جائے اور اگر تمہارے شوہر تم کو جیب خرچ بھی دیتے ہیں، تو ایسا کپڑا اپنی جیب خرچ کی رقم سے خریدو تاکہ نفس حدود میں رہے۔

(کمالات اشرفیہ:۹۷)

تکبر

تکبر انسان کو تمام فیوض و برکات سے محروم کردیتا ہے یہی تو وہ بلا ہے جس کی وجہ سے شیطان مردود ہوا۔ ہمارے اندر تکبر گھسا ہوا ہے اسی واسطے ہم کمال دین سے محروم ہیں اور عورتوں میں یہ مرض بہت ہے اوّل تو ان میں دین دار بہت ہی کم ہیں اور جو دین دار ہیں وہ بھی اپنے کو نہ معلوم کیا سمجھتی ہیں جس کا سبب یہ ہے کہ عورتیں کم حوصلہ والی ہوتی ہیں اور ذرا سی بات میں تکبر کرنا اور بڑائی کرنا کم حوصلہ آدمی کا کام ہے۔

ایک عورت بڑی نمازن تھی اتفاق سے اس کی شادی داڑھی منڈے بے نمازی سے ہوگئی۔ تو وہ کیا کہتی ہے کہ اللہ رے تیری شان! ایسی پارسا عورت ایسے بے دین سے بیاہی گئی، گویا اسے نعوذ باللہ خدا پر اعتراض تھا کہ خدا تعالیٰ کے یہاں کچھ ضابطہ نہیں جوڑے جوڑ کر نہیں دیکھتے، استغفراللہ، ارے تم کو کیا خبر ہے کہ کس کا خاتمہ اچھا ہو؟ خدا تعالیٰ کس کو بخشے اور کس کو جہنم میں بھیج دے۔ کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ اس بے نمازی کو کس ادا پر بخش دے اور تم کو اس تکبر کی وجہ سے دوزخ میں ڈال دے، اوّل تو خاتمہ کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ دوسرے جن اعمال پر تم کو ناز ہے کیا خبر ہے وہ قبول بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔ گو امید تو یہی رکھنی چاہیے کہ قبول ہوئے ہیں، مگر وحی بھی نہیں آئے گئی اس لیے ڈرتے رہنا چاہیے اور کبھی اپنے اعمال پر ناز نہ کرنا چاہیے نہ دوسروں کو حقیر سمجھنا چاہیے، کیوں کہ اس سے اندیشہ ہے اعمال کے برباد ہوجانے کا۔

(الکمال فی الدین النساء:۱۹)

آج کل یہ خبط ( اور عام مرض) ہوگیا کہ تھوڑا سا کمال ہوجاتا ہے تو اپنے کو بڑا سمجھنے لگتے ہیں اور عورتوں میں یہ مرض زیادہ ہے، اگر کوئی عورت ذرا نماز اور تلاوت کی پابند ہوجاتی ہے تو اپنے کو رابعہ سمجھنے لگتی ہے اور ہر ایک کو حقیر سمجھتی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کی کسی نے تربیت تو کی نہیں، کتابیں پڑھ پڑھ کر دین دار ہوجاتی ہیں۔ بس ان کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی طب( ڈاکٹری) کی کتابیں دیکھ کر دوائیں کھانے یا بنانے لگے، اس سے بجائے نفع کے ضرر غالب ہوگا، جب تک طبیب کی رائے سے دوا نہ کھائے کچھ نفع نہ ہوگا، اسی طرح چوں کہ  عورتوں کے اخلاق کی تربیت نہیں ہوتی اور کسی مربی (تربیت کرنے والے) سے رجوع نہیں کرتیں اور جو کچھ سمجھ میں آتا ہے کر لیتی ہیں اس لیے اپنے کو باکمال سمجھنے لگتی ہیں۔

ایک لڑکی کا کسی شخص سے نکاح ہوا۔ وہ لڑکی نماز روزہ کی پابند تھی اور شوہر اتنا پابند نہ تھا اور آوارہ سا تھا۔ تو وہ لڑکی کہتی ہے کہ افسوس میں ایسی پرہیز گار اور ایسے شخص کے جال میں پھنس گئی میری قسمت ڈوب گئی حالاں کہ بے وقوف یہ نہیں سمجھتی کہ اگر ہم نے نماز پڑھی، روزہ رکھا، تلاوت کی تو اپنا کام کیا دوسرے پر کیا احسان کیا، کوئی دوائی پی کر فخر کرتا ہے کہ میں بڑا بزرگ ہوں۔ دوا پیتا ہوں؟ اسی طرح یہ سب طاعات ہیں کہ ان میں اپنا ہی نفع ہے، اگر خدا کی نعمتوں کو دیکھا جائے تو درحقیقت ہماری نماز روزہ کچھ بھی نہیں اور جہاں ہزاروں انبیاء، اولیاء اور ملائکہ کی عبادت کے ذخیرے اور ڈھیرکے ڈھیر موجود ہوں ان کے مقابلے میں ہمارے روزہ نماز کی مثال ایسی ہے جیسے کہ جواہرات کے سامنے مٹی کے کھلونے تو حقیقت میں حق تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہماری ایسی عبادتوں کو قبول فرمالیتے ہیں،یہ محض حق تعالیٰ کی رحمت ہے کہ ہماری ناقص عبادت کو بھی عبادت شمار کرلیا،یہ محض فضل ہے پھر ایسی عبادت پر خوش ہونا اور فخر کرنا جہالت ہے، اور اس فخر و کبر کا منشاء بھی جہالت ہے اور جس قدر کم عقل ہوتی ہے یہ مرض کبر کا زیادہ ہوتا ہے، چناں چہ  مردوں کے مقابلے میں یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

(اصلاح النساء:۱۸۷)

تکبر اور بدتہذیبی

عورتوں پر بہت تعجب ہے یہ حج کا ارادہ کرکے مردوں سے بھی زیادہ اپنے کو بڑا سمجھنے لگتی ہیں بلکہ آج کل عموماً ویسے بھی عورتوں میں بڑائی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے، بعض دفعہ عورتیں مردوں سے خوشامد کراتی ہیں ان کو غیرت اور شرم بھی نہیں آتی کہ مرد رات دن جان کھپاتے، ان کے واسطے کماکر لاتے ہیں، کیا مردوں کی عنایت کا یہی نتیجہ ہے کہ یہ مردوں کے بھی سر چڑھیں۔

یہ سچ کہتا ہوں کہ اگر عورتیں ذرا صبر و تحمل سے کام کریں تو انہیں مردوں سے بھی زیادہ ثواب ملے کیوں کہ یہ ضعیف اور کمزور ہیں، ضعیفوں کا تھوڑا سا عمل بھی طاقتور آدمی کے بہت سے اعمال سے بعض دفعہ بڑھ جاتا ہے مگر عورتوں میں جس قدر ضعف ہے اسی قدر مردوں پر شیر ہوتی ہیں اور یہ مردوں کا تحمل ہے کہ انکو سر چڑھا لیتے ہیں ورنہ ان کے سامنے عورتوں کی حقیقت ہی کیا ہے، اگر مرد کو غصّہ آجائے تو ایک ان میں ان کو درست کرسکتا ہے، چناں چہ  سخت مزاج کے لوگ ایسا کربھی لیتے ہیں۔ بزرگوں نے نقل کیا ہے عقل مند آدمی پر تو عورتیں غالب آجاتی ہیں مگر جاہل مرد ان پر غالب ہوجاتے ہیں اس کا راز یہی ہے کہ عقل مند تحمل و صبر سے کام لیتا ہے اورجاہل تحمل نہیں کرتا اس لیے جاہلوں سے یہ خوب درست ہوجاتی ہیں۔ بہرحال عورتوں کو تکبر کرنا بہت نازیبا ہے۔

(الحج المبرور، التبلیغ:۲/۱۲۶)

تکبر اور خود پسندی کا علاج

ایک عورت نے حضرت حکیم الامّت تھانوی کی خدمت میں ایک خط میں تحریر کیا کہ:

’’والدین کے گھر سے گئی تو وہاں اکثر مردوں اور عورتوں کو بے نمازی پایا اور میں باقاعدہ نماز پڑھتی تھی، بہت دفعہ دل میں خیال آتا تھا کہ میں ان بے نما زی مردوں اور عورتوں سے اچھی ہوں یہ لوگ فضول وقت ضایع کرتے ہیں،میں عبادت کرلیتی  ہوں، حضرت ارشاد فرمائیں کہ کیا کروں تاکہ دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے کا عیب دور ہو‘‘۔

حضرت حکیم الامّت تھانوی نے جواب ارشاد فرمایا:

’’اس میں تو انسان مجبور ہے کہ اپنے نمازی ہونے کا اور ان کے بے نمازی ہونے کا خیال آئے لیکن وہ اس میں مجبور نہیں کہ وہ یوں سوچے کہ گو میں نمازی ہوں اور یہ بے نمازی ہیں مگر یہ ضروری نہیں ہر نمازی بے نمازی سے اچھا ہو، ممکن ہے بے نمازی کے پاس کوئی ایسا نیک عمل ہو اور نمازی کے پاس ایسا کوئی برا عمل ہو جس سے مجموعی طور پر بے نمازی اس نمازی سے افضل ہو‘‘۔

دوسرے ممکن ہے کہ انجام میں ( یعنی آیندہ چل کر) یہ نمازی بے نمازی ہو جائے اور بے نمازی نمازی ہوجائے، بہرحال بے نمازی کے اللہ کے نزدیک افضل ہونے کا احتمال ہے پھر اپنے کو افضل سمجھنے کا کیا حق ہے؟ البتہ نماز ایک نعمت ہے جو حق تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھ کو عطا فرمائی ہے اور بے نمازی ہونا ایک مرض ہے جس میں یہ بے نمازی مبتلا ہے تو جس طرح صحت والے کو شکر کرنا واجب ہے اور مریض کو حقیر سمجھنا جائز نہیں بلکہ اس پر رحم کرے اور اس کی صحت کے لیے دعا کرے، اسی طرح مجھ کو بھی چاہیے کہ ( اپنی عبادت پر اللہ کا شکر ادا کروں) اور مریض کی حالت پر رحم کروں( یعنی اس کی ہدایت کی دعا و کوشش کرے۔)

اس طرح بار بار خیال کرنے سے یہ مرض جاتا رہے گا، اس طرح سوچنا اختیاری بات ہے اس اختیار سے کام لینا چاہیے۔

(مکتوبات اشرفیہ بحوالہ نیک خاوند نیک بیوی)

تواضع کی ضرورت اور اس کے حاصل کرنے کا طریقہ

تم یہ سمجھو کہ حضرت مریم علیہا السلام تو بزرگی میں زیادہ ہی تھیں، اتنے کمالات کے باوجود پھر بھی ان کو یہ حکم ہے کہ اے مریم! تواضع اختیار کرو اپنے رب کے سامنے اور سجدہ کرو۔

مطلب یہ ہے کہ دل کو بھی مشغول رکھو اور اعضاء کو بھی یعنی نماز پڑھو چوں کہ  نماز کے تمام ارکان میں سے بڑا تصور سجدہ ہے اسی لیے اس کی تخصیص فرمائی اور وَارۡکَعِیۡ مَعَ  الرّٰکِعِیۡنَ میں یا تو رکوع مراد ہے اور یا لغوی معنی ہیں اور میں دوسرے احتمال پر تفسیر کرتا ہوں پس مطلب یہ ہوگا کہ جھکو یعنی عاجزی کرو۔ اس کے بڑھانے سے اشارہ اس طرف ہے کہ سب کچھ کرو مگر اپنے کو پست خیال کرو۔ خدا کے سامنے کمزور سمجھو، اور وَارۡکَعِیۡ مَعَ  الرّٰکِعِیۡنَ کے بڑھانے میں یہ نکتہ ہے کہ تواضع کے حاصل ہونے کا طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کے حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تواضع کرنے والوں کے ساتھ رہو، یعنی نیک صحبت اختیار کرو صحبت صالحہ اخلاق کی درستی کا عمدہ ذریعہ ہے۔ بغیر صحبت کے اخلاق کی درستگی نہیں ہوتی۔

اور چوں کہ  عورتوں کو ایسا موقع بہت کم ملتا ہے اسی واسطے ان کے اخلاق عموماً درست نہیں ہوتے، پس ان کو نیک صحبت کی بہت ضرورت ہے۔ مردوں کے لیے تو اس کا سہل طریقہ یہ ہے کہ بزرگوں کی خدمت میں جاکر رہیں سو یہ عورتوں سے نہیں ہوسکتا ہے اور مناسب بھی نہیں اس لیے کہ اوّل تو ان کے گھر کے مشاغل اس قدر ہیں کہ اتنی فرصت ان کو نہیں مل سکتی، دوسرے ان کی وضع کے بھی خلاف ہے البتہ عورتوں میں اگر کوئی عورت بزرگ اور خدا رسیدہ ہو تو ان کی خدمت میں رہیں لیکن عورتوں میں ایسی بہت کم ہیں۔

تاہم اگر ایسا موقع میسر ہو تو ان کے پاس بیٹھو لیکن یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر ان کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ بزرگوں کے تذکرے اور ان کی حکایتیں دیکھا کریں، نمونہ کے چند حکایتیں اہل تواضع کی بیان کی جاتی ہیں۔

(الخضوع حقیقت عبادت:۳۲۰)

تواضع سے متعلق ( چند بزرگوں) کی حکایتیں

۱) حضرت اسماعیل شہید بہت تیز مزاج مشہور تھے۔ ایک شخص آزمانے کے لیے آیا، اس وقت مولانا عام مجمع میں تشریف رکھتے تھے۔ اس نے پکار کر کہا کہ مولانا میں نے سنا ہے کہ آپ حلال کی پیدایش نہیں ہیں۔ ( یعنی حرامی ہیں ) حضرت مولانا کے اندر ذرا بھی تغیر نہ آیا (غصّہ نہ ہوئے) اور ہنس کر فرمایا کہ آپ سے کسی نے غلط روایت کیا ہے میرے ماں باپ کے نکاح کے گواہ اب تک موجود ہیں۔

۲) حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث دہلوی سہارنپوری بیٹھے ہوئے حدیث کا درس دے رہے تھے ایک شخص نے سامنے آکر برا بھلا کہنا اور گالیاں دینا شروع کیں۔ شاگرد بگڑے اور چاہا کہ اس کی خبر لیں۔ مولانا نے سب کو منع فرمایا اور یہ فرمایا کہ جو کچھ یہ کہتا ہے سب تو غلط نہیں ہے کچھ تو سچ بھی ہے۔

(الخضوع حقیقت عبادت:۳۲۱)

۳) حضرت گنگوہی ایک دفعہ حدیث کا سبق صحن میں پڑھارہے تھے کہ اتنے میں بارش ہونے لگی سب طلباء کتابیں لے کر مکان کے اندر بھاگے۔ مولانا نے کیا کیا کہ سب لڑکوں کی جوتیاں جمع کررہے تھے کہ اٹھا کر لے چلیں لوگوں نے دیکھا کہ یہ حالت ہے تو مارے شرم کے کٹ گئے۔

سبحان اللہ! نفس کا تو ان لوگوں میں شائبہ بھی نہ تھا۔

(حسن العزیز:۴/۲۳۷)

۴) ایک شخص ایک بزرگ کے سامنے سے اکڑتا مکڑتا ہوا گزرا۔ ان بزرگ نے فرمایا کہ اترا کر مت چل اللہ تعالیٰ ایسی چال کو پسند نہیں کرتا۔ وہ شحص بہت بگڑا اور کہا کہ جانتے نہیں میں کون ہوں ان بزرگ نے فرمایا کہ جانتا ہوں کہ تیری ابتدا تو یہ ہے کہ تو ایک گندہ پانی ہے۔ (یعنی تو ناپاک قطرہ تھا جس سے پیدا ہوا ہے) اور انتہا تیری یہ ہے کہ تو مردہ ریزہ ریزہ ہے۔ اور درمیانی حالت یہ کہ تو پاخانہ کا بوجھ اپنے پیٹ میں اٹھا رہا ہے۔

واقعی ہم لوگوں کی حقیقت یہی ہے اب ہم مجلس میں یہاں بڑے معزز بنے بیٹھے ہیں ابھی اگر پیٹ پھٹ جائے یا پیٹ میں ایک سوراخ کھل جائے تو بدبو کی وجہ سے یہاں لوگوں کا بیٹھنا دشوار ہوجائے گا۔ معتقدین کا سارا اعتقاد رخصت ہوجائے گا۔ ہم کو اس کا خیال نہیں ورنہ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو ہم میں سے ہر ایک کی حالت یہ ہے کہ ایک ایک کے پیٹ میں کم از کم دو تین سیر نجاست موجود ہے اتنا بڑا عیب تو لیے پھرتے ہیں پھر بھی اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں۔ کتنی بڑی حماقت اور جہالت ہے۔ یوں نہ سمجھو کہ ہم بڑے ہیں بلکہ یوں سمجھو کہ ہم سڑے ہیں۔ ایسی ایسی حکایتیں دیکھا کرو۔ پھر انشاء اللہ فخر کا دعویٰ نہ رہے گا۔

بعض دفعہ عورتوں کو نماز کی تاکید کی جاتی ہے تو کہتی ہیں کہ ہم کو فرصت کہاں۔ تم تو مرد ہو نہ بچوں کا ساتھ نہ برتن ہانڈی کا کام، ہمارا تو بچوں کا ساتھ ہے برتن ہانڈی میں ہاتھ رہتے ہیں۔ کپڑے ناپاک رہتے ہیں ہم نماز کیسے پڑھیں اور فرصت تو ملتی نہیں۔ استغفراللہ ان سے کوئی پوچھے کہ جب چار عورتیں جمع ہوکر دنیا بھر کے قصے لے بیٹھتی ہیں اور باتوں میں گھنٹوں مصروف رہتی ہیں اس وقت ان فضول قصوں کے لیے کہاں سے وقت نکل آتا ہے ۔ باقی کپڑوں کے ناپاک رہنے کا عذر بھی بالکل بے ہودہ ہے، اگر ایک جوڑا نماز کے لیے الگ کردیا جائے تو کچھ مشکل نہیں۔

فصل: مکاری اور چالاکی کا مرض

عورتوں میں چالاکی اور مکاری کا مرض ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت تم صدقہ دو! اس لیے کہ مجھے دکھلایا گیا ہے اہل دوزخ میں تم سب سے زیادہ ہو۔ عورتوں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ تم لعنت و ملامت بہت کرتی ہو۔ اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ ہوشیار مرد کی عقل سلب (چھیننے) کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔

عورتوں میں چالاکی اور مکاری کا مرض ہے۔ بڑے سے بڑے ہوشیار مرد کی عقل کو سلب کرلیتی ہیں۔چناں چہ  دیکھا جاتا ہے کہ یہ ایسی اتار چڑھاؤ کی باتیں کرتی ہیں کہ اچھے خاصے عقل مند بے عقل ہوجاتے ہیں۔ ان کے لہجہ میں خلقتاً (پیدایشی طور پر) ایسا اثر رکھا گیا ہے کہ خواہ مخواہ مرد اس سے متأثر ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ عقل میں مردوں سے زیادہ ہیں بلکہ اس کی وجہ ہے کہ مکر اور چالاکی ان میں زیادہ ہوتی ہے۔ عقل اور شے ہے، مکر اور چالاکی دوسری شے ہے۔ شیطان میں مکر اور چالاکی تھی عقل نہ تھی اسی واسطے دھوکا کھایا۔

غرض عقل اور شے ہے، چالاکی اور مکر اور چیز۔ عقل محمود (پسندیدہ) ہے اور اس کا نہ ہونا مذموم (عیب ہے) چالاکی مذموم (بری عادت) ہے اس کا نہ ہونا پسندیدہ ہے۔ شریعت میں بھی یہ پسند نہیں کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے  کیوں کہ یہی مکر ہے۔ اسی طرح یہ بھی کمال نہیں کہ اپنے کو نقصان سے نہ بچائے  کیوں کہ یہ کم عقلی ہے۔

غرض کہ عورتوں میں چالاکی اور مکر ہے عقل نہیں۔ اس چالاکی اور مکر کی وجہ سے عقل مند کی عقل کو سلب کرلیتی ہیں،چناں چہ  تنہائی میں ایسی باتیں کرتی ہیں جس سے شوہر کا دل اپنی طرف ہوجائے اور سب چھوٹ جائے۔ بیاہ کے بعد گھر آتے ہی سب سے پہلے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ شوہر ماں باپ سے چھوٹ جائے۔ یہ بہت ظلم کی بات ہے۔

(اصلاح النساء:۱۸۸)

زیادہ بولنے کا مرض

حدیث شریف میں ہے۔ مَنْ سَکَتَ سَلِمَ جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ واقعی زیادہ گناہ ہم لوگوں سے اس زبان ہی کی بدولت ہوتے ہیں۔ خصوصاً عورتوں کو اس قدر بولنے کا شوق ہوتا ہے کہ جب بیٹھیں گی تو باتوں کا وہ سلسلہ چلائیں گی کہ ختم ہی نہیں ہوگا۔ خدا جانے ان کی باتیں اتنی لمبی کیوں ہوتی ہیں اور جب یہ باتوں میں مشغول ہوجاتی ہیں تو ان کی حالت دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ باتوں ہی کو اصلی مقصود سمجھتی ہیں۔ وہ مزے لے لے کر باتیں کرتی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ ترس ترس کر ان کو دولت ملی ہے بخلاف مردوں کے، کہ ان کی باتوں اور تمام کاموں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ختم کرکے وہ دوسرے کام میں لگنا چاہتے ہیں۔ خدا کے واسطے اپنی عقل درست کرو۔

(الدنیا:۱۰۱)

یاد رکھو! زیادہ بولنے سے کوئی عزت نہیں ہوتی عزت اسی عورت کی ہوتی ہے جو خاموش رہے۔ اگر خاموش ہوکر ایک جگہ بیٹھ کر اللہ کا نام لے (تسبیح پڑھے) تو اس کی بڑی قدر و قعت ہوتی ہے۔ مگر باتیں کرنے کی جن کو عادت ہوجاتی ہے یہ کیسے چھوٹ سکتی ہے خواہ ذلت و رسوائی ہو۔ کوئی ان کی بات بھی کان لگاکر نہ سنے لیکن ان کو اپنی ہانکنے سے کام۔

(یعنی بعض عورتوں کو باتیں کرنے کی) عادت پڑ جاتی ہے جیسے نمرود کو جوتیاں کھانے کی عادت پڑ گئی تھی۔

قصہ یہ ہوا تھا کہ جب نمرود نے خدائی کا دعویٰ کیا اور ابراہیم علیہ السلام نے اس کو بہت سمجھایا مگر نہ مانا اور برابر سرکشی کرتا رہا اور یہ کہا کہ اگر تو  سچا ہے تو اپنے خدا کا لشکر منگا لے۔ وہ جانتا تھا کہ ان کا مددگار ہے کون اور اپنے لشکر پر گھمنڈ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وحی کے واسطے اس کو اطلاع دی کہ فلاں دن خدائی لشکر آئے گا تیار ہوجاؤ چناں چہ  اس نے لشکر کو مہیا کیا اور خیال کرتا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ ہی خیال ہے چناں چہ  تھوڑی دیر میں مچھروں کا ایک غول ایک جانب سے آیا اور ایک ایک مچھر نے ہر سپاہی کے دماغ  میں گھس کر اس کا کام تمام کردیا(یعنی ہلاک کردیا)۔ نمرود یہ منظر دیکھ کر محل میں گھس گیا۔ ایک لنگڑا مچھر آکر اس کی ناک میں گھس گیا اور دماغ پریشان کردیا اگر سر میں جوتا لگتا تھا تو کچھ چین آجاتا تھا۔ چناں چہ  جو آتا تھا بجائے سلام کرنے کے چار جوتیاں اس کے سر پر مارتا تھا۔ حق تعالیٰ نے دکھلا دیا کہ تیری شوکت اور قدرت بس اتنی ہی ہے کہ ایک مچھر نے، اور وہ بھی لنگڑا اس نے تجھے پریشان کر ڈالا۔

اسی طرح جو مرد اور عورتیں دین سے رشتہ چھوڑ کر اپنی خواہشات نفسانی اور خرافات میں مبتلا ہیں اور اس حالت میں وہ خوش ہیں خدا کی قسم! یہ جوتیاں کھانا ہے۔

بعض مردوں کو بھی میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فراغت (خالی وقت دیا) ہے مگر وہ اس کی قدر نہیں کرتے بس رات دن یہ مشغلہ ہے کہ کسی دوکان (ہوٹل وغیرہ) میں بیٹھ گئے اور کسی کی غیبت کرلی، کسی کے حسب نسب میں طعن کردیا، کسی کو صلاح دے دی، کسی کو بڑھادیا کسی کو گھٹا دیا۔ ان سے کوئی پوچھے کہ اگر تم یہ باتیں نہ کرو تو تمہارا کون سا کام اٹکا ہوا ہے اور اس سے کسی اور کا کچھ نقصان نہیں اپنی ہی زبان اور دل گندہ کرتے ہیں اور بعض عورتیں تو (شیطانوں والے کام) خود بھی کرتی ہیں اور دوسروں کو بھی سکھلاتی ہیں۔

(الدنیا)

بد گمانی

عورتوں میں بدگمانی کامادہ بہت ہے۔ تقریبات (شادیوں) کے ہنگامہ میں بعض دفعہ عورتیں زیور کو نکال کر موقع بے موقع ڈال دیتی ہیں پھر اس کی تلاش میں تکلیف الگ ہوتی ہے اور برائیاں ہوتی ہیں۔ بدگمانی میں فوراً کسی کا نام لے دیتی ہیں کہ یہ کام اس کا ہے، اس لیے باہر پھرنے والی بچی کو جوکہ ناسمجھ بھی ہو زیور پہنانا بڑی غلطی ہے۔ مگر عورتوں کو اس کا خبط ہے اور غضب یہ کہ بچیوں کو بھی اس کا شوق ہوتا ہے اگر ان کے ناک کان نہ بندھوائے جائیں تو روتی اور ضد کرکے بندھواتی ہیں چاہے تکلیف ہی ہو۔

(الفانی:۲۸۴)

لعن طعن اور کوسنے کا مرض

(عورتوں کا ایک مرض ہے) لعنت و ملامت زیادہ کرنا۔ چناں چہ  دیکھا جاتا ہے کہ صبح سے شام تک ان کا یہی مشغلہ ہے کہ جس سے دشمنی ہے اس کی غیبت کرتی ہیں اور جس سے محبت ہے اس کو کوستی ہیں۔ اپنی اولاد کو کوستی ہیں، اپنی جان کو کوستی ہیں اور ہر چیز کو خواہ وہ لعنت کے قابل ہو یا نہ ہو اس کو بھی کوستی ہیں۔

یاد رکھو! بعض وقت قبولیت کا ہوتا ہے اور وہ کوسنا لگ جاتا ہے پھر شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک شخص تشنج زدہ تھا۔ (جو ایک بڑا مرض ہوتا ہے) جو کہ چار پائی سے ہل نہیں سکتا اور سخت تکلیف میں تھا، اس کی ماں نے اس کو کسی شرارت کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’خدا کرے تو چار پائی کو لگ جائے۔‘‘ خدا کی قدرت کہ وہ ایسا ہی ہو گیا اور اس کی مصیبت خود والدہ صاحبہ کو ہی اٹھانا پڑی۔

(اصلاح النساء:۱۸۳، حقوق الزوجین)

الغرض بعض عورتیں اپنے بچوں کو کوستی ہیں اور کبھی وہ کوسنا لگ بھی جاتا ہے اور پھر سر پکڑ کر روتی ہیں۔

(حقوق البیت:۵۵)

حسد

حسد کا مرض بھی عورتوں میں بہت ہے ذرا ذرا سی بات پر ان کو حسد ہوتا ہے۔ مثلاً اسی پر حسد ہوتا ہے کہ ماں باپ کو یہ چیزیں (سامان) کیوں دیتا ہے۔ اگر ماں باپ نہ ہوتے تو یہ چیز ہمارے پاس رہتیں۔

لیکن اے عورتو! میں تمہاری اس بارے میں تعریف کرتا ہوں کہ تمہارا ایمان تقدیر پر مردوں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ مردوں کو سینکڑوں وسوسے پیش آتے ہیں۔ علماء سے الجھتے ہیں لیکن تم کو اس میں شک و شبہ بھی نہیں ہوتا۔ مگر معلوم نہیں کہ یہ تمہارا تقدیر پر ایمان لانا اس موقع پر کہاں گیا۔

خوب سمجھ لو کہ جس قدر تقدیر میں ہے وہ تم کو مل کررہے گا۔ پھر حسد و جلن کا ہے کے لیے کرتی ہو۔ اور یہی حسد ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ ان کی لڑائی رہتی ہے۔ لیکن کوئی عورت اس کا اقرار ہرگز نہ کرے گی کہ مجھ کو حسد ہے بلکہ مختلف پیراؤں میں جلن نکالتی ہے کہ فلانی میں یہ عیب ہے، فلانی باہر کی ہے وہ شرافت میں میرے برابر نہیں ہوسکتی۔

(اصلاح النساء:۱۹۱)

فصل: مانگی ہوئی چیز واپس نہ کرنا

(عورتوں میں ایک بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ) مانگی ہوئی چیز میں تساہل (سستی کرتی) ہیں حالت یہ ہے کہ کوئی چیز منگائی اور کام بھی ہوگیا مگر یہ توفیق نہیں ہوتی کہ واپس کردیں۔ جب دینے والا (مالک) خود ہی مانگتا ہے تب دیتی ہیں۔ اگر خود بھی دیں گی تو ایک عرصہ کے بعد اس میں بہت سی چیزیں گم بھی ہوجاتی ہیں اور خراب بھی ہوجاتی ہیں بعض وقت مہینوں گزر جاتے ہیں۔ (لیکن چیز) واپس ہی نہیں کی جاتی۔ اگر کسی نے طلب کرلیا تو دے دی ورنہ پروا بھی نہیں ہوتی۔ نیت خراب نہ بھی ہو مگر تساہل (سستی) اس قدر ہے کہ حد سے زیادہ۔

(احکام المال، التبلیغ:۱۵/۱۴۰)

دوسرے کا سامان برتن و غیرہ واپس نہ کرنا

اور ایک بے احتیاطی (اور بڑی کوتاہی)یہ ہوتی ہے کہ کھانے کے ساتھ جو برتن چلے آتے ہیں انہیں واپس کرنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی، بس اپنے یہاں ان برتنوں کا استعمال کرتی ہیں، اسی طرح مدت ہوجاتی ہے جب خود منگاتے ہیں تب ملتے ہیں، خود میرے گھر میں سستی ہوتی ہے۔حالاں کہ شریعت نے اس میں اتنی احتیاط کی ہے کہ فقہاء کرام لکھتے ہیں کہ اگر کوئی کھانا بھیجے تو اس برتن میں کھانا حرام ہے اپنے برتن میں الٹ لو پھر کھاؤ، ہاں ایک صورت میں جائز ہے کہ وہ کھانا ایسا ہو جو برتن بدلنے سے خراب ہوجاتا ہو جیسے فیرنی،قلفی و غیرہ یا اس کا لطف جاتا رہے، تو اگر ایسا کھانا ہو تب اس برتن میں کھانا جائز ہے، ورنہ نہیں ہاں اگر مالک استعمال کرنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔

فقہاء کے قول کی دلیل یہ حدیث ہے:

اَلَا لَا یَحِلُّ مَالُ امْرِیٍٔ مُّسْلِمٍ اِلَّا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِّنْہُ

خبردار ہوجاؤ کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں، کھانا بھیجنے والوں کو ان برتنوں کا استعمال ناگوار ہوتا ہے اور جب کھانا ایسا ہو کہ برتن بدلنے سے خراب ہوجاتا ہو یا اس کا لطف جاتا رہے تو وہاں دلالۃً (مالک کی طرف سے) اسی برتن  میں کھانے کی اجازت ہوتی ہے۔ بس فقہاء کے کلام کا خلاصہ یہ ہوا کہ قرائن (اندازے) سے جہاں اجازت ہوتو جائز ہے اور اگر قرائن (اندازے) سے اجازت نہ ہوتو جائز نہیں۔

(التبلیغ، احکام المال:۵ / ۱۳۹)

دوسرے کی ملک میں بلااجازت کے تصرف کرنے (استعمال کرنے) سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے۔ اگر وہ چیز ضایع ہوجائے تو ضامن ہوتا ہے (یعنی اس کا تاوان دینا لازم ہوتا ہے)۔

(التبلیغ:۷/ ۴۲، کساء النساء)

قرض لے کر نہ دینا

ایک خرابی یہ ہے کہ قرض لے کر ادا نہیں کرتیں قرض ادا کرنے کی بالکل عادت ہی نہیں، اس لیے ان کا اعتبار نہیں رہا اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہر ایک سے قرض مانگتی ہیں اور کوئی دیتا نہیں حالاں کہ قرض دینے کا بڑا ثواب ہے چناں چہ  حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے جنت کے دروازہ پر لکھا دیکھا کہ صدقہ دینے سے دس نیکیاں ملتی ہیں اور قرض دینے سے اٹھارہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ قرض وہی مانگتا ہے جسے سخت ضرورت ہوتی ہے  کیوں کہ اسے پھر واپس کرنا پڑتا ہے بخلاف صدقہ کے۔

تو قرض دینے کا یا ادھار کوئی چیز دینے کا اتنا بڑا ثواب ہے مگر جب کوئی لے کر ادا ہی نہ کرے پھر کیوں دے۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ قرض دے کر وصول نہیں ہوتا حتیٰ کہ قرض دار سامنے آنے تک چھوڑدیتے ہیں اور بعض لوگ کوئی سامان خرید کر ایک دو روپیہ ادھار کرکے پھر دینے کا نام نہیں لیتے اور معمولی رقم ایک دو روپیہ ہونے کی وجہ سے دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے اور وصول کرنے والے کو مانگتے بھی شرم معلوم ہوتی ہے لیکن قیامت کا معاملہ بہت نازک ہے تین پیسے بھی جس کے ذمہ رہ جائیں گے اس کی سات سو مقبول نمازیں چھین کر حق والے کو دلوادی جائیں گی۔ یہ کس قدر خوف کی بات ہے ساری عمر نماز پڑھی اور قیامت میں چھین لی گئی یہ نتیجہ ہوگا کہ آخرت بھی برباد اور کی کرائی عبادت بھی اپنے پاس نہ رہے۔

(التبلیغ، کساء النساء:۷/۴۲)

بعض دین دار عورتوں کی کوتاہی

ریل کے سفر میں اکثر عورتیں اور بعض مرد بھی اس قدر سامان لے جاتے ہیں جو حد اجازت (یعنی قانون)سے زیادہ ہوتا ہے اور نہ اس کا محصول دیتے ہیں۔ نہ وزن کراتے ہیں (نہ رسید کٹواتے ہیں)۔

اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ خود تو تیسرے درجہ (تھرڈ کلاس) کا ٹکٹ لیا تھا لیکن اتفاق سے میانہ درجہ (سیکنڈ کلاس) میں کوئی دوست بیٹھا ہے تو اس کے پاس جاکر بیٹھ گئے اور دو تین اسٹیشن تک اس کے پاس بیٹھے رہے۔ یا ٹکٹ لیا دو تین اسٹیشن کا اور چلے گئے بہت دور تک۔ ان سب صورتوں میں یہ شخص ریلوے محکمہ کا قرض دار رہتا ہے اور قیامت کے دن اس سے وصول کیا جائے گا۔ اگر کبھی ایسی غلطی ہوگئی ہو تو اس کے ادا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ حساب کرکے جس قدر ریلوے کی قیمت اپنے ذمہ نکلے اس قیمت کا ایک ٹکٹ خرید کر اس سے کام نہ لے۔ اس سے محکمہ کا روپیہ بھی ادا ہوجائے گا اور اس شخص پر کوئی الزام بھی نہ آئے گا۔

(تفصیل التوبہ دعوات عبدیت:۸/۴۶)

رشتہ داروں سے پردہ میں کوتاہی

ایک کوتاہی عورتوں میں یہ ہے کہ ان میں پردہ کا اہتمام کم ہے اپنے عزیزوں رشتہ داروں میں جو نامحرم ہیں (یعنی جن سے رشتہ ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہے) ان کے سامنے بے تکلف آتی ہیں۔ ماموں زاد، چچا زاد، خالہ زاد بھائیوں سے بالکل پردہ نہیں کرتی ہیں اور غضب یہ کہ ان کے سامنے بناؤ سنگھار کرکے بھی آتی ہیں۔ پھر بدن چھپانے کا ذرا بھی اہتمام نہیں کرتیں گلا اور سر کھلا ہوا ہے اور ان کے سامنے آجاتی ہیں اور اگر کسی کا بدن ڈھکا ہوا بھی ہو تو کپڑے ایسے باریک ہوتے ہیں جن میں سارا بدن جھلکتا ہے حالاں کہ باریک کپڑے پہن کر محرم کے سامنے آنا بھی جائز نہیں کیوں کہ محرم یعنی جن سے رشتہ کرنا حرام ہے ان سے پیٹ،  کمر، پہلو اور پسلیوں کا چھپانا بھی فرض ہے پس ایسا باریک کرتا پہن کر محارم (مثلاً بھائی، چچا وغیرہ) کے سامنے آنا بھی جائز نہیں جس سے پیٹ یا کمر یا پہلو یا پسلیاں ظاہر ہوں یا ان کا کوئی حصہ نظر آتا ہو شریعت نے تو محارم کے سامنے آنے میں بھی اتنی قیدیں لگائی ہیں اور آج کل کی عورتیں نا محرموں کے سامنے بھی بے با کانہ آتی ہیں گویا شریعت کا پورا مقابلہ ہے۔

بیبیو! پردہ کا اہتمام کرو اور نامحرم رشتہ داروں کے سامنے قطعاً نہ آؤ اور محرم کے سامنے احتیاط سے آؤ۔

(الکمال فی الدین:۱۰۸)

عورتوں کی باہم لڑائیاں

عورتوں کی نا اتفاقی اور باہم لڑائیاں شدید تو نہیں ہوتیں مگر مدید (لمبی) ہوتی ہیں کہ ان میں آپس میں کشیدگی ہوتی ہے تو زمانہ دراز تک اس کا سلسلہ چلتا ہے۔

نیز ان میں ایک بری عادت ایسی ہے کہ جب کسی بات پر لڑائی ہوگئی تو پہلے مردے اُکھاڑے جاتے ہیں۔ مردوں میں یہ مرض کم ہے مگر عورتیں جن باتوں کی صفائی کرچکتی ہیں۔ دوبارہ لڑائی کے موقع پر پہلی باتوں کو پھر دہراتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس وقت  معاملہ اگرچہ ہلکا بھی ہو تو پہلی باتوں کی یاد دہانی سے سنگین ہوجاتا ہے۔ خصوصاً جب یاد دہانی بھی دل خراش الفاظ سے ہو۔ جس میں عورتوں کو خاص ملکہ حاصل ہے۔ یہ طعن کے موقع پر اپنے احسان کو بھی ایسے عنوان سے جتلاتی ہیں کہ دوسرے کا کلیجہ پاش پاش ہوجائے۔

(انسداد للفساد)

مردوں، عورتوں کے غصّہ اور لڑائی کا فرق

مردوں کے مزاج میں حرارت ہوتی ہے اس واسطے ان کی ناراضگی اور غصّہ کا اثر مارنے، پیٹنے، چلّانے وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوجاتا ہے اور عورتوں کی فطرت میں حیا و برودت رکھی گئی ہے۔ اسی واسطے اس ناراضگی کا اثر ظاہر نہیں ہوتا ہے ورنہ درحقیقت اس ناراضگی میں عورتیں مردوں سے کچھ کم نہیں۔ بلکہ زیادہ ہیں ان کو ایسے موقع پر بھی غصّہ آجاتا ہے جہاں مردوں کو نہیں آتا  کیوں کہ ان کی عقل میں نقصان ہے۔ تو ان کے غصّہ کے مواقع بھی زیادہ ہیں اس کے علاوہ چیخنے چلانے کی نسبت میٹھا غصّہ دیر پا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے والوں کا غصّہ اُبال کی طرح سے اٹھ کر دب جاتا ہے اور میٹھا غصّہ دل کے اندر جمع رہتا ہے۔ اس کو کینہ کہتے ہیں کینہ کا منشاء غصّہ ہے سو ایک عیب تو وہ غصّہ تھا اور دوسرا عیب یہ کینہ۔ تو میٹھے غصّہ میں دو عیب ہیں اور کینہ میں ایک عیب اور ہے کہ جب غصّہ نکلا نہیں تو اس کا خمار دل میں بھرا رہتا ہے اور بات بہانہ اور رنجیدگیاں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں۔ تو کینہ صرف ایک گناہ نہیں بلکہ بہت سے گناہوں کی جڑ ہے اور کینہ میٹھے غصّہ میں ہوتا ہے۔ اور میٹھا غصّہ عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ تو عورتوں کا غصّہ ہزاروں گناہوں کا سبب ہے مردوں کا غصّہ ایسا نہیں ہے مردوں کا غصّہ جوشیلا اور عورتوں کا غصّہ میٹھا ہے۔

(غوائل الغضب)

عورتوں کی لڑائی کرانے کی عادت

عورتیں غیبت کرتی ہیں۔ خود بھی حکایت شکایت کرتی ہیں اور دوسروں سے بھی سنتی ہیں اور اس کی جستجو میں رہتی ہیں۔ کوئی عورت باہر سے آئی اور پوچھنا شروع کیا کہ فلاں مجھ کو کیا کہتی تھی؟ گویا منتظر ہی تھیں۔ آنے والی نے کچھ کہہ دیا کہ یوں یوں کہتی تھی بس پھر تو پل باندھ لیا۔ خوب سمجھ لو کہ اس غیبت سے نااتفاقی ہوجاتی ہے آپس میں عداوت قائم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ غیبت کرنا اور اس کا سننا خود بڑا گنا بھی ہے کلام اللہ میں اس کی بڑی مذمت آئی ہے۔

(حقوق الزوجین)

عورتوں کی وجہ سے مردوں میں لڑائی

کبھی عورتوں کی لڑائی کا فساد شدید بھی ہوجاتا ہے کہ بعض دفعہ یہ اپنی آپس کے تکرار اور لڑائیوں کو مردوں سے بیان کردیتی ہیں کہ فلانی نے مجھے یہ کہا ہے اور تجھے یہ کہا ہے۔ مردوں میں حرارت ہوتی ہے ان پر زیادہ اثر ہوتا ہے پھر یہ بات ہی تک نہیں رہتے بلکہ ہاتھ سے بھی بدلہ لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قتل اور خون تک ہوجاتے ہیں۔

(الانسداد للفساد)

عورتوں کی بری عادت اور گھریلو لڑائیاں

عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ ایک ذرا سا بہانہ مل جائے اس کو مدتوں تک نہ بھولیں گی اور اس کی شاخ میں شاخ نکالتی چلی جائیں گی ان کا کینہ کسی طرح نکلتا ہی نہیں۔ کوئی گھر ایسا نہیں جس کی عورتیں اس میں مبتلا نہ ہو۔ ماں بیٹی آپس میں لڑتی ہیں، ساس بہو آپس میں لڑتی ہیں اور دیورانی جیٹھانی تو پیدا ہی اس لیے ہوئی ہیں (کہ لڑائی کریں)۔اور دیکھا جائے تو ان لڑائیوں کی بنیاد صرف اوہام پرستی ہے کسی کے بارے میں ذرا سا شائبہ ہوا اور اس پر حکم لگاکر لڑائی شروع کردی۔ دوسری نے جب کوئی لڑائی دیکھی تو شبہ کی اور زیادہ گنجایش ہے ادھر سے سیر بھر لڑائی تھی ادھر سے پانچ سیر بھر ہونا کچھ بات ہی نہیں اور جب اصل بات کی تحقیق کی جائے تو بات کیا نکلتی ہے کہ فلانی نے کہا تھا کہ وہ بی بی (عورت) تمہاری شکایت کررہی تھی۔ سننے والی کہتی ہے کہ میری جلاہی (نقل کرنے والی عورت پڑوسن) بہت ایمان دار ہے، بے سنے اس نے کبھی نہیں کہا ہوگا۔

گھروں میں ہمیشہ لڑائی ایسی ہی باتوں پر ہوتی ہے۔ کسی خدا کی بندی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ جب شکایت سنے تو اس بیچ کے واسطے کو قطع کرکے خود اس شکایت کرنے والی سے پوچھ لے کہ تم نے میری شکایت کی ہے؟

مسنون طریقہ بھی یہی ہے کہ اگر کسی سے کچھ شکایت دل میں ہو تو اس شخص سے ظاہر کردے کہ تمہاری طرف سے میرے دل میں یہ شکایت ہے اس شخص سے اس کا جواب مل جائے گا اور اگر وہ شکایت غلط تھی تو بالکل دفعیہ ہوجائے گا۔

اور سنی سنائی باتوں پر اعتبار کرلینا اور اس پر کوئی حکم لگادینا بالکل نصوص (شریعت) کے خلاف اور جہالت ہے۔ اسی موقع  کے لیے قرآن شریف میں موجود ہے۔

اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ  بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ

زیادہ بد گمانیوں سے بچو بیشک بہت سی بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں۔

اور ارشاد ہے۔ اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ (الحدیث) یعنی بدگمانی سے اپنے آپ کو بچاؤ  کیوں کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔

ہم نے تجربہ سے تمام عمر دیکھا کہ سنی ہوئی بات شاید کبھی سچ نکلتی ہو۔ ایک شخص کا قول ہے کہ ایسے واقعات کی روایتیں کہ جن سے راوی (نقل کرنے والے) کا کچھ ذاتی تعلق بھی نہ ہو۔ اور راوی بھی ایسا ہو کہ جھوٹ کا عادی نہ ہو تب بھی جب کبھی دیکھا گیا اور تحقیق کی گئی تو تمام باتوں میں چوتھائی بات بھی سچ نہیں نکلتی۔ اور ان باتوں کی روایت کا تو پوچھنا ہی کیا جن میں راوی کی ذاتی غرض بھی شامل ہو۔

خانہ جنگیاں (گھریلو لڑائیاں) جہاں کہیں ہیں وہ سب ان ہی بھنگنوں کمہاروں وغیرہ (اس جیسی عورتوں) کی روایتوں کی بناء پر ہیں کہ اصلیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ کچھ حاشیےاس پر روایت کرنے والی لگاتی ہیں اس سے یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ فلانی ہماری مخالف ہے بس اس خیال و وہم سے کچھ حاشیے (مزید باتیں اور بدگمانی) یہ سننے والی لگالیتی ہے بس اچھی خاصی لڑائی ٹھن جاتی ہے۔

اس کی مثال ایسی ہے جیسے جنگل میں آدھی رات کے وقت کوئی اکیلا ہو اور اس کو شیر کا خوف ہو تو جب وہ ایک طرف دھیان جماتا ہے تو کوئی درخت اسے شیر معلوم ہونے لگتا ہے۔ پھر جب خیال کو ترقی ہوتی ہے تو اسی خیالی صورت میں ہاتھ پیر بھی نظر آنے لگتے ہیں اور سچ مچ کا شیر بن جاتا ہے حالاں کہ واقعتاً کچھ بھی نہیں ہوتا۔ صرف وہم کی کارکردگی ہوتی ہے۔ اسی طرح سنی سنائی باتوں میں نفس اختراع کرتا ہے کہ اوّل تو کچھ آمیزش نقل کرنے والے سے شروع ہوتی ہے۔ پھر جس کے سامنے وہ خبر بیان کی گئی وہ پہلے سے عیب جوئی کے لیے تیار ہوتی ہے۔ ذرا سا بہانہ پاکر سب اگلی پچھلی باتوں کو تازہ اور خیالات کو واقعات (اور حقیقت) پر محمول کرلیتی ہے۔ اب بنی بنائی شکایت موجود ہوتی ہے۔

(غوائل الغضب)

عورتوں کی تو دیکھی ہوئی باتیں بھی اس قابل نہیں کہ ان کو صحیح کہا جائے۔ اکثر عورتیں اپنی دیورانی جیٹھانی وغیرہ سے اپنی چشم دید باتوں پر ناراض رہتیں ہیں اور جب ان کو سمجھایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس بات پر تم ناراض ہو وہ بات یوں ہے تم نے غلط سمجھا تو کہتی ہیں کہ کیا میں بچی ہوں کیا میں سمجھتی نہیں، فلاں کام میرے ہی چڑانے کے لیے کیا گیا تھا۔ پھر کوئی لاکھ سمجھائے لیکن اس فعل کی جو وجہ اپنے ذہن سے گھڑلی ہے وہی رہے گی اور اسی پر روئے پر روئے رکھتی چلی جائیں گی اور ذرا دیر میں آپس میں رنج ہوجائے گا، اب طرفین سے غیبت شروع ہوگی اور ایک دوسرے کی غیبت جوئی اور نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گی، یہ سب نتائج غصّہ کے ہیں، عورتیں غصّہ سے مغلوب ہوجاتی ہیں۔

(غوائل الغضب)

بھابی کاغصّہ اور دیور یتیم پر ظلم و زیادتی

بہت جگہ ایسا ہوتا ہے کہ گھر کا کوئی بزرگ مرگیا اور بڑی اولاد کے ساتھ چھوٹے بچے بھی چھوڑے۔ وہ چھوٹے بچے بڑے بھائیوں کی پرورش میں آجاتے ہیں اور بھاوج کا اختیار ہوتا ہے چوں کہ  بچے گھر میں رہتے ہیں اس واسطے ان کی نگرانی وغیرہ عورتوں ہی کے ہاتھ میں زیادہ رہتی ہے، بڑا بھائی باہر رہتا ہے اور بھاوج صاحبہ ان سے دل کے کینے نکالتی ہیں، ہر بات پر مارنا برا بھلا کہنا، ہر چیز کو ترسانا، کھانا پیٹ بھر کر نہ دینا، کپڑے کی خبر نہ لینا اور نوکروں سے زیادہ ذلیل کرکے ان کو رکھنا، یہ ان کا برتاؤ رہتا ہے اور اس پر بھی چین نہیں بطور حفظ ماتقدم خاوند سے الٹا شکایت کرتے رہنا۔ غرض ایسا خلافِ انسانیت برتاؤ رکھتی ہیں کہ ان کا بیان کرنا بھی مشکل ہے۔

میں مردوں کو بھی خطاب کرتا ہوں کہ یتیم  بچوں کی خود نگرانی رکھو۔ عورت کے کہنے میں ایسے نہ رہو کہ ہر بات کو سچ جان لو۔ جب یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ بھاوج دیوروں کے ساتھ مغائریت (غیریت) کا تعلق رکھتی ہے تو اس کی شکایتوں کا کیا اعتبار، میں تو کہتا ہوں کہ ایسے موقعوں پر مردوں کو چاہیے کہ عورتوں کو سنادیں کہ تم سچ بھی کہتی ہو تو بھی ہم جھوٹ سمجھیں گے۔ میں سب مردوں کو نہیں کہتا کہ بہت سے مرد ایسے بھی ہیں کہ واقعی مرد ہیں اور ایسے موقع پر پوری عقل سے کام لیتے ہیں اور اس ساتھ رہتے کو بھیڑئیے بکری کا ساتھ سمجھتے ہیں جہاں بھیڑیا بکری اکٹھے ہوں گے وہاں بھیڑئیے کی طرف سے بکری کے ساتھ ایذا ( تکلیف) رسانی ہی ہوگی کبھی نہیں کہا جاسکتا کہ بھیڑیا بکری کی طرف داری یا اس پر رحم کرے گا۔

عورت کے کہنے سے بھائیوں کو نہ ستاؤ، کسی نے خوب کہا کہ یتیم بچہ زندوں میں شمار ہی نہیں ہوتا۔ اپنے ماں باپ کے ساتھ وہ بھی مرگیا۔ پھر مرے ہوئے کو مارنا کیا جواں مردی ہے اگر حد سے زیادہ دلداری کرو گے تب بھی اس کا دل زندہ نہیں ہوسکتا۔ یتیم کی صورت میں مردنی چھائی ہوئی ہوتی ہے۔ دو بچوں کو برابر بٹھاؤ جن میں سے ایک یتیم ہو اور دوسرا نہ ہو اور ایک چیز دونوں کے سامنے رکھ دو کہ جو پہلے اٹھالے یہ چیز اسی کی ہے یقین کامل ہے کہ یتیم کا ہاتھ نہیں اٹھے گا، وجہ یہی ہے کہ اس کا دل مرچکا ہے۔

لڑائی جھگڑوں سے حفاظت کی عمدہ تدبیریں

۱) مردوں کو چاہیے کہ عورتوں کی باتوں پر اعتماد نہ کیا کریں اور عورتوں پربھی لازم ہے کہ مردوں سے ایسی باتیں جن سے غصّہ آئے بیان نہ کیا کریں۔

۲) جب کسی کی شکایت سنو تو یہ سوچو کہ بیان کرنے والے نے ایک بات میں دس باتیں غلط ملائی ہوں گی۔

اگر ہم نے وہ بات اپنی آنکھ سے دیکھی ہوتی تو اگر تدارک کرتے( اور بدلہ لیتے ) تو بدی ( برائی) کا بدلہ ایک کرتے اور اب دس بدی کریں گے تو کیا انجام ہوگا یہ تو ایسا ہوا کہ جیسے ہمارا کوئی ایک پیسہ کا نقصان کرے اور ہم اس کے بدلے میں دس پیسوں کا نقصان کردیں، جب یہ مقدمہ حاکم کے پاس جائے تو گویا زیادتی پہلے اس کی تھی، مگر اب ہم ملزم ہوگئے۔

مثلاً کسی کی شکایت سنی کہ اس نے ہماری غیبت کی ہے اور اس سے تم نے یہ بدلہ لیا کہ تم نے بھی غیبت کرلی تو یہ بدلہ ہوگیا اور مان لیا جائے کہ بالکل برابر برابر کا بدلہ ہے۔ یعنی کمیت میں برابر ہے کہ ایک غیبت اس نے کی، ایک تم نے کرلی مگر اس کا کیا اطمینان ہے کہ تمہارا بدلہ کیفیت میں بڑھا ہوا نہیں ہے یا آیندہ نہ بڑھ جائے گا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی طرف سے برائی دل میں بیٹھ جاتی ہے تو انسان اس سے صرف زیادتی کے بدلہ ہی پر اکتفا نہیں کرتا اور بدلہ لے کر اس کی برائی دل سے نہیں نکل جاتی بلکہ کینہ رہ جاتا ہے یا حسد پیدا ہوجاتا ہے اور کینہ اور حسد غیبت سے کیفیت (درجہ) میں زیادہ برے ہیں۔ حسد کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ حسد نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے کہ جیسے آگ لکڑی کو کھاتی ہے تو یہ برائی جو تمہارے دل میں اس غیبت کے مقابلہ میں پیدا ہوئی کیفیت میں زیادہ ہے کہ تمہاری اور نیکیوں کو بھی غارت کرے گی۔ یہاں قوت واہمہ سے کام لو اور نفس کے خلاف سوچو کہ اگر ہم اس ایک غیبت کے بدلہ میں ان برائیوں میں پڑگئے تو کیسے برے نتیجے ہوں گے، یہ خیال کرکے ذرا ڈرو۔

(غوائل الغضب)

خانگی فسادات، گھریلو جھگڑے سے بچنے کی عمدہ تدبیر

فرمایا: خانگی مفسدات ( گھریلو جھگڑوں) سے بچنے کی ایک عمدہ تدبیر یہ ہے کہ چند خاندان ( اور کئی عورتیں) ایک گھر میں اکٹھے نہ رہا کریں کیوں کہ چند عورتوں کا ایک مکان میں رہنا ہی زیادہ فساد کا سبب ہوتا ہے۔

(ملفوظات اشرفیہ)

اپنوں سے معاملہ نہ کرنے میں عافیت ہے

فرمایا: مشہور تو یہ ہے کہ تَعَامَلُوْا کَالْاَجَانِبِ وَ تَعَاشَرُوْا کَالْاِخْوَانِ یعنی اپنوں سے معاملہ کرو اجنبیوں کی طرح اور معاشرت (برتاؤ) کرو بھائیوں کی طرح۔ لیکن چوں کہ  آج کل یہ مشکل ہے کہ اخوان اپنوں اور بھائیوں کے ساتھ معاملہ تو ہو مگر اجنبیوں کا سا۔ اس لیے میں نے ترمیم کی ہے یعنی تَعَامَلُوْا مَعَ الْاَجَانِبِ وَتَعَاشَرُوْا مَعَ الْاِخْوَانِ کہ اپنوں کے ساتھ معاملہ بھی نہ کرو، اکثر دیکھا گیا ہے کہ اپنوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں خرابی ہوتی ہے۔( تعلقات بگڑتے ہیں، ناانصافیاں ہوتی ہیں) اور نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔

عورتیں اور رسوم کی پابندی

عورتوں کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔ یہ اپنے ذہن کی ایسی پکی ہوتی ہیں کہ دین تو کیا دنیا کی بھی بربادی کا ان کو خیال نہیں رہتا۔ رسموں کے سامنے اور اپنی ضد کے سامنے چاہے کچھ بھی نقصان ہوجائے کچھ پرواہ نہیں کرتیں۔ بعض عورتیں ایسی دیکھی جاتی ہیں کہ ان کے پاس مال تھا کسی تقریب یا شادی میں لگا کر کوڑی کوڑی کی محتاج ہوگئیں اور ہر وقت مصیبت اٹھاتی ہیں مگر لطف اور تعجب یہ ہے کہ اب تک بھی ان رسموں کی برائی ان کو محسوس نہیں ہوئی، یوں کہتی ہیں کہ ہم نے فلاں کے ساتھ بھلائی کی۔ اس کی شادی ایسی دھوم دھام سے کر دی۔ ہماری یہ سب رقم خدا کے یہاں جمع ہے۔ جیسی جمع ہے آنکھ مچتے ہی معلوم ہوجائے گا۔ جب دنیا کی تکلیفیں جو کہ ان کے سامنے ہیں ان پر اثر نہیں کرتیں حالاں کہ وہ بالکل محسوس ہیں تو آخرت کی تکلیفوں کو وہ کب خیال میں لاتی ہیں جو ابھی مخفی ہیں۔

(منازعۃ الھوی)

ایک مرض ان عورتوں میں ہے جو مفسدہ میں سب سے بڑھ کر ہے وہ یہ کہ عورتیں رسوم کی سخت پابند ہیں۔ خاوند کے مال کو بڑی بے دردی سے اڑاتی ہیں۔ خاص کر شادی بیاہ کی رسموں میں اور شیخی کے کاموں میں بعض جگہ صرف عورتیں خرچ کی مالک ہوتی ہیں پھر ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرد رشوت لیتا ہے یا مقروض ہوتا ہے تو زیادہ تر جو حرام آمدنی میں مشغول ہیں ان کا بڑا سبب عورتوں کی فضول خرچی ہے۔ مثلاً کسی گھر میں شادی ہوئی تو یہ فرمایش ہوتی ہے کہ قیمتی جوڑا ہونا چاہیے اب وہ سو دو سو روپے میں (اور آج ہزار دو ہزار میں) تیار ہوتا ہے مرد نے سمجھا تھا کہ خیر سو دو سو ہی میں پاپ کٹا، مگر بیوی نے کہا کہ یہ تو شاہانہ جوڑا ہے چوتھی کا الگ ہونا چاہیے وہ بھی اسی (ہزار) کے قریب لاگت میں تیار ہوا۔ پھر فرمایش ہوتی ہے کہ جہیز میں دینے کو بیس پچیس جوڑے اور ہونے چاہئیں غرض کپڑوں ہی کپڑوں میں سینکڑوں ہزاروں روپے لگ جاتے ہیں۔

(حقوق الزوجین)

جب برادری میں خبر مشہور ہوتی ہے کہ فلاں گھر میں تقریب ہے تو ہر بی بی کو نئے قیمتی جوڑے کی فکر ہوتی ہے کبھی خاوند سے فرمایش ہوتی ہے کبھی خود بزاز (کپڑے بیچنے والے) کو دروازہ پر بلاکر اس سے ادھار لیا جاتا ہے یا سودی قرض لے کر اس سے خریدا جاتا ہے۔ شوہر کو اگر وسعت نہیں ہوتی تب بھی اس کا عذر قبول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے یہ جوڑا محض ریا اور تفاخر کے لیے بنتا ہے۔ اس غرض سے مال خرچ کرنا اسراف ہے خاوند سے اس کی وسعت سے زیادہ بلاضرورت فرمایش کرنا اس کو ایذاء پہنچانا ہے اگر خاوند کی نیت ان فرمایشوں سے بگڑ گئی اور حرام آمدنی پر اس کی نظر پہنچی تو کسی کا حق تلف کیا رشوت لی اور فرمایشیں پوری کیں۔ اب گناہوں کا باعث یہ بی بی بنی۔ ان رسموں کے پورا کرنے میں اکثر مقروض بھی ہوتے ہیں گو باغ ہی فروخت یا گروی ہوجائے اور گو سود دینا پڑے اس میں التزام مالا یلزم اور نمائش، شہرت، اسراف وغیرہ سب خرابیاں موجود ہیں اس لیے یہ بھی ممنوعات میں داخل ہیں۔

(اصلاح الرسوم)

رسوم و رواج کی جڑ و بنیاد عورتیں ہیں

جتنے سامان بیاہ شادی کے ہیں سب کی بنا تفاخر اور نمود (شہرت) پر ہے اور یہ تفاخر گو مرد بھی کرتے ہیں مگر اصل جڑ اس میں عورتیں ہی ہیں یہ اس فن کی امام ہیں اور ایسی مشّاق اور تجربہ کار ہیں کہ نہایت آسانی سے تعلیم دے سکتی ہیں۔ جو آدمی جس فن کا ماہر ہوتا ہے اس کو اس فن کے کلیات خوب معلوم ہوتے ہیں۔ یہ ایک کلیہ (قاعدہ) میں سب کچھ سکھا دیتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ بیاہ شادی میں کیا کیا کرنا چاہیے تو ایک ذرا سے کلمہ سے سمجھا دیتی ہیں کہ زیادہ نہیں اپنی شان کے موافق تو کرلو۔ یہ کلیہ نہیں بلکہ کلیہا ہے اور کلیہا بھی ایسا ہے کہ ہاتھی بھی اس میں سما جائے۔ یہ تو اتنا سا جملہ کہہ کے الگ ہوگئیں۔ کرنے والوں نے جب اس کی شرح پوچھی تو وہ اتنی طویل ہوئی کہ ہزاروں جزئیات اس میں سے نکل آئیں جن سے دنیا کی بھی بربادی ہوئی اور آخرت کا بھی کوئی گناہ نہیں بچا۔ انہوں نے تو صرف ایک لفظ یہ کہہ دیا تھا کہ اپنی شان کے موافق کرلو۔ جس کو مردوں نے شرح کراکر اتنا بڑھا لیا کہ ریاستوں کی ریاستیں غرق ہوگئیں، ہزاروں گناہ کبیرہ سر زد ہوگئے۔

(التبلیغ)

عورتوں کے جمع ہونے کے مفاسد اور خرابیاں

مستورات (عورتوں) کے جمع ہونے میں بہت سی خرابیاں اور گناہ ہیں جو عقل مند دین دار کو مشاہدہ اور غور کرنے سے بے تکلف معلوم ہوسکتی ہیں اس لیے میری رائے یہ ہے کہ امّ المفاسد (تمام برائیوں کی جڑ) یہ عورتوں کا جمع ہونا ہے۔ اس کا انسداد (بندوبست) سب سے زیادہ ضروری ہے۔

(اشرف المعمولات)

میں رائے دیتا ہوں کہ عورتوں کو آپس میں ملنے نہ دیا کرو۔ خربوزے سے دوسرا خربوزہ رنگ بدلتا ہے۔

میری رائے بلاشک و شبہ قطعی طور پر یہ ہے کہ ان عورتوں کو ایک جگہ جمع ہی نہ ہونے دیں اور اگر کسی ایسی ضرورت کے لیے جمع ہوں جس کو شارع نے بھی ضروری قرار دیا ہو تو مضایقہ نہیں مگر اس میں بھی خاوندوں کو چاہیے کہ عورتوں کو مجبور کریں کہ کپڑے بدل کر مت جاؤ جس طرح اور جس حالت میں باورچی خانے میں بیٹھی ہو چلی جاؤ۔

(اصلاح الرسوم)

تقریبات میں عورتیں چند موقعوں پر جمع ہوتی ہیں اس اجتماع میں جو خرابیاں ہیں ان کا شمار نہیں، مثال کے طور پر بعض کا بیان یہاں ہوتا ہے۔

(اصلاح الرسوم)

بیاہ شادیوں میں عورتوں کے مفاسد کی تفصیل

۱) شیخی عورتوں کی گویا سرشت میں داخل ہے اٹھنے میں، بیٹھنے میں، بولنے میں، چلنے میں، کہیں جائیں گی تو بے دھڑک اترا کر گھر میں داخل ہوگئیں۔ یہ احتمال ہی نہیں کہ شاید گھر میں کوئی محرم نامحرم مرد پہلے سے ہو اور بار بار ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر نامحرم کا سامنا ہوجاتا ہے مگر عورتوں کو تمیز ہی نہیں کہ پہلے گھر میں تحقیق کرلیا کریں۔

۲) اب گھر میں پہنچیں حاضرین کو سلام کیا۔ بعضوں نے زبان کو تکلیف ہی نہیں دی فقط ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ بس سلام ہوگیا جس کی ممانعت حدیث میں آئی ہے۔ بعضوں نے لفظ سلام کہا تو صرف لفظ سلام یہ بھی سنت کے خلاف ہے۔ السلام علیکم کہنا چاہیے اب جواب ملاحظہ فرمایئے۔ جیتی رہو، ٹھنڈی رہو، سہاگن رہو، بھائی جئے۔ بچہ جئے غرض کنبہ بھر کی فہرست شمار کرنا آسان اور وعلیکم السلام کہنا مشکل جو سب کو جامع ہے۔

۳) وہاں پہنچ کر ایسی جگہ بیٹھیں کہ سب کی نظر ان پر پڑے ہاتھ کان ضرور دکھائے گی ہاتھ کسی چیز میں گھرا ہوا ہو تب بھی کسی بہانے سے نکالیں گی اور کان گو ڈھکے ہوئے ہوں مگر گرمی کے بہانے سے یا کسی ضرورت کے بہانے سے کھول کر ضرور دکھائیں گی کہ ہمارے پاس اتنا زیور ہے اگر کسی کی نظر بھی نہ پڑے تو کھجلی اٹھا کر کان تو دکھا ہی دیں گی جس سے اندازہ کیا جاسکے کہ جب اتنا زیور ان کے کانوں میں ہے تو گھر میں نہ معلوم کتنا ہوگا۔

۴) اب مجلس جمی تو شغل اعظم یہ ہوا کہ گپیں شروع ہوئیں، بیٹھتے ہی سوائے غیبت کے کوئی اور دوسرا مشغلہ ہی نہیں جو سخت ممنوع اور قطعی حرام ہے، ان عورتوں کو شیخی کے دو مواقع ملتے ہیں ایک خوشی کا ایک غمی کا، انہی دو مواقعوں میں اجتماع ہوتا ہے۔

۵) باتوں کے درمیان ہر بی بی اس کوشش میں ہے کہ میری پوشاک اور زیور پر سب کی نظر پڑ جانی چاہیے۔ ہاتھ سے، پاؤں سے، زبان سے غرض تمام بدن سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ جو صریح ریا ہے اور جس کا حرام ہونا سب کو معلوم ہے۔

۶) اور جس طرح ہر بی بی دوسروں کو اپنا زیور دکھاتی ہے اس طرح دوسروں کی مجموعی حالت دیکھنے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔ چناں چہ اگر کسی کو اپنے سے کم پایا تو اس کو حقیر اور ذلیل سمجھا اور اپنے کو بڑا۔ یہ صریح تکبر اور گناہ ہے اور اگر دوسروں کو اپنے سے بڑھا ہوا پایا تو حسد ،ناشکری اور حرص اختیار کی، یہ تینوں گناہ ہیں۔

۷) کھانے کے وقت اس قدر طوفان مچتا ہے کہ (اﷲ کی پناہ) ایک ایک عورت چار چار طفیلیوں کو ساتھ لاتی ہیں اور ان کو خوب بھر بھر دیتی ہیں اور گھر والے کے مال یا آبرو (عزت) جانے کی کچھ پرواہ نہیں کرتیں۔

۸) اکثر اس طوفان بے ہودہ مشغولی میں نمازیں اڑ جاتی ہیں ورنہ وقت تو ضرور تنگ ہوجاتا ہے۔

۹) اکثر تقریب والے گھر کے مرد بے احتیاطی اور جلدی میں بالکل دروازہ میں گھر کے روبرو کھڑے ہوجاتے ہیں (بلکہ گھر کے اندر گھس جاتے ہیں) اور بہتوں پر نگاہ پڑتی ہے ان کو دیکھ کر کسی نے منہ پھیر لیا کوئی آڑ میں آگئی۔ کسی نے سر نیچا کر لیا بس پردہ ہوگیا۔

۱۰) فراغت کے بعد جب گھر جانے کو ہوتی ہیں تو یاجوج ماجوج کی طرح وہ تموج ہوتا ہے کہ ایک پر دوسری اور دوسری پر تیسری غرض دروازہ پر سب لپٹ جاتی ہیں کہ پہلے میں سوار ہوں۔

۱۱) پھر کسی کی کوئی چیز گم ہوگئی تو بلادلیل کسی کو تہمت لگانا، اس پر تشدد کرنا اکثر شادیوں میں پیش آتا ہے۔

لباس، زیور، میک اپ (زینت) کا مفسدہ

۱) غضب یہ کہ ایک شادی کے لیے ایک جوڑا بنا وہ دوسری شادی کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے پھر دوسرا جوڑا چاہیے۔ یہ تو پوشاک کی تیاری تھی۔ اب زیور کی فکر ہوئی اگر اپنے پاس نہیں ہوتا تو مانگ کر پہنا جاتا ہے اور اس کے عاریت (مانگا ہوا) ہونے کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ اس کو اپنی ہی ملکیت ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کا جھوٹ ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص بہ تکلف اپنی آسودگی (خوشحالی) ظاہر کرے ایسی چیز سے جو اس کی نہیں ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے وہ کپڑے جھوٹ اور فریب کے پہن لیے یعنی سر سے پاؤں تک جھوٹ ہی جھوٹ لپیٹ لیا۔

پھر اکثر ایسا زیور پہنا جاتا ہے جس کی جھنکار دور تک جائے تاکہ محفل میں جاتے ہی سب کی نگاہیں ان ہی کے نظارے میں مشغول ہوجائیں۔ بجتا زیور پہننا خود ممنوع ہے۔ حدیث میں ہے کہ ہر باجے کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے۔

۲) بعض عورتیں ایسی بے احتیاط ہوتی ہیں کہ ڈولی (سواری) سے پلہ لٹک رہا ہے یا کسی طرف سے پردہ کھل رہا ہے یا عطر و پھلیل اس قدر ملا ہے کہ راستے میں خوشبو مہکتی جاتی ہے۔ یہ نامحرموں کے روبرو زینت ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ جو عورت گھر سے عطر لگا کر نکلے یعنی اس طرح کے دوسروں کو بھی خوشبو پہنچے تو وہ ایسی ویسی ہے۔ (یعنی بدکار، زانیہ ہے) (اصلاح الرسوم)

عورتوں کی زبردست غلطی

یہ عجیب بات ہے کہ گھر میں بھنگنوں اور ماماؤں کی طرح رہیں اور ڈولی (رکشہ) آتے ہی بن سنور کر بیگم صاحبہ بن جائیں کوئی ان سے پوچھے کہ اچھے کپڑے پہننے کی غرض کیا صرف غیروں کو دکھانا ہے؟ تعجب ہے کہ جس کے واسطے یہ کپڑے بنے اور جس کے دام لگے اس کے سامنے کبھی نہ پہنے جائیں اور غیروں کے سامنے پہنے جائیں۔ حیرت ہے کہ خاوند سے کبھی سیدھے منہ نہ بولیں۔ کبھی اچھا کپڑا اس کے سامنے نہ پہنیں اور دوسروں کے گھروں میں جائیں تو شیریں زبان بن جائیں اور کپڑے بھی ایک سے ایک بڑھے چڑھے پہن کر جائیں کام آئیں غیروں کے اور دام لگیں خاوند کے، یہ کیا انصاف ہے۔ اس تصنع کی یہاں تک نوبت پہنچی۔

(التبلیغ دواء العیوب)

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ضروری مسئلہ

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کوئی کپڑا دکھاوے کی غرض سے پہنے گا اس کو اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائیں گے۔ کیا عورتوں کے ان عمومی افعال کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ رسوم میں ان کی نیت درست ہے۔ عورتوں کو اس طرح التفات بھی نہیں ہوتا کہ نیت درست اور نادرست (صحیح و غلط) کیسی ہوتی ہے۔اور یہاں کوئی شبہ نہ کرے کہ جب کوئی کپڑا بنانا ہے تو دو چار کپڑوں میں اس سے اچھا ہی چھانٹ کر لیتا ہے تو یہ سب ترفع یا دکھلاوا ہوا؟ اس کا گر یاد رکھو کہ اپنا جی خوش کرنے کو کپڑا پہنا جائے تو مباح ہے اور دوسرے کی نظر میں بڑا ہونے کے لیے پہنا جائے تو ناجائز ہے۔

(التبلیغ دواء العیوب)

عورتیں بھی سن لیں اگر کپڑے بالکل ہی میلے ہوں تو خیر بدل لو وہ بھی سادہے ورنہ ہرگز نہ بدلو۔ سیدھے سادھے کپڑوں میں مل آیا کرو۔ ملنے سے جو غرض ہے وہ اس صورت میں بھی حاصل ہوگی اور اخلاق کی بھی درستگی ہوگی اور اگر یہ خیال ہو کہ اس میں ہماری حقارت ہوگی تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ نفس کی حقارت تو ہونی چاہیے۔دوسرا جواب تسلی بخش یہ ہے کہ جب ایک بستی میں یہ رواج ہوجائے کہ سیدھے سادھے طریقے سے مل لیا کریں تو انگشت نمائی اور تحقیر بھی نہیں ہو گی اور اگر غریب عورت مزدور کی بیوی بن ٹھن کر جاتی بھی ہے مگر جن عورتوں کو اس کے گھر کی حالت معلوم ہے وہ تو یہی کہیں گی کہ نگوڑی مانگے کا کپڑا اور زیور پہن کر آئی ہے اور اس پر اتراتی ہے۔

(التبلیغ)

کوئی صاحب یہ شبہ نہ کریں کہ میں اچھے لباس کو منع کرتا ہوں۔ میں اچھے لباس کو منع نہیں کرتا بلکہ اس مفسدہ سے بچاتا ہوں جو اس کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ وہ ریا اور عجب ہے جو ان سے بچ سکے وہ پہنے۔

(حقوق الزوجین)

کپڑے کے اچھے ہونے کے دو مرتبے ہیں۔ ایک یہ کہ برا نہ ہو جس سے اپنا دل خوش ہو اور دوسروں کے سامنے ذلیل نہ ہونا پڑے اس میں کوئی حرج نہیں۔ ایک اور یہ ہے کہ دوسرے سے بڑھا چڑھا ہو کہ اس کی طرف نظریں اٹھیں یعنی دوسرے کی نظر میں بڑا ہونے کے لیے پہنا جائے۔ یہ برا اور ناجائز ہے۔

(حقوق الزوجین)

رسوم کی پابندی میں بوڑھی عورتوں کی کوتاہی

بعض عورتوں نے مجھ سے مرید ہونا چاہا تو میں نے ان سے شرط لگا دی کہ رسمیں چھوڑنا پڑیں گی۔ کہنے لگیں کہ میرے کچھ ہے ہی نہیں۔ نہ بال نہ بچہ میں کیا رسمیں کروں گی۔ میں نے کہا کرو گی تو نہیں لیکن صلاح مشورہ تو ضرور دو گی۔

یہ پرانی بوڑھیاں رسموں کے معاملے میں گویا شیطان کی خالہ ہوتی ہیں۔ خود اگر نہ کریں تو دوسروں کو بتلاتی ہیں۔ چناں چہ میں دیکھتا ہوں کہ جن عورتوں کی اولاد نہیں وہ خود تو کچھ نہیں کرتیں لیکن دوسروں کو تعلیم دیتی ہیں۔ کوئی پوچھے تو اس کو کیا شامت سوار ہوئی ہے۔ اس کو تو یہ مناسب تھا کہ تسبیح لے کر مصلے پر بیٹھ جاتی۔ کچھ فکر تو ہے نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے سب فکروں سے خالی رکھا تھا۔ (کاش) وقت کی قدر جانیں مگر یہ ہرگز نہ ہوگا بس یہ مشغلہ ہوگا کہ کسی کی غیبت کر رہی ہیں کسی کو رائے دے رہی ہیں گویا یہ بڑی بنتی ہیں۔ بات بات میں دخل دیتی ہیں۔

یاد رکھو زیادہ بولنے سے کچھ عزت نہیں ہوتی۔ عزت اسی عورت کی ہوتی ہے جو خاموش رہے۔ اگر خاموش ہوکر ایک جگہ بیٹھ کر اﷲ کا نام لے (تسبیح پڑھے) تو اس کی بڑی قدر اور وقعت ہوتی ہے مگر باتیں کرنے کی جن کو عادت ہوجاتی ہے۔ یہ کیسے چھوٹ سکتی ہے۔ خواہ ذلت خواری ہو کوئی ان کی بات بھی کان لگا کر نہ سنے لیکن ان کو اپنی ہانکنے سے کام ہے، عورتیں اس کو سن کر کہا کرتی ہیں کہ بیٹھ تو جائیں لیکن کوئی چین تو لینے دے۔ میں کہتا ہوں کہ تم اپنے منہ کو جب گوند لگا کر بیٹھو گی۔ (یعنی بالکل خاموش رہو گی) تو کیا کس کا سر پھرا ہے (کوئی پاگل ہے) جو تم سے مزاحمت (مقابلہ) کرے۔ زیادہ دنگا فساد اور گناہ بولنے ہی سے ہوتے ہیں۔

واقعی زیادہ گناہ ہم لوگوں سے اس زبان ہی کی بدولت ہوتے ہیں۔ اس مضمون کو مرد اور عورتیں سب یاد رکھیں لیکن آج کل مشکل یہ ہے کہ آنسو بہا لیں گے، آہیں بھر لیں گے اور سن کر کہیں گے کہ بس جی ہمارا کیا ٹھکانہ ہے۔

صاحبو! ان باتوں سے کام نہیں چلتا۔ کام تو کرنے ہی سے ہوتا ہے۔ پس کام کرو اور باتیں نہ بگھارو۔

فصلِ: رسوم و رواج کے ختم کرنے کے طریقے

۱) ان رسوم کے ختم کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ سب برادری والے متفق ہوکر یہ سب بکھیڑے خود موقوف کردیں۔ دیکھا دیکھی اور لوگ بھی ایسا کریں گے۔اسی طرح چند روز میں یہ طریقہ عام ہوجائے گا اور کرنے کا ثواب اس شخص کو ملے گا اور مرنے کے بعد بھی وہ ثواب لکھا جایا کرے گا۔

(اصلاح الرسوم)

۲) دین دار کو چاہیے کہ نہ خود ان رسموں کو کرے اور جہاں تقریب میں یہ رسمیں ہوں۔ وہاں ہرگز شریک نہ ہو۔ صاف انکار کر دے۔ برادری کنبہ کی رضا مندی اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کے روبرو کچھ کام نہ آئے گی۔

(اصلاح الرسوم)

۳) اس بات کا التزام کرلو کہ بلا پوچھے اور بے سمجھے محض اپنے نفس کے کہنے سے کوئی کام نہ کرو تاکہ کمال ایمان میسر ہو۔ اسی کو جناب رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ  حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ (تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش ان احکام کے تابع نہ ہوجائے جن کو میں لایا ہوں)

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم تو دنیا دار ہیں ہم سے کہاں شریعت نبھ سکتی ہے۔ کیوں صاحبو! جس وقت جنت سامنے کی جائے گی اس وقت تم یہ کہہ دو گے کہ ہم تو دنیا دار ہیں اس میں کیسے جائیں۔ شریعت کو ایسی ہولناک چیز فرض کرلیا ہے جو دنیا داروں کے بس کی نہیں حالاں کہ شریعت میں بہت وسعت ہے۔

(حقوق الزوجین)

رسوم و رواج ختم کرنے کا شرعی طریقہ

رسوم و رواج میں عمل کی تبدیلی بھی ضروری ہے (کیوں کہ) سینہ سے حرج (اور لزوم) نکلتا نہیں مگر عمل کو ایک مدت تک بدل دینے سے۔ اسی لیے اخراج حرج یعنی دل سے اس کی برائی ختم کرنے کے لیے ایسا کرنے سے ضرور عند اﷲ ماجور ہوگا۔ اس کی نظیر میں حدیث شریف موجود ہے۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بعض روغنی برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ پھر فرماتے ہیں کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ فَانْبِذُوْا فِیْھَا فَاِنَّ الظَّرْفَ لَایُحِلُّ وَلَا یُحَرِّمُ یعنی پہلے میں نے روغنی برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کر دیا تھا۔ اب اس میں نبیذ بنایا کرو اور علت ارشاد بیان فرماتے ہیں کہ برتن نہ کسی چیز کو حرام کرتا ہے اور نہ حلال کرتا ہے پھر اس کے باوجود منع فرما دیا تھا وجہ صرف یہ تھی کہ لوگ شراب کے عادی ہیں تھوڑے سے نشے کو محسوس نہ کرسکیں گے اور ان برتنوں میں پہلے شراب بنائی جاتی تھی، اس لیے خمر (شراب) سے پورا اجتناب نہ کرسکیں گے اور گناہ گار ہوں گے پس اجتناب کا یہی طریقہ ہے کہ ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے مطلقاً روک دیا جائے۔ جب طبیعتیں شراب سے بالکل متنفر ہوجائیں اور ذرا سے نشے کو پہچاننے لگیں تو پھر اجازت دے دی جائے۔

اسی طرح ان رسموں کی حالت ہے کہ ظاہری اباحت کو دیکھ کر لوگ اس کو اختیار کرتے ہیں اور ان منکرات کو نہیں پہچانتے۔ جو ان کے ضمن میں پائے جاتے ہیں تو اس کے لیے اصلاح کا کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا سوائے اس کے کہ چند روز تک اصل عمل ہی کو ترک کر دیں اور یہ بات کہ اصل عمل باقی رہے اور منکرات عام طور سے دور ہوجائیں۔ سو ہمارے امکان سے تو باہر ہے جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ طریقہ اختیار فرمایا تھا تو ہم کیا ہیں کہ اس کے سوا تدبیریں اختیار کرتے پھریں جب تدبیر عقلاً بھی مفید معلوم ہوتی ہے اور نقلاً بھی ثابت ہوچکی ہے تو ضرورت ہی کیا ہے کہ اس سے عدول کیا جائے۔

(تطہیر رمضان)

رسوم کی مخالفت کرنے والا ولی اور ﷲ کا مقبول بندہ ہے

بعض لوگ طعن و تشنیع کے خوف سے رسوم پر عمل کرتے ہیں مگر جس شخص میں احکام کی تعمیل کا مادہ ہوگا وہ رسوم کے ترک کرنے میں کسی کے طعن و تشنیع کا کبھی خیال نہ کرے گا اور گو باہمت مسلمان سے کچھ بعید نہیں لیکن آج کل مخالفتِ عامہ کی وجہ سے ایسا شخص قابل تعریف ہے۔ ایسا شخص آج کا ولی اور ﷲ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہے۔

(العاقلات الغافلات)

رسوم کی پابندی کرنے والے پیر لعنت کے مستحق ہیں

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چھ شخصوں پر میں اور حق تعالیٰ اور فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ من جملہ ان کے ایک وہ شخص ہے جو رسم جاہلیت کو تازہ کرے۔ (ایک حدیث میں) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ بغض اﷲ تعالیٰ کو تین شخصوں کے ساتھ ہے ان میں سے ایک یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اسلام میں آکر جاہلیت کا کام برتنا چاہے۔ مضامینِ مذکور کی بہت سی احادیث موجود ہیں۔

اس بارے میں تم لوگ شریعت کا مقابلہ کر رہے ہو ﷲ تعالیٰ کے لیے ان کفّار کی رسوم کو چھوڑ دو۔

(اصلاح الرسوم)

تمام مسلمانوں کی ذمہ داری

ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ ان سب بے ہودہ رسموں کو مٹانے کے لیے ہمت باندھے اور دل و جان سے کوشش کرے کہ ایک رسم بھی باقی نہ رہے اور جس طرح حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں سادگی سے سیدھے سادھے طور پر کام ہوا کرتے تھے اس کے موافق اب پھر ہونے لگیں جو مرد اور جو عورتیں یہ کوشش کریں گے ان کو بڑا ثواب ملے گا۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ سنت کا طریقہ مٹ جانے کے بعد جو کوئی (اس سنت کے طریقے کو) زندہ کرتا ہے۔ اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے۔

(بہشتی زیور)

عورتوں سے درخواست

عورتیں چاہیں تو سارے رسوم و رواج ختم ہوجائیں

میں عورتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کو چاہیے کہ مردوں کو (رسوم) سے روکیں۔ ان کا روکنا بہت مؤثر ہے ایک تو اس وجہ سے کہ ان قصوں (رسوم و رواج) کی اصل بانی وہی ہیں جب یہ خود رکیں گی اور مردوں کو روکیں گی تو کوئی بھی قصہ نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ان کا لب و لہجہ اور ان کا کلام بے حد مؤثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا دل میں گھس جاتا ہے۔ اس لیے اگر یہ چاہیں تو بہت جلد روک سکتی ہیں۔

(التبلیغ دوا العیوب)

عورتوں کی بعض کوتاہیاں اور ضروری اصلاحات

۱) اب بعض اعمال عورتوں کے متعلق عرض کرتا ہوں۔ (جن میں عورتیں بہت کوتاہی کرتی ہیں) ایک تو یہ کہ عورتوں میں نماز کی پابندی نہیں اور اگر اس کو چھوڑنا ہے تو کھانا بھی چھوڑ دو مگر حالت یہ ہے کہ نماز پانچ وقت کی قضا ہوجائے تو اس کی ذرا پرواہ نہیں مگر کھانا ایک وقت کا بھی ناغہ نہ ہو۔

۲) عورتوں میں ایک مرض یہ ہے کہ زکوٰۃ کی عادت نہیں۔ زیور کو عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ یہ تو استعمال کرنے کی چیز ہے اس میں زکوٰۃ کیوں ہوگی۔ خوب سمجھ لو کہ ہمارے امام صاحب کے نزدیک زیور میں بھی زکوٰۃ واجب ہے۔

۳) ایک اور کوتاہی یہ کہ عورتیں حج بھی نہیں کرتیں۔ ان کو حج کا بھی اہتمام کرنا چاہیے اور آج کل تو حج کے ذرائع بہت آسان ہوگئے ہیں۔ حج نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔

۴) ایک خاص مرض عورتوں میں یہ ہے کہ خاوندوں کی نافرمانی کرتی ہیں۔ گو بعض مرد بھی ظلم کرتے ہیں مگر بعض عورتیں ایسی ہیں کہ خاطر مدارت کے باوجود بھی شوہروں کو تنگ کرتی ہیں۔

ہندوستان کی عورتوں کی خدمت کا انکار نہیں مگر اس کا حاصل تو یہ ہے کہ جسم کو راحت پہنچاتی ہیں اور روح کو تکلیف دیتی ہیں۔ ان کی زبان ایسی ہے کہ جو جی میں آیا کہہ دیا۔ کچھ روک ہی نہیں اس سے شوہر کی روح کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کی اصلاح کا آسان طریقہ یہ ہے کہ زبان کو بند رکھیں اس میں شروع شروع میں بے شک دشواری ہوگی مگر عادت ہوکر اس مرض سے نجات ہوجائے گی اصل علاج تو یہ ہے نہ کہ وہ جو بعض عورتیں نمک پڑھواتی ہیں تاکہ خاوند تابع ہوجائے۔

۵) ایک کوتاہی یہ ہے کہ عورتوں کو پردہ کا لحاظ نہیں ہوتا اکثر گھروں میں دور دور کے رشتہ داروں کے سامنے آئیں گی اور پھر تعریف کی بات یہ ہے کہ یہی عورتیں اپنے آپ کو پردہ دار اور باہر پھرنے والی عورتوں کو بے پردہ کہتی ہیں حالاں کہ پردہ دار عورت وہ ہے کہ جس سے شریعت میں پردہ ہے ان سے پردہ کرے۔پردہ کے ساتھ قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ مرد کے ساتھ نرم لہجے میں گفتگو بھی مت کرو۔ اس طرح آواز کا بھی پردہ ہے۔

(العاقلات ملحقہ حقوق الزوجین)

۶) عورتوں کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ کپڑا شریعت کے موافق ہو، بڑا چھوٹا نہ ہو۔ اس میں بدن نہ جھلکتا ہو۔

۷) آج کل بہت سی عورتوں کو فیشن کا بہت اہتمام ہوگیا ہے۔ دوسری قوموں کی وضع بناتی ہیں۔ ساڑھی پہننے لگی ہیں۔ بعض عورتیں (مردانہ) کپڑے جوتے پہنتی ہیں۔ حدیث میں اس پر لعنت آئی ہے کہ عورتیں مرد کی وضع اختیار کریں۔

۸) بعض عورتیں گھر کا کام نہیں کرتیں اور گھر کی نگرانی نہیں کرتیں۔

حدیث شریف میں ہے کہ عورتیں گھر کی حاکم (ذمہ دار) ہیں۔ گھر کے انتظام کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا۔ نگرانی نہ کرنے سے گھر میں چوری ہوتی ہے اس کا بہت خیال رکھنا چاہیے اور گھر کا کام کرنا چاہیے، دوسروں پر نہ چھوڑنا چاہیے۔

(العاقلات الغافلات)

چند اور کوتاہیاں

۱) عورتوں کی معاشرت بالکل خراب ہے۔ اکثر عورتوں میں پردہ بہت ہی کم ہے اور سر تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ خصوصاً آدھا سر تو گویا ڈھانپنا ضروری ہی نہیں۔

۲) اکثر عورتیں زیور ایسا پہنتی ہیں جس میں آواز پیدا ہوتی ہے۔ یاد رکھو! ایسا زیور پہننا جائز نہیں۔ ہاں آپس میں لگ کر بجے اور قدم بھی آہستہ سے رکھاجائے کہ اس میں زیادہ آواز پیدا نہ ہو تو جائز ہے۔

۳) عورتوں میں ایک مرض یہ ہے کہ اپنے گھر میں تو بالکل میلی کچیلی خراب حالت میں رہیں گی اور جب برادری میں جائیں گی تو خوب بن سنور کر بلکہ پڑوسن تک کے زیور مانگ کر لے جائیں گی اور بجتا ہوا زیور ضرور پہنیں گی اور لباس ایسا پہنیں گی کہ اس میں ذرا بھی پردہ نہیں ہوتا اور سارا بدن جھلکتا ہے۔

(دعوتِ عبدیت)

عورتیں اگر یہ طریقہ اختیار کریں کہ کپڑے میلے ہوں تو بدل لیا کریں ورنہ ہرگز نہ بدلیں بلکہ جہاں جانا ہو ویسے ہی ہو آیا کریں تو بہت فتنوں سے نجات ہوجائے۔ اس کو معمولی بات نہ سمجھیں۔ یہ من جملہ ضروریات دین کے ہے۔

کیوں کہ بناؤ سنگھار کرکے جانے کا سبب محض تکبر ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں بڑا ہوں۔ اس عادت کو بدلیے، کیوں کہ بڑا بننے کی عادت بہت بری ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرا برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا۔

(ملفوظات اشرفیہ)

اور ایک جز معاشرت کا یہ ہے کہ عورتیں سلام نہیں کرتیں اور جو کرتی ہیں وہ بالکل شریعت کے خلاف کرتی ہیں۔ بعض عورتیں تو صرف سلام کہتی ہیں اس قدر تخفیف کہ چار حروف بھی زبان سے نہ نکلیں اور جواب دینے والی سارے خاندان کی فہرست گنوا دیں گی کہ بھائی جیتا رہے اور بیٹا زندہ رہے اور شوہر خوش رہے لیکن ایک لفظ وعلیکم السلام نہ کہا جائے گا۔

(تفصیل التوبہ)

عورتوں کے ذریعے فتنہ و فساد ہونے کے چند اسباب

۱) پردے میں کچھ بے احتیاطی و بے پردگی ہوتی ہے تب ہی عورتوں کے ذریعے سے فتنہ ہوتا ہے ورنہ فتنہ کی کوئی وجہ نہیں۔

(تفصیل التفسیر التوبہ)

۲) چند عورتوں کا ایک مکان میں رہنا ہی زیادہ فساد کا سبب ہوتا ہے۔ خانگی (گھریلو جھگڑے) فسادات سے بچنے کی عمدہ تدبیر یہ ہے کہ چند خاندان (یعنی کئی فیملیاں) ایک گھر میں اکٹھی نہ رہا کریں۔

(ملفوظات اشرفیہ)

خصوصاً چولہا (یعنی کھانا، پینا) تو ضروری علیحدہ ہونا چاہیے۔ زیادہ تر آگ اسی چولہے ہی سے بھڑکتی ہے۔ آج کل کی طبیعتوں کا متقضٰی یہ ہے اگر عورت ساتھ رہنے پر راضی بھی ہو اور علیحدہ رہنے میں سب رشتہ دار ناخوش ہوں تب بھی مصلحت یہی ہے کہ جدا ہی رکھے۔ اس میں ہزاروں مفاسد کا بندوبست ہے۔ گو چند روز کے لیے رشتہ داروں کا ناک منہ چڑھے گا مگر جب اس کی مصلحتیں دیکھیں گے سب خوش ہوجائیں گے۔

(اصلاح انقلاب)

چند بدعملیاں اور بری عادتیں جن میں اکثر عورتیں مبتلا ہوتی ہیں

فرمایا عورتوں کے اکثر عیوب یہ ہوتے ہیں:

۱) اُن نمازوں کی قضا نہیں کرتیں جو ہر مہینے میں اس سے غسل کی تاخیر کی وجہ سے چھوٹ جاتی ہیں۔

۲) روزہ کے حقوق ادا نہیں کرتیں (یعنی) فضول اور گناہ کی باتوں میں روزہ کو برباد کر دیتی ہیں۔

۳) اسی طرح زکوٰۃ و حج اور قربانی کے سلسلے میں بہت کوتاہی کرتی ہیں۔

۴) پردہ میں احتیاط کم کرتی ہیں جن عزیزوں (رشتہ داروں) سے شرعاً پردہ ہے ان کے سامنے آتی ہیں۔ نیز کافر عورتوں سے جیسے بھنگن چماروں وغیرہ سے بدن چھپانے کا اہتمام نہیں کرتیں۔ چناں چہ سر اور سر کے بال، بازو، کلائی اور پنڈلی وغیرہ ان کے سامنے کھولے رہتی ہیں۔

۵) عورتوں میں ذکر ﷲ کا رواج بہت کم ہے۔ نمازوں کے ساتھ کچھ ذکر ﷲ بھی کرنا چاہیے۔ اس کی برکت سے دل کو ﷲ تعالیٰ سے لگاؤ ہوتا ہے اور نماز میں دل بھی لگتا ہے۔

عورتوں کے لیے ذکر ﷲ کے ساتھ ساتھ (تھوڑی دیر) موت کا مراقبہ بے حد مفید ہے۔

(ملفوظات کمالات اشرافیہ، مطبوعہ پاکستان)

عورتوں کو اہم نصیحتیں

۱) سب سے پہلے اپنے عقیدے ٹھیک کرو اور ضروری مسئلے سیکھو اور بہت اہتمام سے ان مسئلوں کی پابندی کرو۔

۲) ہر بات میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کا اہتمام کرو اس سے دل میں بڑا نور پیدا ہوتا ہے۔

۳) شرک کی باتوں کے پاس مت جاؤ، فال مت کھلواؤ۔

۴) اولاد کے ہونے یا زندہ رہنے کے لیے ٹونے ٹوٹکے مت کرو۔

۵) بزرگوں کی منت مت مانو۔

۶) شریعت میں جس سے پردہ ہے چاہے وہ پیر ہو یا چاہے کیسا ہی قریبی رشتہ دار ہو۔ جیسے دیور، جیٹھ، خالہ کا، ماموں کا، پھوپھی کا بیٹایا بہنوئی، نندوئی، منہ بولا بھائی یا منہ بولا باپ ان سے خوب پردہ کرو۔

۷) خلاف شرع لباس مت پہنو جیسے ایسا کرتہ کہ جس میں پیٹ، پیٹھ، کلائی یا بازو کھلے ہوں۔ یا ایسا باریک کپڑا جس میں بدن یا سر کے بال جھلکتے ہوں۔ یہ سب چھوڑ دو۔

۸) لمبی آستینوں کا اور نیچا اور موٹے کپڑے کا جس سے بدن نہ جھلکے لباس بناؤ اور ایسے کپڑے کا دوپٹہ ہو اور دوپٹہ دھیان کرکے سر سے مت ہٹنے دو ہاں گھر میں اگر خالی عورتیں ہوں یا اپنے ماں باپ اور حقیقی بھائی وغیرہ کے سوا گھر میں کوئی اور (یعنی نامحرم) نہ ہو تو اس وقت سر کھولنے میں ڈر نہیں۔

۹) کسی کو جھانک تاک کر مت دیکھو۔

۱۰) بیاہ شادی، مونڈن، چلہ، چھٹی، منگنی، چوتھی وغیرہ میں کہیں مت جاؤ، نہ اپنے یہاں کسی کو بلاؤ (کیوں کہ اس میں بڑے فتنے اور خرابیاں ہوتی ہیں)۔

۱۱) کوئی کام نام کے واسطے مت کرو۔

۱۲) کوسنے اور طعنہ دینے اور غیبت سے زبان کو بچاؤ۔

۱۳) پانچوں وقت نماز اوّل وقت پڑھو اور جی لگا کر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، رکوع سجدہ اچھی طرح کرو۔

۱۴) اگر تمہارے پاس زیور، گوٹہ، لچکا وغیرہ ہو تو حساب کرکے زکوٰۃ نکالو۔

۱۵) خاوند کی تابعداری کرو، اس کا مال اس سے چھپا کر خرچ مت کرو۔ گھر کا کام خاص کر شوہر کی خدمت کرنا عبادت ہے۔

۱۶) گانا کبھی مت سنو۔

۱۷) اگر تم قرآن پڑھی ہوئی ہو تو روزانہ قرآن پڑھا کرو۔

۱۸) جو کتاب پڑھنے یا دیکھنے کے لیے لینی ہو پہلے کسی معتبر عالم کو دکھلا لو اگر وہ صحیح بتائیں تو خرید لو ورنہ مت لو۔

۱۹) اگر کوئی شخص کو ئی بات تمہاری مرضی کے خلاف کرے تو صبر کرو، جلدی سے کچھ کہنے سننے مت لگو۔ خاص کر غصے کی حالت میں بہت سنبھلا کرو۔

۲۰) اپنے کو صاحب کمال (بزرگ اور بڑا) مت سمجھو۔

۲۱) جو بات زبان سے کہنا چاہو پہلے سوچ لیا کرو۔ جب خوب اطمینان ہوجائے کہ اس میں کوئی خرابی نہیں اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اس میں کوئی دین یا دنیا کی ضرورت ہے یا فائدہ ہےاس وقت زبان سے نکالو۔

۲۲) کسی مسلمان کو اگرچہ وہ گناہ گار یا چھوٹے درجہ کا ہو حقیر مت سمجھو۔

۲۳) مال و عزت کی حرص لالچ مت کرو۔

۲۴) بے ضرورت اور بے فائدہ لوگوں سے مت ملو اور جب ملنا ہو تو خوش اخلاقی سے ملو اور جب کام ہوجائے تو ان سے الگ ہوجاؤ۔

۲۵) بات کو بنایا مت کرو بلکہ جب تم کو اپنی غلطی معلوم ہوجائے تو فوراً اقرار کرلو۔

۲۶) اﷲ پر بھروسہ رکھو اور اسی سے اپنی حاجت عرض کیا کرو اور دین پر قائم رہنے کی درخواست کرو۔

کیا عورتیں بھی کامل ہوسکتی ہیں

جیسے مرد کامل ہوسکتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی کامل ہوسکتی ہیں اور جیسے خود مردوں کی نوع (قسم) میں فرق ہے اسی طرح عورتوں میں بھی فرق ہے اور عورتوں کے کامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ جیسے مرد کامل ہوتے ہیں یہ ویسی ہوجائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی استعداد کے موافق کامل ہوسکتی ہیں خواہ مردوں کے برابر نہ ہوں اور عورتوں کے کامل ہونے پر شبہ نہ کیا جائے کہ یہ تو بروئے حدیث ناقص ہیں پھر ان کو کامل کیسے کہا جاسکتا ہے۔

بات یہ ہے کہ عورتوں میں دو قسم کے نقصان ہیں ایک مردوں کے مقابلے میں سو اس کا تدارک تو غیر اختیاری ہے اور اکتساب (کوشش کرنے) کو اس میں دخل نہیں ہے اور ایک نقصان اپنی نوع کے لحاظ سے ہے اس کا تدارک ہوسکتا ہے اور وہ اختیاری ہے اور یہ نقصان کمال سے بدل سکتا ہے۔ بہرحال عورتوں کو بھی ایک کمال علمی حاصل ہوسکتا ہے جس کو ایمان کہا گیا ہے۔ دوسرا کمال عملی بھی حاصل ہوسکتا ہے جس کو احسان فرمایا گیا ہے۔ علم و عمل دونوں ضروری ہیں۔

(العاقلات الغافلات)

اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد میں:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ  الصّٰدِقِیۡنَ

ترجمہ: اے ایمان والو تقویٰ حاصل کرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔

میں کمال دین حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ تم کاملین اور راسخین یعنی جو لوگ دین میں پختہ اور مضبوط ہوں ان کے ساتھ ہوجاؤ۔ مردوں کو تو اس طریقے پر عمل کرنا آسان ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ عورتوں کے لیے اس کا طریقہ کیا ہے اور یہ سوال واقعی بہت ضروری ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ عورتیں بھی ان ہی بزرگوں سے فیض حاصل کریں جن سے مرد فیض حاصل کرتے ہیں مگر یہ ذرا دشوار ہے کیوں کہ اوّل تو مردوں اور عورتوں کا ساتھ کیا؟ دوسرے پردہ کی وجہ سے شیخ کو ان سے مناسبت کامل نہیں ہوسکتی اور مناسبت کے بغیر نفع کامل نہیں ہوتا اور بزرگوں کے سامنے آنا اور ان سے پردہ نہ کرنا جائز نہیں۔ ہاں جن عورتوں کے باپ یا شوہر اس قابل ہوں وہ ان سے فیض حاصل کرسکتی ہیں مگر سب کے تو باپ اور شوہر کامل نہیں اس لیے یہ طریقہ کافی نہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مرد تو کامل مردوں سے فیض حاصل کریں اور عورتیں کامل عورتوں سے فیض حاصل کریں اور قیاس کا اصل متقضٰی بھی یہی ہے کہ جس طرح مردوں کو حکم ہے کہ  کُوۡنُوۡا مَعَ  الصّٰدِقِیۡنَ کہ سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اسی طرح عورتوں کو حکم دیا جائے کہ کُوۡنُوۡا مَعَ  الصّٰدِقِیۡنَ اے عورتو! تم سچی عورتوں کے ساتھ ہو جاؤ۔

مگر اس پر سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا عورتیں بھی کامل ہوسکتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بھی کامل ہوسکتی ہیں کیوں کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ نے مردوں کو صادقین فرمایا ہے اسی طرح عورتوں کو صادقات فرمایاہے۔ چناں چہ سورہ احزاب کی ایک آیت اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ...الایۃ میں بھی وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ (سچے مرد اور سچی عورتیں) آیا ہے اور عورتوں کے بھی کامل ہونے کا ثبوت ملتا ہے اور واقعی عورتوں کی اصلاح کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ جو عورتیں کامل ہوں یہ ان کی صحبت میں رہیں مگر افسوس ہے کہ ہماری عورتوں کے طبقہ میں آج کل کامل بہت کم ہیں۔

عورتوں کی اصلاح کے طریقے

۱) عورتوں کی تمام خرابیوں کی اصل (جڑ اور بنیاد) ایک ہی امر ہے اگر اس کی اصلاح ہوجائے تو سب باتوں کی اصلاح ہوجائے۔ وہ یہ کہ آج کل بے فکری ہوگئی ہے اگر ہر کام میں دین کا خیال رکھا جائے کہ یہ کام جو ہم کرتے ہیں دین کے موافق ہے یا نہیں تو ان شاء اﷲ تعالیٰ چند روز میں اصلاح ہوجائے گی۔

(الکمال فی دین النساء)

۲) اصلاح کا طریقہ غور سے سننا اور سمجھنا چاہیے اور اصلاح کا طریقہ علم و عمل سے مرکب ہے اور علم یہ نہیں کہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ لیا یا تفسیر پڑھ لی۔ نور نامہ، وفات نامہ پڑھ لیا بلکہ کتاب وہ پڑھو جس میں تمہارے امراض کا بیان ہو یہ تو علم کا بیان ہوا۔

۳) اور عمل (دو ہیں) ایک تو یہ کہ زبان روک لو۔ تمہاری زبان بہت چلتی ہے۔ تم کو کوئی برا کہے یا بھلا کہے تو ہرگز مت بولو۔ اس طرح کرنے سے حسد وغیرہ سب جاتے رہیں گے اور جب زبان روک لی جائے گی تو امراض کے مبانی و مناشی (اسباب) بھی جاتے رہیں گے۔ ضعیف اور مضمحل ہوجائیں گے۔

۴) دوسرا کام یہ کہ ایک وقت مقرر کرکے یہ سوچا کرو کہ دنیا کیا چیز ہے اور یہ دنیا چھوٹ جانے والی ہے اور موت کا اور اس کے بعد جو امور پیش آنے والے ہیں جیسے قبر اور منکرنکیر کا سوال اور اس کے بعد قبر سے اٹھنا اور حساب و کتاب اور پل صراط پر چلنا سب کو تفصیل کے ساتھ روزانہ سوچا کرو۔ اس سے حب جاہ، حب مال اور تکبر، حرص، غیبت،حسد وغیرہ سب امراض جاتے رہیں گے۔

غرض علاج کا حاصل دو جز ہیں ایک علمی اور دوسرا عملی۔علمی کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کے بعد ایسی کتابیں پڑھو، جن میں احکام فقہ (مسائل) کے ساتھ دل کے امراض مثلاً حسد، تکبر وغیرہ کا بیان ہو۔ کم سے کم بہشتی زیور ہی کے دس حصے پڑھ لو۔

اور عملی جز کا حاصل دو چیزیں ہیں۔ کف لسان (یعنی زبان کو روکنا) اور موت کا مراقبہ لیکن طوطے کی طرح بہشتی زیور کے الفاظ خود پڑھ لینے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ یہ ضروری ہے کہ کسی عالم سے سبقاً سبقاً (تھوڑا تھوڑا کرکے) پڑھے اگر گھر میں عالم موجود ہو۔ ورنہ گھر کے مردوں سے درخواست کرو کہ وہ کسی عالم سے پڑھ کر تم کو پڑھا دیا کریں مگر پڑھ کر بند کرکے مت رکھ دینا بلکہ ایک وقت مقرر کرکے ہمیشہ اس کو خود بھی پڑھتی رہنا اور دوسروں کو بھی سناتی رہنا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس طریقے سے ان شاء اﷲتعالیٰ بہت جلد اصلاح ہوجائے گی۔

عورتوں کی مکمل اصلاح کا خاکہ اور دستور العمل کا خلاصہ

۱) عورتیں کامل ہوسکتی ہیں اور،ان کے کمال کا طریقہ یہی ہے کہ اوّل تو وہ کتابیں دیکھیں جن میں مسائل اور شرعی احکام کا ذکر ہے۔ ان کو دیکھ کر ہر عمل کے کامل کرنے کا طریقہ معلوم کریں اور جن اعمال میں کوتاہی ہو رہی ہے۔ اس کی اصلاح کریں یہ تو اصل طریقہ ہے۔

۲) اور اس میں آسانی پیدا کرنے کے لیے یہ طریقہ ہے کہ اگر کوئی کامل مرد اپنے محارم میں مل جائے۔ (جن سے پردہ نہیں) تو اس کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں اس سے اپنے اخلاق و عادات کی اصلاح کا طریقہ پوچھ کر دل کی اصلاح کرلیں۔

۳) اور اگر کوئی مرد ایسا نہ ملے تو کسی کاملہ (عورت) کی صحبت میں رہیں۔

۴) اور اگر کوئی کاملہ بھی نہ ملے تو اپنے گھر کے مردوں کی اصلاح اور اجازت سے کسی دوسرے بزرگ سے بذریعہ خط و کتابت اپنی اصلاح کا تعلق رکھیں اور اس کو اپنے حالات کی خبر دیتی رہیں۔ جو کچھ وہ لکھے اس پر عمل کریں اور گھر ہی میں رہیں اور اس کے پاس جانے کی زحمت نہ اٹھائیں۔

۵) ہاں اپنے گھر پر بزرگوں کے قصے اور ان کے حالات اور ملفوظات اور ان کی تصانیف کا مطالعہ جاری رکھیں۔ اس سے بھی وہی نفع ہوگا جو پاس رہنے سے ہوا کرتا ہے اور اگر مردوں میں سے کسی کو بزرگوں کے پاس جانے کی فرصت نہ ہو۔ وہ بھی اس طریقے پر عمل کریں۔ ان شاء اﷲ تعالیٰ اس طرح ان کا بھی دین کامل ہوجائے گا۔

(الکمال فی الدین)

یہ صورت تو عورتوں کے اصلاح کی آج کل نہیں ہوسکتی کہ وہ آپس میں ہم جنس عورت سے فیض حاصل کرلیا کریں۔ اب تو وہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جن عورتوں کے محارم قریبی رشتہ داروں میں کوئی کامل ہو وہ اس سے فیض حاصل کرے۔ جس کا شوہر کامل ہو۔ وہ اپنے شوہر سے فیض حاصل کرے مگر اس میں مشکل یہ ہے کہ شوہر تو بعض جگہ غلام ہوتا ہے۔ ورنہ برابر کا دوست تو ہے ہی۔ شوہر کی تعظیم و تکریم عورتیں اس درجہ نہیں کرتیں جتنی مربی پیر کی تعظیم ہونی چاہیے اور اس کے بغیر فائدہ نہیں ہوسکتا۔

دوسرے بیوی کو شوہر سے ویسا اعتقاد بھی نہیں ہوتا جیسا دوسروں سے اعتقاد ہوتا ہے گو اپنا شوہر کتنا ہی بڑا کامل ہو۔ ایسی صورت میں اگر عورت اپنے شوہر سے فیض حاصل نہ کرسکیں اور اپنے محارم (قریبی رشتہ دار جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہوتا ہے) ان میں بھی کوئی کامل نہ ہو تو اب دوسری صورت یہ ہے کہ بزرگوں کی کتابیں اور ان کے ملفوظات و مواعظ کا مطالعہ کیا جائے بزرگوں کی تصانیف اور ان کے ملفوظات میں بھی وہی اثر ہوتا ہے جو ان کی صحبت میں ہوتا ہے۔ جب پھولوں کا موسم چلا جائے تو اب اس کی خوشبو گلاب سے حاصل کرنی چاہیے۔ گلاب میں بھی پھول کی خوشبو مل سکتی ہے اسی طرح آفتاب چھپ جائے تو اب چراغ سے روشنی حاصل کرنی چاہیے۔ اہل اﷲ کے کلام میں نور ہوتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے۔

(الکمال فی الدین:۱۱۰)

بزرگوں کے کلام میں نور ہوتا ہے اور تجربہ و مشاہدہ سے یہ ثابت ہے کہ بزرگوں کی تصانیف (کتابوں) سے بھی قریب قریب ہی فائدہ ہوتا ہے جو ان کے ساتھ رہنے سے ہوتا ہے گو بالکل اس کے برابر نہ ہو مگر اس کے قریب ضرور ہوگا۔ تو اگر عورتوں کو بزرگوں کی صحبت میسر نہ آسکے تو ان کے ملفوظات اور احوال موجود ہیں ان کو دیکھتی رہا کریں۔ ان شاء اﷲ تعالیٰ ضرور کمال ہوگا۔

الحمد ﷲ اس سوال کا جواب ہر پہلو سے مکمل ہوگیا ہے کہ عورتوں کے لیے معیت صادقین (یعنی سچے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے) کی کیا صورت ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن کے محارم میں کوئی کامل نہ ہو وہ اس کی تلاش کریں کہ کوئی عورت کامل فی الحال ملے تو اس کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں اور جس کو دونوں باتیں میسر نہ ہوں۔ وہ بزرگوں کے کلام اور ملفوظات اور قصے اور حالات کا مطالعہ کریں۔ بس اب عورتوں کے لیے بھی میں نے (آیت کی روشنی میں) کمالِ دین حاصل کرنے کا آسان طریقہ بتلا دیا ہے۔ آگے ان کی ہمت ہے عمل کریں یا نہ کریں۔

(الکمال فی الدین النساء:۱۲۱ ملحقہ حقوق الزوجین:۱۲۲)

عورتوں کی اصلاح کے طریقے

عورتوں کی اصلاح کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ دینی کتابوں کا مطالعہ کیا کریں۔ باقی آج کل ایسا (عملی) نمونہ کہ جس کو وہ خود مشاہدہ کرکے ان کی صحبت میں رہ کر اپنے اخلاق درست کرلیں۔ عورتوں میں ایسا ہونا اور ایسی عورت ملنا تقریباً محال ہے۔ خاوندوں کو ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے لیکن عورتیں اپنے خاوندوں کی معتقد نہیں ہوتیں۔ اس لیے بس کتاب پڑھا کریں اور سنایا کریں۔ (اس کے بعد پھر) اصلاح ہو یا نہ ہو ان کو کتاب پڑھ کر سناتے رہیں۔ (اگر اصلاح نہ بھی ہو) وہ تو مواخذہ سے بری ہوجائیں گے۔

(حسن العزیز:۲؍۷۴)

عورتیں پیر شیخ بن کر اصلاح کا کام کرسکتی ہیں یا نہیں

جب میں نے چند بزرگوں کے نام کی فہرست لکھی تھی کہ عام لوگ ان میں سے کسی کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ اس وقت میرا جی چاہا کہ چند عورتوں کے نام بھی لکھوں تاکہ عورتیں ان سے فیض حاصل کریں مگر عورتوں میں کوئی ایسی نظر ہی نہیں پڑی جس کا نام اس میں اطمینان سے لکھ دیتا اور بعض ایسی بھی تھیں جن کے کمال کی خبر میں سنتا تھا اور اس وقت ان کے متعلق کوئی بات بے اطمینان کی نہ تھی مگر ان کا نام لکھنے سے چند ذیلی وجوہ سے رکا۔

۱) یہ کہ ان کے کمالات عورتوں ہی کی زبانی سنے تھے۔ خود مجھ کو ان کے کمال کی تحقیق نہ تھی اور نہ تحقیق کی کوئی صورت تھی۔ بخلاف ان بزرگوں کے جن کے نام شایع کیے گئے تھے کہ ان سب سے میں خود مل چکا تھا اور عورتوں کے بیانات پر مجھے اطمینان نہ ہوا کہ نہ معلوم یہ اپنے ذہن میں کمال کسے سمجھتی ہوں گی اور کس کو کامل سمجھتی ہوں گی۔ ان سے یہ بھی بعید نہیں کہ ناقص کو سمجھتی ہوں گی۔

۲) اگر عورتوں کا نام کاملات کی فہرست میں شایع ہوا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ مردوں کو بھی ان سے اعتقاد ہوجائے اور بعض مرد ان سے فیض حاصل کرنے جائیں۔

۳) ممکن ہے کہ عورتیں دور دراز سے ان کی ملاقات و زیارت کے لیے سفر کریں اور ایسا ضرور ہوتا ہے اور میں عورتوں کے لیے سفر کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب عورتیں سفر کرکے ان کے پاس آتیں تو ان بیچاری کاملات کو آنے والی عورتوں کی خاطر مدارت اور مہمان داری کرنی پڑتی ہے جس سے ان پر بار ہوتا ہے۔

۴) پھر آنے والوں کی خاطر مدارت کے متعلق ان کاملات (عورتوں) میں اور ان کے شوہروں میں جھگڑا ہوتا ہے، شوہر جھلاتا ہے کہ میرے یہاں یہ روز گاڑیاں کیسے آنے لگیں۔ مردوں کو روز روز عورتوں کے آنے سے پردہ وغیرہ کی تکلیف ہوتی ہے اور ان کی آزادی میں خلل پڑتا ہے۔

۵) اس قدر رجوعات (لوگوں کے متوجہ ہونے) سے کہیں ان کاملات (عورتوں) کا دماغ نہ بڑھ جاتا کیوں کہ یہ تعظیم و تکریم وہ بلا ہے کہ اس کے ساتھ کامل سے کامل مرد کو بھی سنبھلنا دشوار ہوتا ہے۔ عورتوں کا دماغ تو بہت ہی بڑھ جاتا ہے کہ ہاں ہم بھی کچھ ہیں۔ تو ان بے چاریوں کا تھوڑا بہت جو کچھ کمال تھا وہ بھی تکبر کی وجہ سے زائل ہوجاتا۔

خیر وجوہات تو میرے ذہن میں بہت سی آئیں مگر سب سے زیادہ مانع پہلی وجہ بھی تھی کہ ان کے کمالات عورتوں ہی کی زبانی سنے ہوئے تھے اس لیے پوری طرح اطمینان نہ ہوا اور حقیقت میں میرا خیال صحیح نکلا۔ میں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس وقت میں نے ان کے نام شایع نہ کیے ورنہ شایع ہوجانے کے بعد بڑی دقت ہوتی۔

(الکمال فی الدین:۱۱۶، ۱۱۷)

عورتوں کو مرد بننے کی تمنا کرنا

حضرت امّ سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے دعا کی تھی اور فرمایا تھا یَا لَیْتَنَا کُنَّا رِجَالًا۔ یعنی کاش ہم مرد ہوتے کہ مردوں کے متعلق جو فضائل ہیں وہ ہم کو بھی حاصل ہوتے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور یہ آیت نازل فرمائی۔ وَلَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ۔

خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ جو فضائل فطری اور غیر اختیاری ہیں جن کے حاصل کرنے میں کوشش کا کوئی دخل نہیں ان کی تمنا مت کرو اور جو چیزیں اکتساب سے تعلق رکھتی ہیں یعنی اپنے اختیار سے جو فضائل حاصل کیے جاسکتے ہیں وہ حاصل کرو۔

پس یہ تمنا کرنا کہ ہم مرد ہوتے اﷲ تعالیٰ پر اعتراض کرنا ہے کہ ہم کو عورت کیوں بنایا جس کو جیسا بنا دیا اس کے لیے وہی بہتر ہے۔

تمہارے ذمہ کوئی کام نہیں جب کہ مردوں کے ذمہ بہت کام ہیں۔ سفر کرو، تجارت کرو، معاش حاصل کرو، تمام دنیا کے بکھیڑے مردوں کے ذمہ ہیں۔

جمعہ، جماعت، دین کی اشاعت و تبلیغ سب مردوں کے ذمہ ہے۔ تمام اہل و عیال کا خرچ ان کے ذمہ ہے۔ تمہارے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے اور اسی لیے تمہارا حصہ بھی آدھا ہی مقرر ہوا ہے۔ بلکہ یہ بھی تمہارے لیے زائد ہی ہے۔ اس لیے کہ تمہارے ذمہ کسی کا خرچ نہیں حتیٰ کہ اپنا بھی نہیں وہ بھی مرد ہی کے ذمہ ہے۔

تمہارے لیے تو بہت آسانی ہے پس عورت ہونا تمہارا مبارک ہوگیا،کیا کرو گی درجوں کو لے کر بس نجات ہوجائے غنیمت ہے اگر سزا نہ ہو تو بہتر ہے باقی اگر تم درجوں کے کام کرو گی تو درجے بھی مل جائیں گے لیکن یہ ضروری نہیں کہ تم انبیاء سے بڑھ جاؤ۔

بہرحال تم کو کام بہت کم بتایا گیا ہے۔ اس لیے تم خوش رہو اور مردوں پر رشک نہ کرو۔ نہ مرد بننے کی تمنا کرو۔

(وعظ الخضوع، حقیقتِ عبادت:۳۱۶)

عورتوں کی ایک بڑی خوبی

عورتوں میں تعریف کی بات یہ ہے کہ ان کو اﷲ تعالیٰ اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے احکام میں شبہ نہیں ہوتا جب سن لیں گی کہ یہ اﷲ تعالیٰ اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے احکام ہیں گردن جھکا دیں گی چاہے عمل کی توفیق نہ ہو لیکن اس میں شک و شبہ اور اس کی وجہ و علت (چون و چرا) کا سوال ان کی جانب سے نہیں ہوتا، بخلاف مردوں کے کہ ان میں اس طرح اطاعت کا مادّہ کم ہے خاص۔ کر آج کل تو اتنی عقل پرستی بلکہ اکل پرستی (پیٹ پالنے کی فکر) غالب ہوئی ہے کہ ہر بات کی وجہ پوچھتے ہیں۔ اپنی عقل سے ہر مسئلے کو جانچتے ہیں اور اس میں رائے زنی کرتے ہیں کہ عقل کے موافق ہے یا نہیں اور عورتوں کی خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن وہ تسلیم کرلیں گی۔

ابھی ایک تازہ واقعہ ہوا ہے کہ ایک معاملے میں ایک عورت کو جوش و خروش تھا۔ میں نے کہلا بھیجا کہ شریعت کا حکم اس کے متعلق یہ ہے سنتے ہی گردن جھکا دی اور اس کے بعد ایک حرف اس کے خلاف اس کی زبان سے نہیں نکلا اور جس بات پر انکار تھا فوراً اس کو قبول کرلیا۔ عورتوں میں یہ بڑی خوبی ہے۔

(وعظﷲ الدینا ملحق دنیا و آخرت:۸۵)

نیک عورت کا حال

ہمارے قریب میں پانی پت کی عورتیں بہت دین دار سنی جاتی ہیں۔ ان میں بعض لڑکیاں قرآن کی حافظہ ہیں اور بعض لڑکیاں شعبہ قرأت کی ماہر ہیں اور قرآن پڑھی ہوئی تو تقریباً سبھی ہی ہیں۔ نمازی بھی بہت زیادہ ہیں اور اس کے ساتھ دنیا کے اعتبار سے بھی خوش حال ہیں۔ ہر شخص کے یہاں تھوڑی بہت زمیں ضروری ہے۔ کھانے پینے کی طرف سے سب بے فکر ہیں مگر یہ خوشحالی اس کی بدولت ہے کہ ان میں دنیا کی حرص زیادہ نہیں۔

وہاں کی عورتوں کے بارے میں جہاں تک سنا گیا ہے۔ بہت سادگی سے رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی دلہنیں بھی غیروں کے کپڑے پہن لیتی ہیں اور قیمتی کپڑوں کی زیادہ حرص نہیں کرتیں اگر یہ بات نہ ہوتی تو ساری زمین دار زیور اور کپڑوں ہی میں نیلام ہوجاتی۔ چناں چہ جن قصبات کی عورتوں میں یہ مرض ہے وہاں افلاس (تنگ دستی و غربت) آچکا ہے۔ گھر اور زمین تک بنئے کے رہن ہوچکا ہے۔ بھلا ایسے زیور اور کپڑوں سے کیا خوشی ہو جس کے بعد گھر ہی برباد ہوجائے یہاں تو یہ حالت ہے کہ چاہے کھانے کو گھر میں کچھ بھی نہ ہو مگر برادری میں نکلنے کے لیے قیمتی کپڑے اور سونے کا زیور ضرور ہو تاکہ برادری میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جائیں حالاں کہ غریب آدمی قیمتی کپڑے پہن کر کچھ معزز نہیں ہوسکتا کیوں کہ حقیقت حال سب کو معلوم ہوتی ہے۔

حقوق کا بیان

ماں باپ کے حقوق!

ماں باپ کے واسطے سے پرورش ہوتی ہے لہٰذا ان کے حقوق ہوتے ہیں۔

۱) ان کو تکلیف نہ پہنچائے اگرچہ ان کی طرف سے زیادتی ہو۔

۲) قولاً و فعلاً یعنی زبان سے، برتاؤ سے ان کی تعظیم کرے۔

۳) جائز کاموں میں ان کی اطاعت کرے۔

۴) اگر ان کو مال کی حاجت ہو مال سے ان کی خدمت کرے اگرچہ وہ دونوں کافر ہوں۔

۵) ماں باپ کے انتقال کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرتا رہے۔

۶) نفل عبادت اور صدقہ خیرات کا ثواب ان کو پہنچاتا رہے۔

۷) ان کے ملنے والوں کے ساتھ احسان اور خدمت سے اچھی طرح پیش آئے۔

۸) ان کے ذمہ جو قرض ہو یا کسی جائز کام کی وصیت کرکے گئے ہوں اور اﷲ تعالیٰ نے قدرت دی ہو اس کو ادا کر دے۔

۹) ان کے مرنے کے بعد خلاف شرع رونے اور چلانے سے بچے ورنہ ان کی روح کو تکلیف ہوگی۔

۱۰) کبھی کبھی ان کی قبر کی زیارت کیا کرے۔

تنبیہ: دادا، دادی، نانا، نانی کا حکم شرع میں مثل باپ کے ہے ان کے حقوق بھی ماں باپ کی طرح سمجھنے چاہئیں۔ اسی طرح خالہ اور ماموں، ماں کی طرح اور چچا اور پھوپھی باپ کی طرح ہیں جیسا کہ حدیث کے اشارے سے معلوم ہوتا ہے۔

(حقوق الاسلام بہشتی زیور)

سوتیلی ماں کے حقوق

سوتیلی ماں چوں کہ باپ کی دوست ہے اور باپ کے دوست کے ساتھ احسان کرنے کا حکم آیا ہے۔ اس لیے سوتیلی ماں کے بھی کچھ حقوق ہیں جیسا کہ ابھی مذکور ہوا۔

بہن بھائی کے حقوق

حدیث میں آیا ہے کہ بڑا بھائی مثل باپ کے ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹا بھائی مثل اولاد کے ہے۔ پس ان میں آپس میں ویسے ہی حقوق ہوں گے جیسے ماں باپ اور اولاد کے ہیں۔ اسی طرح بڑی بہن اور چھوٹی بہن کو سمجھ لینا چاہیے۔

(حقوق الاسلام بہشتی زیور)

عورت کے ذمہ شوہر کے حقوق

شوہر کے حقوق یہ ہیں:

۱) ہر امر میں اس کی اطاعت کرنا بشرطیکہ معصیت نہ ہو۔

۲) اس کے مقدور (حیثیت) سے زیادہ نان و نفقہ طلب نہ کرنا۔

۳) شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں نہ آنے دینا۔

۴) اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا۔

۵) اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے کسی کو کوئی چیز نہ دینا۔

۶) اس کی اجازت کے بغیر نفل نماز نہ پڑھنا اور نفل روزہ نہ رکھنا۔

۷) اگر صحبت کے لیے بلائے تو شرعی مانع (حالت حیض و نفاس) کے بغیر اس سے انکار نہ کرنا۔

۸) اپنے خاوند (شوہر) کو اس کے افلاس (غربت) یا بدصورتی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھنا۔

۹) اگر کوئی امر خلافِ شرع خاوند میں دیکھے تو ادب سے منع کرنا۔

۱۰) اس کا نام لے کر نہ پکارنا۔

۱۱) کسی کے رو برو خاوند کی شکایت نہ کرنا۔

۱۲) اس کے روبرو (آمنے سامنے) زبان درازی نہ کرنا۔

۱۳) اس کے اقارب رشتہ داروں سے تکرار (لڑائی جھگڑا اور بحث مباحثہ) نہ کرنا۔ (ومثل ذالک)

جانبین کے حقوق بہت ہیں۔ اس وقت ذہن میں جو مستحضر تھے لکھ دیے۔ ہٰذَا مَا اَخَذْتُ مِنْ اِحْیَاءِ الْعُلُوْمِ وغیرہ۔

(امداد الفتاویٰ)

شوہر و بیوی کے حقوق کا خلاصہ

شوہر کے ذمہ یہ حقوق ہیں:

۱) اپنی وسعت کے موافق ان کے نان و نفقہ میں دریغ نہ کرے۔

۲) ان کو دینی مسائل سکھلاتا رہے اور نیک عمل کی تاکید کرتا رہے۔

۳) اس کے محارم اقارب (قریبی رشتہ داروں سے) کبھی کبھی اس کو ملنے دیا کرے۔

۴) اس کی غلطیوں پر صبر و سکوت کرے اگر کبھی تنبیہ کی ضرورت ہو تو توسط (یعنی اعتدال) کا لحاظ رکھے۔ (زیادہ سختی نہ کرے۔)

اور بیوی کے ذمہ یہ حقوق ہیں:

۱) اس کی اطاعت اور ادب و خدمت و دلجوئی و رضا جوئی پورے طور سے بجا لائے۔ البتہ ناجائز امر میں عذر کر دے۔

۲) اس کی گنجایش سے زیادہ اس سے فرمایش نہ کرے۔

۳) اس کا مال اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے۔

۴) اس کے رشتہ داروں کے ساتھ سختی نہ کرے جس سے شوہر کو رنج پہنچے۔

بالخصوص شوہر کے ماں باپ کو اپنا مخدوم (اور بڑا) سمجھ کر ادب اور تعظیم سے پیش آئے۔

(حقوق الاسلام)

رشتہ داروں کے حقوق

رشتہ داروں کے بھی حقوق ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:

۱) اپنے محارم (یعنی سگے رشتہ دار) اگر محتاج ہوں اور کھانے کمانے کی قدرت نہ رکھتے ہوں تو گنجایش کے موافق ان کے نان و نفقہ اور ضروری خرچ کی خبر گیری اولاد کی طرح واجب ہے اور غیر محرم (یعنی جو سگے نہیں ان کا) نان و نفقہ اس طرح تو واجب نہیں لیکن کچھ خدمت کرنا ضروری ہے۔

۲) کبھی کبھی ان سے ملتا رہے۔

۳) ان سے رشتہ و تعلق ختم نہ کرے بلکہ کسی قدر ان سے تکلیف بھی پہنچے تو صبر کرنا افضل ہے۔ (حقوق الاسلام)

سسرالی رشتہ دار

قرآن مجید میں حق تعالیٰ نے نسب کے ساتھ علاقہ مصاہرۃ یعنی سسرالی رشتہ کو بھی ذکر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ساس اور سسر، سالے، بہنوئی اور داماد، بہو اور بیوی کی پہلی اولاد کا بھی کسی قدر حق ہوتا ہے اس لیے ان لوگوں کے ساتھ احسان و اخلاق کی رعایت کسی قدر خصوصیت کے ساتھ اوروں سے زیادہ رکھنی چاہیے۔

(حقوق الاسلام بہشتی زیور)

یتیموں و کمزوروں کے حقوق

یتیم(یعنی وہ بچہ جس کا باپ نہ ہو) اور بیوہ، عاجزہ، ضعیف، مسکین، بیمار، معذور، مسافر یا سائل ان لوگوں کے یہ حقوق اور زائد ہیں:

۱) ان لوگوں کی مالی خدمت کرنا۔

۲) ان لوگوں کا کام خود کر دینا۔

۳) ان کی دلجوئی اور تسلی کرنا۔

۴) ان کی حاجت اور سوال کو رد نہ کرنا۔

(حقوق الاسلام)

مہمان کے حقوق

مہمان کے حقوق یہ ہیں:

۱) اس کے آنے کے وقت خوشی ظاہر کرنا۔

۲) اس کے جانے کے وقت کم از کم دروازہ تک اس کے ساتھ جانا۔

۳) اس کے معمولات اور ضروریات کا انتظام کرنا جس سے اس کو راحت پہنچے۔

۴) تواضع و تکریم اور مدارات کے ساتھ پیش آنا بلکہ خود اس کی خدمت کرنا۔

۵) کم از کم ایک روز اس کے لیے کھانے میں کسی قدر درمیانی درجہ کا تکلف کرنا مگر اتنا جس میں نہ اپنے کو گرانی ہو اور نہ اس کو۔

۶) کم از کم تین روز تک اس کی مہمان داری کرنا اتنا تو اس کا حق ہے اس کے بعد جس قدر ٹھہرے میزبان کی طرف سے احسان ہے۔

(حقوق الاسلام)

عام مسلمانوں کے حقوق

حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے عام مسلمانوں کے یہ حقوق منقول ہیں:

۱)  مسلمان بھائی کی لغزش کو معاف کرے۔۲) اس کے عیب چھپائے۔۳)  اس کے عذر کو قبول کرے۔۴) اس کی تکلیف کو دور کرے۔۵)  ہمیشہ اس کے ساتھ خیر خواہی کرے۔۶)  اس کی حفاظت و محبت کرے۔۷)  بیمار ہو تو عیادت کرے۔ ۸)  مر جائے تو جنازے پر حاضر ہو۔۹)  اس کی دعوت قبول کرے۔۱۰)  اس کا ہدیہ قبول کرے۔۱۱)  اس کے احسان کا بدلہ دے۔۱۲) اس کی نعمت کا شکر کرے۔۱۳) موقع پر اس کی مدد کرے۔۱۴)  اس کے اہل و عیال کی حفاظت کرے۔۱۵)  اس کی سفارش قبول کرے۔۱۶) وہ چھینک کر اَلْحَمْدُلِلہِ کہے تو جواب میں یَرْحَمُکَ اللہُ کہے۔۱۷) اگر اس پر کوئی ظلم کرے تو اس کی مدد کرے۔۱۸)  اسے سلام کرے اور اس کے سلام کا جواب دے۔۱۹)  اس کی غیبت نہ کرے۔ اس کو کسی طرح کا نقصان و تکلیف نہ پہنچائے۔۲۰)  جو بات اپنے لیے پسند کرے اس کے لیے بھی پسند کرے۔ اس کے علاوہ اور بھی حقوق ہیں۔

پڑوسی کے حقوق

۱) اس کے ساتھ احسان و رعایت سے پیش آئے۔۲)  اس کی بیوی، بچوں کی عزت کی حفاظت کرے۔۳) کبھی کبھی اس کے گھر تحفہ بھی بھیجتا رہے خصوصاً جب وہ محتاج ہو تو ضرور تھوڑا بہت کھانا اس کو دے۔۴)  اس کو تکلیف نہ دے۔۵)  معمولی معمولی باتوں پراس سے نہ الجھے۔

غیر مسلموں کے حقوق

محض انسان ہونے کی بنا پر گو وہ مسلمان نہ ہو یہ حقوق ہیں:

۱) بے گناہ کسی کو جانی یا مالی تکلیف نہ دیں۔۲) بلاوجہ کسی کے ساتھ بدزبانی نہ کرے۔

۳) اگر کسی مصیبت، فاقہ، مرض میں مبتلا دیکھے اس کی مدد کرے۔ کھانا پانی دے۔ علاج معالجہ کرا دے۔۴) جس صورت میں شریعت نے سزا کی اجازت دی ہے۔ اس میں ظلم یا زیادتی نہ کرے۔۵)  اس کو ترسائے نہیں۔

(حقوق الاسلام)

جانوروں کے حقوق

۱) جس جانور سے کوئی خاص غرض متعلق نہ ہو اس کو قید نہ کرے خصوصاً بچوں کو نکال لانا اور ان کے ماں باپ کو پریشان کرنا بڑی بے رحمی ہے۔۲)  جو جانور نفع کے قابل ہیں ان کو بلاضرورت محض مشغلہ کے طور پر قتل نہ کرے۔۳)  جو جانور اپنے کام کے ہیں ان کے کھانے پینے اور راحت و خدمت کا پورے طور پر اہتمام کرے۔۴)  ان کی قوت سے زیادہ ان سے کام نہ لے۔۵)  ان کو حد سے زیادہ مارے نہیں۔۶)  جس جانور کو ذبح کرنا ہو یا اس کے موذی ہونے کی وجہ سے قتل کرنا ہو تو جلدی سے کام تمام کر دے۔ اس کو تڑپائے نہیں، بھوکا پیاسا رکھ کر جان نہ لے۔

Last Updated On Wednesday 16th of August 2017 02:32:33 PM