ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن کی فضیلت

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کوئی ایسے دن نہیں جن میں نیک اعمال اللہ جل شانہ کو عشرۂ ذی الحجہ(میں نیک اعمال) سے زیادہ محبوب ہوں، پوچھا گیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا اللہ کے راستے میں جہاد سے بھی (ان دنوں کی عبادت افضل ہے؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (جی ہاں) اللہ کے راستے میں جہاد بھی برابر نہیں ہوسکتا مگر وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جان و مال سمیت نکلے اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹے۔

(رواہ البخاری مشکوٰۃ المصابیح، رقم الحدیث:1460، باب فی الأضحیۃ)

عشرۂ ذی الحجہ میں ذکراللہ کی کثرت

حضرت عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ جل شانہ کے نزدیک عشرۂ ذی  الحجہ کے برابر زیادہ عظمت والے دن کوئی نہیں اور نہ کسی دنوں میں نیک عمل اتنا پسند ہے (جتنا ان دنوں میں) پس تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح (سبحان اللہ)، تکبیر (اللہ اکبر) اور تہلیل (لاالہ الااللہ) کیا کرو۔

(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 11116)

عید رات کی فضیلت

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دونوں عیدوں  کی رات (یعنی چاند رات) کو اللہ تعالیٰ سے ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے عبادت کرے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوں گے۔

(سنن ابن ماجۃ،رقم الحدیث: 1712)

عشرۂ ذی الحجہ میں دن کو روزہ اور رات میں عبادت کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہو، اس کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے ۔ اور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔‘‘

(جامع الترمذی، رقم الحدیث: 758)

یومِ عرفہ ( نوذی الحجہ) کے روزے کی خاص فضیلت

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ گزشتہ ایک سال اور آیندہ ایک سال کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جائے گا۔‘‘

(سنن الترمذی، رقم الحدیث:749)

حاجی کے لیے وضاحت

اگر حاجی کو اس روزے کی وجہ سے یومِ عرفہ کے قیمتی دن کی عبادات اور دعا مانگنے میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں حاجی کے لیے یہ روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ (شامی)

مسئلہ: واضح رہے کہ یکم ذوالحجہ سے نو ذوالحجہ تک روزہ رکھنا مستحب ہے لیکن عید کے دن روزہ رکھنا شرعاً ممنوع ہے کیوں کہ حدیث میں اس دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اسی طرح عید الاضحیٰ کے دوسرے اور تیسرے دن بھی روزہ رکھنا جائز نہیں ۔ البتہ عیدالاضحیٰ کے دن اگر کوئی شخص اپنے کھانے اگر کوئی شخص اپنے کھانے کی ابتداء قربانی کے گوشت سے کرے اور اس سے پہلے کچھ نہ کھائے تو اس کو فقہاء کرام نے مستحب لکھا ہے اور یہ عمل سنت سے ثابت ہے۔

(بدائع الصنائع ہندیہ)

قربانی  کرنے والے کے لیے مستحب عمل

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔

(مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث:1459)

مسئلہ: واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو بال صاف کیے اور ناخن کتروائے چالیس دن گزر گئے ہوں تو اس کے لیے بال صاف کرنا اور ناخن کاٹنا واجب ہے، ایسی صورت میں دس ذی الحجہ تک اسی حالت میں رہنا گناہ ہے۔ (شامی)

تکبیراتِ تشریق

تکبیراتِ تشریق کے الفاظ یہ ہیں:

اللہ اکبر اللہ اکبر لاالٰہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد

تکبیراتِ تشریق کس پر واجب ہے؟

تکبیراتِ تشریق واجب ہونے کے لیے تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

۱۔ مقیم ہونا، مسافر پر تکبیر کہنا واجب نہیں۔

۲۔ شہر ہونا، گاؤں والوں پر تکبیر کہنا واجب نہیں۔

۳۔ جماعتِ مستحبہ ہونا، اکیلے نماز پڑھنے والوں پر واجب نہیں۔

لہٰذا اگر کسی شخص میں یہ تینوں شرائط موجود ہوں تو ایّام تشریق میں اس پر تکبیر تشریق واجب ہے، اگر ان میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو اس پر تکبیرِ تشریق واجب نہیں تاہم حضرات صاحبین رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ تکبرات تشریق ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر نماز فرض ہے لہٰذا منفرد مرد وعورت، مسافر اور گاؤں والوں سب پر تکبیر واجب ہے۔ بعض فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے حضرات صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کے قول کو ترجیح دی ہے، اس لیے اگر صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کے قول پر عمل کیا جائے تو اس میں زیادہ احتیاط ہے اور بہتر ہے۔

(مأخذہ فتاوٰی عثمانی: 549/1بتصرف)

مفتیٰ بہ قول کے مطابق تکبیرات تشریق نو ذوالحجہ کی فجر سے لے کر عید کے چوتھے دن یعنی تیرہ ذوالحجہ کی نماز عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک دفعہ بلند آواز سے کہنا واجب ہے، البتہ عورتیں یہ تکبیرات آہستہ آواز سے کہیں۔ واضح رہے کہ تکبیرات تشریق صرف ایک مرتبہ کہنا واجب ہے، ایک سے زیادہ مرتبہ کہنا خلافِ سنت ہے۔ (شامی)

عیدالاضحیٰ کے دن مسنون اعمال

عیدالاضحیٰ کے دن (اور دیگر ایام میں بھی) سب سے پہلا اور اہم کام یہ ہے کہ نماز فجر جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھنے کا اہتمام کیا جائے، اور دیگر نمازیں بھی اپنے اپنے وقت پر باجماعت مسجد میں ادا کی جائیں۔

نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عید کی نماز کی تیاری کی جاتی ہے، اس وقت کے اعمال یہ ہیں:

۱۔ سنت کے مطابق غسل کرنا۔ ۲۔ مسواک کرنا۔ ۳۔ اپنے پاس موجود سب سے اچھے کپڑے پہننا۔ ۴۔ خوشبو لگانا۔

ایک اہم وضاحت

نماز فجر کی ادائیگی کے بعد، نماز عید سے پہلے کہیں بھی نفل ادا نہ کیے جائیں، البتہ نماز عید کے بعد گھر میں نفل پڑھنے کی اجازت ہے، بلکہ بطور شکر کے پڑھنے چاہئیں ، نیز یہی حکم خواتین کے لیے بھی ہے۔

عیدگاہ جاتے ہوئے تکبیر کہنا

عیدگاہ جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیر تشریق (اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد) کہنا سنت ہے۔(شامی)

نماز عید کے بعد معانقہ کرنا

عید کے موقع پر معانقہ کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ لہٰذا اس کو عید کی سنت سمجھ کر کرنا اور اس کو باعثِ ثواب اور ضروری سمجھ کر اس کی پابندی کرنا بدعت ہے، البتہ اگر سنت سمجھے بغیر کرلیا جائے تو بدعت نہیں۔ تاہم اگر مسجد میں معانقہ کیا جائے تو مسجد کے تقدس کا خیال کرنا ضروری ہے۔

(ماخذہ، فتاوٰی عثمانی، بتصرف:1؍103)

عیدمبارک کہنا

’’عید مبارک‘‘ ایک دعا ہے اور دعا ہونے کی حیثیت سے اس کا استعمال درست ہے، جیسا کہ بعض روایات سے عید کے دن تقبل اللہ منا ومنک کہنا ثابت ہے۔

(کما روی عن واثلۃ رضی اللہ عنہ مرفوعا، السنن الکبری للبیہقی، رقم الحدیث: 6295)

عیدگاہ جانے اور واپسی کا راستہ تبدیل کرنا سنت ہے

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عید کے دن راستہ بدل دیتے تھے۔

(صحیح البخاری، رقم الحدیث:986)

مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز کے لیے جس راستہ سے عیدگاہ تشریف لے جاتے، واپسی میں اس کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے تشریف لاتے تھے۔

عید کے دن قبرستان جانا

عید کے دن قبرستان جانا جائزہے، بشرطیکہ اسے ضروری اور لازم نہ سمجھا جائے اور جو عید کے دن قبرستان نہ جائے اُس پر نکیر نہ کی جائے۔ (ہندیہ)

کل کی ماں کاپیغام آج کی ماؤں کے نام

( حضرت اقدس مولانا ابو الحسن علی ندوی قدس سرہ العزیز کی تصنیف سے ایک اقتباس)


ایک زمانہ میں میری طبیعت دینی تعلیم سے کچھ اُچاٹ سی ہونے لگی اور انگریزی تعلیم حاصل کرنے اور سرکاری امتحانات دینے کا دورہ سا پڑا ،بھائی صاحب نے کسی خط میں یا رائے بریلی کے کسی سفر میں والدہ صاحبہ سے میرے اس نئے رجحان کی شکایت کی اس پر اُنھوں نے میرے نام جو خط لکھا،اس سے ان کے دلی خیالات ،جذبات اور اُن کی قوتِ ایمانی اور دین سے محبت و عشق کا اندا زہ ہوتا ہے ۔اس خط کا ایک اقتباس جس پر کوئی تاریخ نہیں ہے لیکن غالباً ١٩٢٩ء یا ١٩٣٠ء کا لکھا ہوا ہے،من و عن پیش کیاجا رہا ہے :
 

عزیزی علی سلمہ

تمہارا اب تک کوئی خط نہیں آیا ،روز انتظار کرتی ہوں ،مجبورآکر خود لکھتی ہوں،جلد اپنی خیریت کی اطلاع دو۔عبدالعلی  کے آنے سے اطمینان ضرور ہوا، مگر تمہارے خط سے تو اور تسکین ہوتی ۔عبدالعلی سے میں نے تمہاری دوبارہ طبیعت خراب ہونے کا ذکر کیا تو اُنھوں نے کہا کہ علی کو اپنی صحت کا بالکل خیال نہیں،جو وقت تفریح کا ہے وہ پڑھنے میں گزارتے ہیں ۔میں نے کہا ، تم روکتے نہیں ،کہا بہت کہہ چکے اور کہتے رہتے ہیں ، مگر وہ نہیں خیال کرتے، اس سے سخت تشویش ہوئی ،اول تو تمہاری بے خیالی اور ناتجربہ کاری اور پھر بے موقع محنت جس سے اندیشہ ہو ۔
علی!مجھے امیدتھی کہ تم انگریزی کی طرف مائل نہ ہو گے، مگر خلاف ِاُمید تم کہنے میں آگئے اور اتنی محنت گواراکر لی خیر بہتر ،جو کچھ تم نے کیا ، یہ بھی اس کی حکمت ہے بشرطیکہ استخارہ کر لیا ہو۔
مجھے تو انگریزی سے بالکل اُنسیت نہیں ،بلکہ نفرت ہے، مگر تمہاری خوشی منظور ہے۔ علی!دنیا کی حالت نہایت خطرناک ہے،اس وقت عربی حاصل کرنے والوں کا عقیدہ ٹھیک نہیں تو انگریزی والوں سے کیا اُمید ! بجز عبدالعلی او ر طلحہ کے تیسری مثال نہ پاؤ گے ۔علی!اگر لوگوں کا عقیدہ ہے کہ انگریزی والے مرتبے حاصل کر رہے ہیں کہ کوئی ڈپٹی اور کوئی جج،کم از کم وکیل اور بیرسٹر ہونا تو ضروری ہے مگر میں بالکل اس کے خلاف ہوں،میں انگریزی والوں کو جاہل اور اس کے علم کو بے سود اوربالکل بیکارسمجھتی ہوں ۔ خاص کر اس وقت میں نہیں معلوم کیا ہو ،اور کس علم کی ضرورت ہو، اس وقت میں البتہ ضرورت تھی۔
اس مرتبہ کو تو ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے ،یہ عام ہے، کون ایسا ہے جو محروم ہے،وہ چیز حاصل کرنا چاہیے جو اس وقت گراں ہے اور کوئی حاصل نہیں کرسکتا جس کے دیکھنے کو آنکھیں ترس رہی ہیں اور سننے کو کان مشتاق ہیں ۔آرزو میں دل مٹ رہا ہے مگر وہ خوبیاں نظر نہیں آتیں، افسوس!ہم ایسے وقت میں ہوئے۔
علی!تم کسی کے کہنے میں نہ آؤ اگر خدا کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہو اور میرے حقوق ادا کرنا چاہتے ہو تو ان سبھوں پر نظر کرو جنھوں نے علم دین حاصل کرنے میں عمر گزاردی ، ان کے مرتبے کیا تھے!شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبدالعزیز صاحب ، شاہ عبدالقادر صاحب ،مولوی ابراہیم صاحب اور تمہارے بزرگوں میں خواجہ احمد صاحب او رمولوی محمد امین صاحب جن کی زندگی اور موت قابلِ رشک ہوئی،کس شان وشوکت کے ساتھ دنیا برتی اور کیسی کیسی خوبیو ں کے ساتھ رحلت فرمائی۔یہ مرتبے کسے حاصل ہو سکتے ہیں، انگریزی مرتبے والے تمہارے خاندان میں بہت ہیں اور ہوں گے مگر اس مرتبے کا کوئی نہیں ،اس وقت بہت ضرورت ہے،ان کوانگریزی سے کوئی انس نہ تھا،یہ انگریزی میں جاہل تھے،یہ مرتبہ کیوں حاصل ہوا۔
علی!اگر میرے سو اولادیں ہوتیں ،تو سب کو میں یہی تعلیم دیتی ،اب تم ہی ہو ،اللہ تعالیٰ میری خوش نیتی کا پھل دے کہ سو کی خوبیاں تم سے حاصل ہوں اور میں دارین میں سرخ رُو اور نیک نام اور صاحب ِاولاد کہلاؤں ،آمین ثم آمین۔
میں خدا سے ہر وقت دُعا ء کرتی ہوں کہ وہ تم میں ہمت اور شوق دے اور خوبیاں حاصل کرنے کی اور تما م فرائض ادا کرنے کی توفیق دے، آمین۔
اس سے زیادہ مجھے کوئی خواہش نہیں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ان مرتبوں پر پہنچائے اور ثابت قدم رکھے ،آمین ۔علی!ایک نصیحت اور کرتی ہوں ،بشرطیکہ تم عمل کرو ، اپنے بزرگوں کی کتابیں کام میں لاؤاور احتیاط لازم رکھو۔جو کتاب نہ ہو و ہ عبدالعلی کی رائے سے خریدوباقی وہی کتابیں کافی ہیں ،اس میں تمہاری سعادت اور بزرگوں کو خوشی ہو گی ۔اس سعادت مندی کی مجھے بے حدخواہش ہے کہ تم ان کتابوں کی خدمت کرو، جو روپیہ خرچ کرو ان ہی ضرورتوں میں یا کھاؤ۔
قرض کبھی نہ لو ، ہو تو خر چ کرو ، ورنہ صبر کرو،طالب علم یوں ہی علم حاصل کرتے ہیں ،تمہارے بزرگو ں نے بہت کچھ مصیبتیں جھیلی ہیں،اس وقت کی تکلیف باعثِ فخر سمجھو، جو ضرورت ہو ہمیں لکھو،میں جس طرح ممکن ہوگا پورا کروں گی ، خدا مالک ہے مگر قرض نہ کرنا ، یہ عادت ہلاک کرنے والی ہے ، اگر وفائے وعدہ کرو تو کچھ حرج نہیں ۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے قرض لیا ہے مگر ادا کر دیا ہے ،ہم کون چیز ہیں ۔علی!یہ بھی تمہاری سعادت مندی ہے کہ میری نصیحت پر عمل کرو۔
حلوہ ابھی تیار نہیں ہوسکا ،ان شاء اللہ تعالیٰ موقع ملتے ہی تیار کرکے بھیجوں گی اطمینان رکھو۔بہت جلد خیریت کی اطلاع دو۔ اگر دیر کرو گے تو میں سمجھوں گی کہ میری نصیحت تمہیں ناگوار ہوئی ،ان شاء اللہ تعالیٰ رمضان شریف میں تم سے وعظ کہلاؤں گی۔ اللہ تعالیٰ میری خواہش سے زیادہ تمہیں توفیق دے کہنے کی اور تمہارا کلام پُراثر اور خدا کی خوشی ورضامندی کے قابل ہو ،آمین ۔باقی خیریت ہے،تم خدا کی رحمت سے تیار رہو، تم نے وعدہ بھی کیاہے۔۔۔۔تمہاری والدہ
 
( اسلام میں عورت کا درجہ۔ ص:٢٧٩)

ہماری تباہی اور اس کا حل یعنی مسلمان کیا کریں؟

(امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر موجودہ سنگین حالات بالخصوص برما کے مظلوم مسلمانوں پر کفار کے وحشیانہ حملوں اور ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی،عالم اسلام کا بے بسی وبے حسی سے نگاہیں پھیرلینا نہایت ہی دلسوز اور قیامت خیز بربادی کا پیش خیمہ ہے ۔ ملتِ اسلامیہ چاروں طرف سے نرغے میں گھری ہوئی ہے،اور اس کو ایسے خوف ناک وتباہ کن حالات کا سامنا ہے کہ جس سے ہر شخص متأثر اورپریشان ہے کہ اس نازک موقع پرکیا کرناچاہیے ؟یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جس کے حل کا پوری امت کو انتظارہے،لیکن اس کا صحیح اور پائیدارحل کہاں ملے گا؟وہ صرف قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ میں ملے گا،جو کہ ہر مسلمان کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے اور اس کو اللہ نے حق وناحق کے پرکھنے کے لیے کسوٹی بنایاہے، ان بے بسی اور ظلمت بھرے حالات میں ’’مسلمان کیا کریں‘‘کے عنوان سے محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کا وعظ جس میں آپ والا نے اُمت ِمسلمہ کی تباہی کے اسباب اور اس کے تیربہدف علاج کو بڑے دل نشین انداز میں واضح فرمایا ہے،ادارہ ’’ماہنامہ الابرار‘‘موجودہ کڑے وقت میں امت کی رہنمائی کے لیے قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان مصائب میں عالم اسلام کو سرخرو ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَنُؤْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰ تِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّہْدِہِ اللہُ فَلَامُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَاھَادِیَ لَہٗ وَنَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَنَشْہَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا  وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا  کَثِیْرًا، أَمَّابَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾ اِنَّ  الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا  الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ  وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾

قسم ہے زمانے کی کہ انسان (بوجہ تضییع عمر کے )بڑے خسارےمیں ہے،مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور ایک دوسر ے کو (اعتقاد) حق (پر قائم رہنے) کی فہمایش کرتے رہے اور ایک دوسرے کو (اعمال کی) پابندی کی فہمایش کرتے رہے۔

اُدھر مختلف نوع کے حالات وواقعات پیش آرہے ہیں جس کی اطلاع اخبارات وغیرہ سے مل رہی ہے، اب ظاہر ہےکہ جب اس قسم کے حالات رونما ہوتےہیں تو انسان پھر غور وفکر کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے،ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے ؟اور کیا تدبیر اختیار کرنا چاہیے ؟چناں چہ اس موقع پر بھی لوگ پوچھتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیاکرنا چاہیے ؟

چھوٹوں کی کامیابی کا بنیادی اُصول

چناں چہ اسی ضرورت کے پیش نظر اس وقت قرآنِ پاک کی ایک سورت تلاوت کی گئی ہے۔ اس کی تشریح وتوضیح سے پہلے بنیادی طور پر ایک اُصول سمجھنا چاہیے کہ جس سے اس سوال کا جواب بھی واضح ہوجائے گا،ساتھ ہی موجودہ حالات کے جواسباب ہیں اور ان کے تدارک کا جو طریقہ ہے وہ بھی معلوم ہوجائے گا، وہ اُصول یہ ہے کہ دوقسم کے لوگ ہیں دنیامیں: چھوٹے اور بڑے۔ اور یہ ہرشخص جانتاہے کہ چھوٹے کے ساتھ جب تک بڑے کی نصرت ومدد نہ ہو وہ کچھ نہیں کرسکتاہے، اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ چھوٹا اپنے بڑے سے کچھ لینا چاہتاہے تو وہ اس کو راضی کرکے ہی لے سکتاہے ناراض کرکے نہیں لے سکتا۔ چھوٹا اگر کامیابی وترقی چاہتاہے،راحت وآرام کی زندگی بسر کرنا چاہے تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے،وہ یہ کہ اپنے بڑے کو خوش رکھنا اور اس کو  راضی کرنا، پھر یہ کہ جیسی اطاعت کرےگا اور جتنا اس کا کہنا مانے گا اسی کے لحاظ سے معاملہ بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر چھوٹا اپنے بڑے کی اطاعت کرتاہے، پوری اطاعت کرتاہے تو وہ پورا نفع اٹھائے گا اپنے بڑے سے، بعض بیٹے اطاعت وفرماں برداری سوفیصد کرتےہیں ا ن کے ساتھ والدین  کا کیا معاملہ ہوتاہے؟ بعض اسّی فیصد کرتے ہیں،بعضے پچاس فیصد کرتے ہیں تو اسی اعتبار سے والدین کی طرف سے بھی ان کے ساتھ معاملے میں فرق ہوتاہے کہ نہیں؟ کسی کے یہاں کارخانہ ہے، اس میں کام کرنے والے ملازمین ہیں،اس میں ایک شخص ہے جوقاعدے سے کام کرتاہے تو ایک تو ہمیں اطمینان ہوتاہے، دوسرے یہ کہ ہم کچھ نہ کچھ سالانہ ترقی دیتے ہیں، انعام دیتے ہیں اور عہدہ بھی بڑھادیتے ہیں۔ اس کے برخلاف کسی کا بڑا ہو اور وہ اس کو خوش نہیں رکھتا، ناراض کردیتاہے تو پھر جو آرام ونفع اس کو بڑے سے پہنچنا چاہیے وہ نہیں ملے گا۔ جیسے کوئی ماتحت ہے وہ اپنے افسر اور حاکم کو ناراض کردے توکیا نتیجہ ہوگا؟ اس کی ملازمت کا باقی رہنا بھی مشکل ہوجائےگا اور سارا چین وسکون ختم ہوجائے گا۔ تو حاصل یہ ہوا کہ چھوٹے کو بڑے کی توجہ وشفقت اور اس کی نصرت کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہی وہ راحت وآرام کے ساتھ رہ سکتا ہے، اور یہ جب ہی ہوگا کہ وہ بڑے کی ہدایت کے موافق معاملہ کرے اور اس کا کہنا مانے۔ پھر یہ کہ جو لوگ بڑے ہیں ان میں بھی مختلف درجات ہیں، کوئی کسی درجہ کا ہے کوئی کسی درجہ کا ہے، تو جوجس درجہ کابڑا ہے اسی لحاظ سے اس کے ساتھ معاملہ کرنے پر اس کی رضا وخوشی حاصل ہوگی، اور اس سے جو نفع ملنا چاہیے وہ ملے گا ۔

اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو راضی کیا جائے

جب کامیابی اور ترقی کا یہ اُصول معلوم ہوگیا تو اسی کے موافق ہم کو بھی اپنے معاملات اور حالا ت کو دیکھنا چاہیے کہ جب مسلمان نے اللہ تبارک وتعالیٰ کو بڑا مانا ہے اور صرف بڑاہی نہیں مانا ہے بلکہ اس کی بڑائی اور کبریائی پر ایمان بھی ہے۔ ایمان کہتے ہیں حقائق کو ماننا، جو چیز عالم میں جیسی ہے ویسی جاننا اور ماننا ۔تواللہ کو بڑا ماننے کا مطلب یہ ہے کہ واقع اورحقیقت میں اللہ تعالیٰ بڑے ہیں، سب سے بڑے ہیں، ساری بڑائی اسی کے لیے ہے، ہمارا ایمان ہے اَللہُ اَکْبَرْ اللہ سب سے بڑاہے۔ اور دلائل سے بھی بڑاہے۔دنیا میں جو بڑے ہیں  ان کے بڑے ہونے کی نوعیت اور ہے، حق تعالیٰ کے لیے جوبڑائی ہے اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ہمارااللہ تعالیٰ سے جو تعلق ہے وہ عابد ومعبود کا ہے،خالق ومخلوق کا ہے، غلام ومالک کاہے۔ تو جب ترقی کے لیے، کامیابی کےلیے بڑے کی مدد کی ضرورت ہے، جس کا طریقہ ہے کہ اس کو  راضی کیاجائے تو یہاں بھی اسی اُصول کے موافق اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور اس کو خوش کرنا اور اپنے آپ کو اس کی مددو نصرت کا مستحق بنانا ضروری ہے۔

فلاح کے زرّیں اُصول

جس کی صورت یہ ہے کہ اس کی ہدایات ہیں کہ یہ یہ کام کرو اوریہ یہ کام نہ کرو، جو کرنے کی چیزیں ہیں ان کو مامورات کہتے ہیں اور جونہ کرنے کی چیزیں ہیں ان کومنہیات کہتے ہیں اس کے مطابق پورے طور پر عمل کیاجائے، کیوں کہ بغیر اس کے نہ ہم کو کامیابی مل سکتی ہے اور نہ فلاح حاصل ہوسکتی ہے۔ چناں چہ قرآنِ پاک میں ایک موقع پر ان دونوں چیزوں پر پورے طور پر عمل کرنے والوں کے متعلق پوری صراحت کے ساتھ فرمایا:

قَدۡ  اَفۡلَحَ  الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ ہُمۡ  فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ  مُعۡرِضُوۡنَ﴿ۙ۳﴾  وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ  لِلزَّکٰوۃِ  فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ  لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ   مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾ فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ  لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ  ۘ﴿۹﴾

ان مسلمانوں نے فلاح پائی جو اپنی نمازوں میں خشوع کرنےوالے ہیں اور جو لغو باتوں سے برکنار رہنے والے ہیں او رجو اپنا تزکیہ کرنے والے ہیں اور جواپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں یا اپنی لونڈیوں سے کیوں کہ ان پر کوئی الزام نہیں،ہاں جو اس کے علاوہ طلب گارہوں ایسے لوگ حد سے نکلنے والےہیں اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں  کا خیال رکھنے والےہیں اور جواپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔

اس میں گناہ کا بھی ذکرہے اور طاعت کابھی ذکرہے، گناہوں سے بچنا ضروری ہے اور طاعت پر عمل کرنا ضروری ہے  جب جاکر فلاح و کامیابی ملتی ہے سوفیصد دونوں کو مانے، اور جو شخص دونوں کو مانتاہے وہ مطیع اور فرماں بردار ہے، اس کو مالی وجانی ترقیات ملتی ہیں۔

امتِ مسلمہ کا مقام اور اس کی ذمہ داری

پھر امتِ مسلمہ کی ذمہ داری اسی پرختم نہیں ہوجاتی بلکہ جس طرح رعایا کی دو قسمیں ہیں: ایک عام رعایا ایک خاص رعایا جو پولیس اور فوج ہے دونوں کے کام الگ الگ ہیں،عام رعایا  کا کام تو صرف اتنا ہے کہ ملک کے جوقوانین ہیں اور جو اُصول ہیں اس کے موافق معاملہ کرے، بے اُصولی نہ کرے لیکن جو خاص رعایا ہیں یعنی پولیس میں ہیں تو  وہ بھی رعایا ہے لیکن کچھ ان کی خصوصیات ہیں اسی لحاظ سے ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے اور کام بھی دوگنا ہے کہ خود بھی اُصول کے موافق رہیں اور بے اُصولی سے بچیں  اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی قانون بتلائیں،اور جوقانون کی خلاف ورزی کرنے والا ہے اس کی اصلاح ودرستگی کی فکر وکوشش کریں۔ اسی طرح مو من کا بھی معاملہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رعایاہے، اس کے بھی چارکام ہیں: مامورات کوبجالانا اور منہیات سے بچنا،دوسروں کو بھی مامورات کی دعوت دینا اور منہیات سے روک ٹوک کرنا۔ چناں چہ سورۂ والعصر میں اسی کی تعلیم دی گئی ہے، اسی کو قرآنِ پاک میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کہاگیاہے۔نیکیوں اور اچھائیوں کوپھیلانا اور اس کی اشاعت کرنا اور منکرات اور بُرائیوں سے روک ٹوک کرنا اورمنع کرنا  یہ اُمتِ مسلمہ کا خاص منصب اور اس کی ذمہ داری ہے، ارشادِربانی ہے:

کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللہِ ؕ وَ لَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ  الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَاَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾

تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کےلیے ظاہر کی گئی ہے، تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اوربُری باتوں سے روکتے ہو،اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب ایما ن لے آتے تواُن کے لیے زیادہ اچھا ہوتا،ان میں سے بعضے تو مسلمان ہیں اور زیادہ حصہ ان میں سے کافرہیں۔

اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہاکریں اوربُرے کاموں سے روکا کریں، اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے ۔

ان آیات کی تشریح میں ارشادِ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ سلم ہے:

مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ  فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذَالِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ

تم میں سے جو شخص کسی خلافِ شرع امر کو  دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اس چیز کو ہاتھوں سے بدل ڈالے اور اگر وہ ہاتھوں کے ذریعے اس امر کو انجام دینے کی طاقت نہ رکھتا ہوتو  زبان کے ذریعے اس امر کو انجام دے اور اگر زبان کے ذریعے اس امر کو انجام دینے کی طاقت نہ رکھتاہو تو پھر دل کے ذریعے اس امر کو انجام دے اور یہ ایمان کا سب سے ضعیف درجہ ہے ۔

فرضِ منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کا انجام

جیسے کسی جگہ پر فساد ہو رہاہو، بے قصور لوگوں کو قتل کیا جارہاہو،مال واسباب کو لُوٹا جارہاہوغرضیکہ قانون کی خلاف ورزی کھلے طور پر کی جارہی ہو اور جرم کا ارتکاب کیا جارہا ہو،ایسے موقع پر پولیس کے لوگ خاموش تماشائی کی طرح کھڑے ہوں اور اس کی روک تھام نہیں کرتے تو ان کا یہ عمل جرم ہے یا نہیں؟ اس پر ان کو سزا  یا  بازپُرس ہوگی یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ جرم ہے۔ اس پر ان کی گرفت ہوگی۔ اسی طرح جب منکرات کھلے طو پر ہورہے ہوں اور گناہ کُھلم کھلا ہو رہے ہوں تو ایسے موقع پر امتِ مسلمہ جس کی ڈیوٹی کا معاملہ پولیس والوں کی طرح ہے اس کے روکنے کے لیے انفرادی اور جماعتی حیثیت سے کوشش نہ کرے، جہاں قدرت حاصل ہے وہاں اصلاح کی فکر نہ کرے اور بُرائیوں کے مٹانے کا اہتمام نہ کرے تو یہ اس کا جرم ہے۔ اس پر اس کا مواخذہ ہوگا۔ چناں چہ احادیث میں اس کوتاہی پر فرمایاگیا:

وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِاَوْلَیُوْشِکَنَّ اللہُ اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَابًامِّنْہُ ثُمَّ تَدْعُوْنَہٗ  فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ

اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم یقیناً امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دوگے یا عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل کرےگا پھر تم اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کروگے تو تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔

دوسری حدیث شریف میں فرمایا گیا:

اِنَّ النَّاسَ اِذَارَاَوُا الْمُنْکَرَ لَایُغَیِّرُوْنَہٗ اَوْشَکَ اَنْ یَّعُمَّہُمُ اللہُ بِعِقَابِہٖ

جب لوگ کسی خلافِ شرع امر کو دیکھیں اور اس کی اصلاح وسرکوبی کے لیے کوشش نہ کریں اور لوگوں کو اس سے بازنہ  رکھیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے عذاب میں مبتلاکردے۔

ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے

جب مومن کے چارکام ہوگئے ایک تو مامورات کا بجالانا،دوسرے منہیات سے بچنا، تیسرے اچھائیوں کو پھیلانا،چوتھے بُرائیوں سے روکنا تو ظاہر ہے کہ ان ہی چاروں  کاموں کو سوفیصد کرنے ہی پر اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے اور اس کی فلاح وکامیابی اسی پر موقوف ہے،تو اب دیکھنا یہ چاہیے کہ ان میں سے کن کن کاموں کو کیا جارہاہے اور کون کون سے کام ایسے ہیں جوہم  سے چھوٹ رہے ہیں۔ہر شخص خود اپنا محاسبہ کرے اور اپنے روزمرہ کے اعمال کا جائزہ لے کہ اپنی ذمّہ داریوں سےکس کس کوبجالارہاہے اور کس کس کے سلسلے میں کوتاہی ہو رہی ہے ۔

احکام کی تعمیل میں کوتاہی ہو رہی ہے

سب سے پہلی چیز ہے مامورات کابجالانا۔ اس کے پانچ شعبے ہیں:عقائد،عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق۔ ان شعبوں میں بعض ایسے ہیں کہ ان کو دین ہی نہیں سمجھتے، بالخصوص معاملات یعنی خریدنا،بیچنا،کرایہ پر لینا دینا،رہن رکھنا،تجارت میں شرکت کرنا اور معاشرت یعنی کھانا پینا،ملنا جلنا، چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا،لباس،ختنہ، عقیقہ، شادی وغمی وغیرہ اس کی طرف بہت زیادہ غفلت ہورہی ہے۔ معاملات کی صفائی کا بالکل اہتمام نہیں ہے۔ معاشرت بگڑتی جارہی ہے غیر اسلامی معاشرت کو اختیار کیاجارہاہے۔ اسی طرح اخلاق کی اصلاح ودرستگی کی بھی فکر میں بہت کمی ہے ۔جسمانی اعتبارسے ذراسی تکلیف ہو یابیماری ہو جائے اس کے علاج اور دوا کی فوراً  فکر ہوتی ہے لیکن اخلاق گندے ہیں،مثلاً غصہ،حسد،بخل، نام آوری،عُجب وکبر میں مبتلا ہیں ان کے علاج کی فکر نہیں ہوتی، کتنی غفلت ہوتی جارہی ہے۔اب رہ گیا عبادات کا معاملہ اس میں واجبات وسنن کے  اہتمام میں بھی کمی ہے، ہم نماز تو پڑھتے ہیں مگر ناقص  (تھرڈ ڈویژن)،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ہر چیز بَڑھیا ہو، نان بھی بَڑھیا ہو اور پان بھی بَڑھیا ہو، دُکان ومکان بھی بَڑھیا ہومگر ہماری اذان واقامت اور تلاوتِ قرآن ونماز کیسی ہو؟ گھٹیا ہو،وہ بَڑھیا نہ ہو۔کیاحال ہو رہاہے؟یہ توحال ہے مامورات کے سلسلے میں۔

گناہوں کے معاملے میں زیادہ غفلت ہے

اب رہا منکرات یعنی گناہوں کا معاملہ تو اس میں حد سے زیادہ غفلت ہے، بہت سے گناہوں کو ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے اور اُن کے جو نقصانات دُنیا میں ہوتے ہیں ان سے بھی واقف نہیں،یہی وجہ ہے کہ اکثر نماز  روزے کے پابند لو گ حتٰی کہ حاجی حضرات بھی ان سے نہیں بچتے، اس لیے بڑے بڑے گناہ بتلائے جاتے ہیں :

۱)حقارت سے کسی پر ہنسنا۔۲)ضرورت کے وقت باوجود قدرت کےمدد نہ کرنا۔۳) غیبت کرنا۔ ۴) بدگمانی کرنا۔۵) تہمت لگانا۔۶) دھوکا دینا ۔۷)بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے موافق مدد نہ کرنا ۔۸) داڑھی منڈوانا یا کٹانا ۔۹) رشوت لینا ۔۱۰) جھوٹ بولنا  ۔یہ چند گناہ ہیں جن کو  ذکر کیاگیا ہے ۔ اس کی تفصیل حیٰوۃ المسلمین میں دیکھیے۔

گناہوں کے نقصانات

بڑے بڑے گناہوں میں ایک ایک گناہ اُوپر سے نیچے گرانے کے لیے کافی ہے یعنی جنّت سے جہنم میں لے جانے کے لیے۔ ایک ایک گناہ یہ انسان کے تباہ کرنے کے لیےکافی ہے۔ ایک شخص اگر نوافل ومستحبات کا اہتمام کرتاہے لیکن معصیت سے نہیں بچتاتو طاعت کے فوائد ضایع ہوجاتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی خوب مقوی غذائیں کھاتاہے، طاقت کی دوائیں اور معجون وغیرہ استعمال کرتاہے لیکن اسی کے ساتھ مہینے میں ایک بار جمال گوٹےکی چند گولیاں بھی کھائے تو کیاہوگا کہ جتنی قوت وطاقت آئی تھی وہ سب اس کی ایک ہی خوراک استعمال کرنے سے ختم ہوجائے گی، یہی معاملہ ہے گناہ کا کہ طاعت اور نیکیوں سے جونور جمع ہواتھا اور جوطاقت پیداہوئی تھی وہ گناہ سے ختم ہوجاتی ہے۔ بعض گناہ سنکھیاکی طرح ہیں جس کا ضرر فوری ہوتاہے۔ گناہ یہ ایسی چیزہے کہ اس پر آخرت میں تومواخذہ ہوگاہی دنیامیں بھی اس کے نقصانات ہوتے ہیں، ان میں چند یہ ہیں :۱) انسان علمِ دین سے محروم کردیا جاتاہے ۔۲)رزق کم کردیا جاتاہے ۔۳) گناہ گار کو خداتعالیٰ سے ایک وحشت رہتی ہے۔ ۴)دل وجسم میں کمزوری پیداہوجاتی ہے۔۵) زندگی گھٹتی ہے۔ ۶)ہرگناہ دُشمنان ِخدا میں سے کسی نہ کسی کی میراث ہے تو گو یایہ شخص ان ملعونوں کا وارث بنتاہے ۔۷)گناہ گار اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے قدر اور ذلیل وخوار ہوتاہے۔۸)گناہ کرنے سے نعمتیں چھن جاتی ہیں اور بلاؤں ومصیبتوں کا ہجوم ہوجاتاہے۔۹)گناہ کرنے سے عزت وشرافت کے القاب چھن کر ذلت ورسوائی کے خطاب ملتے ہیں ۔

یہ چند نقصانات ہیں جو گناہ کرنے سے دنیا میں ہوتے ہیں۔اس کی تفصیل جزاءالاعمال(باقی ستائیس قسم کے نقصانات اور ہیں جو قارئین کی افادیت کے لیے صفحہ نمبر 50 پر شائع کیے جارہے ہیں۔) میں دیکھیے جو کہ بڑی نافع کتاب ہے، اس کو ہر ایک کو پڑھنے کی ضرورت ہے ۔

معاشرے میں ظلم کا گناہ ہو رہاہے

بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ظلم بھی ہے۔آج ہماراحال یہ ہے کہ ہم بھائیوں اور بہنوں پر ظلم کرتے ہیں، چھوٹوں اور کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں، ترکہ دبا لیتے ہیں، قرض مارلیتے ہیں،امانت میں خیانت کرتے ہیں،بیٹیوں اور بہنوں کو شرعی حصہ نہیں دیتے،یہ بھی ظلم ہے۔ نیز ہماری بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ جو ہمارے ساتھ ظلم کرتاہے تو ہم بدلہ لینے میں ظلم کرنے لگتے ہیں حالاں کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ زیادتی کرے اور ظلم کرے تو ایسے موقع پر جو حکم ہے اس کا اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ صبر کرو اور معاف کردو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کا اہتمام کرو،مظلوم کے ساتھ ہمیشہ اللہ کی نصرت ومدد ہوتی ہے،صحابۂ کرام پر کتنا ظلم ہوا اور ان کو کتنا ستایا گیا اور پریشان کیا گیا،مگر پھر انجام کیا ہوا؟ وہ سب کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد اور نصر ت ہوئی اورپھر ان پر کیسے فتوحات کے دروازے کھلے۔ پھر یہ کہ جہاں یہ حکم ہے وہاں یہ بھی ہے کہ اگر زیادتی کرنے اور ستانے کابدلہ لینا چاہو تو اس کی بھی اجازت ہے مگر حد سے تجاوز نہ ہو۔ اگر انتقام لے تو حدود کی رعایت رکھے، یہ نہ کرے کہ کسی نے ہم کو گالی دی تو ہم اس کے ماں باپ کو گالی دینے لگیں،یاکسی نے ہم کو طمانچہ مارا توہم گھونسہ یالات سے اس کو مارنے لگیں، کسی نے ہمارے بھائی کو ماراتوہم اس کے بھائی کو مارنے لگیں، کسی نے کسی کو قتل کیا تو ہم دوسری جگہ کسی کو قتل کرنے لگیں،تو یہ سب ظلم ہے۔ اس میں ہماری بڑی غلطی ہے۔ بدلہ لینے کی اجازت تو ہے لیکن اس کے حدود ہیں کہ اگر کوئی زیادتی کرتاہے اور ستاتاہے تواتنا ہی بدلہ تم بھی اس سے لے سکتے ہو، اس سے زیادہ نہیں ہوناچاہیے۔

چناں چہ ارشاد فرمایا گیا:

فَمَنِ اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ  ۪ وَ اتَّقُوا اللہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا  اَنَّ اللہَ مَعَ  الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾

سو تم پر جو زیادتی کرے تو تم بھی اُس پر زیادتی کروجیسی اُس نے تم پر زیادتی کی ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اور یقین کرلوکہ اللہ تعالیٰ ڈرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔

ایک اور موقع پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ  سَیِّئَۃٌ  مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ  فَاَجۡرُہٗ  عَلَی اللہِ ؕ اِنَّہٗ  لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۴۰﴾ وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ  بَعۡدَ ظُلۡمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ  مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾ اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ   بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ اُولٰٓئِکَ  لَہُمۡ عَذَابٌ  اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾

اور بُرائی کا بدلہ بُرائی ہے ویسی ہی، پھر جو شخص معاف کرے اور اصلاح کرے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے، واقعی اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتے۔ اور جو اپنے اوپر ظلم ہوچکنے کے بعد برابر کا بدلہ لےلے سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔ الزام صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے  ہیں اور ناحق دنیا میں سرکشی کرتے ہیں،ایسوں کے لیے دردناک عذاب (مقرر)ہے ۔

لیکن ہم کرتے ہیں کیاکہ ایک شہر میں کسی نے ظلم کیا،  زیادتی کی تو ہم دوسرے شہر میں اس کا بدلہ لیتے ہیں۔ جن لوگوں نےقصور نہیں کیاہے ہم ان کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کرکے ظلم کرتےہیں تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، اس پر یہ کہ ہم اس کو اچھا بھی سمجھتے ہیں اور اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، حالاں کہ یہ بہت ہی بڑی غلطی ہے بلکہ بغاو ت ہے۔  ہم اس طرح کی حرکت کرکے ظالم بن جاتے ہیں اور اس کو اچھا سمجھنے پر باغی بھی ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ظلم کا انجام اچھا نہیں ہوتا اس کی سزاملتی ہے ۔چناں چہ قرآنِ پاک میں بنی اسرائیل کا ذکر کیا گیاہے کہ فرعون ان پر قسم قسم کے مظالم کیا کرتاتھا، مختلف نوع سے ان کوستایا کرتاتھا جس کاذکر  قرآنِ پاک کے نویں پارے کے پانچویں رکوع میں بھی ہے،اور یہ اس موقع کا ذکرہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے جادوگروں کے مقابلےمیں کامیابی اور غلبہ عطا فرمایا کہ جس سے جادوگروں نے ایمان قبول کرلیا اور بنی اسرائیل نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا  ساتھ دینا شروع کیاتو ظاہرہے کہ یہ صورت ِحال ان لوگوں کے لیے بالکل ناقابلِ برداشت تھی چناں چہ فرعون کے متعلقین اس سے گھبرائے اور فرعون سےکہنے لگے:

اَتَذَرُ مُوۡسٰی وَ قَوۡمَہٗ  لِیُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ یَذَرَکَ  وَ اٰلِہَتَکَ ؕ

کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام )کو اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کیےرہیں ۔

اس بات کوسن کراس نے کہا کہ سرِدست یہ انتظام کیے دیتے ہیں کہ

سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَہُمۡ وَ نَسۡتَحۡیٖ نِسَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّا فَوۡقَہُمۡ  قَاہِرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾

ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کوقتل کرنا شروع کردیں (تاکہ ان کا زور نہ بڑھنے پائے )اور عورتوں کو اُن کی زندہ رہنے دیں، اور ہم کو ہر طرح کا ان پر زورہے۔

یہ ظالمانہ قانون جو فرعون نےبنا یاتھا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدایش سے پہلے بھی بنی اسرائیل پر یہی ظلم کیا تھا کہ لڑکوں کو قتل کردیاجاتااور لڑکیوں کو خدمت وغیرہ کے لیے زندہ رہنے دیتا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا غلبہ اور ان کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر پھر دوبارہ یہی ظالمانہ قانون بنایا جس سے گھبرا کربنی اسرائیل پریشان ہوگئے اور ازراہ افسوس وغم حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی عرض کیا:

اُوۡذِیۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِیَنَا وَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا

(قوم کے لوگ کہنے لگے کہ) ہم تو (ہمیشہ) مصیبت ہی میں رہے آپ کی تشریف آوری سے پہلے بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی ۔

موسیٰ علیہ السلام نے اس موقع پر جو حکیمانہ بات ارشاد فرمائی وہ یہ کہ

اِسۡتَعِیۡنُوۡا بِاللہِ وَ اصۡبِرُوۡا ۚاِنَّ  الۡاَرۡضَ  لِلہِ ۟ۙ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ  لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۸﴾

خداتعالیٰ کا سہارا رکھو اور مستقل رہو، یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، جس کو چاہیں اس کا مالک بنائیں اپنے بندوں میں سے، اور اخیر کامیابی ان کی ہی ہوتی ہے جو خدا سے ڈر تے ہیں۔

پھر اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّہۡلِکَ عَدُوَّکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفَکُمۡ  فِی الۡاَرۡضِ  فَیَنۡظُرَ  کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾

بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردیں گے اور بجائے اُن کے تم کو اُس سر زمین کا مالک بنادیں گے پھر تمہاراطرزِعمل دیکھیں گے ۔

چناں چہ اس ظلم کا انجام یہ ہوا  کہ جس وقت حکم  ہوا کہ بنی اسرائیل کو یہاں سے لے کرچلے   جاؤ توحضرت موسیٰ علیہ السلام تعمیلِ حکم میں اپنی  قوم کو لے کر جارہے تھے کہ ادھر فرعون  کومعلوم ہوگیا تو وہ ان لوگوں کا پیچھا کرنے کے لیے اپنی فوج کے ساتھ نکلا، ادھر جب  بنی اسرائیل بحرِ قلزم کے کنارے پہنچ کر اس کو پار کرنے کی فکر کررہے تھے تو پیچھے مڑکر دیکھا تو فرعون مع اپنی فوج کےنظر آیا جس سے یہ  گھبرائے کہ اب کیسے بچیں گے،سامنے سمندر حائل ہے اور پیچھے سے دُشمن چلاآرہا ہے،گھبرا گئے اور کہنے لگے: اِنَّا  لَمُدۡرَکُوۡنَ  ﴿ۚ۶۱﴾  بس ہم تو ان کے ہاتھ آگئے، مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے، عین وقت پر غیب سے مدد فرماتے ہیں۔ چناں چہ یہی ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ماننے والے تو دریا سے پارہوگئے عافیت اور­آرام کے ساتھ اور فرعون جو کہ ظالم تھا اس کو اور اس کے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے اسی میں غرق کردیا۔ تو ظلم کا انجام اچھا نہیں ہوتا اس سے بچنا چاہیے ۔تو بدلہ لینے کے سلسلے میں ہم جو معاملہ کرتے ہیں یہ غلطی کی بات ہے اور ظلم ہے۔اسی طرح بدگمانی کرنا، غیبت کرنا، وردی  کی پابندی نہ کرنا،رشوت لینا اور بہت سے گنا ہ ہیں جس میں لوگ عموماً مبتلاہیں۔

نیکیوں کو ضایع ہونے سے بچایاجائے

گناہ بڑی نقصان دہ چیزہے اس سے سخت احتیاط کی ضرورت ہے،بعضے گناہ کا اثر بالکل زہر کی طرح ہے کہ نیکیوں کے اثرات کو بالکل ختم کردیتاہے۔ایک شخص نیکیوں کا اہتمام کرتاہے، اچھے اچھے اعمال خوب کرتاہے،طاعات کی فکر کرتاہے مگر گناہ سے نہیں بچتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ سارااجر وثواب ضایع ہوجاتاہے، اس لیے نیکیوں کی حفاظت کی ضرورت ہے کہ کوئی بے اُصولی نہ ہو جائے کہ اس پر بجائے ثواب کے مواخذہ نہ ہوجائے۔ چناں چہ قرآنِ پاک میں ایک موقع پر گناہ کی وجہ سے ایک خاص طاعت کے فوائد کے ضایع ہونے کی جو کیفیت بیان کی ہے اس کوعرض کیاجاتاہے اور وہ ہے انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا خواہ وہ کسی بھی طریقے سے ہو اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے:

کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ

جیسے ایک دانہ کی حالت جس سے سات بالیں جمیں ہر بالی کے اندر سو دانے ہوں۔

حاصل یہ کہ اللہ کی راہ میں جو لوگ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے گیہوں کا ایک دانہ اچھی اور عمدہ  زمین میں بویاجائے اور اس دانے سے گیہوں کا ایک پودا نکلے جس میں سات بالیں اور خوشے ہو ں اور ہر خوشے میں سو دانے ہوں تو ظاہر ہے کہ اس حساب سے سات سو دانے ہوئے جو  ایک دانے سے حاصل ہوئے،اسی طرح صدقہ کا بھی معاملہ ہے کہ اس کا ثواب سات سو  گنا تک ملتاہے،تو اس سے انفاق فی سبیل اللہ کی کتنی فضیلت اور اہمیت معلوم ہوئی، لیکن اب اگر کوئی صدقہ کرکے،خیرات کرکے یہ کرے کہ جس کو  دیا ہے اس پر احسان جتلادیا یا اس کے ساتھ  کوئی ایسا معاملہ کردیا جس کی وجہ سے اس کو ایذااور تکلیف پہنچ گئی تو اب جو ثواب کمایا تھا اور جونیکی جمع کی تھی وہ سب ختم کردی، اسی کو قرآنِ پاک میں فرمایا گیا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَ الۡاَذٰی

اے ایمان والو !تم احسان جتلاکر یا ایذا پہنچا کراپنی خیرات کو برباد مت کرو۔

توذرا ساگناہ کرلیا ثواب ختم ہوگیا۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی رئیس صاحب مسجدتعمیر کرائیں پانچ لاکھ روپیہ دے کر اور وہ مسجد بن کر تیار ہوگئی اس میں مان لو کہ پانچ سوآدمی نماز پڑھتے ہیں پانچوں وقت تو اس کا ثواب ان رئیس صاحب کو بھی ملے گا اور ان کے نامۂ اعمال میں اس کا اجر لکھا جائے گا،اب آیا الیکشن کا زمانہ اور یہ رئیس صاحب بھی اُمیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے تو انہوں نے سوچاکہ ہم نے مسجد بنوائی ہے لہٰذا بستی والوں سے ووٹ مانگنا چاہیے چناں چہ ان لوگوں کے پاس گئے اور اُن سے ووٹ کا مطالبہ کیا تو بستی والوں نے کہا کہ ہم اس معاملےمیں نہیں پڑتے ہیں، ہر شخص اپنی مصالح کے لحاظ سے جومناسب خیال کرے وہ کرے۔ تویہ رئیس صاحب کہنے لگے کہ جب مسجد کی تعمیر کا معاملہ آیا توہم نے نوٹ کی پوٹ یعنی گڈی دی اب ہمارا معاملہ آیا توتم لوگ ووٹ نہیں دے رہے ہو تواب اس احسان جتلانے کا نتیجہ وانجام کیا ہوگا؟پانچ سونمازیوں کی نماز کا ثواب جوان کو ملتاتھا وہ ختم ہوگیا، اس لیے کہ معلوم ہوا کہ مسجد اللہ کے واسطے نہیں بنوائی تھی بلکہ ووٹ لینے کے لیے بنوائی تھی ۔

میر ے عزیزدوستو!ایک ایک گناہ یہ طاعات کے فائدے کو ختم کردیتے ہیں۔ اس کی مثال ایک اور لیجیے،۲۵سال تک ایک سرکاری ملازم بڑے عہدہ پر عمدگئ کارسے پہنچ گیا،پھر رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا تو کیا اس کے حُسن کار پر معافی مل جائے گی یااس عمل کی وجہ سے اس کی ۲۵ سالہ خدمت پر پانی پھر جائے گا؟ حاصل یہ کہ طاعت کرنا اور نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرنا مشکل نہیں مشکل اس کی حفاظت کرناہے اور ضایع ہونے سے بچانا ہے،اس لیے طاعت پر عمل کرنے کے ساتھ گناہوں سے بچنا بھی بہت ضروری ہے۔ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنی کمزوری اور کوتاہی کو اچھی طرح جانتاہے، ہر شخص خود اندازہ کرلے کہ ہم سے کیا کیا گناہ ہو رہے ہیں۔ تودیکھنا یہ ہے کہ آج مامورات پر عمل کرنے والے کتنے ہیں،منکرات سے بچنے والے کتنے ہیں ؟

جماعتی حیثیت سے نہی عن المنکر کا کام نہیں ہو رہاہے

اب یہ کہ جولوگ مامورات پر عمل کررہے ہیں اس میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان لوگوں میں ایسے کتنے ہیں جواس کو پھیلانے والے ہیں ؟ اس کی طرف دعوت دینے والے کتنے ہیں ؟توماشاءاللہ ایسے لوگ بہت ہیں۔مامورات کو پھیلانے کی، اس کی اشاعت کی،اس کی طرف متوجہ کرنے کی محنت ہو رہی ہے، بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں، وعظ وتقریر ہوتی ہے، اشاعتِ احکام اشتہارات کے ذریعے ہوتی ہیں مگر منکرات سے روک ٹوک میں بہت کمی ہو رہی ہے۔ جماعتی حیثیت سے محنت کی کمی ہے۔ آج مساجد کے انتظام کے لیے کمیٹی ہے، مدرسےکے انتظام کے لیے کمیٹی ہے لیکن منکرات جو پھیل رہے ہیں،معاشرے میں جو خرابیاں اور بُرائیاں پھیلتی جارہی ہیں،رسم ورواج کا اضافہ ہوتاجارہاہے اس کو ختم کرنے کے لیے، مٹانے کے لیے اجتماعی طورپر عام محنت نہیں ہورہی ہے،الّا ماشاءاللہ۔یوں تو انفرادی طورپرکام ہو رہاہے مگر جس طرح  مامورات کے لیے  جماعتی حیثیت سے کام ماشاءاللہ ہو رہاہے اس طرح منکرات پر کام نہیں ہورہاہے، حالانکہ اس کے لیے بھی شرعی اعتبار سے ایسی جماعت ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں جو کوتاہی ہو رہی ہے اس کے متعلق شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نے فضائلِ تبلیغ میں حدیث نمبر ۴اور نمبر ۵ کی تشریح میں جولکھا ہے اس کو بھی باربار پڑھا جائے۔حدیث نمبر ۴کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ ہر شخص اجنبیوں کونہیں، برابر والوں کونہیں اپنے گھر والوں کو، اپنے چھوٹوں کو، اپنی اولاد کو، اپنے ماتحتوں کو ایک لمحہ اس نظر سے دیکھ لے کہ کتنے کُھلے معاصی میں وہ لوگ مبتلا ہیں اور­آپ حضرات اپنی ذاتی وجاہت اور اثر سے ان کو روکتے ہیں یانہیں؟ روکنے کوچھوڑیے، روکنے کا ارادہ بھی کرلیتے ہیں یانہیں ؟یا آپ کے دل میں کسی وقت اس کا خطر ہ بھی گزرجاتاہے کہ لاڈلابیٹا کیا کررہاہے ؟اگر وہ حکومت کا کوئی جُرم کرتاہے، جُرم بھی نہیں سیاسی مجالس میں شرکت ہی کرلیتاہے توآپ کو فکر ہوتی ہے کہ کہیں ہم نہ ملوث ہوجائیں، اس کو تنبیہ کی جاتی ہے اور اپنی صفائی اور بہتری کی تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں،مگر کہیں احکم الحاکمین کے مجرم کے ساتھ بھی وہی برتاؤ کیاجاتاہے جو معمولی حاکمِ عارضی کے مجرم کے ساتھ کیاجاتاہے؟ آپ خوب جانتے ہیں کہ پیارا بیٹاشطرنج کا شوقین ہے، تاش سے دل بہلاتاہے، کئی کئی وقت کی نماز اڑاتاہے مگر افسوس آپ کے منہ سے کبھی حرفِ غلط کی طرح یہ نہیں نکلتاکہ کیاکر رہےہو ؟یہ مسلمان کے کام نہیں ہیں، حالاں کہ اس کے کھانا  پینا  چھوڑ دینے کے بھی مامورتھے جیسے کہ پہلے گزرچکاہے؎

ببیں تفاوت رہ ازکجا ست تابکجا

حدیث نمبر۵ کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اب آپ ہی ذرا انصاف سے فرمایئے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی کوئی انتہا کوئی حد ہے، اور اس کے روکنے یا بند کرنے کی یاکم ازکم تقلیل کی کوئی کوشش ہے؟ ہرگز نہیں! یعنی جیسی سعی کی ضرورت ہے ویسی نہیں ہے۔ مثلاً سو جگہ کام ہونا چاہیے توچند جگہوں پر کام کرنے سے اس کی تلافی ہوسکتی ہے؟ایسے خطرناک ماحول میں مسلمانوں کا عالَم میں موجود ہونا ہی اللہ تعالیٰ کاحقیقی انعام ہے ورنہ ہم نے اپنی بربادی کے لیے کیا کچھ اسباب پیدانہیں کرلیے ہیں۔

آگے فرماتے ہیں کہ وہ حضرات جو اپنی دین داری پر مطمئن ہوکر دنیا سے یکسو ہوبیٹھے اس سے بے فکر نہ رہیں کہ خدانخواستہ اگر منکرات کے اس شیوع پر کوئی بلانازل ہوگئی تو ان کو بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ تو امتِ مسلمہ کے ذمہ چار کام ہیں کہ جس کی تعمیل پر ان کی فلاح اور کامیابی موقوف ہے۔

اصل مقصود سُنّت پر عمل کرناہے

اسی کو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَاتَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا  کِتَابُ اللہِ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہٖ

  میں نے تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑی ہیں جب تک تم انہیں پکڑے رہوگے ہر گز گمراہ نہیں ہوسکتے وہ کتاب اللہ اور سنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

آج ہم نے کتاب اللہ اور سنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ اتوہے مگر کسی نے تین انگلیوں سے،کسی نے دو انگلیوں سے، کسی نے برائے نام، توظاہر ہے کہ پھر اس کا انجام کیاہوگا۔عجیب حال ہو رہاہےکہ دینی معاملات میں اختلاف اور معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑنےلگتے ہیں، بعض اوقات نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے ایک دوسرے کی تحقیر اور تذلیل بھی کی جاتی ہے جو کہ کسی طرح بھی جائز نہیں ۔ رائے کا اختلاف تو پہلے بھی تھا مگر کوئی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کرتا،نہ کوئی نامناسب معاملہ کرتااور نہ ہی دوسروں کو اپنی تحقیق کا پابند بنانے کی کوشش کرتا۔ چناں چہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ان کی زرہ چوری ہوگئی تھی، وہ ایک یہودی کے پاس ملی،آپ  رضی اللہ عنہ نے دیکھ کر پہچان لی اور کہا کہ یہ میری زرہ ہے، اس یہودی نے کہا کہ گواہ لایئے یاعدالت سے رجوع کیجیے، چناں چہ قاضی شریح کی عدالت میں معاملہ پیش ہوا اور دونوں مدعی اورمدعیٰ علیہ کی حیثیت سے عدالت میں گئے،تو شرعی قاعدے کے مطابق حضرت شریح نے تحقیق کرنا شروع کیا۔ پہلے یہودی سے پوچھا کہ کیا زرہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے؟ اس نے انکار کیا، اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ گواہ لائیے،غرض کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوگواہ لائے ایک حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک اپنا آزاد کردہ  غلام جس کانام قنبر تھا۔  حضرت شریح اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں یہ مسئلہ مختلف فیہ تھا کہ حضرت شریح بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں جائز نہ سمجھتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے نزدیک جائز تھی، اس لیے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیش کردیا،اب حضرت شریح نے اپنی تحقیق پر عمل کیا اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی نہیں مانی اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ غلام چوں کہ آزاد ہوچکا ہے اس لیے اس کی گواہی تو قبول ہے مگر حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بجائے کوئی اور گواہ لایئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اور توگواہ ہے نہیں،نتیجہ یہ ہوا کہ گواہ ایک ہی تھا اس لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دعویٰ خارج کردیا اور زرہ یہودی کو مل گئی۔ تو  دیکھیے دونوں میں اختلافِ رائے تھامگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سلسلے میں مزاحمت نہیں کی، ناراض نہیں ہوئے۔مقصود تو سنت پر عمل کرنا ہے۔جو شخص اپنی تحقیق ومعلومات کے مطابق جس کو سنت سمجھے وہ اس کو اختیار کرے،اس پر عمل کرے۔ اب اگر کوئی اس کے خلاف عمل کررہاہے تو اس سے مزاحم نہ ہو،منوانے کی کوشش نہ کرے۔توحاصل یہ کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ کو مضبوطی سے پانچوں انگلیوں سے پکڑاجائے اور ہر معاملے میں ان کی ہدایات پرعمل کیاجائے،اس کا حاصل مامورات کا اتباع اور منہیات سے اجتناب ہے۔ مسلمانوں کی فلاح سنت کے اختیار کرنےمیں ہے۔

مشکلات ومصائب کا قانونِ الٰہی

آج جوحالات پیش آرہے ہیں،جومصائب ومشکلات اور پریشانیاں آرہی ہیں،فسادات ہو رہے ہیں،قتل وقتال ہورہاہے گناہوں کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ اپنی ڈیوٹی کو پورے طور پر انجام نہیں دے رہی ہے۔ گناہ بڑھ رہے ہیں بالخصوص منکرات سے روک ٹوک میں کمی ہو رہی ہے،فرمایا گیا:

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ  فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾

اور تم کو جوکچھ مصیبت پہنچتی ہے تووہ تمہارے ہی ہاتھوں  کے کیے ہوئے کاموں سے (پہنچتی ہے ) اور بہت سے تو درگزرہی کردیتاہے۔

جس طرح کھانے اور پینے میں احتیاط نہ کرنے سے انسان بیمار ہوجاتاہے بلکہ بعض اوقات ایسی مہلک بیماری ہوجاتی ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاک ہوجاتاہے ٹھیک اسی طرح گناہوں کا بھی معاملہ­ سمجھنا چاہیے کہ غذا وغیرہ کی بے احتیاطی سے جسمانی امراض ہوجاتے ہیں تو گناہ یہ روحانی اعتبار سے بد پرہیزی ہے،اس کی وجہ سے مصائب وپریشانیاں آتی ہیں۔ اگر انفرادی  بدپرہیزی ہے تو اس کے نتائج انفرادی طور پر ہوتے ہیں، اور اگر عمومی طور پر گناہ ہو رہے ہیں لوگ منکرات میں مبتلا ہو رہے ہیں اور اس کے روکنے کی کوشش نہ کی جارہی ہو تو پھر معاملہ اور زیادہ خطرناک ہوجاتاہے کہ پریشانیاں ومشکلات عمومی طورپر آتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ بہت سی غلطیاں معاف فرمادیتے ہیں اس پر مواخذہ نہیں فرماتے، اور بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، لیکن جب بےاُصولیاں اور غلطیاں ہوتی ہیں توپھر نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اورمواخذہ ہوتاہے اور عتاب ہوتاہے۔ فرمایا گیا:

ذٰلِکَ بِاَنَّ  اللہَ  لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا  نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ۙ وَ اَنَّ  اللہَ  سَمِیۡعٌ  عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾

یہ بات اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطا فرمائی ہو نہیں بدلتے جب تک کہ وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے،اور یہ (امر ثابت ہی ہے) کہ اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے جاننے والے ہیں ۔

کبھی کبھی مصائب میں مصلحت ہوتی ہے،آزمایش و امتحان مقصود ہوتاہے، ترقی دینا اور درجات کا بلند کرنا ہوتاہے اور یہ معاملہ خواص کے ساتھ ہوتاہے۔ حضرت پرتاب گڑھی دامت برکاتہم فرماتے ہیں؎

امتحان مومن کا ہوتاہے منافق کا نہیں

یہ مقامِ قرب ہے رُتبہ یہ فاسق کا نہیں

ایک سنّت چھوٹنے کا انجام

صحابۂ کرام کا ایک معیار تھا کہ فلاں بستی کو اتنے دن میں فتح   کرلیں گے کامیاب ہوجائیں گے اب اگر اس کے خلاف صورتِ حال ہوتی تو ان کو فکر ہوتی کہ ایسا کیوں ہے، اس  میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ وہ اس  سلسلے میں غورو فکر کرتے چناں چہ حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور ِخلافت میں ایک بستی میں کامیابی ملنے پر تاخیر ہوگئی، جتنے دنوں میں کامیابی ملنے کا اندازہ تھا اس کےلحاظ سے دیر ہوگئی تو فکر پیدا ہوئی کہ کیابات ہے ؟تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ چناں چہ پہلے تو اس کی اطلاع امیرالمؤمنین کو دی گئی وہاں سے جواب آیا کہ سب لوگ اپنا  اپنا جائزہ لیں کہ کوئی سنّت تو ترک نہیں ہورہی ہے، چناں چہ حسبِ ہدایت جائزہ لیا گیا تو معلوم ہواکہ مسواک کی سنّت چھوٹ گئی ہے اس کی وجہ سے غیبی نصر ت ومدد رُکی ہوئی ہے، پھر کیا ہوا جب اس پر عمل شروع ہوا توسارا معاملہ درست ہوگیا اور مسلمان کامیاب ہوگئے۔ اسی طرح آج بھی ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ اپنے اعمال اور اخلاق کا جائزہ لے۔ اپنی کمی اور کوتاہی کی اصلاح کرے۔سنتوں کو اختیار کرے۔آج ہم سے طریقۂسُنت چھوٹ رہا ہے۔ ولادت،عقیقہ، ختنہ، شادی بیاہ،خوشی اور غمی کے موقع پر دوسروں کی دیکھا دیکھی عمل،رسم ورواج میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ اوّلاً فرائض، واجبات،سننِ مؤکدہ کا اہتمام چاہیے، اس کے ساتھ سننِ غیر مؤکدہ کو بھی جس قدر اپنائیں گے اسی قدر فلاح وبہبود میں کامیابی ہوگی۔ ہر معاملے میں سنت کے موافق معاملہ کرنا چاہیے۔ سنت پر عمل کرنا چاہیے۔ جب سنتوں  کی خلاف ورزی ہو رہی ہے پھر کیسے اللہ کی نصرت ومدد ہو۔ہم خود ہی اپنے عمل سے اس کو  روک رہے ہیں ۔

صبر وتقویٰ کے مفید نتائج

مسلمانوں کو جہاں بھی ضَرَر ونقصان پہنچایاصبر کی کمی تھی یا تقویٰ کی کمی تھی۔ اگر یہ دونوں چیزیں ہوں صبر ہو اور تقویٰ بھی ہو تو پھر کسی قسم کا کوئی ضرر­اور نقصان نہیں پہنچ سکتا، جو لوگ ضرر پہنچانا چاہتے ہیں ان کی ساری تدبیر یں بے کار ہوجائیں گی،اس کو اللہ تعالیٰ نے صا ف طورپر ارشاد فرمایا ہے:

وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡـًٔا ؕ اِنَّ اللہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ﴿۱۲۰﴾

اور اگر تم استقلال اور تقویٰ کے ساتھ رہو تو  اُن لوگوں کی تدبیر یں تم کو ذرا بھی ضرر نہ پہنچاسکیں گی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر احاطہ رکھتے ہیں۔

تقویٰ کے متعلق فرمایا گیا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللہَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ فُرۡقَانًا وَّ یُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللہُ  ذُو الۡفَضۡلِ  الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۹﴾

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہوگے تووہ (اللہ تعالیٰ) تم کو ایک فیصلہ کی چیزدے گااور تم سے تمہارے گناہ  دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا،اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے ۔

صبر کے  متعلق فرمایا گیا:

فَاِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ  یَّغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ اَلۡفٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفَیۡنِ بِاِذۡنِ اللہِ ؕ وَ اللہُ  مَعَ  الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾

سو اگر تم میں کے سوآدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو (اپنے سے دُگنے عددیعنی )دوسو پر غالب آجائیں گے (اسی طرح)اور اگر تم میں کے ہزار ہوں گے تو دوہزار پر غالب آجائیں گے اللہ کے حکم سے، اور اللہ تعالیٰ صابرین کے ساتھ ہے۔

 صبر اور تقویٰ یہ بڑی اہم چیز ہے کہ ان میں اگر کمی ہوجائے تو پھر معاملہ  گڑبڑہو جاتاہے۔ غزوۂبدر میں کیا ہوا دونوں باتیں پورے طورپر تھیں ۔صحابۂ کرام  رضی اللہ­عنہم سو فیصد بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اللہ کے ولی تھے، صبر بھی کامل تھا،تقویٰ بھی کامل تھا، اطاعت بھی کامل تھی تو باوجود اس کے کہ تعداد میں کم تھے،ہتھیار بھی کم تھے، وسائل بھی زیادہ نہیں تھے  ان کے مقابلے میں جو لوگ تھے ان کی تعداد بھی زیادہ تھی تین سوتیرہ کا مقابلہ نوسو پچاس سے تھا، ظاہری اسباب اور طاقت بھی ان کے پاس تھی،مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی۔

انتشار وہزیمت کے اسباب

پھر غزوۂاحد ہوااس میں صحابۂ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعداد پہلے سے زیادہ تھی، سات سو کی تعداد میں ہیں، مگر اس میں کیا ہوا! پچاس تیر اندازوں کا دستہ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارت میں مقرر کیا گیاتھا ایک گھاٹی پر اور یہ ہدایت تھی کہ مسلمانوں کی فتح ہویا شکست یہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔ چناں چہ جب ابتداءً  کامیابی ملی تو ان لوگوں نے میدان پر نظر ڈالی، دیکھا کہ میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں آ گیا تو اب آپس میں یہ گفتگو ہونے لگی کہ حکم کی تعمیل ہوچکی ہے،اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ہے، بعض لوگوں نے اس کی مخالفت کی، بہر حال اکثر لوگ وہاں سے ہٹ کر میدان میں پہنچ گئے تو کیا انجام ہوا؟ کہ معاملہ اُلٹ گیا، فتح شکست سے بدل گئی۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لیے کہ جو حکم دائمی تھا اس کو عارضی سمجھ لیا ۔اگر چہ انہوں نے حکم کی تعمیل کی مگر دائمی حکم کو عارضی حکم سمجھ لیا جو کہ اجتہاداً صحیح تھا مگر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا کے مطابق نہیں تھا تو  دشمنوں کے ہاتھوں ان کو شکست دے کراس پر تنبیہ فرمائی گئی اور اس کو کفارہ بنا کر معافی کا بھی اعلان کردیاگیا:

وَ لَقَدۡ عَفَا اللہُ عَنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللہَ  غَفُوۡرٌ  حَلِیۡمٌ ﴿۱۵۵﴾

اور یقین سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرمادیا، واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے ہیں، بڑے حلم والے ہیں۔

پھر غزوۂ حنین میں کیاہوا ؟یہاں مسلمانوں کی مقدار امام زہری کی روایت کے مطابق چودہ ہزار ہے۔ بدر کے موقع پر تین سوتیرہ تھے،احد کے موقع پر سات سو تھے، اب یہاں اتنی تعداد ہے، زیادتی پر نظر ڈالی تو کسی کی زبان سے نکل گیا  لَنْ نُّغْلَبَ الْیَوْمَ مِنْ قِلَّۃٍ  آج ہم تعداد کی کمی کے باعث ہر گز مغلوب نہ ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے تو اس کی تائید حدیث سے ہوتی ہے:

لَنْ یُّغْلَبَ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًامِّنْ قِلَّۃٍ

بارہ ہزار تعداد کی کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتے۔

جوبات زبان سے نکلی تھی اس میں بے نیازی اور استغنا  کی بو آرہی تھی  جو صحابۂ کرام   رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسی مقدس جماعت کے شایانِ شان نہیں تھی جنہوں نے انانیت کو ختم کردیاتھا، فنائیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اس لیے ابتدا­ میں کامیابی ملی مگر بعد میں پیر اُکھڑ گئے اور اس کو کفارہ بنا کر معافی کا اعلان کردیا گیا ۔فرمایا گیا:

لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ  اَعۡجَبَتۡکُمۡ  کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ﴿ۚ۲۵﴾ثُمَّ اَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ  کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ  الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾  ثُمَّ  یَتُوۡبُ اللہُ مِنۡۢ  بَعۡدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕوَ اللہُ  غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ﴿۲۷﴾

تم کوخداتعالیٰ نے بہت موقعوں پر غلبہ دیا، اورحنین کے دن بھی، جب کہ تم کو اپنے مجمع کی کثرت سے غرّہ  ہوگیاتھا،پھر وہ کثرت تمہارے لیےکچھ کارآمد نہ ہوئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگی کرنے لگی پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔  پھر (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور دوسرے مؤمنین پر اپنی تسلّی نازل فرمائی اور ایسے لشکر نازل فرمائے جن کو تم نے نہیں دیکھا، اور کافروں کو سزادی، اور یہ کافروں کی سزاہے۔ پھر خداتعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں، اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے، بڑی رحمت کرنے والے ہیں۔

تو ایک موقع پر صبر میں کمی ہوئی،ایک موقع پر تقویٰ میں کمی ہوئی تو شکست ہوگئی، اس لیے صبر وتقویٰ دونوں ہی چیزیں ضروری ہیں اور اسی پر کامیابی کادار و مدار ہے۔ آج دونوں ہی کی کمی ہورہی ہے۔ اس لیے جو چیز یں کرنے کی ہیں ان کو کیاجائے اور جو چیزیں منع ہیں ان سے رُکا جائے  پھر اللہ کی طرف سے مدد اور نصرت ہوتی ہے، اسی کو حضرت مجذوب علیہ الرحمۃ نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے؎

تمہاری  قوم  کی  بِنا ہی  ہے  دین  و ایماں  پر

تمہاری    زندگی     موقوف     ہے     قرآں    پر

تمہاری  فتح  یابی  منحصر ہے  فضلِ   یزداں  پر

نہ قوت پہ نہ کثرت  پہ نہ شوکت پہ نہ ساماں پر

امتِ مسلمہ کے چارکام

توحاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کے ذمّہ چار کام ہیں، اسی کی تعمیل کرنے پر اللہ تعالیٰ راضی اور خوش ہوں گے اور چین وسکون ملے گا۔ جن علاقوں میں اس پر عمل ہوتاہے وہاں غیب سے نصرت ومدد ہوتی ہے۔انفرادی طورپر اگر اس پر عمل کیا جائےگا تو اس کے لیے انفرادی کامیابی کا وعدہ ہے:

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ  حَیٰوۃً  طَیِّبَۃً ۚ وَلَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷﴾

جو شخص کوئی نیک کام کرے گا خواہ  وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہوتو ہم اس شخص کو بالطف زندگی دیں گے، اور اُن کے اچھے کاموں کے عوض میں اُن کا اجر دیں گے ۔

اور اگر اجتماعی طور پر کام کیاجائے گا تواس کے لیے فرمایا گیا:

وَعَدَ  اللہُ  الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ  الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ  وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ  اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا  یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ  کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۵۵﴾

تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتاہے کہ ان کو  زمین میں حکومت عطا فرمائےگا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حکومت دی تھی، اور جس دین کو ان کے لیے پسند کیاہے اس کو ان کے لیے قوت دے گا اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو مبدل با    من کردے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں، میرے ساتھ کسی قسم کا شریک نہ کریں،  اور جو شخص بعد اس کے ناشکری کرے گا تو یہ لوگ بے حکم ہیں ۔

موجودہ حالات میں اہم ہدایات

خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کی فلاح اسی میں ہے کہ خود صالح بنیں اور دوسروں کو صالح بنائیں، اس لیے اس وقت بطورِ خاص چند اُمور کا اہتمام کرنا چاہیے:

۱) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا، انتہائی عاجزی اور توجہ کے ساتھ توبہ واستغفار کرنا،گناہوں اور معصیتوں کو چھوڑنا،فرض نمازوں کے بعد رو رو کردل سے دُعا کرنا۔

۲) منکرا ت اور بُرائیاں جو معاشرے میں پھیل رہی ہیں ان کو مٹانے کے لیے جماعتی حیثیت سے بھی کام کرنا، جس طرح مدارس اور مساجد اور مامورات پر جیسی محنت ہو رہی ہے منکرات کے مٹانے پر بھی ہر بستی میں محنت کرنا۔

۳) اپنی اور اپنے گھر والوں کی اور متعلقین کی اصلاح کی فکر کرنا اورکوشش کرنا، جس کی تفصیل اَشْرَفُ النِّظَامِ لِاِصْلَاحِ الْعَامِ وَالتَّامِّ میں  دیکھ لی جائے۔ اس میں اپنی اور اپنے گھر والوں، اپنے محلہ، اپنی بستی وشہر اور ملک کی اصلاح ودرستگی کے مفید اُصول اور آسان تدبیر وں کو بتلایا گیا ہے اس کے موافق کام کیاجائے ۔

۴) اپنے اپنے علاقوں میں دینی مدارس ومکاتب کا سلسلہ قائم کیاجائے اور اپنے بچوں کو دینی تعلیم  اور قرآنِ پاک کی تعلیم دلائی جائے۔

۵)اپنی اپنی مسجدوں میں نماز کے بعد روزمرّہ اُمور کے متعلق جو مسنون طریقہ ہے اس کے بارے میں ایک ایک سنت اور طاعت کے جوفوائد ہیں اور جوگناہ کے نقصانات ہیں ان کو ایک ایک کرکے سنانے کا معمول رکھاجاوے، اس کو ایک منٹ کا مدرسہ نامی کتاب میں ذکر کیا گیا ہے دیکھ لیاجائے۔ اس کے موافق سنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے تو تھوڑے وقت میں بہت سی باتیں معلوم ہوجائیں گی ۔

۶) اپنے گھر وں میں تھوڑی دیر بزرگوں کی کتابوں کے سنانے کا اہتمام کیاجائے مثلاً حیٰوۃ المسلمین، جزاء الاعمال،فضائلِ تبلیغ۔ اکابر کی تعلیمات کو اس ناکارہ نے بھی جمع کیا ہے تفصیل وتشریح کے ساتھ جس کا نام ہے اشرف الہدایات لاصلاح المنکرات اس کا بھی مطالعہ کرنا مفید ہے، اور دینی اجتماعات میں سنانا بالخصوص احکامِ تبلیغ  کا مضمون نیز حکایاتِ صحابہ وغیرہ ۔

۷)نماز باجماعت اور تلاوتِ قرآن کا خود اہتمام کریں اور متعلقین کو بھی اس کی ہدایت کریں۔ ان چیزوں کی پابندی سے ان شاءاللہ دھیرے دھیرے اصلاح ہوگی،حالات درست ہوں گے۔

اصلاح وتربیت کا حکیمانہ اُصول

جب مرض پُرانا ہوجاتاہے، برسوں کا ہوجاتاہے تو اس کے علاج میں بھی دیر لگتی ہے، مسلسل علاج کرنے سے دھیرے دھیرے مرض  ختم ہوجاتاہے اُ کتانا نہیں چاہیے،جلدی نہیں کرنا چاہیے کہ ایک دو روز دوا  استعمال کرکے بیٹھ جائیں بلکہ لگارہے، دوا کھاتا رہے،پرہیز کرتارہے تو اس طریقے سے پُرانے سے پُرانا مرض بھی دور ہوجاتاہے۔چناں چہ چیچک کی بیماری کے لیے سعی کی گئی بفضلہٖ تعالیٰ یہ مرض ختم ہوگیا، اب بیرونی سفر کے لیے اس کے ٹیکے کی پابندی نہ رہی۔ اسی طرح دینی بیماریوں پر محنت مسلسل ہوتواللہ تعالیٰ کامیابی عطا کریں گے۔ برسوں سے جو عادات بگڑی ہوئی ہیں،رسم ورواج پڑے ہوئے ہیں ان کی بھی اصلاح دھیرے دھیرے ہوگی،مستقل کوشش کرتا رہے گھبرائے نہیں۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں سے عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ الیکشن ہوتاہے ایک جماعت شکست کھاجاتی ہے اور اس کی حکومت ختم ہوجاتی ہے مگر ہمت نہیں ہارتی،مسلسل محنت کرتی رہتی ہے، جدوجہد کرتی ہے،تو نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کچھ دنوں کے بعد جب دوبارہ الیکشن ہوتاہے تو پھر کامیاب ہوجاتی ہے، تو جب دنیوی اقتدار کے لیے آدمی لگارہتاہے ہمت نہیں ہارتا تو اس کی وجہ  سےایک وقت آتاہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتاہے اسی طرح جو دینی خدّام  ہیں، اصلاح وتربیت کا کام کرتے ہیں ان کو بھی پورے استقلال اور ہمّت کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہنا چاہیے۔ محبت اور شفقت کا غلبہ ہونا چاہیے۔ اُصول کے موافق کام میں­­­­­­­مسلسل لگارہنا چاہیے تو پھر ان شاءاللہ  العزیز حالات بدلیں گے،تبدیلی ہوگی، اصلاح ہوگی،اچھے نتائج مرتب ہوں گے۔

خلاصۂ کلام

تو حاصل ساری بات کایہ نکلا کہ اُمت کو یہ چارکا م کرنا ہوں گے کہ جس سے ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوگی، اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کہ سب سے بڑے ہیں اور حاکم بھی ہیں جب وہ راضی ہوں گے تو یہ سارے مسائل جو آئے دن پیش آتے رہتے ہیں یہ خود بخود حل ہوجائیں گے،دُنیا وآخرت کا چین وسکون حاصل ہوگا۔اب دعا کرلیجیے  کہ اللہ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے،آمین۔

احکامِ تبلیغ

آیاتِ کریمہ اور احادیثِ متبرکہ سے تبلیغ کی اہمیت وتاکید جس قدر ظاہر ہوتی ہے اس کو آپ حضرات معلوم کرچکےہیں۔ حضرات ائمہ مجتہدین وعلمائے ربانیین نے اس باب میں آیات واحادیث اور دلائلِ شرعیہ سے جو مسائل واحکام درج فرمائے ہیں ان کو نقل کیاجاتاہے۔ اس سے قبل ایک اہم بات ذہن نشین کرلینے کی ضرورت  ہے، وہ یہ کہ ہر وہ کام جس کے لیے کوئی طریقہ اللہ تبارک وتعالیٰ یاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے اس کی پوری پابندی بہت ضروری ہے ورنہ نیکی برباد گناہ لازم کا مصداق ہوتاہے مثلاً روزہ عید،بقرہ عید کے روزکوئی رکھنے لگے تو بجائے ثوابِ کے مستحقِ عذاب ہوگا کہ ان ایام میں روزہ حرام ہے، اسی طرح نماز سورج کے طلوع کے وقت یا زوال کے وقت باعثِ عذاب ہے اور جس طرح پند ونصیحت زبان سے خطبہ کے وقت جوتبلیغ امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں داخل ہے ممنوع اور باعثِ گناہ ہے، اسی طرح خطبہ کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی آنے پر زبان سے درود شریف پڑھنا اور کسی خاص دُعا پر آمین کہنا یا درمیانِ خطبہ میں دعامانگنایہ سب باتیں منع اور گناہ ہیں حالاں کہ خطبہ کے علاوہ باعثِ اجر وثواب ہیں۔

(یہ مسائل شامی وفتاویٰ عالمگیری میں موجود ہیں ۱۲)

فائدہ: احکام ذیل میں صرف ترجمہ پر اکتفاکرنے کو مناسب خیال کیا گیا ہے کہ زیادہ طویل نہ ہو البتہ ہر مسئلے پر حوالہ دے دیاگیا ہے تاکہ جن حضرات کو شبہ ہووہ رجوع کرکے اطمینان حاصل کریں ۔اشعۃ اللمعات ومرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف،  فتاویٰ عالم گیری،فتاویٰ قاضی خان وبحرالرائق وتفسیر مدارک وتفسیر بیان القرآن وغیرہ کتبِ معتبرہ اس وقت میرے پیشِ نظر ہیں عموماً ایک ہی حوالے پر اکتفا کیا جائے گا اگر چہ متعدد کتب میں مذکور ہو:

مسئلہ۱) بُری بات سے روکنا اور اچھی بات کی تلقین کرنا فرض کفایہ ہے،اگر کسی بستی میں کوئی بھی یہ کام نہیں کرتاہے سب لوگ ترکِ فرض کے وبال میں گرفتار ہوں گے، اگر کچھ لوگ کا م کررہے ہیں اور وہاں کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو سب کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجائے گا اور نصیحت والوں کے لیے اجرِ عظیم ہے۔

(مرقاۃ وتفسیر مدارک)

مسئلہ ۲) اگر ایسی صور ت ہے کہ سوائے کسی خاص شخص کے بُری بات سے کو ئی اور روک نہیں سکتاہے یا اچھی بات کی تلقین نہیں کرسکتاہے تو پھر اس خاص شخص پر اصلاح فرض عین ہوجاتی ہے،جیسے وہ  شخص کہ کسی بُرائی کو وہی جانتا ہے اور وہی قدرتِ اصلاح رکھتا ہے،کسی کی زوجہ کسی کوتاہی میں مبتلا ہو اس کابچّہ یا جو اس کے تابع ہوں مثل مُرید وشاگرد کے۔

(مرقاۃ)

مسئلہ۳) واجبات میں تبلیغ واجب اور مستحبات میں مستحب ہے۔

(اشعۃ اللمعات)

مسئلہ ۴)نصیحت کے فرض ہونے کی دو شرطیں ہیں: اوّل یہ کہ قبولیت کایقین ہو،دوسرے یہ کہ ضرر سے امن ہو۔ جب  یہ دونوں باتیں ہوں گی تو نصیحت فرض ہوگی ورنہ نہیں۔

 (مرقاۃ، اتحاف،فتاویٰ عالم گیری)

مسئلہ ۵) دونوں باتیں جہاں نہ ہوں وہاں نصیحت فرض نہیں بلکہ بعض حالات میں حرام ہے۔

(اتحاف)

مسئلہ ۶)جہاں ایسا منکر ہوجہاں ضررسے امن بھی نہیں اور قبولیت کا یقین بھی نہیں ایسے مجمع میں جانا منع ہے تاکہ اس منکر سے الگ رہے اور بلاضرورتِ شدیدہ اختلاط سے بچتارہے، اور ایسے شہر سے ہجرت ضروری نہیں البتہ اگر بستی کے قیام میں منکرات سے بچاؤکی صورت نہ ہو تو بشرطِ قدرت ہجرت وہاں سے واجب ہے۔

(اتحاف)

مسئلہ ۷) اگر ظنِ غالب ہے کہ نصیحت کرنے سے گالیاں دیں گے یاتہمت لگائیں گے تو نصیحت نہ کرنا  مستحب ہے۔

مسئلہ ۸) اگر ظنِ غالب ہے کہ نصیحت کرنے سے ماریں­ پیٹیں گے اور اس پر ناصح صبر نہ کرسکے گا بلکہ آپس میں مار پیٹ وجھگڑے کی نوبت آوے گی تو بھی نصیحت کا ترک مستحب ہے۔

(عالم گیری)

مسئلہ ۹) اگر ظنِ غالب ہے کہ نصیحت سے ماریں گے پیٹیں گے اور ناصح صبر کی طاقت رکھتاہے اور یہ کسی سے شکوہ وشکایت نہ کرےگا تو نصیحت مستحب ہے اور ایسا شخص مجاہد ہے ۔

(عالم گیری)

مسئلہ ۱۰)اگر ظنِ غالب ہے کہ لوگ اس کی بات قبول نہ کریں گے لیکن نہ ماریں پیٹیں گے اور نہ گالی دیں گے تو ایسی صورت میں نصیحت مستحب ہے۔

(عالم گیری)

بعض علماء فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں بھی واجب ہے ۔

(اتحاف)

صاحب اتحاف نے وجوب کے قول کو اظہر کہا ہے، یہ ناکارہ عرض کرتا ہے کہ احتیاط صاحبِ اتحاف کی ترجیح میں ہے لہٰذا اپنا عمل حضرات ناصحین اس پر رکھیں کہ ایسے مواقع میں نصیحت کردیا کریں اور اگر کوئی ایسے مواقع میں سکوت کرے تو اس سے بدگمان نہ ہوں اور نہ اس پر اعتراض کریں ممکن ہے کہ وہ عدم وجوب کے قول پر عامل ہوں۔

مسئلہ ۱۱)اگر کوئی ایسی جگہ ہے کہ نصیحت کرنے میں اور حق بات کہنے میں اندیشۂقتل ہے اور اس نے نصیحت کی اور قتل کردیاگیا تو وہ شہید ہوگا۔

(عالم گیری)

مسئلہ ۱۲) جس پر نصیحت فرض تھی اس نے مبتلائے منکر کو نصیحت کردی مگر اس نے قبول نہ کیا تو اب اس کے بعد اس پر نصیحت کرنا فرض نہیں۔

(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)

مسئلہ۱۳)اگر کوئی شخص مثلاًزید کسی معصیت میں خود مبتلاہے اور اسی معصیت میں کوئی اور شخص بھی مبتلا ہے بشر طِ قدرت زید کے ذمہ نصیحت کرنا فرض ہے۔

(عالم گیری)

زید کے ذمہ دو کام ضروری تھے:ایک نصیحت، دوسرا عمل۔ ایک میں کوتاہی سے دوسرا ساقط نہ ہوگا، البتہ بدعملی کی سزا بھگتنا ہوگی۔

دیکھیے حدیث نمبر ۱و۲،بابِ سوم،آیت ۴،باب اوّل (اشرف الہدایات لاصلاح المنکرات)

مسئلہ ۱۴) سوال:کسی شخص مثلاً زید نے دیکھا کہ کوئی شخص مثلاً بکر کوئی بُراکام کررہاہے تو کیا اس کے لیے یہ مناسب ہے کہ اس کے والد (یانگراں وسرپرست و حاکم ) کو اس کی اطلاع کرے۔ اس کے جواب میں حضرات علماء نے فرمایا ہے کہ اگر یہ گمان غالب ہے کہ اس کے والدنگراں  وسر پرست وحاکم اس منکرسے روکنے کی قدرت رکھتاہے تو اطلاع کرنا مناسب ہے ورنہ نہیں۔ اور یہی حکم زوجین وحاکم ورعایا کے بارے میں ہے۔

(عالم گیری)

مسئلہ ۱۵) حضرت ضفیہ ابوقاسم سے سوال کیاگیا مثلاً زید نے دیکھا کہ ایک شخص چوری کررہاہے تو آیا چوری کی اطلاع کرنا مالک مال سے ضروری ہے؟ اس کا جواب یہ دیا کہ اگر یہ اندیشہ ہے کہ چور مجھ پر ظلم کرےگا تو اطلاع ضروری نہیں ہے ورنہ اطلاع کرے۔

(عالم گیری)

مسئلہ ۱۶) اگر والد کسی کام کا حکم دینا چاہے بیتے کو اور اندیشہ ہے کہ وہ نہ مانے گا تو ترغیب کے عنوان سے کہے، مثلاً یہ کہ بیٹا مناسب ہوگا کہ یہ کر و۔ تاکہ نافرمانی سے اس کی آخرت کا نقصان نہ ہو۔

(عالم گیری)

فائدہ:اس سے اجنبی حضرات کی فہمایش میں بڑی احتیاط کی تاکید نکلتی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ مبتلا ئے منکر کو نصیحت ایسے طور کرو کہ اس کو مضرتِ دینی نہ پہنچے۔ اس کی تشریح آدابِ تبلیغ میں آوے گی، ان شاءاللہ ۔

مسئلہ ۱۷) جو اُمور مفروضہ یا ممنوعہ مشہور ومعروف ہیں ان میں نکیر کا حق سب کو ہے، اور جو اُمور دقیق ہیں ان میں علماء کو نکیر کا حق ہے، عوام کو حق نہیں جب تک پورے حدود معلوم نہ کرلیں۔ اور علماء کو حقِ نکیر کُلّی طور پر ان اُمور میں ہے جو اتفاقی ہیں، نہ کہ ان اُمور میں جو مجتہدین میں مختلف فیہ ہیں ۔

مسئلہ ۱۸) عوام مسلمین کو علمائے کاملین پر نکیر میں سبقت نہ چاہیے۔

(مرقاۃ، عالم گیری)

فائدہ:بلکہ کسی کے عمل میں کوئی خلجان ہو تو کسی محقق شخص سے رجوع کرنا چاہیے، بلکہ پہلے ان عالم سے رجوع کریں۔بسا اوقات عام مسلمین کو اس کاعلم نہ ہونے  سے اشکال پیدا ہوتاہے جیسا کہ آج کل عام حالت یہی ہے ۔

مسئلہ۱۹) مبتلائے منکر سے مخالِطت و مودۃ کا ترک چاہیے الّا بضرورتِ شدیدہ ۔

(بیان القرآن، پارہ نمبر۴، رکوع۲۔ واشعۃ اللمعات)

مسئلہ ۲۰) جو شخص بوجہ عدم قدرت یا مفسدہ کے اندیشے سے نصیحت  نہ کرے اور ایسے منکرکو بُرا سمجھتاہے تو وہ نجات پانے والے مومنین سے ہے۔

(مرقاۃ و مشکوٰۃ شریف)

فائدہ : بعض دفعہ بظاہر قدرت بھی محسوس ہوتی ہے مگر پھر نکیر نہیں کی جاتی ہے مبتلا ئے منکر کی مصلحتِ دینی کی وجہ سے، جس کی توضیح وتشریح بابِ چہارم کی حدیث نمبر ۴ میں ملاحظہ ہو، اس لیے اعتراض میں جلدی نہ کرنا چاہیے ۔

(تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمایئے کتاب اشرف الہدایات از اوّل تاآخر)

اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفیٰ

میرے محترم بھائیو اور بزرگو!

مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ کچھ بیعت اور سلوک و طریقت کے متعلق عرض کروں۔

آج کل کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چیز شریعت کے خلاف ہے،آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعلیم نہیں دی ہے اور جو لوگ تصوف و طریقت کے ذمہ دار ہیں ان کے افعال و اطوار، حرکات وسکنات شریعت کے خلاف پائے جاتے ہیں،اس لیے شبہ ہوتا ہے کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہے،حالاں کہ واقعہ یہ نہیں ہے۔ بیعت نام ہے اس کا کہ شریعت کی کسی بات کے لیے عہد لیا جائے کہ وہ اس امر کو اللہ کے حکم سے انجام دیں گے یا کسی خاص دینی مسئلہ کا کہ وہ اس پر عمل کریں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیعت فرمانا

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے مواقع میں ایسا کیا ہے،چنانچہ حدیبیہ کی لڑائی کے وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا تھا کہ اگر دشمنوں سے مقابلہ کی نوبت آئی تو وہ بھاگیں گے نہیں، بلکہ جب تک زندہ رہیں گے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے اور موت آجائے گی تو اس کو اختیار کریں گے اور اسلام کی سربلندی کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیں گے۔

اللہ تعالیٰ سورۂ فتح میں فرماتا ہے: لَقَدۡ رَضِیَ اللہُ  عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ  اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ  فَعَلِمَ  مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ  فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ  عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ  فَتۡحًا  قَرِیۡبًا (اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے راضی ہوگیا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے، پس اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کردیا اور ان کو فتح قریب عطا فرمائی)

اسی طرح سورہ ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے بیعت لینے کے متعلق ذکر کیا ہے، ارشادِ ربانی ہے:یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ  اِذَا جَآءَکَ  الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ عَلٰۤی اَنۡ لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللہِ شَیۡئًا وَّ  لَایَسۡرِقۡنَ وَ لَا یَزۡنِیۡنَ وَ لَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ (اے نبی! جب عورتیں تمہارے پاس آئیں اور عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری نہ کریں گی اور زنا نہ کریں گی اور اپنے بچوں کو قتل نہ کریں گی)

زمانۂ جاہلیت میں عادت تھی کہ اپنے بچوں کو مرد، عورت، ماں، باپ فقر و فاقہ کی وجہ سے قتل کرڈالتے تھے،فرمایا گیا ہے: وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا  اَوۡلَادَکُمۡ  خَشۡیَۃَ  اِمۡلَاقٍ(فاقہ کے خوف سے اپنے بچوں کو مت مار ڈالو) اسی طرح اور برائیوں میں لوگ مبتلا تھے، عہد لیا گیا کہ ان سب سے علیحدہ ہوکر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابع داری کریں گے۔

ان آیتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ آپ ان عورتوں سے بیعت لیجیے اور ان کے لیے استغفار کیجیے، پس معلوم ہوا کہ بیعت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوئی۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان بارہ اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جوبیعت عقبہ میں شریک تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسلام کا داعی اور مبلغ نقیب بناکر بھیجا  تھا،اس کے علاوہ آپ کو یہ بھی شرف حاصل ہے کہ آپ جنگ بدر میں شریک تھے جن کی مغفرت کا دنیا ہی میں اعلان ہوچکا تھا۔یہی حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آپ کے گرد حاضر تھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

بَایِعُوْنِیْ عَلٰی أَنْ لَّاتُشْرِکُوْا بِاللہِ شَیْئًا وَلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوا وَلَاتَقْتُلُوْا أَوْلَادَکُمْ وَلَا تَاْتُوْا بِبُھْتَانٍ تَفْتَرُوْنَہ بَیْنَ أَیْدِیْکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوْا فِی مَعْرُوْفٍ فَمَنْ وَفَی مِنْکُمْ فَأَجْرُہٗ عَلَی اللہِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَالِکَ شَیْئًا فَعُوْقِبَ فِی الدُّنْیَا فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَہٗ وَمَنْ اَصَابَ مِنْ ذَالِکَ شَیْئًا ثُمَّ سَتَرَہُ اللہُ فَھُوَ اِلَی اللہِ اِنْ شَاءَ عَفَا عَنْہُ  وَاِنْ شَاءَ عَاقَبَہُ فَبَایَعْنَاہُ عَلٰی ذَالِکَ

(بخاری: کتاب الایمان)

حدیث کا ترجمہ:

مجھ سے بیعت کرو اس پر کہ اللہ کا کسی کو شریک نہیں گردانوگے سرقہ اور زنا کا ارتکاب نہ کروگے اور اپنی اولاد (لڑکیوں) کو قتل نہ کروگے اور بہتان نہ باندھوگے اور کسی بھی اچھے کام میں نافرمانی اور حکم عدولی نہ کروگے پس جو شخص اس عہد کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جو شخص ان میں سے کسی جرم کا مرتکب ہوجائے پس اگر دنیا میں اس کو اس کی سزا مل گئی تو وہ کفارہ ہوسکتی ہے اور اگر دنیا میں اللہ نے اس کی پردہ پوشی کرلی تو پھر اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے معاف کرے اور اگر چاہے سزا دے (راوی کہتے ہیں کہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  یہ ارشاد ختم کرچکے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں پر بیعت کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف لوگوں سے مختلف چیزوں پر بیعت لی ہے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی اس پر کہ ہم مسلمان کی خیر خواہی کریں گے اور حفاظت کریں گے اور جن چیزوں سے منع کیا ہے اس سے بچیں گے اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حدیبیہ میں کس چیز پر بیعت کی تھی؟ تو کہا موت پر، یعنی اس پر کہ مرجائیں گے لیکن بھاگیں گے نہیں، کبھی بعض خاص باتوں پر بیعت کی، کبھی پوری شریعت پر، کسی سے اس پر بیعت لی کہ کسی سے کوئی چیز مانگیں گے نہیں اس کا اثر یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کا کوڑا گرجاتا تھا اگرچہ گھوڑے پر سوار ہوتے تو خود ہی اتر کر اٹھاتے تھے یعنی کسی کو اٹھانے کے لیے نہیں کہتے تھے کہ کہیں یہ بھی سوال نہ ہو۔ مختلف جگہوں میں مختلف طریقہ سے قرآن اور حدیث میں ذکر آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کی کبھی کچھ چیزوں کے لیے اور کبھی پوری شریعت کے لیے۔

بیعت کوئی نئی چیز نہیں ہے قرآن و حدیث میں بہت سے واقعات ذکر کیے گئے ہیں جن سے بیعت کا ثبوت ملتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس زمانے سے یہ سلسلہ اب تک چلا آرہا ہے بیعت اس پر ہوتی ہے کہ شریعت کے حکموں کی تعمیل کریں گے  اللہ کا ذکر کریں گے اور شریعت پر چلیں گے اسی کو بیعت طریقت کہا جاتا ہے، بیعت کے طریقے ہر زمانے میں جاری رہے ہیں اور اللہ کے خاص خاص بندوں نے مسلمانوں سے اس سلسلہ میں عہد لیے ہیں۔

بیعت کون لے سکتا ہے؟

بیعت کا ہر شخص کو حق نہیں، بیعت لینے کا حق اسی کو ہے جو فسق و فجور سے بچتا رہا ہو اور کسی پیر کے پاس رہا ہو اور کسی پیر کے پاس رہ کر کتاب و سنت کی روشنی میں تزکیۂ قلب حاصل کر چکا ہو اور اپنے مرشد سے نسبت باطن حاصل کی ہو ایسے ہی لوگوں کے ہاتھ پر زمانہ سابق میں بیعت کی جاتی تھی، تمام صحابہ کرام   رضی اللہ عنہم میں یہ اوصاف پائے جاتے تھے مگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے خصوصاً یہ سلسلہ زیادہ چلا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور ان کے خلفاء میں سے جو بیعت لیتے ہیں ان کو پیر کہتے ہیں، پیر کے معنی بڈھا کے ہیں اور عربی میں اسے شیخ کہتے ہیں، چونکہ عموماً وہ شخص جو زیادہ دنوں تک اللہ اور رسول کی اطاعت میں وقت گزارتا ہے اور تجربہ حاصل کرتا ہے اور پھر اشاعت و تبلیغ کا کام کرتا ہے بوڑھا ہوجاتا ہے اسی لیے اس کو پیر کہاجاتا ہے، پیر کسی شخص کا نام نہیں ہے کسی مذہب کا نام نہیں ہے بلکہ جو شریعت کا پابند اور عرصۂ دراز تک ریاضت کیے ہوئے ہو اللہ کی کثرت سے اطاعت کرتا ہو اور دنیا کا حریص نہ ہو اس قدر عبادت کی ہو کہ اس سے نسبت پیدا ہوگئی ہو وہی پیر ہوتا ہے مگر عرصہ دراز گزرنے کے بعد جس طرح ہر جماعت میں کھرے کھوٹے ہوتے ہیں اسی طرح طریقت کے اندر بھی کھرے کھوٹے پیدا ہوگئے جو شخص شریعت پر نہ چلتا ہو اور نہ سنت کا تابع دار ہو وہ شخص بیعت لینے کا مستحق نہیں ہے، حکم ہوا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ  الصّٰدِقِیۡنَ (اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اللہ سے اور سچوں کے ساتھ رہو) پیر وہ ہوتا ہے جو ہر طرح سچا ہو جس کے اندر فریب نہ ہو،  پیر اس شخص کو بنایا جاتا ہے جو سچا ہو اللہ کے ساتھ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ  لَعَلَّکُمۡ  تُفۡلِحُوۡنَ ۔ (اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو امید ہے تم کامیاب ہوجاؤ گے۔)

ایمان کا درجہ اول ہے اور ثانوی درجہ تقویٰ کا ہے اور تیسرا درجہ وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ کا ہے۔محققین کی رائے ہے کہ وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ سے مراد مرشد تلاش کرنا ہے، چوتھا حکم ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو، سب سے پہلا جہاد یہ ہے کہ اپنے نفس کے خلاف جہاد کرو۔

تصوف کا حدیث سے ثبوت

طریقت و تصوف کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ پرانی ہی عرصہ سے چلی آتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا ہم میں سے اس کو کوئی پہچانتا نہیں تھا اس کے کپڑے نہایت سفید تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا ہم نے تعجب کیا وہ باہر سے آئے ہوئے معلوم نہیں ہوتے تھے کیوں کہ ایسے آدمی کے جو سفر کر کے آیا ہو کپڑے بہت میلے اور گندے ہوتے ہیں اس نے سوال کیا ماالایمان؟ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ وتؤمن بالبعث بعد الموت والقدر خیرہ و شرہ الخ (او کما قال)ایمان یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسولوں پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور قیامت پر اور اچھی بری تقدیر پر، اس کے بعد سوال کیا اسلام کیا چیز ہے؟ فرمایا: ان تشھد ان لا الٰہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ولا تشرک بہ شیئًا وتقیم الصلوٰۃ وتؤتی الزکوٰۃ وتصوم رمضان وتحج البیت ان استطعت الیہ سبیلا(یعنی تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ ایک ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ کسی کو خدا کا شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو اور روزہ رکھو اور زکوٰۃ دو اور استطاعت ہو تو حج کرو) اس کے بعد سوال کیا کہ احسان کیا چیز ہے؟ فرمایا: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اسے دیکھتے ہو اور اگر تم اسے نہ دیکھتے ہو تو وہ تم کو بہرحال دیکھ رہا ہے۔

احسان کا ذکر قرآنِ پاک میں متعدد جگہ کیا گیا ہے: اِنَّ رَحۡمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ دوسری جگہ آیت یہ ہے: ہَلۡ جَزَآءُ  الۡاِحۡسَانِ  اِلَّا الۡاِحۡسَانُ اس طرح کی اور بھی آیتیں ہیں،آقائے نامدار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ان تعبد اللہ کأنک تراہ فان لم تکن تراہ فھو یراک کہ احسان نام ہے اس چیز کا کہ خدا کی عبادت مکمل خضوع و خشوع کے ساتھ انجام دو اور اس طرح عبادت کرو جس سے ظاہر ہو کہ تم خدا کو دیکھ رہے ہو جیسے غلام آقا کو دیکھتا ہے تو نہایت توجہ سے کام کرتا ہے کوتاہی نہیں کرتا، ہر عبادت کی تکمیل اس طرح کرو جیسے تم اپنے آقا و مالک کے دیکھنے کے وقت کرتے ہو اور اگر تم کہو ہم تو اللہ کو نہیں دیکھ سکتے تو یہ خیال کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے غلام کام کی تکمیل اس واسطے کرتا ہے کہ آقا اس کو ہر وقت دیکھتا رہتا ہے اسی احسان کے حاصل کرنے پر تمام تصوف کا مدار ہے۔

آقائے نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضور کی مجلس میں ایمان کے ساتھ حاضر ہوتے ہی احسان حاصل ہوجاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوّت اتنی قوی تھی کہ جو حاضر ہوتا تھا اس کے قلب پر ایسا اثر پڑتا تھا  کہ تمام چیزوں کو بھول جاتا تھا اور اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا تھا۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کئی روز حاضر نہ ہوئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ اپنے آدمیوں کو یاد کرتے تھے جب وہ ایک دو وقت نہیں آئے تو فرمایا: حنظلہ کیوں نہیں آئے، لوگوں کو کچھ معلوم نہ تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں ابھی پوچھ کر آتا ہوں  اور خبر لاتا ہوں چناں چہ وہ ان کے گھر گئے گھر والوں سے پوچھا کہ حنظلہ کہاں گئے؟ بیوی نے کہا کہ گھر میں سر جھکائے گوشہ میں بیٹھے ہیں، حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اندر جاکر دیکھوں، اندر گئے دیکھا بیٹھے ہیں اور رورہے ہیں، پوچھا کیوں نہیں آئے؟ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں منافق ہوگیا ہوں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیسے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوتا ہوں تو دنیا کی ساری باتیں فراموش ہوجاتی ہیں اور خدا سے تعلق رہتا ہے اور جب گھر آتا ہوں اور بال بچوں میں لگ جاتا ہوں تو یہ حالت نہیں رہتی، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: میری بھی یہی حالت ہے اور پھر یہ بھی بیٹھ کر رونے لگے اور پھر فرمایا کہ ہماری تمام مشکلات کو حل کرنے والے وہی آقائے نامدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کے پاس چلو رونے سے کوئی فائدہ نہیں یہ بات ان کی سمجھ میں آئی چناں چہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ! ہماری ایسی حالت ہوتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ہر وقت ایسے ہی رہو جیسے میرے سامنے رہتے ہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں مگر یہ حالت وقتاً فوقتاً ہی ہوسکتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ایسی ہے جیسے آفتاب اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے پاک اور صاف دل گویا آئینہ تھے جب بھی آفتابِ نبوت کے سامنے پہنچتے تھے تو یہی حالت ہوجاتی تھی اور جب الگ ہوتے تو اس میں فرق آجاتا تھا۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  اور تزکیۂ  نفس

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کو چار کام سپرد کیے گئے تھے جن کا تذکرہ اس آیت میں ہے:

یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ

(۱)قرآن کریم کی آیتیں سناتے تھے (اس کا قرآن پاک میں چار پانچ جگہ ذکر ہے)۔

(۲)اللہ تعالیٰ کا کلام سکھاتے تھے۔

(۳)حکمت کی باتیں بتلاتے تھے۔

(۴)اور چوتھا کام یہ کہ دلوں کے میل کچیل دور کرتے تھے اور ان کو پاک و صاف کرتے تھے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی روحانی طاقت سے اہل ایمان کے دلوں کے میل  کچیل دور ہوجاتے تھے، غیر اللہ کی محبت اور ہر قسم کی برائی دور ہوجاتی تھی۔

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحبت کا اثر یہ تھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تھے تو ہر چیز روشن معلوم ہوتی تھی، جب تک  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  رہے سب چیزیں روشن معلوم ہوتی رہیں، وفات کے بعد جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر اطہر پر مٹی ڈالی تو وہ روشنی جاتی رہی، اور کہتے ہیں کہ ابھی ہم نے ہاتھوں سے مٹی نہیں جھاڑی تھی کہ خود ہمیں اپنے دل اوپرے معلوم ہونے لگے۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  روحانیت کے آفتاب تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے روشنی حاصل کی اسی بناء پر اہل سنّت والجماعت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو شخص اسلام کے ساتھ چند منٹ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہ میں رہا ہو وہ بعد کے آنے والے بڑے سے بڑے متقی اور ولی سے بھی افضل و اعلیٰ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی روحانی طاقت بجلی سے بھی زیادہ طاقت ور تھی، دل و دماغ روشن کرنے والی، اس لیے ریاضت کی زیادہ حاجت نہ ہوتی تھی، ضرورت اس بات کی تھی کہ اخلاص کے ساتھ مجلس میں حاضری ہوجائے۔

مگر جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کی جدائی کے بعد وہ روشنی نہیں رہی اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے جتنا زمانہ دور ہوتا گیا روحانی اور قلبی صفائی میں کمی ہوتی گئی، جس طرح صاف برتن کے صاف کرنے سے میل جلد دور ہوجاتا ہے عہد صحابہ رضی اللہ عنہم  کے صاف قلوب کو صاف کرنے کے لیے کسی خاص ریاضت کی ضرورت نہیں تھی مگر جیسے جیسے میل بڑھتا اور جمتا گیا ریاضت کی ضرورت زیادہ ہوتی گئی۔

احسان اور صفائی قلب

احسان کوئی نئی چیز نہیں، دل کی ہی صفائی کرنے کا نام احسان ہے اور یہی تصوف کا مقصد ہے، تصوف کا مقصد کوئی نئی چیز نہیں ہے، حدیث جبریل میں جو چیز مذکور ہے وہی سچ ہے مگر زمانہ کے بُعد کی وجہ سے طبیعتوں  میں میل زیادہ ہوگیا جس کی وجہ سے مانجنے کی ضرورت زیادہ ہوگئی۔

لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جواُصول تصوف میں ذکر کیے گئے ہیں یعنی بارہ تسبیحیں، ذکر جہری، پاس انفاس، مراقبہ وغیرہ اس کا بھی حدیث میں ذکر نہیں ہے، ان کا یہ اعتراض غلط  ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں جہاد کے لیے تلوار، تیر کمان وغیرہ کا تذکرہ آتا ہے اور بندوق، مشین گن، گولہ بارود اور ہوائی جہاز کا کوئی تذکرہ نہیں آتا ہے، آج اگر مسلمانوں کو شرعی جہاد کی ضرورت پڑے تو آپ کہیں گے کہ جنگ تلوار سے کرنی چاہیے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  جنگ فقط تلوار و نیزہ، تیر و کمان سے کرتے تھے، ہرگز آپ ایسا نہیں کرسکتے، اور اگر آج ایسا کریں گے تو دشمن آپ کو دور ہی سے فنا کردیں گے، مشین گن اور توپوں وغیرہ سے اگر دشمن حملہ کرے تو ہم کو بھی وہی چیز اختیار کرنی چاہیے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم فرمایا ہے وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ.....الخ جو تم سے قوت ہوسکے دشمن کے مقابلے کے واسطے تیار کرو، مقصود جہاد سے اعلائے کلمۃ اللہ ہے، جس چیز سے بھی ہو، اور جس چیز کی ضرورت پڑے اس کا استعمال کرو، جس سے دشمن کو شکست دے سکو اس کو مہیا کرو اور مقابلہ کرو۔

اسی طرح جس زمانہ میں آقائے نام دار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  دنیا میں موجود  تھے تو اس زمانہ میں تھوڑی ریاضت کی ضرورت پڑتی تھی اور اسی سے کام لیا جاتا تھا اور جتنے دن زیادہ گزرتے گئے ریاضتوں کی ضرورت زیادہ ہوتی گئی اسی وجہ سے چلہ، بارہ تسبیح، ذکرِ جہری اور پاسِ انفاس وغیرہ قلب کی صفائی کے لیے متعین کیے گئے۔

آقائے نام دار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں قرآن شریف میں زبر، زیر نہیں تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں کتابی شکل میں جمع کرایا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ترتیب دیا، مگر زیر و زبر تب بھی نہیں لگائے گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زبان عربی تھی وہ بغیر زیر و زبر کے پڑھتے تھے جیسے کہ ہم اردو زبان والے اردو کے صفحے کے صفحے پڑھتے چلے جاتے ہیں، آج کوئی بنگالی، برمی یا انڈونیشیا والے سے کہا جائے کہ اردو کی صحیح عبارت پڑھو تو وہ نہیں پڑھ سکتا جس طرح ہم زیر و زبر کے نہ ہوتے ہوئے صحیح پڑھتے ہیں، اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قرآن جس میں نہ زیر، نہ زبر نہ نقطہ کچھ بھی نہیں تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صحیح پڑھتے تھے مگر تھوڑے ہی زمانہ بعد اس کی ضرورت محسوس ہوئی، عجمیوں کے خلط ملط کی وجہ سے لوگ زیر و زبر کے محتاج ہوگئے پس یہ اعتراض کہ  قرآنِ پاک میں زیر و زبر نہیں لگانے چاہئیں کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں نہیں پائے گئے تو کیا یہ اعتراض کوئی وزن رکھتا ہے؟ بے شک اس زمانہ میں لوگ بغیر زیر و زبر کے تلاوت کرلیتے تھے مگر آج مکہ اور مدینہ والے جن کی زبان عربی ہے وہ بھی بغیر زیر و زبر و نقطہ کے نہیں پڑھ سکتے، جس طرح ہم محتاج ہیں صرف و نحو کے اسی طرح عرب والے بھی محتاج ہیں اور وہ بھی بغیر زیر و زبر اور نقطہ کے نہیں پڑھ سکتے ہیں تو زمانہ کے بدلنے کی وجہ سے احوال بدلتے رہتے ہیں لیکن وہ احوال جو مقصود کو بدلنے والے نہ ہوں ان کو سنت ہی کہا جائے گا، مثلاً کسی شخص نے روٹی پکانے والے کو متعین کیا  تو  اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ لکڑی، چولہا، توا سب چیزیں مہیا کریں، لکڑی نہ ملے، کوئلہ نہ ملے تو اوپلہ کو بھی استعمال کیا جائے گا غرض جس چیز پر روٹی پکانا موقوف ہو اسی کو طلب کیا جائے گا۔ مختصر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں احسان حاصل کرنے کے لیے ریاضت کی ضرورت نہیں تھی مگر آج ہمارے مرشدوں نے بتلایا کہ اس طرح سے ذکر کرو، اگر کوئی کہے کہ یہ بدعت ہے تو سراسر غلطی ہے۔

ذکر اللہ کی تاکید

اللہ نے کئی جگہ ذکر کی تاکید فرمائی ہے، ارشاد ہے: فَاذۡکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا .... الخ کھڑے اور بیٹھے کی کوئی قید نہیں ہے۔ اسی طرح لفظ اللہ، سبحان اللہ اور لاالہ الا اللہ ضرب کے ساتھ ہو یا بلاضرب ارشاد خداوندی کے تحت میں سب داخل ہے۔ دوسرے موقع پر قرآن شریف میں ہے: یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ  اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللہَ  ذِکۡرًا کَثِیۡرًا .... الخ۔ تیسرا ارشاد ہے: فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ اگر تم مجھ کو یاد کرو گے میں تم کو یاد کروں گا، کوئی قید نہیں کہ کس طرح سے ذکر کیا جائے، مطلقاً ذکر کا حکم ہے، ہمارے بڑے تجربہ کار لوگوں نے کہا ہے کہ ذکر سری سانس کے ساتھ اور ذکر خفی روح کے ساتھ کرو۔

بہرحال ذکر کوئی بدعت نہیں ہے، جیسے حکم دیا تھا جہاد کرنے کا کہ دشمن کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے جہاد کرو، چاہے تیر سے چاہے تلوار سے، چاہے توپ یا مشین گنوں سے جس طرح تم انجام دے سکو اور دشمن کو شکست دے سکو، جیسے قرآن کی تلاوت کا حکم دیا گیا ہے تو زیر و زبر لگانا اور عکس قرآن چھاپنا سب اسی کے حکم میں ہے، تم کو حج کا حکم دیا گیا ہے تو پہلے اونٹوں پر سفر کرتے تھے تو اس کی ضرورت ہوتی تھی اور اب جہازوں اور لاریوں پر سفر کرنا پڑتا ہے، اگر کوئی بے وقوف کہے کہ یہ بدعت ہے میں تو ہندوستان سے اونٹوں پر سفر کروں گا تو کیا آپ کرسکتے ہیں؟ اسی طرح سے جدہ پہنچنے کے بعد لاریوں سے سفر ہوتا ہے تو مقصود بیت اللہ کی حاضری ہے، جس طرح سے ہو اس کو انجام دیا جائے، مقصد میں کوئی فرق نہیں آیا زمانہ کی ضرورت کی حیثیت سے فرق پڑ گیا۔

تو میرے بزرگو! آج یہ کہنا کہ تصوف و سلوک میں جو باتیں ہیں بدعت ہیں یہ غلط ہے، وہ مامور بہ ہیں ان پر عمل کرنا ہوگا کیوں کہ اصل مقصد تصوف میں احسان ہے اس کے حاصل کرنے کے جو طریقے خلافِ شریعت نہیں ہیں وہ سب ضروری ہیں، البتہ اگر کوئی شخص کہے کہ مجھ کو خدا تک پہنچنے کے لیے قوال، ڈھول اور گانے والے کی ضرورت ہے تو یہ خلافِ شریعت ہے، جنابِِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے ان چیزوں کی ممانعت کی ہے تو جن چیزوں سے ممانعت کی گئی وہ سنت میں داخل نہیں ہیں۔

بیعت کی ضرورت و اہمیت

بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ بیعت کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے،یہ شبہ غلط ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی اور قرآن و حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔

حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا تھا وہ اپنی کتاب ’’صراطِ مستقیم‘‘ میں بیعت کے فائدے بتلاتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی برگزیدہ بندے کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے تو اس کی قبولیت کی وجہ سے خدا کی رحمت اس کی کفالت کرتی ہے اور اس کے دو طریقے ہوتے ہیں، ایک طریقہ سے اس کی عصمت کی حفاظت کی جاتی ہے، اگر اس کا مرشد بھی عزت والا ہے تو اس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ تیرا فلاں مرید فلاں خرابی میں مبتلا ہورہا ہے اس کو نکالا جائے تو مرشد اس کو مناسب تدبیر سے اس خرابی سے نکالتا ہے کبھی خود خداوند کریم ہی اس مرید کو خرابی سے بچاتا ہے۔ کبھی فرشتہ کو حکم دیا جاتا ہے اور کسی ذریعے سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے مثلاً مرشد کی صورت میں آکر فرشتہ اسے بچاتا ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ زلیخا کے ساتھ مشہور ہے کہ اس نے سات کوٹھڑیوں میں بند کر کے وصال چاہا اور ان پر جبر کیا، حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:معاذ اللہ! میں اپنے مالک کی نافرمانی کروں، اس کی بیوی پر ہاتھ ڈالوں، اس نے مجھ پر بڑے بڑے احسان کیے ہیں میں ظالم نہیں ہوسکتا ہوں۔ اس نے بہت مجبور کیا، پھسلایا اور پیچھا کیا اور قریب تھا کہ برائی میں مبتلا ہوجائیں چناں چہ فرمایا: وَ لَقَدۡ ہَمَّتۡ بِہٖ ۚ وَ ہَمَّ بِہَا لَوۡ لَاۤ  اَنۡ رَّاٰ بُرۡہَانَ رَبِّہٖ..... الخ  تو اللہ تعالیٰ نے حفاظت کے واسطے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو مقرر کیا وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی صورت میں آئے، وہ سامنے کھڑے ہوکر انگلی منہ میں دبائے ہوئے تھے اور اشارہ سے کہہ رہے تھے کہ خبردار! اس میں مبتلا نہ ہونا حالاں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بچایا۔

حضرت سیداحمد شہید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کامل کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا کسی گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ کی طرف سے کسی روحانی ذریعے سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ بیعت کے بہت زیادہ فوائد ہیں، قرآن شریف میں ہے:

کُوۡنُوۡا مَعَ  الصّٰدِقِیۡنَ آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی کسی پارٹی میں داخل ہوتا ہے تو اس پارٹی کے تمام بڑوں سے اس کے تعلقات ہوجاتے ہیں اور وہ بڑے لوگ اس کا خیال رکھتے ہیں تو آخرت والے جو خدا کے سچے بندے ہیں تو ان میں یہ بات کیوں کر نہ ہوگی ان میں تعلقات کی بات بہت اونچی ہوتی ہے، اگر تم اللہ کے کسی مقبول بندے کے ہاتھ پر بیعت ہوجاؤ تو جماعت کے تمام بڑوں سے خواہ دنیا میں ہوں یا آخرت میں سب سے تعلق ہوجاتا ہے اور وہ لوگ دعا کرتے ہیں اپنی ہمت سے خبر گیری کرتے ہیں۔

شریعت و طریقت

میرے بھائیو! نہ بیعت بدعت ہے نہ طریقت بدعت ہے اور نہ طریقت شریعت سے جدا ہے۔ طریقت شریعت کی خادم اور اس کی تکمیل کرنے والی ہے۔ بڑے بڑے لوگ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ بہاء الدین­ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ان بزرگوں نے وہ طریقے جاری کیے جن سے اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل ہو، ان طریقوں سے مقصود قربت اور آخرت کا حاصل کرنا ہے۔

مگر جیسے ہر جماعت میں کھرے کھوٹے ہوتے ہیں اس طرح اس جماعت میں ایسے لوگ داخل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے خرابی پیدا ہورہی ہے، دین کو جال بناکر دنیا حاصل کرنے والے ہر جماعت میں اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں، ایک دو کی برائی کی وجہ سے پورے دین میں کوئی برائی نہیں ہے، ہاں بیعت ہونے کے وقت مرشد کا انتخاب سوچ سمجھ کر، کھرا کھوٹا دیکھ کر کرنا چاہیے۔ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے؎

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

پس  بہر  دستے  نہ باید داد  دست

بسا اوقات شیطان آدم کے بھیس میں آجائے گا۔ تم کو سوچنا چاہیے، سمجھنا چاہیے کہ جب تمہارا کچہری میں مقدمہ ہوتا ہے تو ہر وکیل کو وکیل نہیں بناتے اور جب کبھی تم بیمار ہوتے ہو تو ہر ڈاکٹر کو معالج نہیں بناتے  اور نہ ہر حکیم کے پاس جاتے ہوبلکہ سوچتے ہو کہ اچھے سے اچھا وکیل اور اچھے سے اچھا ڈاکٹر حاصل کریں جب دنیا میں یہ معاملہ ہوتا ہے تو اللہ کی رضا اور آخرت کے واسطے جو ملا اس کے ہاتھ پر کیسے بیعت کرنا چاہیے۔ اچھا ہو یا بُرا، نمازی ہو یا نہ ہو، عورتوں کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ملا کر بے پردگی کے ساتھ بیعت کرتا ہو۔ ہر ایک بیعت کے لیے کیسے ہوسکتا ہے!

عورتوں سے بیعت لینا

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کی بیعت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کرتے تھے اور اگر مجمع بڑا ہوتا تو کپڑا پکڑا کر بیعت لیتے تھے مگر عورتوں کی بیعت کبھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں لی۔

نورِ نسبت کی تابانی

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعْدُ

فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ 

بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ  وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ

صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْمُ

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ زمین ناپاک ہو تو اس کو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ تشمیس ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں اور اس کی تیز روشنی اس زمین پر جو نجس ہے اس پر پڑتی رہے، خشک ہوکر کے وہ زمین پاک ہوجائے گی، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آسمان سے بارش برسے اور بارش سے وہ نجاست اندر سے بہہ کر باہر چلی جائے، دونوں طریقوں سے زمین پاک ہوجاتی ہے، اب انسانوں کا جودل ہے اس کو بھی قرآن میں اور احادیث میں زمین سے تشبیہ دی گئی ہے، انسانوں کے دل کی صفائی بھی دو طریقوں سے ہوتی ہے:

۱)ایک یہ ہے کہ اللہ والوں کے دل میں جو نورِ نسبت ہے اس کی تپش پڑ جاوے، اس تپش کی تیزی سے نجاست کے اجزا خشک ہوکر بھسم ہوجاتے ہیں اور وہ دل صاف ہوجاتا ہے۔

۲) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ والوں سے نورِ نسبت لے کر ذکر اللہ کی بارش قلب پر کروائی جائے، اللہ کے نام میں ایسی تری ہے، بشرطیکہ نورِ نسبت اس میں شامل ہو، تو وہ نجاست کے تمام اجزا کو بہاکر لے جاتی ہے ۔

اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ میں زمین پر تشمیس نہیں کرواؤں گا، ویسے ہی زمین کو رکھے رکھے پاک کروں گا، تو حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، اگر پچاس سال بھی وہ اسی زمین کو رکھے گاتو زمین کی نجاست اس سے زائل نہیں ہوگی۔ اللہ والوں کے دلوں کے اندر جو نور ہے جسے تشمیس فرمایا، اس کی چار صورتیں ہیں جومختصراً عرض کرتا ہوں: چوں کہ اللہ کے نور سے ان کا نور مل جاتا ہے، اس لیے خدائے تعالیٰ اہل اللہ کو عام لوگوں سے چار چیزوں میں فوقیت دیتے ہیں:

نمبر۱: عقلِ معاد نصیب فرماتے ہیں۔ عام لوگوں کو عقلِ معاش دی گئی ہے، عقل معاد آخرت والی عقل، عقل معاش دنیا والی عقل۔عقلِ معاش اگر حد سے تجاوز کر جاوے تو وہ دین کو بھی دنیا کی شکل میں بنالیتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں پانچ وقت کی فرض نماز بھی کوئی نہیں پڑھتا ہے، اگر کوئی عامل اس کو کہے کہ آدھی رات میں اٹھ کر سورۂ مزمل کا چلّہ نکالو، روزی میں برکت ہوگی۔ وہی شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض، وہی بیمار رات دو بجے اٹھے گااور صبح پانچ بجے تک ذکر کرتارہے گا۔ جب کہ عقل معاد وہ دنیا کو بھی دین بنالیتی ہے، یہ اہل اللہ کو اللہ خصوصی طور سے عطا فرماتے ہیں۔ ایک دفعہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے سنا کہ ہم تو استنجا کرنے کے لیے جاتے ہیں تو وہاں بھی معرفت کے دروازے ہم پر کھلتے ہیں، باتھ روم میں جاکر کے ہم یہ نیت کرتے ہیں کہ سنّت کے مطابق بیت الخلاء جانا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  کا طریقہ ہے، اللہ جل شانہٗ کا حکم ہے، جو اس نیت سے باتھ روم میں جائے گا تو یقیناً عبادت ہے اور فرمایا کہ اسی لیے صوفیا نے کہا ہے کہ بیت الخلاء دوکانِ معرفت ہے، انسان پراپنی حقیقت وہاں کھل جاتی ہے اگر توجہ ہو، حقیقت جب کھل جاتی ہے۔ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہ عَرَفَ رَبَّہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے کیمیائے سعادت میں اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ جو اپنی ذات کو سمجھ لے وہ اللہ کو سمجھ جائے گا۔ جب اس کو یہ بات سمجھ آگئی کہ میں غلامِ محض ہوں، اللہ آقائے مطلق ہیں  تو مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ سارا چکر اسی میں ہے کہ ہم اپناآقا، کچھ کچھ نفس کو، کچھ کچھ شیطان کو بنائے پھرتے ہیں، اسی لیے دل درست نہیں ہوتا۔ جب کہ عقل معاد وہ دنیا کو بھی دین کی شکل میں بنالیتی ہے،جیسے ہمارے پاس کوئی مہمان آتا ہے توعام طور سے ہم اپنی عزت اسے سمجھتے ہیں کہ ایسی مہمان داری کی جائے کہ کل جب یہ جائے گا،توکہے گاکہ یہ بڑا مہمان نواز ہے، دیکھو دین کے کام کو دنیا بنالیا ہے۔ اللہ والوں کے پاس جب مہمان پہنچے گا، تو مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ تو دنیا کا کام دین کا کام بن گیا۔

نمبر۲: اللہ ان لوگوں کو قلب سلیم نصیب فرماتے ہیں۔ عام لوگوں کا قلب سقیم ہوتا ہے، دل کے اندر وساوس و شکوک و شبہات اور شہوات نیز ہزاروں چیزیں گھسی ہوئی ہوتی ہیں، اللہ والوں کا دل جیسے ایک ہے اس کا تعلق صرف ایک اللہ سے ہوتا ہے اِلَّا مَنۡ  اَتَی اللہَ  بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ اللہ فرماتے ہیں: ہم اس دل کو قبول کرتے ہیں جو سلیم ہمارے پاس آجائے، قلب سلیم اللہ عنایت فرماتے ہیں اہل اللہ کو۔

نمبر۳: نفسِ مطمئنہ ہے۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا وعظ اس پر چھپا ہوا ہے۔ ایک تو ہمارا نفس امارہ ہے، ہر چیز میں خدائے تعالیٰ کے حکم سے مقابلہ کرتا ہے، اللہ والوں کا نفس مطمئن ہوتا ہے، اللہ کا حکم حرفِ آخر ہے اس میں ذرا ایک لمحہ کے لیے بھی سوچنے کی گنجایش نہیں ہے،نفسِ مطمئنہ اللہ ان کو عطا کرتے ہیں۔

نمبر۴: چوتھی چیز ہے روحِ ربانی۔ ہمارے اندر روحِ حیوانی ہے، کھانا، سونا، جنسی خواہش پوری کرنا اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی، عبادات، مجاہدات، ریاضت، گناہوں کا چھوڑنا، جیسے قربانی کے لیے بیل کو کھینچواور اُدھر سامنے چھری رکھی آجائے تو وہ پیچھے ریورس میں جائے گا، اسی طرح ہمارے نفس کا حال ہے،یہ روحِ حیوانی ہے روحِ ربانی نہیں۔ عقل سلیم یہ اللہ کی صفاتِ لطف کی عطا ہے، اللہ کی دو صفتیں ہیں، ایک رحمت اور دوسری لطف، دونوں میں فرق ہے۔ رحمت اتنی عام ہے کہ قرآن میں کوئی قید نہیں ہے کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ، کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ، رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ  شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً  وَّ عِلۡمًا، وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ، ہر چیز، ہر ہر ذرہ پر ہر ہر لمحہ خدائے تعالیٰ کی رحمت کا پر تو ہے، اگر ایک لمحہ کے لیے نور ہٹ جائے تووہ بھسم ہوجائے اورختم ہوجائے، خواہ جنت، دوزخ، یہ کائنات یا ازل میں جو چیزیں گزری ہیں ایک لمحہ کے لیے اللہ کی رحمت سے فارغ نہیں ہیں۔ ایک لمحہ کے لیے فارغ نہیں اللہ کی رحمت سے، مگر لطف میں اللہ نے مَنۡ  یَّشَآءُ کی قید لگائی ہے، لطف کا پر تو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا، اَللہُ  لَطِیۡفٌۢ  بِعِبَادِہٖ  یَرۡزُقُ مَنۡ  یَّشَآءُ آپ پورے قرآن کو ڈھونڈو، جدھر لطف کا ذکر ہے ادھر مشیت کی قید ہے، اللہ چاہے گا کسی کو اپنا لطف دے دے گا، نہیں چاہے گا تو کسی کے بس میں نہیں کہ وہ لے لے۔عقل سلیم جس کو اللہ دیتے ہیں لطف کی صفت سے نوازتے ہیں، ہر وقت خدائے تعالیٰ کی عادات میں، نشانیوں میں، مصنوعاتِ قدرت میں سوچ سوچ کر اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ والے ہر چیز میں اللہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،ایک شخص سنگترے بیچ رہا تھا فی کلو اتنے کا، اللہ والے نے کہا: میاں! یہ کیا کہہ رہا ہے بھائی؟ کہا :حضرت! سنگترے بیچ ر ہا ہے۔ فرمایا نہیں،یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ والوں کے سنگ میں لگو تو تر ہوجاؤ گے۔ دیکھو کہاں سے کہاں دماغ چل رہا ہے! عقل جب سلیم ہوتی ہے تو ہمیشہ آیات اور نشانیوں میں خدائے تعالیٰ کے لطف کا پر تو سوچتی ہے۔ دوسری جو صفت ہے، میں نے عرض کیا قلبِ سلیم جو اللہ والوں کو اللہ دیتے ہیں صفت کلام کا پر تو ان پر کھل جاتا ہے۔ قرآن ہم بھی پڑھتے ہیں اور اللہ والے بھی پڑھتے ہیں، حضرت حکیم الامّت رحمۃ اللہ علیہ  نے تحریر فرمایا کہ میں جب قرآن کھولتا ہوں توایک صفحہ پر مجھے ایسی چمک نظر آتی ہے کہ جیسے کوئی سورج رکھا ہواور د وسرے صفحہ پر بادل نظر آتے ہیں۔ بہت سوچتا رہا کہ یہ کوئی وہم تو نہیں ہے، بار بار دیکھتا رہا، اللہ نے دل میں ڈالا کہ کوئی وہم نہیں، یہ میرا جلال اور وہ میرا جمال ہے۔ اِدھر جلال نظر آرہا ہے، اُدھر جمال نظر آرہا ہے۔

حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔یہ قرآن پڑھ رہے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ  کتنا بڑا اوراونچا نام لے رہا ہوں، ان کے قریب سے گزرے اور فرمایا ان کے پیچھے اقتدا کرتا ہوں نفل کی، دیکھا کہ قرآن کے مخارج صحیح نہیں تو نیت توڑ دی اور واپس چلے گئے، پھر سوگئے، اللہ کا دیدار نصیب ہوا، عرض کیا:آپ کے نزدیک سب سے اچھا عمل کون سا ہے؟ ارشاد ہوا: حبیب عجمی کے پیچھے نماز پڑھنا سب سے افضل عمل ہے۔

صفتِ کلام اللہ کے اندر جو ایک طاقت ہوتی ہے وہ ہر آدمی پر نہیں کھلتی، صرف اللہ والوں پر کھلتی ہے، ہم تو مخارج میں پھنسے ہوتے ہیں، حدیث میں ہے: لَایُجَاوِزُ الْقُرْاٰنُ عَنْ تَرَاقِیْہِمْ جدھر سے جانور کو ذبح کرتے ہیں اس کو ترقوق کہتے ہیں عربی میں، قرآن اس سے نیچے نہیں جاتا منہ میں، مخارج تو ادھر منہ میں اقصٰی حلق، وسطیٰ حلق، کنارہ لسان ہے، فلاں ہے، فلاں ہے، فرمایا: ایسے قرّاء آئیں گے کہ قرآن ان کے اس حلقوم سے نیچے نہیں جائے گا اَلْسِنَتُہُمْ اَحْلِیٰ مِنَ السَّکرِ ان کی زبانیں چینی سے زیادہ میٹھی ہوں گی، وَقُلُوْبُہُمْ قُلُوْبُ الذِّئْبِ ان کے دل بھیڑیوں کے ہوں گے۔ کلام اللہ کی جو حقیقت کھلتی ہے عقلِ سلیم کی وجہ سے جیسے حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ پر کھل گئی کہ وہ اللہ کو اچھا لگتا ہے، اگرچہ الفاظ ناخاضع ہومگر دل میں خشوع ہے اللہ کو قبول ہے۔

قال سے کچھ نہیں ہوتا،قال والے ہمیشہ ٹھوکر کھاتے ہیں، حال والے جن کو دیوانہ کہتے ہیں وہ سیدھے راستے تک چل کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔ قلبِ سلیم پر کلام اللہ کی صفت کا پر تو پڑتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ قرآن اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم)!  آپ کے دل پر جبریل لاتا ہے، محلِ قرآن دل ہے، دل پر اترتا ہے قرآن اگر دل صحیح ہو ۔دیکھو سورج تو سب پر طلوع ہوتا ہے، اگر شیشہ پر طلوع ہوگا اس پر چمک ہوگی، کوّے پر طلوع ہوا تو سیاہی اور چمکے گی اس کی، دلوں کا فرق ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بھی اسی طرح ہیں جیسے اہل اللہ ہیں، خاص طور پر جو تھوڑے بہت میری طرح چار کتابیں پڑھ چکے ہوتے ہیں، پڑھا چکے ہوتے ہیں، ہم نے بخاری پڑھی پڑھائی ہے، ہم قرآنِ کریم کی تفسیر جانتے ہیں ہم بھی مولوی ہیں، وہ بھی مولوی ہیں، ہمارا اس کا فرق کیا ہوا؟ زمین آسمان کا فرق ہے؎

کارِ پا کان را  قیاس از خود  مگیر

یک نماید در نوشتن شیر و شیر

شیر کیا ہے اور شِیر کیا ہے؟ زمین آسمان کا فرق ہے، کلام اللہ کھل جاتا ہے اس قلب سلیم پر، نفس مطمئنہ پر صفاتِ قہر کا ظہور ہوتا ہے، خدائے تعالیٰ کی جو قہر کی صفت ہے کہ اللہ قاہر ہے، منتقم ہے فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ  فرعون اور اہلِ فرعون سے ہم نے بدلہ لے لیا فَلَمَّاۤ  اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ جب انہوں نے ہمیں غصّہ دلایاتو ہم نے بدلہ لے لیا اورسب کو غرق کردیا۔یہ نفس پر کھل جاتی ہے صفتِ قہر۔

چوتھی چیز روحِ ربانی ہے، اس پر تجلئ ذات پڑتی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اہل اللہ بعضے وقت ماؤف کیفیت میں ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا آپ سب گواہ ہیں کہ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں صحت بالکل ٹھیک ہے، حضرت کی طبیعت ہر دن سے زیادہ بہتر ہے، حضرت ایک ایسی دنیا میں ہیں کہ سلام کرو جواب دے رہے ہیں، لیکن لگ رہا ہے کہ ادھر نہیں ہیں۔

حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ میں دیوبند میں بیٹھ کرجلالین کا تکرار کرا رہا تھا ، ایک جگہ میں پھنس گیا، میں نے کہا تھوڑی دیر ٹھہرو، حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ فجر کی نماز پڑھ کر فوراً اپنے حجرہ میں تشریف لے جاتے تھے، وہاں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا زور سے ذکر کرتے تھے اورباہر بھی آواز آتی تھی، اشراق تک ذکر فرماتے تھے، جیسےیہاں خانقاہ میں معمول ہے، اشراق پڑھ کر باہر نکلتے تھے، میں نے ساتھیوں سے کہا دس منٹ رہتے ہیں، حضرت سے پوچھیں گے۔کہتے ہیں کہ جب اشراق پڑھ کر باہر تشریف لائے، میں کتاب لے گیا، میں نے کہا: حضرت!یہ جگہ سمجھ نہیں آرہی۔ حضرت نے فرمایا: پڑھو عبارت، پھر حضرت نے تقریر کی تقریر کی تقریر کی،یہ حضرت حکیم الامّت رحمۃ اللہ علیہ  لکھ رہے ہیں، مجھ جیسا کوئی ملّا ہوتا تو کہتا کہ پاگل ہے۔ واللہ! الفاظ بھی سمجھ میں نہ آئے، زمینی الفاظ نہیں تھے حضرت کے، اس میں جو اردو کے حروف ہجا ہوتے ہیں ا، ب، پ، ت،یہ کوئی نہیں تھا اس میں۔ جب فارغ ہوگئے تو فرمایا سمجھ گئے؟ میں نے کہا نہیں سمجھا۔ کہتے ہیں: ذرا سر کو ایسے ہلایا جیسے ایک آدمی اوپر سے نیچے آرہا ہو، کہا :پھر سنو، پھر حضرت نے اس جگہ کی تقریر کی الفاظ تو اردو کے تھے مگر بے معنیٰ الفاظ تھے، ترجمہ کوئی سمجھ نہیں آیا، جیسے چھوٹے بچے بولتے ہیں، حروف تو یہی ہوتے ہیں معنیٰ کوئی نہیں ہوتا۔ حضرت نے پھر مجھے دیکھااور دریافت کیا: سمجھ گیا بھائی؟ میں نے کہا: اب بھی نہیں سمجھا۔حضرت کی آنکھوں میں آنسو آگئےاورفرمانے لگے:مولوی صاحب! مجھے معاف کردو، میں اب تک نیچے نہیں آیا ہوں، مجھے معاف کردو۔ اب دیکھو!یہ تجلی ذات ہے، خدائے تعالیٰ کی ذات کی تجلی جب پڑتی ہے ان کی روح پر، وہ روح ایسے تڑپ جاتی ہے، اسی لیے موت کی تمنائیں کرتے ہیں اللہ والے۔ میں نے آج عرض کیا: جو حج کے لیے جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہاں کی موت کا کوئی بدل نہیں ہے، جب اُدھر پہنچتے ہیں اور دس بیس دن گزر جاتے ہیں،تو کہتے ہیں کہ اللہ جلدی گھر لے جا۔باتیں کرنا آسان ہے حاجی صاحب، اترنا آسان نہیں ہے۔ حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں؎

نذر کردہ ام  گر بساید  ایں غم روزے

در میکدہ شادان و غزل خان مے روم

میں نے نذر مانی ہے کہ اہل اللہ کے جو سال مناتے ہیں لوگوں نے اس کا نام عرس رکھا ہے عرس تو شادی کو کہتے ہیں موت تو ان کے لیے شادی ہے۔

وقت تو آ نامد کہ من عریان شوم

جسم   بگزارم  سراسر  جان شوم

مرتے وقت ناچ رہا ہے یار وہ وقت آگیا، ابھی ہم ننگا ہوجائیں گے، ابھی خالص جان ہوجائے گا، بدن ادھر رہ جائے گا، مذاق نہیں ہے حقیقت ہے، صرف واقعات نہیں ہیں۔ لطائف نہیں ہیں ،پرانے قصے نہیں ہیں، حقائق ہیں، تجلی ذات ان پر پڑتی ہے، اہل اللہ کے پاس نور ہوتا ہے جس کو نُورِ نسبت کہتے ہیں،یہ نور سینہ بسینہ منتقل ہوتا ہے، اب دیکھو اہل اللہ کے دل میں جو ہے وہ الفاظ سے ہمیں سمجھاتے ہیں، وہ دل کے اندر کی چیز تو نہیں نکال سکیں گے، وہ کیفیات وہ وجدانیات ہیں وہ تو پاس بیٹھے رہیں گے، ان جیسا کرنا شروع کریں گے، ان کی دعائیں لیں گے، ان کے لیے دعائیں کریں گے  کُوۡنُوۡا مَعَ  الصّٰدِقِیۡنَ گھر کا فرد بنیں گے، آہستہ آہستہ وہ تری اندر آجائے گی۔

تو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دو ہی طریقے ہیں دلوں کو صاف کرنے کے، اللہ والوں کے دل میں جو نورِ نسبت ہے اس کی شعاعیں مارو اپنے دلوں پر خشکی ختم ہوجائے گی، نجاست ختم ہوجائے گی، پھر اللہ والوں کے قدموں میں رہ کر ان کی مرضی سے اللہ کا نام لو، اپنی مرضی سے لوگے تو پاگل ہوجاؤ گے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مرید تھا،وہ اپنی مرضی سے ذکر کرتا تھا کہ حضرت تو ہم کو تھوڑا بتاتا ہے، ہم بہت جلدی ولی بن جائے گا، اس کا دماغ ماؤف ہونا شروع ہوگیا حضرت کے پاس گیا کہ یہ ہورہا ہے، وہ ہورہا ہے۔ فرمایا: بھائی ذکر کم کرو، جو میں نے بتلایا وہی کرو، ورنہ نقصان ہوگا، وہ پھر بھی نہ سمجھا، مولوی صاحب تھا، اپنا دماغ چلایا، ادھر مولویت نہیں چلتی ہے، ڈاکٹری الگ چیز ہے، انجینئرنگ الگ چیز ہے، وکالت الگ چیز ہے، ادھر مولویت کام نہیں دیتی، صرف مولویت سے کام نہیں ہوتا، حضرت کی بات نہیں مانی۔ حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے کہ وہ مولوی صاحب پاگل ہوگیا۔ اللہ والوں کے قدموں میں رہ کر ان کی مرضی سے ذکر اللہ کی مشق کراؤ، وہ مشق کرائیں گے، اسی کے مطابق مشق کرو، تری پیدا ہوگی دل کے اندر، ورنہ خشکی ہوگی۔ کمال ہے! دیکھو بھائی اپنی مرضی سے کریں گے تو خشکی ہوگی، ان کی مرضی سے کریں گے تری ہوگی، اس کی مثال یہ ہے کہ ایک مصنوعی بارش ہوتی ہے، جیسے پاکستان میں بھی اس کی ہو اچل رہی تھی۔مشہور ہے اسرائیلی روایات میں کہ فرعون کے لیے شیطان مصنوعی بارش (پیشاب) کرتا تھا اور ایک اللہ کی کی ہوئی بارش ہے، زمین آسمان کا فرق ہے یا نہیں؟ یہ دو ہی طریقے ہیں ایک نکتہ یہاں سمجھنے کا ہے، دیکھو زمین کو اگر سورج لگے تو پاک ہوجاتی ہے مگر اس سے تیمم نہیں ہوگا، یہ علماء کو پتا ہے، آپ بغیرمصلیٰ  کے اس پرنماز پڑھ سکتے ہیں،مگر اگر پانی نہیں ہے اس سے تیمم کرنا چاہو تو نہیں ہوسکتا،یعنی وہ طاہر غیر مطہر ہے، خود تو پاک ہے لیکن دوسرے کو پاک نہیں کرسکتا، جیسے ماء مستعمل ہے، اگر وضو یا غسل کا پانی جو کسی برتن میں لے لو توپاک ہے، کپڑے میں لگے پلید نہیں، لیکن اس سے وضو اور غسل کرو تو وہ پاک نہیں کرسکتا، لیکن اگر بارش کا پانی اس پر برسے اور اتنا برسے کہ نجاست کا کوئی اثر اس پر نہ ہو تو اس سے تیمم کرنا بھی جائز ہے۔ فرق کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ فرق یہ ہے کہ اللہ والوں کے پاس جانے والے لوگ دو قسم کے ہیں: ایک صرف صحبت یافتہ ہیں، دوسرے فیض یافتہ ہیں۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک تو ویسے کراچی چکر لگ گیا،کہا کہ یار حضرت سے سلام کرتے ہیں اور حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضرت! دعا کرنا، روزی آج کل کم ہے، ذرا بڑھ جاوے اور بیوی بھی ساتھ نہیں دے رہی ہے، اس کو غلام بنانے کے لیے کوئی خاص دعا وظیفہ بتاؤ، وقت ہمارے پاس نہیں ہے کہ اگر کوئی ایسا وظیفہ ہے کہ فٹ سے ولی اللہ بن جائیں تو وہ وظیفہ بھی بتاؤ۔ ٹھیک ہے اس سے بھی فائدہ ہوگا، صحبت سے بھی ہوگا۔ دیکھو آج کل ڈاکٹر کہتے ہیں جب بچے بیمار ہوتے ہیں تو ان کو سورج کی تپش میں دس منٹ رکھو، مگر جو دیہاتوں میں رہتے ہیں وہ سارا دن رکھتے ہیں تو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، دوسرے لوگ فیض یافتہ ہیں۔فیض­یافتہ کسے کہتے ہیں؟ کَالْمَیّتِ فِیْ یَدِ الْغَسَّالِ میت کو دائیں بائیں کرو، اوپر کرو نیچے کرو، کچھ بھی نہیں کہتا یا نابینا بدست بینا جو حافظ صاحب ہے اسے بچے ہاتھ پکڑ کر لے جارہے ہیں، اگر وہ نخرے کرے کہ نہیں ہم خود جاتا ہے تو گرو گڑھے میں، بڑا آگیا چلنے والا۔

اسی طرح ایک بار حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ میں کچھ مولویت پیدا ہورہی ہے۔فرمایا: ’’ابو یوسف دس دن کے لیے میں کسی سفر پر جارہا ہوں ۔آپ میری مسند پر بیٹھو، جو مسئلہ پوچھنے آئے جواب دینا‘‘۔ انہوں نے کہا: ’’ہمارے لیے کیا مشکل ہے جواب دینا۔‘‘ ایک دن ایک آدمی آیا، دوسرے دن دوسرا آدمی آیا،امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ٹائم نہیں ہے کسی اور موقع پر پورا مسئلہ بتاؤں گا۔ ایک دن ایک دھوبی نے مسئلہ پوچھا ابو یوسف پھنس گیا، اب وہ دھوبی جان ہی نہ چھوڑے، ابو یوسف کو مسئلہ سمجھ نہ آیا تو کہنے لگے کہ اگر امام صاحب یہاں ہوتےتو یہ رسوائی نہ ہوتی، ان کو یقین ہوگیا کہ ابو یوسف! بیٹری کو ٹچ نہیں کرو گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ  نے تو امتحاناً  کیا تھا،اللہ والے آدمی تھے ان کو معلوم تھا کہ کیسے اصلاح ہوگی۔ جب دس دن بعد واپس آگئے تو ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے دو زانو ہوکر رونا شروع کیا، حضرت آپ کہیں تشریف نہ لے جائیں اگر جائیں تو ہمیں بھی ساتھ لے جائیں، ہم تو بالکل جاہل ہیں۔ اب وہی حقیقت کھل گئی، کہا کیا ہوا بھائی؟ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا: حضرت! ایک دھوبی آیا اس نے یہ پوچھا اور چھوڑا ہی نہیں کہ ابھی مسئلہ بتاؤ، جائز ناجائز کا مسئلہ ہے، اِدھر دوزخ کا مسئلہ ہے اوراُدھر وہ دھوبی نہیں چھوڑتا۔ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، دو لفظوں میں جواب دے دیا۔ ابو یوسف اور شرمندہ ہوگئے۔

تو حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ بڑے حضرت رحمۃ اللہ علیہ  سے بار بار سنا ہوگا کہ جو مستقل بالذات بننا چاہتا ہے وہ مستقل بد ذات ہوجاتا ہے۔یہ اللہ والے کسی کو خلافت دے دیتے ہیں،یہ گارنٹی نہیں ہوتی کہ تم جنید بغدادی بن گئے، نہیں، بلکہ یہ ذرا شرم دلانے کے لیے ایک طریقہ ہوتا ہے۔ جیسے بچہ الٹا ’’ج‘‘ لکھتا ہے، پہلی پہلی بار جب استاذ کے پاس لاتا ہے تو استاذ کہتا ہے ماشاء اللہ!یہ نہیں کہتا کہ الٹا لکھا ہے۔یہ خمول سب کو ذہن سے نکالنا چاہیے کہ کوئی منصب اللہ والوں کی طرف سے مل جائے تو یہ بلااستحقاق ہے، یہ ان کی شفقت ہے، مہربانی ہے، یہ رحمت ہے، ہم اس کے اہل نہیں ہیں، وہ ہم پر اس لیے اعتماد کر کے ہمیں یہ کام دے رہے ہیں تاکہ ہمت و حوصلہ بڑھ جائے۔ جس مٹی پرسورج لگاہے تو وہ پاک ہوجاتی ہے، اسی طرح جو صحبت میں آناجا نا رکھے پاک تو وہ بھی ہوجائے گا، لیکن جس طرح وہ زمین جو بارش کا پانی اپنے اوپر برسائے وہ دوسروں کو بھی فائدہ دے گی، جو اس سے تیمم کرے گا وہ مٹی پاک اسے کرے گی ، تو ایسے لوگوں کا فیض پھیلے گا۔ایمان سے بتاؤ!آج دنیا میں حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ زیادہ زندہ ہیں یا ہم لوگ زندہ ہیں؟ ان کے دشمنوں سے پوچھو! صدی گزرگئی۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ  کے دور میں کیامولوی کم تھے؟ لیکن حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  کی پالش لگی ہے نا، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ، کیا اس زمانے میں اور علما نہیں تھے ؟ قسم خدا کی! جو خیر آبادی منطقی تھے کوئی نر کا مولوی ان کے سامنے بول نہیں سکتا تھا۔حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  نے خود لکھا ہےکہ جامع العلوم میں حضرت شیخ الہندرحمۃ اللہ علیہ  کو بلوایا کہ خیرآبادی کہتا ہے کہ دیوبندی جاہل ہے، ان کو منطق نہیں آتی، ہر وقت صوفیوں کی باتیں کرتے ہیں۔ ادھر خیرآبادی بہت زیادہ رہتے تھے، شیخ الہندرحمۃ اللہ علیہ  تو بحر العلوم ہیں، ان کو لائیں گے تو ان کو دن میں تارے دکھائیں گے سالانہ جلسے میں حضرت تشریف لائے،حضرت رحمۃ اللہ علیہ  نے تقریر شروع کی، بیچ تقریر میں اہلِ خیر آباد آنا شروع ہوگئے۔ میں نے دیکھ لیا میں نے دل میں کہا کہ حضرت نے بھی دیکھ لیااب کیا کریں گے، لیکن چار لفظ کے بعد حضرت نے کہا:وَاٰخِرُ دَعْوَانَااَنِ الْحَمْدُ لِلہِ

حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں اتنا شرمندہ ہوا کہ تقریر کا وقت تو ابھی شروع ہوا تھا۔ جب لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا: حضرت! جو اصل وقت تقریر کا تھا اس پر آپ نے تقریر ختم کردی۔ فرمایا:جی مولوی صاحب! مجھے معلوم تھا کہ اصل وقت اب تقریر کا ہےاسی لیے بس کردیا، یعنی پہلے اللہ کے لیے بول رہا تھا، اب اپنا علم دکھانے کا مقصود ہوتاکہ ہم اتنا بڑا مولوی ہے، تم منطقی کیاچیزہے؟یہ حاجی صاحب کی پالش ہے، آپ تاریخ پڑھیے،آپ کو پتا چلے گا، اس زمانے میں کتنے بڑے بڑے مولوی تھے، اس لیے اس کو بڑی سعادت سمجھنا چاہیے کہ اللہ والوں سے فیض لے لیں، اللہ پاک چار دانگِ عالم میں اس کا فیض پھیلائیں گے۔

تم لوگ تو بہت خوش قسمت ہو، ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بڑے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اس خانقاہ کو ویسا ہی رکھے گا۔ واللہ! اِدھر آکر آنکھیں کھل جاتی ہیں، آپ حضرات تو ہمیشہ آتے جاتے ہو اس لیے آپ کو محسوس نہیں ہوتا، آپ دیکھتے ہیں کہ مریض کو اس کے گھر والے ایک ہی شکل میں دیکھتے ہیں اس لیے وہ محسوس نہیں کرتے، باہر کا آدمی جو آتا ہے نا اس کو اندازہ ہوتا ہے کہ مریض کی شکل میں کتنی تبدیلی آگئی۔

واللہ! یہاں اللہ کے فضل سے وہی انوارات ہیں اور وہی برکات ہیں، ایسے سمجھو کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہروحانی طور سے موجود ہیں، اس پر اللہ کا شکر کریں، اگر ہم ناشکری کریں گے تو دیکھو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جو لوگ ناشکری کرتے ہیں کسی اہلِ دل کی اور تو اللہ تعالیٰ ادھر سے چشمہ کو سیل کرتا ہے کہیں اور اس کو کھول دیتا ہے اہل لوگوں کے پاس۔ یہ جو انبیاء اور اولیاء کو ہجرت کروائی گئی اور اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے وطن کیوں گئے؟ انہوں نے ناقدری کی­تواللہ نے سیل کردیا، جیسے حکومت والے ٹیسٹ بورنگ لگاکر پھر اس کو بند کردیتے ہیں وقت کا انتظار کرتے ہیں، پانی اللہ نیچے کا پلائے گا، اس کا فیصلہ ہے ہر حال میں پلائے گا، اگر اِدھر پینے والوں میں پیا س نہیں ہے تو کہیں اور پیاسے لوگوں تک اللہ پہنچائے گا۔ آپ یہ سوچ سکتے تھے کہ اتنی چھوٹی جگہ گلشن اقبال میں جب آبادی اور ترقی بھی نہیں تھی ظاہری طور پر، اس وقت کوئی سوچ سکتا تھا کہ مشرق، مغرب، شمال، جنوب خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی شاخیں قائم ہوں گی، تبلیغی جماعت کے احباب بتلاتے ہیں جو پوری دنیا میں جاتے ہیں کہ ایک ایسا ملک نہیں ہے کہ جدھر خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی شاخ موجود نہ ہو، تو جتنی قدر ابھی اس وقت ہم کر رہے ہیں اس کو ڈبل قدر میں لے آئیں تاکہ اللہ کی رحمت اور ہو۔ دیکھو! اللہ نے ان چیزوں کو مخفی رکھا ہے، صرف قرآن و سنت میں بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی شکل بھی تو دوسرے انسانوں کی طرح تھی اسی لیے تو کفار کہتے تھےمَالِہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمۡشِیۡ فِی الۡاَسۡوَاقِ کھانا ہماری طرح کھاتا ہے اور بازار میں پھرتا ہے، ہمارا اس کا کیا فرق ہے؎

گر بصورت آدمی انساں بودی

احمد و بوجہل و ہم یکساں بودی

یہ جو نوری نسبت اوپر سے چل رہی ہے اس پر میں اپنا واقعہ آپ کو بتاؤں۔ میں نے ایک مرتبہ حضرت سے عرض کیا کہ آپ کچھ فرمارہے تھے، میں سامنے بیٹھا تھا۔آخر عمر میں حضرت درمیان میں خاموش بھی ہوجاتے تھے دو دو منٹ تین تین منٹ، ایسے مجھے تھوڑی سی غنودگی طاری ہوگئی، میں نے دیکھا کہ حضرت ہیں ان کے پیچھے حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی ہیں­اور ان کے پیچھے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  ہیں وہ آخر تک.....بالکل بیٹھے بیٹھے اس مجلس میں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں اور ایسی چمک وہاں سے پڑ رہی ہے کہ جس کا تصور نہیں، اتنے میں میں جاگ گیا۔ تو یہ صوفیوں کو وہم بھی بہت ہوتا ہے نا، میں نے حضرت سے عرض کیا: حضرت نیند نہیں تھی، ہلکی سی غنودگی تھی اوراس میں یہ منظر دیکھا۔ فرمایا: حقیقت دیکھی تم نےاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللہُ یُعْطِیْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: میں تو تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا اللہ ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ میں روضۂ اطہر کے سامنے بیٹھا عصر کے بعد مراقب ہوکر،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سینہ اقدس پر میں نے توجہ کی، میں نے دیکھا کہ سینہ مبارک سے یوں شعاعیں نکل رہی ہیں جیسے سورج کی شعاعیں ہوتی ہیں اورجو اہل دل یہاں سے گزر رہے تھے یہ شعاعیں انہیں ٹچ ہورہی تھیں۔ یہ بہت بڑی چیز ہے نسبت اہل اللہ کی۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ  نے ایک دفعہ یہاں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں فرمایا تھا کہ میری ایک مریدنی تھی، جومجھ سے صرف مرید ہوگئی تھی، میرے کچھ مواعظ وغیرہ بھی پڑھتی تھی۔ عجیب سا قصہ ہے۔ درمیان میں مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھا، نہ خط لکھا، نہ بیانات میں آنا جانا رکھا، اس کی موت کا وقت آگیا، تو وہ بار بار یہ کہہ رہی تھی: قاری صاحب! اللہ آپ کو جزائے خیر دے، یہ ظالم تو میرا ایمان لے گیا تھا، قاری صاحب اللہ آپ کو جزائے خیردے، میں مر کر بھی تیرا احسان نہیں بھو لوں گی اور کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ قاری صاحب کہتے ہیں جب مجھے یہ واقعہ سنایا گیا تو میں نے کہا کہ یہ نورِ نسبت ہے جو موت کے وقت کام دے رہا ہے، اللہ فرشتے کو قاری صاحب کی شکل میں لایا، جس نے شیطان سے جھگڑنا شروع کیا، چوں کہ شیطان آخری وقت میں آتا ہے ایمان لے جانے کے لیے، اہل اللہ کی نسبت بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ، توابیہ تصوف کا پہلا سبق ہے، گناہوں سے توبہ کرنا، اللہ تعالیٰ محبت کرتے ہیں توبہ کرنے والوں سے،مفسرین نے لکھا ہے یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ بِاَفْعَالِہِمْ اپنے ظاہری باطنی بُرےافعال سے توبہ کرتے ہیں،مُتَطَہِّرِیْنَ بِاَحْوَالِہِمْ اپنے جو احوال ہیں اندر سے پاک کرتے ہیں تکبر، عجب، ریا، حسد، ناشکری، حب دنیاسے۔ اتنی غلاظتیں ہیں لیکن روحانی ان سے پاک رہتے ہیں۔ اللہ نے عامل کو تکرار کیا، علماء یہاں بیٹھے ہیں مجلس میں اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ ایک دفعہ یُحِبُّ کافی تھا وَ یُحِبُّ دوبارہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی،واؤ عاطفہ ہے، الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ سے کام بن جاتا فرمایا اللہ تنبیہ کرنا چاہتا ہے کہ دل کی پاکی بہت اہم چیز ہے، الگ سے ہم اس کو پیش کرتے ہیں معمولی چیز نہ سمجھنا اس کو، تو ہمیں بھی روحانی پاکی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ قدر کرنے کی کوشش کریں گے؟ اللہ مجھے بھی قدر کرنے کی توفیق دے آپ کو بھی اورپوری امت مسلمہ کوبھی۔

وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

سنن عادیہ اور سنن تعبدیہ میں کیا فرق ہے؟

بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللہُ غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ

ترجمہ۔آپ فرمادیجئے کہ اگر تم واقعی اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو، پھر اللہ تم سے محبت فرمائیگا اورتمہارے گناہوں کو بخش دیگا اور اللہ تو بہت ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔

وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ  فَخُذُوۡہُ وَ مَا نَہٰىکُمۡ  عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ

ترجمہ۔ اور اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  (قولاً یا عملاً) تمہیں جو عنایت فرمائیں اسکو فورا لے لو (یعنی اپنا لو) اور جس بات سے روکیں اس سے فوراً  رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو  بیشک وہ شدید پکڑ فرمانے والا ہے۔

سنن عادیہ نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ان عادات شریفہ کو کہا جاتا ہے جنکی آپ نے ترغیب نہیں دی اور نہ ہی کوئی فضیلت بتائی، جیسے کندھوں تک بال رکھنا اور مخصوص قسم کی چپلیں استعمال کرنا۔

اور سنن تعبدیہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ان عادات مبارکہ اور شمائل شریفہ کو کہا جاتا ہے جنکی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ترغیب دی یا فضیلت بتائی، جیسے مسواک کرنا، عطر لگانا، لباس پہننے میں دائیں طرف اور اتارنے میں بائیں طرف کو مقدم کرنا،سفید لباس پہننا، یہ وہ چیزیں ہیں کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی ترغیب دی ہے یا فضیلت بتائی ہے۔

اور یاد رکھیں کہ سنن عادیہ موافقت اور متابعت کی نیت سے باعث اجر وثواب بن جاتی ہیں،یعنی کوئی شخص اگر موافقت کی نیت سے اسی طرح کی خاص چپل تیار کروائے یا کان کی لو تک یا کندھوں تک بال رکھے تویہ بھی اتباع نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے زمرہ میں آتا ہے۔

آج کل ایک نئی  وبا یہ چلی ہےکہ نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جن طریقوں  کا کوئی متبادل اس زمانہ میں وجود میں آگیا ہے، اس کو طریقہ مسنونہ پر ترجیح دی جارہی ہے یہ کہہ کر کہ اس سے بھی وہ مقصد حاصل ہے، جسکی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

بہت سے لوگ یہ کہنے لگےہیں (اور افسوس کہ ان لوگوں میں علم وفقہ سے نسبت رکھنے والے بھی شامل ہیں) کہ مسواک کی ضرورت دانتوں کی اور زبان کی نظافت کیلئے تھی اور جب یہ مقصد ٹوتھ پیسٹ اور برش کے استعمال کرنے سے پورا ہورہا ہے تو مسواک کی سنت اسی سے ادا ہوجائیگی۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیشہ داہنے ہاتھوں سے کھانا تناول فرمایا، اور کانٹے یا چمچے استعمال کرنے کا ثبوت نہیں ملتا، تو اب بہت سے لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ کانٹا اور چمچہ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود نہ تھا،اس لیے آپ نے استعمال نہیں فرمایا، لہذا اب اسی سے کھانا چاہیے اور (العیاذ باللہ) اس میں صفائی اور صحت کا زیادہ اہتمام ہوتا ہے۔

ستم بالائے ستم یہ کہ بعض لوگوں نے سنن عادیہ میں شمار کرکے ڈاڑھی منڈانے کو وقت کا تقاضہ اور تہذیب کا حصہ قرار دیدیا،جبکہ ڈاڑھی رکھنے کی تاکید متعدد احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہے، اور ڈاڑھی منڈے کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناگواری اور غصہ کا اظہار فرمایا، تو پھر ڈاڑھی کو سنت غیر مقصودہ قرار دینا کہاں جائز ہوسکتا ہے؟ چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللہُ عَنْہُمَا  قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْہَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللُّحٰى

رواه البخاری، كتاب اللباس، باب إعفاء اللحى (5893)

ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما  کا ارشاد ہے کہ حضور پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ مونچھیں خوب اچھی طرح سے تراشو، اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللُّحٰى خَالِفُوا الْمَجُوسَ

رواہ مسلم, كتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ (626)

ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ مونچھیں کٹاؤ اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مجوس کی مخالفت کرو (یعنی ان سے مشابہت نہ اختیار کرو)۔

وعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللُّحٰى

رواہ مسلم،كتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ (623)

ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا ارشاد ہے کہ حضور پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ مونچھیں خوب اچھی طرح سے تراشو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُصُّوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللُّحٰى

رواہ أحمد فی مسندہ برقم: (7331)

ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ مونچھیں کٹاؤ اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ سَلَّمَ خُذُوا مِنَ الشَّوَارِبِ وَاعْفُوا اللُّحٰى

رواہ أحمد فی مسندہ برقم: (9263)

ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ مونچھوں کو تراشا کرو اور ڈاڑھیاں بڑھایا کرو۔

بہر حال عرض یہ کرنا ہے کہ نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کے کسی بھی عمل اور طریقہ کا استخفاف (ہلکاسمجھنا) ایمانی تقاضوں کے خلاف ہے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ غیر واجب کو واجب کا درجہ دینا بھی منع ہے لیکن عدم وجوب کا بیان اور چیز ہے اور عدم الاہتمام کا بیان اور چیز ہے اور خاص طور پر مقتدا حضرات کو عملی طور پر بھی حتی الوسع موافقت سنت کا اہتمام رکھنا چاہئے۔ اس سے عوام الناس کو نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کے طریقوں کی اہمیت کا احساس رہےگا۔

کیا جدت پسند لوگ حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ کا وہ فرمان بھول گئے جس میں انہوں نے ہاتھ سے گرا ہوا لقمہ اٹھاتے وقت ارشاد فرمایا تھا (أَأَتْرُكُ سُنَّۃَ حَبِیْبِیْ لِہٰؤُلَاءِ الْحُمَقَاءِ؟) کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے حبیب  صلی اللہ علیہ وسلم  کا طریقہ چھوڑدوں؟

کیا ٹوتھ پیسٹ سے مسواک کی سنت ادا ہوجاتی ہے؟

بعض مفتیان کرام کی طرف سے جب یہ فتوی صادر ہوا کہ مسواک کا مقصد کیونکہ منھ اور دانتوں کی صفائی ہے اور ٹوتھ پیسٹ سےیہ مقصد بطریق احسن حاصل ہورہا ہے لہذا اب ٹوتھ پیسٹ اور برش ہی استعمال کرنا چاہیے۔اورجب میں نے اپنے والد ماجد حضرت مفتی محمد عاشق الہی مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ قول درست ہے؟ تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ’’ٹوتھ پیسٹ اور برش سے سنت سواک(دانتو ں کو رگڑ کر صاف کرنے کی سنت) تو ادا ہوجائیگی(جیسےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو انگلی پر لپیٹ کر دانتوں کو صاف کیا) لیکن سنت مسواک ادا نہ ہوگی‘‘ اس فرمان کا مقصد یہ تھا کہ منھ اور دانت صاف کرنے والی سنت تو ادا ہوجائیگی لیکن مسواک کا استعمال بوجہ متابعت کاملہ اور مشابہت تامہ مستقل سنت ہے وہ سنت رہ جائیگی۔

خوب یاد رکھیں کہ ہر چیز میں نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کا طریقہ سب سے احسن ،اجمل اور اسہل و اکمل ہے۔ اگر کوئی شخص جواز پر عمل کرتے ہوئے ٹوتھ پیسٹ یا  کھانے کیلئے چمچہ اور کانٹا استعمال کرے اور کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھائے تو وہ گنہگار تو نہ ہوگا لیکن اس کو اس بات کا اعتراف ضرور کرنا چاہئے کہ احسن، اجمل اور اسہل و اکمل  طریقہ تو وہی ہے جو نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اختیار فرمایا لیکن میں مباح پر عمل کررہا ہوں، اور مقتدا لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا۔

اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

اس کائناتِ ارض و سماء میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہزارہاانواع و اقسام کی مخلوقات میں بجز حضرتِ انسان کے دیگر تمام مخلوقات کو بوقتِ پیدائش ہی زندگی گزارنے کا ضروری علم ودیعت کردیا جاتا ہے، چنانچہ وہ پیدا ہوتے ہی اپنی فطری زندگی گزارنا شروع کردیتے ہیں، وہ اپنی غذائی ضروریات صرف اُسی چیز سے پوری کرتے ہیں جو اُن کی فطری ضرورت ہے، اسی طرح چلنا پھرنا، اُٹھنا بیٹھنا اور اپنی قوتِ گویائی کو بروقت و بر محل استعمال کرکے اپنی ضرورت پوری کرنا وہ بخوبی جانتے ہیں۔

اس کے بالمقابل حضرت انسان بوقتِ پیدائش بالکل جاہل پیدا ہوتا ہے،چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور رہن سہن کے طریقوں سے قطعی طور پر نابلد، زندگی گزارنے کے اصولوں سے بے بہرہ اور ایک نقطہ سے پوری کتاب کا علم حاصل کرنے کے لیے مکمل محتاج۔

دونوں کی نوعیت میں بظاہر یہ فرق معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر مکلّف نہیں۔ نہ ان کے زندگی گزارنے کے طور طریقوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد ہے نہ اُن سے بروز قیامت کوئی سوال ہوگا۔ اس کے برخلاف انسان چونکہ مکلّف ہے اس لئے اُسے ایک  عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی بتدریج ان تمام امور کی تعلیم دی جاتی ہےتاکہ جہاں اسے اپنی حقیقت کا ادراک رہے کہ بوقتِ پیدائش وہ کس قدر جاہل،ضعیف اور ناتواں پیداہو اوہیں اس قابل ہوکہ اپنی زندگی سنت ِ نبوی کے عین مطابق گزارسکے۔

اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت و ریاضت اور اسلامی و معاشرتی طور طریقوں کے احیا اور تعلم کے لیے اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً انسانوں کے درمیان ایسی ہستیوں کا انتخاب فرمایا، جو اس وقت اُن سب میں سب سے زیادہ خشیت و لِلّٰہیت کی حامل اور تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں۔ پھر انہیں وحی  کے ذریعے اپنے نورِ علم میں سے علمِ خاص عطافرمایا اور اُن کے سروں پر اپنی رسالت و نبوت کا تاج رکھ کر انہیں فضل و کمال بخشا اور اُن کی اتباع کو اپنا اتباع قرار دیا، جن میں نبی آخرالزمان احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے تمام احکامات اور زندگی گزارنے کے عملی طریقوں کی تعلیم کی تکمیل فرمائی اور آپ پر ختم نبوت کی مہر ثبت فرماکر سیدالانبیاء کا درجہ عطا فرمایا۔

تاریخِ اسلامی میں بارہا  بلکہ اکثر ایسا ہی ہوا کہ رجال اللہ بغیر کتاب اللہ کے مبعوث ہوئے مگرکبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کتاب اللہ بغیر رجال اللہ کے نازل کردی گئی ہو، یہی وجہ تھی کہ عرب اپنے آپ میں حد درجہ فصیح و بلیغ عربی جانتے تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اُن پر پہلے نبی آخرالزماں کو مبعوث فرمایا، بعد ازاں کتاب اللہ کا نزول ہوا۔ جس کا حقیقی منشا ہی یہ تھا کہ بذریعۂ قرآن اصولیات کا علم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں امت مسلمہ پر واضح کردیا جائے، لیکن وہ جزئیات اور معاشرتی اقدار اور رہن سہن کے طور  طریقوں کا علم جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں امت تک پہنچے، وہیں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک عمل اور زندگی گزارنے کا ایک ایک سلیقہ عملی اسوہ و نمونہ کے طور پر امت کے سامنے نہ صرف پیش کیا گیا بلکہ جہاں تک ممکن تھا اُن تمام عوارض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبتلا بھی کیا گیا، جس میں اُن کا عمل امت کے لیے رشد و ہدایت کا ذریعہ بن سکے۔ چنانچہ زندگی کے وہ تمام نشیب و فراز، غم و خوشی، فتح و شکست، صحت و بیماری اُنکے ساتھ ساتھ چلتے رہے جس میں ایک عام انسان مبتلا رہتا ہے۔

منافقین و مشرکین ہزار اعتراضات کرتے رہے کہ یہ کیسا نبی ہے جو اپنی امت کو استنجے کا طریقہ بھی سکھارہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کی اور اسی طرح معمولی معمولی امور کے بارے میں بھی  صاف صاف اور صریح ارشادات فرمادیے تاکہ میری امت زندگی گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی طرف نظر نہ کرے، اور کوئی  ادنیٰ فرد بھی کفار و مشرکین و منافقین کےمعمولی سے معمولی عمل میں  بھی مشابہت کا محتاج نہ رہے، چنانچہ آپ جہاں کہیں دیکھتے کہ کسی بھی عمل میں کفار کی مشابہت اختیار کی جارہی ہے تو آپ سختی سے منع فرمادیتے  اور اس کے بالمقابل اسلامی و شرعی طریقہ کار بیان فرماتے،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک گھر کے باہر متصل کوڑا کرکٹ دیکھا تو تنبیہ فرمائی۔

نُظِّفُوْا اَفْنِیَتَکُمْ خَالِفُوْاالْیَھُوْدَ

اپنے گھروں  کے سامنے کے حصے کو بھی صاف ستھرا رکھا کرو، اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے جانثارِ صحابہ نےاپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک طریقے کو امت تک بعینہ پہنچایا، جس میں ذرّہ برابر کوئی ردّو بدل نہ تھا اور اُن کا منشابھی یہی تھا کہ ہمارےبعد امتِ مسلمہ کفار و مشرکین کے طور طریقے سے مکمل بیزار رہے۔

بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمان ایک طویل عرصہ انگریزوں کے باجگزار (محکوم)اور ہندوؤں کے ساتھ رہے، جس سے اُن کے رہن سہن، طور طریقے اور معاشرتی اقدار و روایات بہت حد تک ان میں سرایت کرگئے، جس سے اکابر علماء، بزرگان  دین اوردیندارو باشرع طبقہ ہمیشہ نالاں اور اس بات کے لیے کوشاں رہا کہ مسلمان اس پستی سے باہر آئیں جس کی ایک صورت یہ ہے کہ آزاد مملکت  حاصل کی جائے، جس میں آزادانہ طور پر اسلامی اقدار و روایات کا احیا اور ان کی عملی تنفیذ ممکن ہوسکے، نیز مسلمان انگریزوں و ہندوؤں کے ظلم و ستم سے آزاد ہوسکیں۔

اسی غرض سے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، ایک ایک وقت میں ستر ستر علماء کو پھانسی دے دی گئی، پانی کی طرح خونِ مسلم کی ارزانی ہوئی اور کفرستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں نے اس جذبے کے ساتھ ہجرت کی کہ اس مملکت میں آزادی کے ساتھ عبادت و ریاضت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو زندہ کریں گے، لیکن ا فسوس صد ا فسوس! اُن تمام اسلامی معاشرتی اقدار و روایات جن کو نافذ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مصیبتیں جھیلیں، مشقتیں برداشت کیں،اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے،ہم نے  ہجرت کے بعدیہ تمام قربانیاں یکسر بھلادیں، اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے ان وعدوں  کو فراموش کردیا اور پھر اُسی رنگ میں رنگ گئے جو اغیار کا وطیرہ ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ آج ہم بحیثیت قوم ایک بار پھر بالواسطہ انہی اقوام کے باجگزار ہیں، جن سے چھٹکارے کے لیے جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دیں، اور جس قوم کے رہن سہن اور طور طریقوں سے اظہار بیزاری کے لئے ہجرت کر آئے تھے انہی ہندوؤں کے ساتھ کیبل اور بے ہودہ فلموں کے ذریعے دوبارہ منسلک ہوگئے، بلکہ شاید اُن کے ساتھ عملی طور پر رہتے ہوئے اُن سے جتنے متاثر نہ تھے اس سے زیادہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے متاثر ہوگئے۔ اور اب تو یہ معلوم ہوتاہے مکمل طور پر جیسے  انہیں کے ہوکر رہ گئے ہیں جب زندگی انہیں کے طور طریقوں پر گزارنی تھی اور یہاں آکر بھی۲۴ گھنٹے اُنہیں کی ایک ایک ادا کو بغور دیکھ کر اس پر عمل کرنا تھا تواس قدر قربانیاں دینے کا کیا مطلب ہوا؟

خوب سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بحالی اور اسلام کا عروج ہمیشہ ہی سے اخلاص، للٰہیت خشیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنتوں پر عمل سے وابستہ رہا ہے، اس کے علاوہ جو بھی ترقی ہے وہ محض اسباب کے درجے میں ہیں جو بالذ ات مؤثر نہیں،جس کی عام سی مثال  عالمی تبلیغی جماعت کاغایت درجہ اخلاص پر مشتمل عظیم الشان کام ہے،جن کے اجتماعات کی کبھی کسی اخبار میں تشہیر نہیں ہوتی، نہ کوئی بینر لگایاجاتاہے اور نہ پمفلٹ تقسیم ہوتے ہیں مگر تیس لاکھ سے متجاوز لوگ اس اجتماع میں شرکت کرتے ہیں،تشہیر کے وہ  تمام ذرائع واسباب جنہیں عہد حاضر میں ناگزیر ضرورت گرداناجاتاہے اور لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں ان سے بہرور ہونے کے باوجود ان ذرائع پر یقین نہ رکھنابلکہ انہیں یکسر مسترد کردینے کے بعدبھی  آخر کون سی وہ مقناطیسی کشش ہےجولاکھوں لوگوں کویکجا کرکے ہرقسم کی قربانی پر مجبور کردیتی ہے، بلاشبہ یہ وہی روحانی قوت، شریعت وسنت کا اتباع اور احیاءِ دین کاجذبہ ہے جس کے بعد براہ راست اللہ تعالیٰ کی مدد اترتی ہے اور یہ ظاہری اسباب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

گو کہ اسباب کے درجے میں کسی بھی چیز کواختیار کرناہر گز ممنوع نہیں بلکہ محمود ہے لیکن فی زمانہ اس پر جس طرح تکیہ کرلیاگیاہے وہ دین کے اس مزاج کے قطعی خلاف ہے جس کی بنیاد حضور سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂبدر  و احد میں رکھی  کہ اسباب کے درجے میں تمام عوامل اختیار کیے گئے،جنگی نقطہ نظرسے میدان جہادکا مکمل جائزہ، پہاڑ کے عقب سے آنے والے خطرے  کے مدّ نظر پہلے سے ہی اپنی  دفاعی صورتحال کوبہتر بنانا،لیکن سب سے پہلے صحابہ کرام کی دینی واصلاحی تربیت کی اور انہیں تقویٰ وطہارت کے اعلی مقام پر فائز کرکے ان کی زندگیوں کوسنت کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھال دیااور پھر  شب بھر اللہ تعالیٰ کے حضور آہ وزاری اورعاجزی وانکساری کے ساتھ دعائیں کرتے رہے۔

بلاشک وشبہ آج بھی اسلام کی نشأۃ ثانیہ اور امت ِ مسلمہ کی ڈوبتی ناؤ اگر کنارے لگ سکتی ہے تو وہ یہی شریعت وسنت  کااتباع ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی ذرائع واسباب ہمیں فلاح وکامرانی سے بہرہ مند نہیں کرسکتے اور نہ بالواسطہ یابلاواسطہ کفار ومنافقین کی فکر ی وعملی غلامی سے نجات دلاسکتے ہیں۔

دعاہےکہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی اس حقیقی روح کو سمجھ  کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اجتماعی وانفرادی سطح پر اجاگر کرنے کی ہمت وتوفیق عطافرمائے اور کفار ومشرکین کی مشابہت سے عملی طور پراظہارِ بیزاری کی توفیق عطافرمائے ،آمین۔

Last Updated On Monday 20th of November 2017 01:28:30 PM