حلیم الامت حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم

فرزند ارجمند، نائب و قائم مقام شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہٗ
خلیفہ مُجاز بیعت محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ
 

ولادت باسعادت

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کی ولادت ۵ اکتوبر ۱۹۵۱ء کو شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کے حجرۂ خاص میں ہوئی۔خوش قسمتی سے آپ نے علوم و معارف کے اس بحرِ بے کنار کی آغوش میں آنکھ کھولی جو مرجع خلائق تھا، جہاں علمی و روحانی انوار کی بارش اور معرفت کی خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں، جہاں آسمانِ عشق و محبت اور علم و حکمت کا وہ آفتاب روشن تھا جس کی ضیاپاشیوں سے پورا عالم جگمگا رہا تھا۔

والد ماجد

آپ کے والد ماجد شیخ العرب العجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، جن کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے شیخ العرب والعجم ،مجددزمانہ، عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ کے ذریعہ سے احیاء السنہ، تزکیۂ نفس اور اصلاح اخلاق کا جو عظیم الشان کام لیا وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ،دین کے پانچوں شعبے (عقائد،عبادات، معاملات، معاشرت اوراخلاق) دوبارہ زندہ ہوگئے ۔ پوری دنیا میں گھر گھر ہزاروں بندگانِ خدا کی زندگیوں میں انقلاب آگیا،زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ مسلمان جونفس وشیطان اور مغربی معاشرے سے مغلوب ہوکرگناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھےاور بڑے بڑے منکرات میں مبتلاتھے تائب ہوکر دوسروں کےلیےمنارہ نور بن گئے،ہزاروں روحانی مریض شفا ء یا ب ہوکر ولی نہیں ولی گر بن گئے ۔

والدہ ماجدہ

حلیم الامت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب کی والدہ ماجدہ وقت کی رابعہ بصریہ تھیں، جن کے متعلق حضرت اقدس مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ یہ (یعنی حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب) تو صاحب نسبت ہیں ہی، لیکن ان کی گھر والی بھی صاحب نسبت ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب کاحسن ظن اور ارشادات:

”پچاس سال تک ان کے جو حالاتِ رفیعہ دیکھے اس سے احقر کا گمان اقرب الی الیقین ہے کہ وہ ایک صاحب ِ نسبت، بہت بڑے درجہ کی ولیہ تھیں، دین میں وہ ہمیشہ میری مددگار رہیں، برسوں سے غیر ملکی اسفار ہو رہے ہیں، کبھی حائل نہ ہوئیں۔“

 

”سب سے بڑی بات یہ کہ ان کے پیٹ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مولانا محمد مظہر میاںسلمہ جیسا لائق، متقی، عالم بیٹا عطا فرمایا جن سے اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے دین کا عظیم الشان کام لے رہے ہیں اور ان کے بیٹے بھی ماشاء اللہ حافظ عالم ہو رہے ہیں۔ جس زمین سے سونے کا پہاڑ ملا ہو اس کی انسان کتنی قدر کرتا ہے، نیک اولاد کی نعمت عظمیٰ کا ذریعہ اور جڑ تو وہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میری اولاد کو قیامت تک خدمت ِ دینیہ کی توفیق بخشیں اور قیامت تک میری اولاد میں علماء ربانین علیٰ سطح ولایت الصدیقیت پیدا ہوتے رہیں تاکہ جو دینی ادارے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں ان کو قیامت تک باحسن وجوہ چلانے کی میری اولاد کو اللہ تعالیٰ صلاحیت عطا فرمائے اور قبول فرمائے۔‘‘ آمین۔

 

”اللہ تعالیٰ میرے بیٹے مولانا محمد مظہر میاں صاحب سلمہ کی والدہ کو جزائے خیر دے، انہوں نے ستّر ہزار (کلمہ) پڑھ کر میری والدہ کو بخشاہے۔ اس کو کہتے ہیں ساس بہو کا تعلق حالانکہ میری والدہ زندہ نہیں ہیں لیکن انہوں نے اسی مہینے میں مجھے بتایا کہ ستّر ہزار پڑھ لیا ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور میری والدہ کی مغفرت کا سامان بنائے۔‘‘

 

”آج ایک راز کی بات بتاتا ہوں کہ میں ان کی بزرگی کا اتنا معتقد ہوں کہ ان کے وسیلہ سے اللہ سے دعا مانگتا تھا کیونکہ میں نے پچاس سال ان کو دیکھا کہ انتہائی تہجد گزار، بڑی صابرہ، بہت شاکرہ تھیں، دنیا کی محبت تو جانتی ہی نہ تھیں۔ زندگی بھر کبھی فرمائش نہیں کی کہ ہمیں ایسا کپڑا لا دو یا ویسا،جانتی ہی نہ تھیں کہ دنیا کہاں رہتی ہے،جب گھر میں جاتا تو دیکھتا کہ قرآن کھلا ہوا ہے اور تلاوت ہو رہی ہے۔“

 

ابتدائی تعلیم

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم نے ابتدائی تعلیم پھولپور میں قاری مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ پاکستان ہجرت کے بعد حضرت قاری فتح محمد صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت قاری محمد یاسین صاحب مدظلہٗ سے قرآن کریم پڑھا۔

درسِ نظامی

پھر چشمۂ علم وعمل ”جامعہ دار العلوم کراچی“میں داخلہ لیا اور درجہ رابعہ تک تعلیم حاصل کی، بیضاوی اور جلالین مدرسہ اشرف المدارس ناظم آباد میں حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں، جن میں حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادے بھی حضرت مولانا مظہر صاحب کے ہم درس تھے۔ اس کے بعد مزید دینی تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور کا انتخاب کیا اور یہیں سے سند ِفراغت حاصل کی اور بالآخر ۱۹۷۲ء میں زمانۂ طالب علمی سے نکل کر زُمرۂ علماء میں ایک ممتاز عالم دین کے منصب پر فائز ہوئے۔

اساتذہ کرام

آپ کے اساتذۂ کرام میں جلیل القدر علماء کرام اور بڑے درجے کے اولیاء اللہ شامل ہیں، صحیح البخاری کی دونوں جلدیں حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں جو اپنے وقت کے ولی کامل اور جلیل القدر محدّث تھے۔ ترمذی شریف مکمل حضرت مولانا محمد موسیٰ خان صاحب روحانی بازی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی جو علم وفضل کے ساتھ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے، درود شریف کے فضائل اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صفاتی ناموں پر مشتمل درود شریف کی مشہور کتاب ’’البرکات المکیۃ فی الصلوات النبویۃ“ انہی کی تصنیف ہے۔ صحیح مسلم شریف حضرت مولانا عبدالرحمٰن اشرفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے، نسائی شریف حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب سے، سنن ابی داؤد حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب دامت برکاتہم سے، موطا امام مالک حضرت مولانا محمد عبید اللہ صاحب اشرفی دامت برکاتہم سے پڑھی جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگردوں میں ہیں اور طحاوی شریف فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی۔

تزکیۂ نفس اور تربیت ِ سلوک

بچپن میں حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی خاص توجہات آپ پر رہیں۔ جب بڑے ہوئے تو ایک مدت تک بغرض اصلاحِ اخلاق و تزکیۂ نفس محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے، حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اجازت ِ بیعت سے بھی نوازا۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی کو بھی بغرضِ اصلاحِ احوال بذریعہ خطوط مطلع کیا جاتا تھا، حضرت پرتاب گڑھی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔

حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کے تینوں مشائخ کی دعاؤں،توجہات اور عنایات کا مظہر

خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے روح رواں ،حلیم الامت حضرت اقدس مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب کو جہاں حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کی مکمل توجہات، دعائیں،عنایات اوراعتماد حاصل تھا وہیں حضرت کے تینوں مشائخ،حضرت مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی،شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری، محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیھم اجمعین کی دعائیں اور توجہات و عنایات بھی حاصل تھیں۔

والدِ ماجد اورمربی شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجددزمانہ
حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہ
کاحسن ظن اوروالہانہ تعلق و محبت

۱۔ عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہٗ کو اپنے اکلوتے صاحبزادے حضرت مولانا محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے شدیدمحبت تھی اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے تھے کہ اہل وعیال سے شدید محبت رکھنا جائز ہے لیکن اشد محبت صرف اللہ تعالی کی ہی ہونی چاہیے۔ حضرت والارحمۃ اللہ علیہ ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے اور خوب دعائیں دیتے تھے، حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نے بتایا کہ ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ بیٹا جس کی ایک ہی آنکھ ہو وہ اس کا کتنا خیال کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولاناکی دِینی تعلیم و رُوحانی تربیت میں حضرت نے بہت محنت فرمائی اور جب اس محنت اوردعاؤں کی قبولیت کے اَثرات حضرت مولانا محمد مظہر صاحب کی دِینی خدمات اور صلاح وتقویٰ کی صورت میں حضرت دیکھتے تھے تو فرماتے تھے کہ ”میرے ربَّا نے مجھے ایک بیٹا دیا لیکن بہت پیارا اور صالح دیا، فللّٰہ الحمد والمنۃ۔“

۲۔ ایک مرتبہ حضرت والا نور اللہ مرقدہٗ نے مولانا عبد اللہ برنی سے فرمایا کہ”میرے بیٹے کے ساتھ رہنا میرے ہی ساتھ رہنا ہے۔“اور حضرت مولاناکے ساتھ سفر کی اجازت مانگی تو فرمایا ”مولانا عبد اللہ تم خوب سفر کرو میرے بیٹے کے ساتھ، ان کے ساتھ رہو گے تو تم کو بہت روحانی فائدہ ہوگا۔“اور واقعی بہت فائدہ ہوا ۔

۳۔میں نے آپ حضرات سے عرض کیا تھا کہ مولانا محمد مظہر میاں سلمہٗ سے اپنی موجودگی میں جمعہ کا بیان کرادیا جائے،کیونکہ کبھی سفر درپیش رہتاہے،اس وقت میری عدم موجودگی میں بھی ان کا بیان ہوجایا کرے،اسی غرض سے آج میں نے خوب درد دِل کے ساتھ دعا کی اور آپ حضرات سے بھی دعاکی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا مظہر میاں سلمہٗ کو حسن بیان بھی عطا فرمائے اور درد بھرا دل بھی عطا فرمائے اور اخلاص بھی عطا فرمائے،آپ حضرات اس پر آمین کہہ دیجئے،میں امید کرتاہوں کہ آپ کا دل کافی خوش ہوا ہوگا اور میرادل بھی بے حد خوش ہوا،الحمدللہ انہوں نے کافی حد تک اسی انداز کے مضامین بیان فرمائے جیسے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس حقیر بندے کو توفیق عطا فرماتےہیں،انہوں نے مولانا رومی کے اشعار پر بھی کلام کیا جس سے اور بھی دل خوش ہوا، اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ہمیشہ ایسا بندہ پیدا فرمائے جو اس خانقاہ کوآباد رکھے۔حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس خانقاہ کو اللہ تعالیٰ تا قیامت آباد رکھے، بزرگوں کی دعائیں لگی ہوئی ہیں،اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور میں اپنے تمام خاندان والوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میرے خخاندان والوں کو اور آنے والی نسلوں کو اللہ والا بنائے،اور آپ کو اور آپ کے تمام خاندان والوں کو اللہ تعالیٰ اللہ والا بنائے۔

۴۔ایک موقع پر حضرت والا نور اللہ مرقدہ نے،حضرت والا دامت برکاتہم کو دعاکرانے کی دعوت دیتے ہوئے نہایت گریہ و زاری سے فرمایاکہ حضرت مولانا محمد مظہر میاں سلمہ ٗجو میرے بیٹے ہیں،اگر چہ ایک ہے (بعد ازاں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ پر رقت طاری ہوگئی اور نہایت دردِ دل کے ساتھ فرمایا) مگر لاکھوں میں ایک ہے،اللہ تعالیٰ کافضل اور شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہایت لائق و فائق بیٹا عطا کیا، یہ محض اس کا کرم ہے۔

۵۔ ایک موقع پر حضرت والاحضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت دامت برکاتہم کے بارے میں فرمایا کہ مجھے آپ حضرات کے آنے کی بے حد خوشی ہے اور خصوصاً اپنے بیٹے حضر ت مولانا محمد مظہر میاں سلمہٗ اور میرے پوتے مولانا محمد ابراہیم صاحب سلمہٗ کے آنے کی خوشی بالائے خوشی ہے،سب آئیں مگر اپنا خون نہ آئے تو کمی رہتی ہے،الحمد للہ، اللہ نے نہایت نیک بیٹا عطا فرمایا، نیک اولاد اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے،اللہ تعالی نے اختر کے بیٹے مولانا مظہر اور ان کے بیٹے و میرے پوتے مولانا ابراہیم اور مولانا اسماعیل اور مولانا محمداسحاق سب اللہ کے فضل سے نیک اور اللہ والے علماء ہیں،حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے چاروں بیٹے اولیاء اللہ اور اکابر علماء میں سے تھے،اللہ تعالیٰ اختر اور اختر کی آنے والی تمام نسلوں کو اولیاء اللہ بنائے،آمین۔

۶۔میرے بیٹے مولانا مظہر نے مولانا ابرار الحق صاحب کی خدمت کی، عشاء کے بعد سر میں تیل لگایا تو فجر ہوگئی تو حضرت کو بھی حیرت ہوئی لیکن اس خدمت کا یہ انعام ملا کہ آج وہ مجازِ بیعت ہیں اور ایک بہت بڑا مدرسہ چلا رہے ہیں اور علماء ان سے بیعت ہورہے ہیں۔ میں تو آپ ہی لوگوں کو چلا رہا ہوں، میں اب مدرسہ چلانے کے قابل نہیں ہوں بس گروہِ عاشقاں پر عاشق ہوں، اﷲ کے عاشقوں پر عاشق ہوں، سڑک ہو، دریا کا کنارہ ہو، جنگل ہو میری یہی خانقاہ ہے ۔بولو اس وقت یہ زمین اور یہ سڑک خانقاہ ہے یا نہیں؟

۷۔میرے بیٹے مولانا مظہر جب کم عمر تھے، پڑھ رہے تھے تو کسی بات پر میں نے ان کی پٹائی کا ارادہ کیا تو وہ بھاگے نہیں، اور لڑکے ہوتے تو وہ بھاگ جاتے، اﷲ تعالیٰ مولانا مظہر کے درجات کو بلند فرمائے، دل سے دعا نکلتی ہے، تو وہ بھاگے نہیں بلکہ میرے پاس بیٹھ گئے اور ٹوپی بھی اتار لی اور کہا کہ ابا مجھے جتنا چاہیں مار لیں، تو اس ادا سے میں خود رونے لگا۔اس لیے اپنے دوستوں کو سکھاتا ہوں مگر پتا نہیں کیوں ان کے دماغ میں ادب کی یہ باتیں نہیں گھستیں، دماغی کمزوری ہے یا کیا ہے، بھول جاتے ہیں، آپ نے دیکھا کہ بیٹا اعترافِ قصور اور سزا کے لیے تیار ہوا تو باپ خود رونے لگا، غصہ ختم کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں ہے۔

۸۔میرا ایک ہی بیٹا ہے ماشاء اﷲ، مجھے سہولت تھی کہ میں اس کو امریکہ میں ڈاکٹر یا انجینئر بناسکتاتھا۔ میرے ایک پیر بھائی تھے نواب خاندان سے، حیدرآباد سندھ میں رہتے تھے، انہوں نے کہاکہ اپنے بیٹے کوامریکہ بھیج دو۔ اشارہ اس میں کیاتھا کہ ہم خرچہ دیں گے لیکن میں نے کہا کہ نہیں میرا ایک ہی بیٹا ہے، میں کعبہ شریف میں اﷲکے گھر کا غلاف پکڑ کردعا کرچکا ہوں کہ اے اﷲ!آپ نے ایک بیٹا دیا ہے اس کو دین کے لیے قبول فرما۔ اس لیے میں اس کوامریکہ نہیں بھیجوں گا۔ امریکہ والے آج میرے بیٹے کے پیر دبا رہے ہیں، بڑی تعداد میں علماء ان سے مریدہورہے ہیں، لوگ داخل سلسلہ ہوئے اور ان کو بھی اس کاکوئی پچھتاوا نہیں ہے کہ مجھے ابا نے کیوں انجینئر یا ڈاکٹر نہیں بنایا بلکہ خوش ہیں، شکریہ ادا کررہے ہیں کہ اﷲ نے علم دین کی دولت عطا فرمائی۔

۹۔ ایک شخص نے قربانی کے زمانہ میں میرے بیٹے مولانا مظہر کو ٹیلیفون کیا کہ گائے کی کھال رکھی ہوئی ہے، کوئی آدمی بھیج دیجئے، میں آپ کے مدرسہ میں دینا چاہتا ہوں۔ مولانا مظہر میاں نے ان کو جواب دیا کہ آپ آدمی کیوں مانگتے ہیں کیا آپ آدمی نہیں ہیں؟ آہ! بعض وقت ایسی بات ان کے منہ سے نکلتی ہے کہ میں اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ایک دفعہ اﷲ پاک نے ان کے دل میں یہ علم ڈالا کہ بعض بندے قابل ہوتے ہیں مگر مقبول نہیں ہوتے اور بعضے مقبول ہوتے ہیں مگر قابل نہیں ہوتے اور بعضے دونوں ہوتے ہیں مقبول بھی ہوتے ہیں قابل بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ خالی علم کا سمندر مت دیکھو، یہ دیکھو کہ یہ قلندربھی ہے یا نہیں، اﷲ والا بھی ہے یا نہیں، قسمت کا سکندر بھی ہے یا نہیں، ورنہ بڑے بڑے علم کے سمندر اعمال میں اور اخلاق میں بندر یعنی نفس کے تابع ہیں۔

۱۰۔جب مشکل آجائے دورکعت پڑھ کر اﷲ سے مدد مانگو اور اوّل آخر درود شریف پڑھ کر ایک سو گیارہ دفعہ حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ پڑھو اور اﷲ سے مانگو کہ اے اﷲ میری سب مشکل دور فرما دے اور دشمنوں سے حفاظت کے لئے میں نے جو مجرب وظیفہ بتایا ہے یہ وظیفہ مولانا مسیح اﷲ خان صاحب جلال آبادی رحمۃ اﷲ علیہ کا بتایا ہوا ہے، لیکن اگر دشمن مسلمان ہے تو موت کی نیت نہ کرو بس یہی نیت ہو کہ یہ بھاگ جائے۔ حضرت جلال آبادی رحمۃ اﷲعلیہ کا بتایا ہوا یہ وظیفہ میں نے بھی اپنے دشمنوں پر آزمایا ہے، اس کا فائدہ یہ ہے کہ آج میرے قلب کو بھی اور میرے بیٹے مولانا مظہر کے قلب کو بھی اﷲ نے تکبر سے محفوظ فرمایا، جب دشمن ستاتا ہے تو دل ٹوٹ جاتا ہے، اﷲ تعالیٰ نے بھی پیغمبروں کے لیے فرمایا وَکَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن بنایا کیونکہ دشمن کی وجہ سے آدمی اﷲ سے زیادہ رجوع ہوتا ہے اور آہ و فریاد کرتا ہے اور اﷲ اپنی قدرت بھی دکھانا چاہتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے دشمنوں کو کس طرح برباد کرتے ہیں جیسے ابو جہل نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ستایا۔

۱۱۔روحانی امراض میں ایک بڑا مرض غصہ کا ہے۔ مغلوب الغضب متعلقین کو حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ حکم فرماتے تھے کہ مولانا مظہر سلمہ کے پاس بیٹھو، ان کے اندر حلم کا مادّہ زیادہ ہے، ان کی صحبت سے تمہارے قلب میں صفتِ حلم منتقل ہوجائے گی، کتنے لوگوں کو حضرت مولانا مظہر صاحب کے پاس بیٹھنے سے اس مرض سے نجات مل گئی ۔

۱۲۔میرے بیٹے مولانا مظہر سلمہٗ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ وہ کبھی کبھی مقروض بھی ہوئے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اس بیٹے کو جزائے خیر دے، کبھی اس نے نہیں کہا کہ ابا آج کل میں مقروض ہوں، کسی مرید سے، آپ اہل خیر سے کچھ اشارہ کر دیں تا کہ میرا قرضہ ادا ہوجائے۔ مدرسہ وہی چلاتا ہے، یہ جو ڈیڑھ ہزار طلبہ ہیں اس میں حافظ اور عالم ہو ر ہے ہیں، اس مدرسہ سے میرا تعلق مولانا کی محنتوں سے ہے،میرا تو وہی ذوق ہے کہ جہاں کسی ملک نے اﷲ کی محبت میں بلایا فوراً پاسپورٹ ویزا لگوایا اورکبھی لندن، کبھی کنیڈا اور کبھی انگلینڈ روانہ ہوگیا۔

۱۳۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ اکثر اپنے حجرۂ مبارک میں تشریف فرما ہوتے، مریدین و سالکین بھی اسی حجرہ میں حاضر خدمت رہتے، جب حضرت والا کو ضعف زیادہ ہوتا تو حاضرین سے فرماتے کہ اب آپ باہر خانقاہ میں مولانا مظہر میاں سلمہٗ کے پاس جا کر بیٹھیں،ان کے پاس بیٹھنا میرے پاس بیٹھناہے۔

حضرت والا دامت برکاتہم کے استاذ
حضرت مولانا محمد عبید اللہ صاحب اشرفی دامت برکاتہم کاحسن ظن

حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم اپنے جلیل القدر اساتذہ کے حقوق سے بھی بحسن و خوبی عہدہ برا ہوئے نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے اساتذہ نے بھی جا بجا آپ پر اعتماد کا اظہار فرمایا،جن میں سرفہرست شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت اقدس مولانا عبیداللہ صاحب مدّظلہم ہیں۔ شاگررشید،صحبت یافتہ حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (جن کی سند حدیث تین واسطوں سے شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتی ہے۔) ڈاکٹر منصور پراچہ صاحب ،حضرت حاجی افضل صاحب صحبت یافتہ حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بھانجے اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے قدیم مرید ہیں، انہوں نے حضرت مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے استاد کا یہ ارشاد نقل کیا کہ ایک مجلس میں میری موجودگی میں حضرت مولانا عبید اللہ صاحب نے عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ’’مرغی کے انڈے کی تربیت تو ہم نے مرغی بن کر کی لیکن مولانا مظہرسلمہٗ مرغی کے انڈے سے بطخ بن کر تیرتے ہوئے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم کنارے ہی کھڑے رہ گئے۔‘‘حضرت مولانا عبید اللہ صاحب کا یہ ارشاد حضرت مولانا محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے لیےاستاذ محترم کی طرف سے ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔

محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ
کی جانب سے اجازت بیعت

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے ابتداء ہی سے حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کی تربیت فرمائی چنانچہ حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم کو اپنے والد محترم حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ سے کامل مناسبت تھی یہی وجہ ہے کہ آپ نے زمانۂ طالب علمی میں جامعہ اشرفیہ لاہور سے اپنے والد ماجد نور اللہ مرقدہ ٗ کوایک خط میں لکھا کہ میں نے بڑے بڑے اکابر کے بیانات سنے مگر جو روحانی کیفیت آپ کے بیان میں محسوس ہوئی وہ کہیں اور محسوس ہی نہیں ہوئی۔

اس کے باوجود حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم کو باضابطہ طور پر حکیم الامت مجددالملت حضرت اقدس مولانااشرف علی صاحب تھانوی کے خلیفۂ اجل، ولی کامل، محی السنہ حضرت مولاناشاہ ابرارالحق صاحب حقی ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کروایا،جن کی شبانہ روز صحبت نے آپ کے دل میں اشاعتِ دین اور مخلوقِ خدا کےساتھ ہمدردی و خیر خواہی کی آگ بھردی، آخرکار جب حضرت دامت برکاتہم محبت الٰہیہ اورعشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت درد دل سے بہرہ مند ہوئے تو حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب حقی ہردوئی نے مدینہ شریف میں حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب مدظلہ کو جوانی میں خلافت عطا فرمائی ، حضرت ہردوئی کے سامنے مولانا محمد مظہر صاحب کو جب بیان کے لیے بلایا گیا تو ان کو حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ’’محبوب الخلفاء‘‘ہونے کا خطاب دیا گیا جس پر حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خوشی کا اظہار فرمایا۔

اکابرعلماء کا رجوع

الحمدللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے اللہ تعالیٰ دین کے تمام شعبوں میں خوب کام لے رہے ہیں، پوری دنیاسے خوب رجوع ہورہا ہے، خصوصاً بڑے بڑے علماء سلسلہ میں داخل ہورہے ہیں۔اسی لیے حکیم الاُمت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جس پیر کے مرید علماء زیادہ ہوں تو سمجھ لو کہ یہ پیر سچا ہے،کیوں کہ علم کی روشنی رکھنے والے اس کے معتقد ہیں۔ بہت سے نابینا اگر بیٹھے ہوں اور کسی کے حسن کی تعریف کررہے ہوں تو آپ کو یقین نہیں کرنا چاہیے کہ جس کی خود آنکھیں نہیں ہیں وہ کہہ رہا ہے کہ فلاں کی آنکھیں بہت پیاری ہیں، کَعَیْنِ الظَّبْیِ مثل ہرن کی آنکھ کے۔ تو اس کے قول کو آپ جلدی نہیں مانیں گے۔ علماء کو اﷲ نے آنکھ دی ہے، علم کی روشنی دی ہے ،یہ جس کو پیر منتخب کریں تو سمجھ لو کہ اﷲتعالیٰ کا فضل ہے۔

دینی اداروں کی سرپرستی

حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم مجلس اشاعۃ الحق، جامعہ اشرف المدارس کراچی، خانقاہ امدادیہ گلشن اقبال کراچی کا انتظام بحسن و خوبی سنبھالنے کے ساتھ ساتھ متعدد دینی اداروں کی سرپرستی بھی فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دین کے مختلف شعبوں میں جس طرح خدمات لے رہے ہیں یہ بارگاہِ حق کی جانب سے قابل صد شکر نعمت ہے۔

منصب اصلاح و ارشاد

حضرت والانوراللہ مرقدہ کی حیاتِ مبارکہ میں روزانہ مختلف اوقات میں دینی اصلاحی مجالس کا سلسلہ جاری تھا، حضرت والادامت برکاتہم نے اس کڑی کو ٹوٹنے نہیں دیا بلکہ حضرت والانوراللہ مرقدہ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام ہی میں اس کام کو جاری و ساری رکھنے کا اہتمام کرنا شروع کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج بھی خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں روزانہ تین دینی و اصلاحی مجالس کا انعقاد ہورہا ہے۔

دینی تبلیغی اسفار

تشنگان جام شریعت و طریقت کی تشنگی مٹانے کے لیے قلب میں موجزن دریائے شریعت و طریقت لیے حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب کا اندرونِ ملک و بیرونِ ملک اسفار کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث بے شمار بندگانِ خدا راہِ شریعت و طریقت سے واقف ہوکر دیوانۂ حق بن رہے ہیں۔

الحمد للہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ساؤتھ افریقہ، رنگون، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، سعودیہ، دُبئی، نیپال، کینیا، بوٹسوانا وغیرہ میں حضرت نے کئی اسفار کیے اور لاکھوں بندگان خدا حضرت والا دامت برکاتہم کے مسترشدین میں شامل ہیں، اور آپ کا حلقۂ احباب وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان تمام دینی خدمات کو تاقیامت جاری و ساری رکھے اورحضرت والانوراللہ مرقدہ کے بعد مقبول دینی خدمات، صحت و عافیت، حاسدین کے شر سے حفاظت کے ساتھ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا سایہ ہم پر تا دیر قائم و دائم رکھے،آمین۔

Last Updated On Tuesday 27th of June 2017 03:47:45 AM