عرضِ مرتب

کسی بھی قوم یا معاشرہ کی اصلاح و تعمیر میں جو بنیادی کردار عورتیں ادا کرتی ہیں وہ کسی ہوش مند سے مخفی نہیں۔ بچوں کی تربیت، معاشرہ کی صلاح و فساد، بناؤ و بگاڑ کا تعلق مردوں کی بہ نسبت عورتوں سے زیادہ ہے۔ بچے ماؤں کی گود میں پلتے ہیں اور ان کا سب سے پہلا مکتب و مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح ہے۔ عورتیں اگر چاہیں تو بگڑے ہوئے معاشرہ اور مغربی تہذیب کے بہتے ہوئے سیلاب کا رخ موڑ دیں۔

یہی وجہ ہے کہ شریعت میں بہت سے احکام خصوصیت کے ساتھ عورتوں کے متعلق بیان کیے گئے ہیں اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں کی اصلاح کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ فرمائی ہے۔ اس کے لیے مستقل وعظ بھی فرمائے ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر زمانے کے علماء نے حالات کے مطابق کوششیں فرمائی ہیں۔ چناں چہ  اس سلسلہ میں مختلف کتابیں لکھی گئیں۔

ایک عرصہ سے ضرورت محسوس کی جاتی تھی کہ عورتوں کے متعلق ایسی کوئی کتاب منظر عام پر آنی چاہیے جو عام طور پر ہر گھر اور عورتوں کے دینی اجتماعات میں پڑھی اور سنی جاسکے جس میں مسائل سے قطع نظر ترغیب و ترہیب کے ساتھ دین کے ضروری احکام بیان کیے گئے ہوں۔ نیز عورتوں میں پائے جانے والے عیوب ظاہری و باطنی امراض اور ان کی عام خامیوں و کوتاہیوں کی نشاندہی اور ان کا علاج بھی بیان کیا گیا ہو۔

حکیم الامّت مجدد الملّت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تجدیدی کارنامے محتاجِ تعارف نہیں، عورتوں کی اصلاح کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے آپ سے تجدیدی کام لیا۔ چناں چہ  ایک طرف تو آپ نے عورتوں کے لیے مسائل کی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ تصنیف فرمائی دوسری طرف عورتوں کے اعمال و اخلاق اور ظاہر و باطن کی اصلاح کے لیے مستقل وعظ فرمائے جو چھپے ہوئے بھی ہیں جن میں مختلف منتشر مضامین بکھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت تھی کہ ان مضامین کو منتخب کرکے ترتیب وار جمع کردیا جائے ’’اصلاحِ خواتین‘‘حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ان ہی افادات کا مرتب مجموعہ ہے جو حضرت نے مختلف اوقات میں خواتین کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کے لیے بسلسلہ وعظ فرمائے ہیں۔

مسائل کے لیے تو بہشتی زیور اور دوسری معتبر کتابوں کو دیکھنا چاہیے لیکن عورتوں کے اعمال و اخلاق کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے اس رسالہ کا پڑھنا اور سننا اور سنانا،ان شاء اللہ مفید اور معین ثابت ہوگا۔ اس سے قبل بھی اصلاحِ معاشرہ کے سلسلہ کی بعض کتابیں’’اسلامی شادی،  حقوق معاشرت (میاں بیوی کے حقوق، ساس بہو کے جھگڑے اور ان کا شرعی حل)‘‘ جو اصلاً حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہی کے افادات کے مجموعے ہیں،شایع ہوکر مقبول ہوچکی ہیں۔

یہ دراصل اصلاحِ معاشرہ (جس کی ضرورت سب کو مسلم ہے) کا مکمل نصاب ہے، جس کی تین کتابیں یہ ہی ہیں جن کا ذکر ہوا۔ چوتھی کتاب ’’پردہ عقل و نقل کی روشنی میں‘‘ اور پانچویں’’تربیتِ اولاد اور اس کے متعلقات‘‘ چھٹی ’’اسلامی تہذیب کے اصول و آداب‘‘ یہ ہی چھ موضوعات ہیں جو اصلاحِ معاشرہ کی جڑ و بنیاد ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی زائد سے زائد اس کی اشاعت کرکے گھر گھر پہنچایا جائے، اس کے پڑھنے سے کافی حد تک اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے۔

وما ذالک علی اللہ بعزیز

 

کتاب پڑھیں۔۔۔

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ دوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ سوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ سوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ سوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ سوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ سوئم

گوشۂ خواتین - صفحہ سوئم

 

http://audio.alhaq.pk/AK19861020-Hidaayat-e-kamila-ki-tareef-kya-hai-aur-is-ki-alamaat-kya-hain.mp3

Last Updated On Tuesday 27th of June 2017 10:08:16 AM